افسانہ

Spread the love

 

 


انٹرویو

از۔ظہور حسین

 

 

انٹرویو کب سٹارٹ ہو گا؟ دروازے کا پٹ ہلکی سیرگڑ کے ساتھ وا ہوا-

 

 

۔ دراز قامت دبیز چشموں کے اوپر گھنی بھنویں، کسرتی چست بدن پر ایک بوسیدہ کوٹ جس پر جا بجا تیل اور مٹی کے دھبے چند سیاہی مائل ستاروں کی طرح چمک رہے تھے، اند ر بڑھا۔ اس نے کوٹ کے اند ر ایک ارغوانی رنگ کی ٹائی لٹکائی ہوئی تھی جس طرح کسی نے اسے پھانسی کے تختے پر چڑھایا ہو اور پھندے کو زرا سختی کے ساتھ اس کی موٹی گردن کے گرد فٹ کیا ہو تا کہ اسے مرنے میں سہولت رہے۔ دروازہ دائیں بازو کی معمولی جنبش سے مکمل طور پر کھل گیا اور وہ سنجیدہ خاموش طبع ادھیڑ عمر شخص آہستہ آہستہ شائستگی سے

 

مارچ کرتا ہوا میز کے کنارے پر پہنچ گیا اور ہونٹوں پر مہر ثبت

 

کئے ٹکٹکی باندھ کر سیٹ پر براجمان سینئر کلرک کو شاقی نظروں سے کافی دیر تک بغیر پلک جھپکائے دیکھتا رہا۔ اس ابتدائی جملے کے بعد نہ کوئی حرف کلرک نے جواباً کہا نہ اس سوالی نے مزید کوئی لفظ اْگلا۔ یہ میرے لئے انتہائی کرب کی سی کیفیت تھی جو میں کلرک کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا دیکھ رہا تھا اور غالب کی غزل کے کچھ اشعار کا مفہوم میرے ذہن میں تیزی سے گردش کر رہا تھا کیونکہ شعر مجھے یاد نہیں رہتے ۔ وہ کیا کہ غالب نے غالباً کہا ہے کہ دنیا میرے لئے بازیچہ اطفال ہے اور یہاں پر ہر روز کئی تماشے ہوتے ہیںمیں حیران ضرور تھا کہ دونوں حضرات جناب عزت مآب سینئر کلرک صرف ایک دفعہ اپنی عینک کے اوپر سے اس شخص کو دیکھ کر اپنے کام میں اس طرح محو تھے کہ جسے کچھ ہوا ہی نہ ہے۔ اور موصوف انٹرویو دینے والے ان سے ایک ہاتھ بڑھ کے ایسے میز کے سامنے دھرے تھے جسے کوئی تصویر لگا دے دیوار کے ساتھ دونوں اپنی اپنی جگہ پر جامد۔ حرکت سے مبری۔ البتہ کلرک کی انگلیاں درمیان میں قلم کو لئے کچھ اوراق گردانی میں مصروف تھیں یہ سین جوں کا توں برقرار۔ میں لمحے بھر رکا اور پھر اپنے مربی دوست کلرک سے مخاطب ہوئے بغیر اسے محسوس کرانے کی کوشش کی کہ جناب آپ کی دربار عالیہ میں ایک پڑھا لکھا فقیر دو پاوں پر چلنے والا انسان دست بدست کھڑاہے۔ اور آپ سے کچھ چاہتا ہے۔ شہنشاہ معظم، اپنی اس رعایا کی طرف بھی ایک نظر کرم اور نظر لطافت کریں تاکہ سوالی آگے کہیں بڑھے اور کسی اور کے شاہانہ دربا ر میں جاکر اپنے کسی اور شہنشاہ کے تلوے چاٹے اور اپنی عرضی پیش کرے۔ مجال کہ محترم مربی دوست نے کچھ بھی محسوس کیا ہو۔ مصروف اور روز کی طرح بزی۔ فا ئلوں پر فائلوں کے انبار لگتے گئے۔ سرخ ،سبزاور کالی پنسلوں سے مختلف چیزوں پر دائرہ لگا کر ان پر چھوٹے موٹے نوٹ چڑھتے رہے۔ لیکن وہ وہیں کھڑا تھا ایک ایسے مجسمے کی طرح جوکئی صدیوں سے کسی چوراہے پر نصب ہو جاتا ہے پھر اس پر سے آندھی گزرے، طوفان چلے ، مٹی و گرد کی تہہ بہ تہہ چٹرھے، کوئی کوا کبوتر اپنی بیٹ کرے،کوئی بچہ اسے چھڑی رسید کرے۔ یہ سب کچھ خوشی خوشی سہہ لیتاہے۔ یہی کچھ ایسا حال تھا اس مجسمے کا ، اس سٹیچو کا جو میرے خیال میں کچھ لمحوں کے لئے سانس سے بھی خالی ہو جاتا تھااور ہوامیں معلق۔ اکرم ڈیئر، میرے منہ سے بے ساختگی اور تھوڑی کرختگی سے یہ الفاظ نکلے اور اسے سے زائد میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔البتہ میں نے یہ الفاظ اس شخص کی طرف اپنی تمام توانائی کے ساتھ نظریں ملا کر اپنے دوست اکرم سے گوش گزار کئے۔” جی” اکرم نے پہلی دفعہ بغیر کسی نوٹس کے جواب دیا اور سمجھا جسے میں کوئی روٹین کی بات زیر بحث لا رہا ہوں تاہم میں نے اپنی نگاہیں اس شخص پر پیوست رکھیں اور ہاتھ سے اکرم کے بازو کوایک لمحے کے لئے روکا۔ اور وہ رک گیا پھر کنکھیوں سے اوپر دیکھا تو سارا تماشہ سمجھ گیا۔
بھائی آپ تشریف لے جائیں آپ کا انٹرویو اگلے جمعہ کو ہو گا۔وہ شخص صرف شکریہ بولا اور پھر انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ شائستگی اور تہذیب کے ساتھ بند کر کے باہر نکل گیا۔ میں کچھ دیر وہاں موجود اپنے مربی دوست اکرم کے بارے میں اس کی طوروتیور پر غور کرتا رہا۔ اکرم کے پاس میرا اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ ایک تو وہ میرا مربی دوست ،دوسرا بچپن کا کلاس فیلو اور تیسرا ایک ہی ادارے میں اکھٹے کام کرنے کا رشتہ تھا۔ یہ میرا بے تکلف سجن بیلی تھا۔ ایک غریب خانوادے سے تعلق تھا، والد نے محنت مزدوری کرکے اسے میٹرک تک تعلیم دلوائی اور ایک سیاسی بزرگ نے رحم کھایا بدلے پوری برادری کے ووٹوں کے اور والد کی ساری زندگی کی چوکیداری کے اور اس ادارے میں بطور مالی بھرتی کرا دیا۔ اکرم انتہائی محنتی اور چست لڑکا تھا۔ جس نے وقت کی نبض اور زمانے کی رفتار اور لوگو کی گفتار کو سمجھا۔ فوراً اس ادارے کے اندر ایک سیاسی گروہ جوائن کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں مالی سے سکیورٹی گارڈ ، سکیورٹی گارڈ سے جونئیر کلرک ، جونئیرسے کلرک، کلرک سے سنئیر کلرک کی منزل تک پہنچ چکا تھا ۔آنے والے الیکشن میں اسے ایڈمن آفیسر بھرتی ہونا طے پایاتھا ۔میں نے اپنی فائل کی رفتارجانی اور پھر تقریباًبریک ہونے والی تھی۔ ہم دونوں چائے پینے کے لئے ادارے سے باہر ملحقہ ج چائے خانے کی طرف بڑھے۔ میں جاڑے کی دھوپ میں چائے کی چسکیوں میں مگن تھا کہ اچانک میری نظر اس شخص پر پڑی۔ جو اس چائے خانے کے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ نہ چائے تھی ، نہ کوئی مربی دوست، اور کمبخت دھوپ بھی پوری طرح اس پر نہیں پڑ رہی تھی۔ وہ یہاں پر پرانی اورخستہ کرسی میںدھنس کر بیٹھا تھا، اور ایسے لگ رہا تھا کے جسے چند لمحوں بعد اند ر سے ایک بلاوا آئے گا اور اسے انٹرویو کے لئے اندر بلایا جائے گا، اور تھوڑی دیر بعد اس شخص کی کامیابی و کامرانی کی نوید سنائی جائے گی، اور یہ خوشی سے پھو لے نہیں سمائے گا، دوست و احباب میں اپنی کامیابی کے جشن منائے گا۔ خدا کے حضور سجدہ شکر ادا کر کے، اپنی بوڑھی ماں کو بہت اچھی خبر سنا کر اس میں دوبارہ جوانی اور زندہ رہنے کی امید بڑھا دے گا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ تھا،اور وہ شخص پریشانی کے عالم میںصرف ایک ہی طرف مخصوص طریقے سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اکرم کی توجہ اس شخص کی طرف مبذول کرائی اور پوچھا بھائی آپ لوگ بہت سفاک ہو، یہ سامنے والا بندہ کتنی دیر تک آپکے سامنے دھرا رہا اور آپ کی کان پر جوں تک نہی رینگی۔ اچھا اب مجھے بتاو، یہ کون ہے؟ اور واقعی اسکا انٹرویو اگلے جمعہ کو ہے اکرم نے اسکی جانب تھوڑا دوبارہ دیکھا اور کہا کون سا انٹرویو یہ پاگل ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے ہفتے میں ایک دن یہ بوسیدہ کوٹ اور یہی والی ارغوانی ٹائی لگا کر آتا ہے۔ میرے سے پہلے والے کلرک نے مجھے اسکے بارے میں بتایا تھا کہ آپ نے اس کے ساتھ زیادہ بحث نہیں کرنی اور صرف یہی کہنا ہے کہ اپ کا انٹرویو اگلے جمہ کو ہے۔ اس کے بعد یہ کچھ دیر باہر رکتا ہے اور پھر اس جگہ یہاں پر اب موجود ہے۔ چار بجے تک بغیر ہلے، بغیر کسی حرکت کے چھٹی کے ٹائم تک اسطرح ٹائی لگا کر انتظار کرتا رہتا ہے، اور ٹھیک چار بجے چلا جاتا ہے، اس کے بعد اگلے جمعہ کو پھر یہ یہاں میرے دفتر میں حاضر ہوگا، اور یہی والاسوال دہرائے گا، بھائی انٹرویو کب شروع ہوگا، یہ کبھی startکی جگہ شروع نہیں کہتا، اور پھر اس طرح اس جگہ شام تک اپنے انٹرویو کا انتظار کرئے گا اور پھر اگلے ہفتے، ایسا ہے پھر ہم سب اسے پاگل کہتے ہیں، میرا تجسس اور بڑھ گیا۔ میں نے اکرم سے کہا اچھا یار مجھے اسکی کہانی سناو، یہ مجھے وقت اور حالات کا مارا لگتا ہے، یہ کوئی پیداشی پاگل نہیں ہے ۔ ہم جیسے عقل مند لوگوں نے اسے عقل سے پیدل کیا ہے۔ اکرم نے میری بات پر قہقہ لگایا اور کہنے لگا چھوڑو یار اور حال سنائو، بچے ٹھیک ہیں ، میں اپنی بات پر مصررہا اور میں نے ویٹر سے ایک اور چائے لانے کو کہا ، اکرم یارا سب ٹھیک ہے تو بتانا اس شخص کی کیا کہانی ہے۔ اکرم نے ویٹر کو دیکھ لیا تھا اور چائے اب دوسری آنا تھی،۔اچھا یارا تو ہے بہت ضدی۔ اس کی کہانی سنے بغیر مجھے نہیں جانے دے گا۔ اور چائے اتنی پلائے گاکہ میرے جسم میں خون کم اور چائے زیادہ گردش کرے گی۔ سن ! اس موصوف کانام کمال خان ہے، جو دس سال پہلے عمرانیات میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والا طالب علم ہے، انتہائی مودب شریف ذہین اور فطین۔ جیسے ہی اس نے اپنی تعلیم مکمل کی، اس کی اچھی تعلیم و تربیت اور گولڈ میڈل کی وجہ سے اسے اپنے شعبے میں بطور وزیٹنگ فکیلٹی کی نوکری ملی اور یہ کمال صاحب انتہائی محنت ،کاوش اور ہمت کے ساتھ علم بکھیرنے میں مصروف ہو گئے۔ اس کی اپنے صدر شعبہ کے ساتھ بھی علیک سلیک ہو گئی۔ اپنے لیکچر کے ساتھ ساتھ اپنے صدر شعبہ کی خدمت میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ موصوف اپنے شعبہ میں صبح آٹھ بجے تشریف لاتے اور شام کو چھ بجے واپس گھر جاتے تھے۔ ایک اچھے طالب علم کے ساتھ ایک اچھے معلم بھی ثابت ہوئے اور سب سے بڑھ کہ خدمت شعار تھے۔ اپنے اساتذہ کے سامنے ہر وقت دو زانوں رہتے اور انکی ہاں میں ہاں ملاتے، ان کے حکم کی تکمیل کرتے، ان کی خدمت میں پہلے پیش ہوتے۔ وقت اور حالات دونوں تیزی سے بدلتے ہیں۔اور یہ نہ صرف لو گوں کو بلکہ امیدوں کی بھی بعض اوقات بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ چند بیوقوف لوگوں کے علاوہ تمام عقل مند لوگ ہمیشہ موم کی طرح ہی رہتے ہیں، جو مختلف شکلوںمیں آرام سے ڈھل جاتے ہیں۔ لیکن کمال کا کمال یہ تھاکہ وہ اس معاملے میں موم ثابت نہیں ہوا اور کسی سخت دھات کی طرح پوری سختی کے ساتھ اپنے اساتذہ اور دوسرے دوستوں کے ساتھ کھڑا رہا۔اتنے میں شعبے کے اند چند اسامیاں مشتہر ہوئیں اور اس کمال خان نے بھی اپنے فن کے مظاہرے کے لئے پر تول لئے۔بھاگ بھاگ کر اپنے تجربے کی اسناد جمع کیں اور ریفرنس لیٹر تیار کرائے۔ اپنی تخلیق کی ہوئی ریسرچ کو جمع کرنے میں محو ہو گئے۔ اتنے میں شام کو ایک فون کال موصول ہوا اور موصوف کمال صاحب کو صدر شعبہ نے گھر بلا لیا۔
کمال بغیر کسی دیر کے فوراً سے پہلے اپنے مربی و محسن استاد کے گھر پر حاضر ہوئے،استاد نے بھی کمال شفقت و محبت سے اسے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھایا۔یہ پہلا موقع تھا کہ ا ستاد نے اسے اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر دی۔ کیک اور پیسڑی کھلائی کمال کے وارے نیا رے تھے۔
وہ ششدرتھا کہ آج استاد صاحب کمال محبت سے پیش آ رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ایک عاجزانہ انداز میںعرض کی، کمال دیکھو آپ ایک ذہین اور گولڈ میڈل ہولڈر ہو، میں آپ سے ایک گزارش کرتا ہوں۔ کمال نے بات کاٹ کے کہا سر آپ گزارش کیوں کرتے ہیں حکم کریں تکمیل ہو گی۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس دفعہ انٹرویو نہ دیں۔ کمال کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ استاد نے مزید کہا یارا، آپکو شاید نہیں پتہ شعبان جو آپ کے ساتھ پڑھاتا ہے میرا بھانجا ہے۔ سیٹوں کے اشتہار میں نے دلوائے ہیں، میں آپ سے پکا وعدہ کرتا ہوں کہ فوراً اگلے چھ ماہ میں آپ کے لئے اور سیٹیں آ جائیں گی اور میں آپکو ضرور سلیکٹ کرواں گا۔ بس آپ بیٹا میری مجبوری سمجھ جائیں، کمال خان نے کہا سر آپکا حکم سر انکھوں پر۔ مقررہ معیار پر انٹرویو ہوگئے۔ اور شعبان صاحب بطور استاد کے آگے اور کمال صاحب پھر وہی کولہوں کے بیل کی طرح اپنے استاد کی خدمت میں جت گئے۔ محنت کرتے رہتے۔
کمال کی ذمہ داری دوہری ہو گئی، اپنے استاد کے ساتھ انکے بھانجے کو خوش کرنے میں بھی کوئی کمی نہیں رکھتے تھے۔
شعبان صاحب پورے کروفر کے ساتھ آتے اور اپنی بہت سی کلاسیں اور پیپر اس کمال سے مارک کراتے۔ کمال پوری توجہ ، ہمت اور محنت کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے اپنی وزٹینگ والی نوکری کرتے رہے۔ ہر سمسٹر کے آخر میں صدر شعبہ انھیں بلا کر احسان جتلاتے اور ساتھ ہی ایک لیکچران کی جھولی میں ڈالتے جس میں سو چھید تھے۔ کمال کے حالات ڈگر گوںہو تے گئے۔ ان کے بہت سے ساتھی مختلف عہدوں اور منصبوں پر فائز ہوتے رہے ، کوئی سی ایس پی بنا اور کوئی لیکچرارمگر کمال صرف اپنے استاد کے کئے گئے وعدہ پر اکتفا کئے رہے۔ ایک سال گزرا ، دوسرا، تیسرا لیکن کوئی آسامی نہ آئی، اور ایک دن ایک چھوٹی سی پارٹی چل رہی تھی۔ پتہ چلا کہ صدر سفیہ آج ریٹائرڈ ہو گئے اور دوسرے استاد جو کمال سے تھوڑا دور کے تھے وہ صدر شعبہ بن گئے ۔ کمال کو ایک اور دھچکا لگا۔ استاد نے جاتے جاتے صرف دوسرے صدر شعبہ سے یہ ضرور کہا کہ کمال واقع کمال ہے۔ دوسرے صدر شعبہ انکی اس بات سے متفق ہو گئے۔ اور پورے شعبہ کے چھوٹے موٹے کام کمال کی وجہ سے رواں دواں تھے لہذا کمال کہ ایک آدھ لیکچر دے کر شعبہ میں رکھاگیا اور ساتھ ہی اس پر بہت سے احسان جتلاے گئے۔ دوسرے صدر شعبہ نے کمال کے ساتھ کمال کا رویہ رکھا۔ شام کو موصوف گھر کی سبزی سے لے کر سر کے لئے پھل اور انکی گاڑی بھی ڈرائیو کرتے۔ گھر والو ں کو ایک گولڈ میڈلسٹ نوکر مل گیا تھا۔جو صدر شعبہ کے گھریلو امور بڑے خوبصورت انداز سے چلاتا رہا، اور صدر شعبہ صرف تھپکی لگاتے رہے کہ ٓاپکا تقرر کرانا ہمارے ذمہ ہے۔ وقت کی تیز پھرکی نے کمال کو زنگ آلودہ کر دیا، پڑھائی کی بجائے خدمت شعاری سے اس کو زوال آنے لگا۔ گھر والوں نے کمال کو کوسنا شرو ع کر دیا ۔کمال کے پاس اب گنتی کی دو شرٹیں اور تین پتلونیں اور صرف ایک بوٹ تھا۔ وہ صرف ایک بوٹ کے ساتھ پورا سال اپنا گزارہ کرتا۔ البتہ شام کو ایک او، لیول کی ٹیوشن سے وہ اپنا صرف آنے جانے اور موٹر سائیکل کا خرچ نکالتا۔
کچھ عرصے کے بعد کچھ خالی آسامیاں پھر مشتہر ہوئیں اور کمال نے پھر سے اپلائی کیا۔
اس دفعہ کمال کافی پر امید تھا کہ اب وہ با قاعدہ بر سر روز گار ہو جائے گا، لیکن دلوں کے حال اللہ جانتا ہے، صدر شعبہ کسی اور پر مہربان نکلے اور یوں کمال سے ایسے کمال کے چند ایسے سوال پوچھے جو کمال سے بہت دور کے تھے یوں کوئی اور سلکیٹ ہو گیا،
کمال کو انٹرویو کے بعد صدر شعبہ نے لمبی کال کر کے اپنی معذوری ظاہر کی اور بتایا کہ بہت سے اور ایسے عوامل تھے جو انکی دسترس سے باہر تھے تا ہم اسے یقین دلایا گیا کہ پر امید رہے ہمت کرے اور ہاں اس دفعہ ٓاپکو دو لیکچر دیں گے۔ کمال پھر سے کمال مستعدی اور ہمت کے ساتھ پڑھانے لگ گیا۔ پرانے بوٹ اور بوسیدہ شرٹ کی وجہ سے اپ اسے کسی اچھی پارٹی میں مدعو نہیں کیا جاتا ۔ اور ٓاہستہ ٓاہستہ اس شعبے کے طلبہ ا سے ایک مزدور سمجھنے لگے۔ کلرک اور دوسرے اساتذہ اسے اپنے گھریلو اور ذاتی کام کے لئے ایک ہرکارہ سمجھتے رہے۔ ہر سال اس سے انٹرویو کا لالی پاپ دیتے رہے اور اس ساے کام لیتے رہے، مجھے اپنے گاوں کا ایک چاچا نورا یاد آگیا ۔ وہ لوگوں کا کام اس لئے شوق سے کرتے تھا کہ لوگ اسے شادی کا جھانسہ دیتے تھے۔ چا چا نورا ہم آپ کی پر سوں شادی کے لیے جائیں گے ایک رشتہ دیکھنے۔
نو رے کی آنکھوں میں تیزی سے چمک آ جا تی تھی اور پھر وہ ایک بیل کی طرح سا را دن اسی گھر میں کام کرتا تھا۔مشکل سے مشکل کام چاچا نورا کے ذمہ تھا ۔ اسطرح اس بے چارے کی زندگی گزرگئی لیکن شادی ندارد۔ کمال خان اس نورے کی طرح سب کی خدمت میں مصروف رہتا ۔ بوسیدہ کپڑوں کی وجہ سے کچھ طلباء کے والدین نے شکایت کی اور پھر کمال کو لیکچر بھی نہ ملے ۔ صدر شعبہ بھی ریٹائرڈ ہو گئے اور پھر ایک اور صدر شعبہ آئے ۔ کمال ہر ہفتے آتا اور عرض کرتا کہ کس طرح اس کا انٹرویو ہو جائے۔ کئی دفعہ آسامیاں آئیں۔ کمال نے اپلائی بھی کیا لیکن اب کسی نے اسے شارٹ لسٹ ہی نہ کیا۔ کئی بر س بیت گئے اور پھر ایک دن صدر شعبہ نے مذاقً کہ دیا کہ ہم نے آپکی فائل اور درخواست بھجوا دی ہے اگلے جمہ کو آپ کا انٹرویو ہے۔ اور ہاں آپ شعبے میں مت آنا اور ساتھ ہی سیکورٹی گارڈ کو مطلع کر دیا کہ اس پاگل کو شعبے میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ کمال کئی دنوں تک اپنے صدر شعبہ سے ملنے کی جدو جہد کرتارہا لیکن اسے شعبے میں داخل ہونے سے سختی سے منع کر دیا گیا۔ اب یہ کمال صاحب ہر جمعہ کو اس آفس میں آ کر اپنی فائل کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ہم بس یہی کہتے ہیں ، آپکا انٹرویو اگلے جمعہ کو ہے۔چائے کی پیالی تقریباً ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ ـ”ویٹر” اکرم چلایا ، یار یہ چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے میں نے کہا ، “اکرم آپ تبدیل کروا لیں۔ میں چائے ٹھنڈی ہی پیتا ہوں۔

Facebook Comments

14 thoughts on “افسانہ

  1. Social and heart touching story Sir👌 bitter reality of our society you showed in your society 👌 and your interpretations and language is so good👍

  2. A great effort. Very catchy lines. The interpretation of characters are so good. Marvellous. A treat to read it. All the scenes are well described. The language and words are so good. And my favourite last line “Akram ap tabdeel krwalain, main Chai thandi peers hn” “.

  3. I have tried to portray a bitter social reality of our society
    I am grateful to all the readers
    Zahoor Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *