ظہورحسین

Spread the love

سُرخ ہاتھ

از۔۔ظہورحسین صاحب

چادر میں لپٹی ،پرانے بینچ پردورسے دوموئی موئی آنکھیں چمک کے ساتھ ساتھ برس رہی تھیں ، لیکن بارش کے قطرے کالی چادر میں ایسے جذب ہورہے تھے جیسے جون کے مہینے میں صحرا کے اوپر بادلوں سے بارش کے قطرے تپتی زمین میں آنافاناغائب ہوجاتے ہیں اورحدتِ صحرا میں کوئی کمی نہیں آتی ۔

نہ ہی صحراسیراب ہوتاہے نہ کوئی اس سے کوئی لعل ِیمن ، گہروموتی صحرا میں نظر آتے ہیں۔ایک ایسی ویرانی چھائی رہتی ہے کہ دشت کودیکھ کے گھر یاد آیا۔وہ مسلسل ٹکٹکی باندھ کے بالکل سامنے والی دیوارکو ایسے تک رہی تھی جیسے کوئی عالم سجدہ میں دنیاسے بے پرواہ ہوکراپنے رب سے باتوں میں مشغول ہوجاتاہےلیکن اس لڑکی کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔فرطِ جذبات سے اس کا پیرہن کانپ رہاتھا۔دماغ میں ایک فلم کی پھرکی تیزی سے گھوم رہی تھی،باپ کا آنگن ،ماں کی آغوش،بھائی کی ہمجولی ،گرمیوں کے موسم میں چھڑکائو کے بعد گیلی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو، سکھیوں ،سہلیوں کے ساتھ گڈی پٹولے کی شادیاں ،ہم عمر سہلیوں کی شرارتیں اورپھر آہستہ آہستہ نوعمری سے جوانی تک تمام مراحل اُس کی آنکھوں کے سامنے ایسے گزررہے تھے جیسے بسترِ مرگ پرپڑے مریض کوبوقتِ سکرات تمام زندگی کے حالات وواقعات ایک ایک کرکےیاد آتے ہیں لیکن وہ حزن وملال میں صرف ہاتھ مسلتاہے اورکچھ کرنہیں پاتا۔اسٹیشن کے بوسیدہ پنچ پر وہ ایک زندہ لاش سے زیادہ کچھ نہیں تھی، وہ بے حدنادم تھی اپنے اُس فیصلے سے جو عالمِ شباب کے ڈھل جانے کے غم نے کرایاتھا۔ابھی ا سٹیشن بالکل ویران تھا، جابجا اسٹیشن کافرش اکھڑا ہواتھا،اسٹیشن کی خستہ حال دیواروں پر چوناخال خال اُکھڑ چکا تھا، ان کے اوپر بہت سے پوسٹرواشتہار آویزاں تھے۔تقریباپچکے گالوں سے لے کر مردانہ کمزوری کے اشتہاروں کی تہہ پرفائزہ بیوٹی کریم کے حروف کچھ زیادہ جلی تھے۔اسٹیشن سنسان تھے ، دورایک دوسرمئی مائل رنگ کے آپس میں اٹھکیلیاں کررہے تھے یا پھر ان کے ساتھ گنڈیریوں والااپنی خشک گنڈیریوں پرٹھنڈے پانی کاچھڑکائو کر کے ان کا وزن اوربھائو دونوں بڑھا رہا تھا۔اسٹیشن پرموجود یہ ماہلہ مکمل طور پر اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر اپنی زندگی ان تمام لمحات کا احاطہ کرنے میں مصروف تھی جواُس نے اپنے بابل کے ویہڑے میں گزارے تھے۔
یہ دراز قامت ،خوبرومٹیار،بانس کی طرح سیدھی، سُرخ وسپیدرنگ، لمپے خیالی ہاتھوں پر بھرے بھرے پور، ساون کی بدلی سے زیادہ سیاہ لمبی زُلفیں اورکھلی پیشانی پردوموٹی موٹی آنکھیں اس کی خوبصورتی کو چارچاند لگاتیں۔انتہائی نفیس اورکم گویہ لڑکی بانوتھی۔اسٹیشن پر آہستہ آہستہ رونق بڑھنے لگی،ہر عمر اور قماش کے لوگ اپنی منزل طے کرنے کے لئے پلیٹ فارم پرجمع ہونے لگے ، ان میں چند ایک منچلے گھبرو بھی تھے ،جو اردگرد کا ماجرادیکھ کر اس خوبرو اکیلی لڑکی کو تاڑتے اورچند ایک اوباش آوازے کستے اورتیزی سے آگے گزرجاتے ۔ان کے ریمارکس تیز برچھیوں کی طرح بانو کے دل پر لگتے ۔ وہ امن کی فاختہ کی مانند اپنے سینے پر یک مشت چھرے پیوست ہوتے محسوس کرتی ،جن کے لگتے ہی وہ فضا سے زمین پرلوٹ پوٹ ہوتی ہے اورظالم شکاری پکڑکرصرف formalityکی خاطراس کی گردن پر چھری پھیرتے ہیں اورپھر اُس کے لذیذ گوشت سے شریر کی ہوس بجھاتے ہیں۔گائوں کایہ چھوٹاسا اسٹیشن تھوڑی دیرکے اندر ایک چھوٹے سے میلے کا سماں پیش کررہاتھا۔خوانچہ فروش ،اخبارفروش ،ملتانی حلوہ ،کھٹی میٹھی ٹافیاں بیچنے والے کے ساتھ چند ایک بھکاری اوربھکارنوں کی آوازیں بھی آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہو رہی تھیں ۔فقرا ومساکین اپنے اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کو دعائیں بیچ رہے تھے ،دولت کی دعادینے کے لئے دولت لے رہےتھے،لوگوں کی جوڑیاں سلامت کررہے تھے۔بے اولادوں میںاولاد جیسی نعمتیں بغیرکسی خجل خواری کے تقسیم کررہے تھے، اورلوگوں کی نفسیات سے عمدہ طریقے سے کھیل رہے تھے۔خاص طورپرسفر کے دوران آنے والے حادثات سے لوگوں کو ڈرا ڈراکران کی جیبوں سے پیسے بٹوررہے تھے۔اس مجمعے میں ایک شخص بری طرح سے شہنائی کا شکارتھا، اور اُس کے لیے لوگوں اسٹیشن پر صرف چند تصویروں اور سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں تھے۔ بانو!کا دل کررہاتھا کہ وہ اس بھرے مجمعے میں کھڑی ہو کراپنی بربادی کا ماتم کرتے ،اپنی شہنائی کے کرب کو کاٹ کاٹ کرلوگوں میں اس طرح تقسیم کرے جیسے کسی دربار پر غربا ومساکین میں لنگر تقسیم کیا جاتاہے ،کھڑی ہو کردھاڑیں مارے اورلوگوں کو اپنے غم کی ساری تفصیل سنائےکہ یہ بانو!یہ معصوم خوبرولڑکی ،اپنی گھر سے اکیلےاسٹیشن پر کیسے آئی۔کون سے لوگ ہیں جو اس معصوم کو اس جگہ کھینچ کر لے آئے ۔لیکن اس کی زبان گنگ ہو چکی تھی، آنکھوں سے آنسوں کی لڑی بہہ رہی تھی اور دل خون کے آنسو میں لت پت ہو چکاتھا۔آئیےذرا اس بانو کی کہانی جانتے ہیں۔بانو ملک کرم داد عرف کرمو کی لاڈلی بیٹی تھی۔کرموں کو اللہ تعالی نے دو بچوںسے نوازا تھا۔ایک بیٹاکمال خان اورایک بیٹی بانو۔کرمو اسٹیشن سے چند میل دورایک میں چھوٹا سا زمیند ار تھا۔انتہائی سیدھا ،سادہ لوح انسان ،صوم وصلوۃ کا پابند، کفایت شعار، محنتی ، اورلگن سے کام کرنے والا کسان دن رات اپنے کام میں مصروف رہتا ۔تقریباپینتالیس پچاس سالہ شخص مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔دن رات اپنے کھیتوں میں محنت کرتا کرمو کی زندگی کی دوبڑی خواہشیں تھیں ، اپنے بیٹے کی شادی اور بیٹی کی شادی سے پہلے اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلےکرتا۔وہ ہرسال سے بڑھ کر محنت کرتا،دن رات فصل کوپانی دیتا اورکوشش کرتا کہ اس کے زرمبادلہ سے وہ دھوم دھام سےاپنے بچوں کی شادی کرنے کے بارے میں سوچتا۔پچھلے کئی سالوں سے کیش کراپ میں مسلسل گھاٹے نے اس تنومند کسان کی کمرمیں بل ڈال دیاتھا۔اس سال کرمو نے گنے کی فصل پر بہت محنت کی اور اللہ کے فضل وکرم سے گنا کے کھیت ہوامیں لہلہانے لگے ،سرسبز کھیت آنکھوں میں نہ صرف تازگی کا احساس دلاتے بلکہ حاسدوں کے دلوں کو بھی جلاتے۔بیٹا بانو کھانالے آئو۔ تقریبا رات کے تین بجے ننگے پائوں ، کسی کو گھر کے کونے میںرکھتے ہوئے اور سرسے پگڑی کو اتارکر اپنے کو ہوا لگانے کی غرص سے، ایک کھری چارپائی پر ہاتھ منہ دھونے کے بعد ملک کرموں نے آواز دی۔ بانو بیٹا ! بھوک لگ رہی ہے ۔ بانو نے بے ساختہ کہا اور بابا اتنی اندھیری رات میں آپ کو ڈرنہیں لگتا۔ کرموں نے بے اختیار کہا، بیٹا کسان اور دوسراچوررات کے اندھیرے سے بالکل نہیں گھبراتے ۔چور کے لئے رات کا اندھیراایک سہارا ہوتاہے ۔منہ چھپانے کے لیے ، اور کسان کو ایک دعاہوتی ہے ، بہت کم ایسا ہوتاہے بیٹا کہ کسان پر رات کوکوئی موذی جانورحملہ کردے ۔ہمارے بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے کسان پر خصوصی کرم ہوتاہے ۔ کسان محنت کرتاہے اورمحنت کر کے دنیا کے لیے غلہ پیدا کرتاہے ۔گو رازق اللہ ہے؟لیکن اسے کے رزق کو پیدا کرنے اوراُگانے کا فریضہ اللہ تعالی نے کسان کے ذمے سونپا ہے۔ بیٹی جلد آئو۔ بھوک بہت لگتی ہے۔۔۔آئی بانا جان۔۔۔میں ذرا کھاناگرم کر کے آتی ہوں ۔۔ اور ہاں بیٹا اس دفعہ کھیت کو اللہ نے بہت رنگ لگایاہے اور اللہ سے اُمید ہے کہ آپ کا باپ آپ کے ہاتھ پیلے کر دے گا۔ بابا مجھے کوئی شادی وادی نہیں کرنی۔ بانو کی منگنی اس کے سگے چچیرے سے ہو گئی تھی۔ اسلم پورے گائوں میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان تھا۔اُس نے ایف اے کا امتحان پاس کیا تھا اوران دنوں وہ کراچی میںمقیم تھا۔ وہاں پر کسی کمپنی میں کام کرتاتھا۔ہفتوں،مہینوں بعد اس کا گائوں چکرلگتااوربانو کے گھر خوب خدمت کی جاتی ۔ اسے دیسی گھی ، خالص دود ھ اور مکئی کی خالص گھریلو چکی سے پسے ہوئے آٹے سے روٹی دی جاتی لیکن اسلم کو یہ ساری چیزیں بدہضمی کرتیں کیونکہ وہ گائوں سے کراچی جانے کے بعد عجیب وغریب چیزوں کا عادی ہوچکاتھا۔پان،گُٹکاوغیرہ اس کے کھیسے میں بہتات سے ملتے ۔یہ ہروقت اپنے ہونٹوں کو پان پنوں سے لال رکھتا اورزبان کے نیچے ایک مخصوص اندازسے تھیلی رکھتاجوکہ بانو اور اس کے خاندان کو ناگوارگزرتے۔تاہم زیادہ انھیں اس علت کے بارے علم نہیں تھا۔بانو، ایک گھریلو اور دیہی لڑکی تھی جس کو اس طرح کی چیزوں کے بارے میں علم بہت کم تھا۔تاہم کبھی کبھارکھیت پگڈنڈیوں پر یا پھر گائوں کی ننگ گلیوں میں وہ بانو کو روک لیتا اوربغیر کسی جھجھک کے اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتا۔بانو! فورا شرماتے لجاتے، دوپٹے کو درست کرتے آنکھوں کو شرم وحیاکے ساتھ زمین پر گاڑتی اور تیزی سے اس تیلی مار جوان سے بچ کرگھر کی طرف بڑھ جاتی ۔تاہم اس کے دل میں اسلم کی قدرومنزلت تھی اس وجہ سے اس کا چہرہ ایک ہلکی سی مسکان سے اس کا روپ دوبالاکردیتا۔ وقت گزرتاگیا۔کھیت اپنی جوانی اورعین شباب کو پہنچ چکاتھا۔کرمو بہت پُرامیدتھا کہ اس دفعہ اچھی رقم ہاتھ آئے گی اورتمام قرض بھی دُھل جائیں گے اورساتھ ساتھ اپنی زندگی کے اہم فرائض سے بھی کرموسرخروہو گا۔اُسے کمال سے زیادہ بانو کی بڑھتی ہوئی عمر کا بہت قلق تھا۔ وہ کئی سالوں سے اس کی شادی کے منصوبے بتاتالیکن ہردفعہ فصل میں خسارہ ہوتاپھر اتنی سی رقم اس کی جھولی میں آتی ۔کھاداوربیج والے کے پیسے چکا کر کہ بڑی مشکل سے اُس کی گزربسر ہوتی ۔اس دفعہ لہلہاتے گنے کے کھیتوں نے کرموں کی کمر سےبل بھی نکال دیئے وہ اب سینہ تان کر اکثر صبح اپنے کھیت کے گردچکر لگاتااور دوسرے کسانوں سے داد وصول کرتے ۔ واہ! کرمو اس دفعہ خوب فصل ہے۔فصل تیارہوگئی۔ کرمو بے چینی سے شوگرمل کے چلنے کا انتظارکرنے لگااوربہت سےرفقائواحباب سے مسلسل روابط بڑھانے لگالیکن شوگرمل بندرہی۔آہستہ آہستہ کرموں مایوسی کی دلدل میں گھُلنےلگا، روز خبریں پڑھتا، کہ شوگرمل کے مالکان نے ہڑتال کی ہوئی ہے اور تمام مالکان گنا اس دفعہ کم نرخوں پر خریدنا چاہتے ہیں ۔کرموں چند لمحوں کو طیش میں آ جاتااور پھر دل میں دعا کرتاچلو کوئی بات نہیں ۔اس دفعہ اپنے ایکڑ کا وزن بھی خوب رہے گالیکن مل کاپہیہ بند ۔ الفرض چند کسانوں نے مل کر ہڑتال کی ۔سرکاری دفاتر مین حاضری دی اور پھر ایک دن پتہ چلا کہ مل چل پڑی ہے لیکن اس میں باری لگے گی۔ سب سے پہلے بڑے بڑے زمینداروں کا گنا دھڑادھڑ جانے لگا،اورروڈ بلاک ہوئے،لوگ ہلاک ہوئے۔ٹریفک کئی کئی گھنٹوں تک معطل ومعلق۔سڑک پر بعض اوقات دیورچین سے لمبی گنے کی ٹرالیوں کی دیوارتھی۔اکثراوقات کئی کئی دنوں تک ہزاروں کسان کھرے آسمان تلے، ٹرالی کے نیچے اپنے بسترڈال کر دراز رہتے اور کئی کئی ہفتے انتظارمیں رہتے ۔حکومت اپنی ہردلعزیزی اورکسان کی خدمت وخاطرشام کو ٹی وی پر بڑے بڑے پروگرام چلاتی اوراخبارمیں بڑے بڑے اشتہارآتے اورکسان ٹرالیوں کے نیچے سوتے رہتے۔مایوسی کرموں کے گرد آکاس کی بیل کی مانند اپنا جال بچھا گئی۔روزانہ صبح بانو اُسے ناشتہ کرانے کے بعداُجلی پگڑی اورتہہ دارچادر دیتی اورکرمو اس تہہدار چادرکوزیب تن کرکے سارادن ماراماراپھرتا،لوگوں کی منت سماجت کرتا کہ کسی طرح اس غریب کسان کی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں ۔لیکن شام کو معمول کی مایوسی کے ساتھ بے نیل ومرام گھر کے آنگن میں لوٹ آتا۔
گنے کا ریٹ بڑھنے کے بجائے کم ہوتاگیااور سورج کی بڑھتی ہوئی حدت کی وجہ سے گنے کا وزن ہرروز کم ہوتاگیا،اوپر سے کھیت سے مل تک کا خرچہ اتنا بڑھ گیا کہ اب چھوٹے کسان کو اس سے کوئی فائدہ نہیں نظرآرہاتھا۔اورپھر ان لوگوں کو کون سے نقد پیسے ملتے ۔ اس سے ہمارے جیسے پاک دیش میں ساہوکاروں کے ایک نئے ٹولے نےجنم لیا۔لوگوں کو نقدپیسے دیتے اور ان کی رسیدیںاپنے پاس رکھ لیتے لیکن ہر سو کے پیچھے دو روپے کاٹ لیتے ۔مرتاکیانہ کرتا۔کسان اپنی ضروری حاجات کیلئے یہ جگاٹیکس بھی دیتے اور اس طرح اپنی زندگی کے شب وروز ایک مشکل چکی کے دوپاٹوں میں ذلیل ہوکرگزارتے۔
ایک دن بانو بھاگ کر اپنی ماں کی گود میں آ گری ، اماں ،اماں ،دیکھوکسی نے ہمارے کھیت کو آگ لگادی ،شعلے ہوا میں بلند ہو رہے ہیں ۔ہمارا کھیت جل گیاہے۔ہمارا کھیت بانوکی ماں نے کہا۔۔۔۔۔ کہ رات کو کرمو بار بار یہ شعر پڑھ رہاتھا۔جس کھیت سے میسرنہ ہوروزی۔۔۔۔۔اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو۔بانو ایک دم گُنگ ہو گئی۔اُ س کی اسلم سے شادی کی ساری اُمیدیں دم توڑنے لگیں ۔۔اگلے ہفتے اسلم کا فون آگیا۔ اُسے خبرہوگئی تھی کہ کرموں نے اپنا کھیت جلایاہے۔اسلم نے بانو کودھمکی دی ۔دیکھ آپ کے ابامیں سکت نہیں ہے کہ آپ کے ہاتھ پیلے کرسکے۔توایسے کر گائوں کےا سٹیشن سے بیٹھ اورکراچی آجا،ہم یہاں نکاح کرلیں گے ۔نہیں تویہان گائوں میں تیرے بالوں میں چاندی اُترآئے گی۔اور ہاں اگرم نہیں آئیں تومیں کہیں اور شادی کرلوں گا۔اب فیصلہ آپ نے کرناہے۔اتنے میں دورسے گاڑی کی سیٹی بجی ، بانو کا دل زورسے دھک دھک کرنے لگا، ایک طرف باپ کی عزت اور دوسری طرف بالوں مین چاندی کے اُترنے کا خوف۔ بانو!اضطراب وکرب کی شدید حالت میں تھی۔زندگی اورموت،عزت سے گھر سےنکلنا یا اس طرح بھاگ جانا۔بانو نے ایک لمحے کیلئے سوچا؟ باپ سے بے وفائی نہیں ۔۔۔۔بالوں میں اُترتی چاندی نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔باپ کی زندگی پر کلنک کاٹیکہ ،ماں کیلئے ہمیشہ کے طعنے۔۔۔نہیں ۔۔۔۔بانو اسی اظطراری کیفیت میں اُٹھ کر گاڑی کی طرف بھاگی ۔تمام مجمع ایک لمحے کیلئے ششدہ رہ گیا۔قدم بڑھے ، ڈگمگائے۔۔۔اورپھر گاڑی کے بھاری پہیوں کے نیچے ایک آواز سب نے سنی۔۔بابا۔۔۔ب۔۔ب۔۔۔۔اوربانو کے ہاتھ پیلے نہیں سُرخ ہوگئے

 

Facebook Comments

7 thoughts on “ظہورحسین

  1. ہاتھ پیلے نہیں سرخ ہو گئے…..اعلی…..اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  2. Fabulous story with a very hue of contemporary issues ! It’s not only heart touching but also heart itching.. while reading it I literally stop for a while and can’t even imagine the miserableness of the farmer who worked day and night and then he had to burn his own fields! No doubt it’s a story on a spotlight! Sir Zahoor my very own respected and splendid teacher and the custodian of English Department in BZU irresistibly showed a stunning piece in Urdu literature too !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *