افسانہ۔۔۔۔محبت کی تلاش….۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

محبت کی تلاش

تحریر:سمیع اللہ خان

محبت عبادت ہے اورعبادت بھی محبت ہے،ادیان کاوجودعقیدت سےہے اورعقیدت بھی محبت ہے۔مالی کا پودوں کوپانی دینا اورپودوں کا پھل دینا بھی تو محبت ہے۔کانٹوں پرسے پھول کا کھلنا گرمحبت ہے تو کانٹوں میں ہی پھول کا بکھرنا بھی محبت ہے۔پُو پھوٹنا محبت ہے تو شام ڈھلنابھی تومحبت ہے۔آنکھ اُٹھنا محبت ہے تو آنکھ جھکنا بھی محبت ہے ۔۔۔گریہ سب محبت ہے تو میری محبت کہاں ہے ۔۔۔ہرچہرے میں تلاش کرتاہوں ۔۔۔اورپھرمایوس ہوجاتاہوں ۔۔۔وہ جو وہ ہے۔۔۔ میرے نام سے منسوب ہوچکی۔۔۔سرگوشیوں میں میرے ساتھ جس کا ذکرلوگ تسبیح کی طرح کرتے ہیں ۔۔۔ہاں وہ میری محبت ہے ۔۔۔لیکن نہیں ہے بالکل نہیں ہے ۔۔۔میں نے تو اُس سے بات بھی کی ہے ۔۔۔اس کو یاد بھی کیاہے۔۔۔ مگرجب کہیں وہ سامنے آتی ہے تو نظراُس کے چہرے پر ٹک نہیں سکتی اوراتفاقی نظرپر بھی دل پُکاراُٹھتاہے کہ یہ میری محبت نہیں ہے۔۔۔اگردنیاوی معیار کاتعین کیاجائے تو وہ حسین بھی ہے ۔۔۔کشادہ بدن ۔۔گھنی زلفیں بچپن میں بھی خُوبروتھیں اورشاید آج بھی دوپٹے کے باہرسے اپنے وجود کا احساس دلارہی ہیں۔۔سُرخ وسپیدرنگ ۔۔۔چھوٹی چھوٹی آنکھوں کے ساتھ پتلے ہونٹ ،لمباقداورکسی جٹنی کے مقابل کا بدن اُس کے لہجے کہ اُتارچڑھائو سبھی پورے محلہ کواپنی آغوش میں لے لیتے ہیں لیکن ایک لمحہ کا دیدارمیرے من سے سوال کرتاہے ۔۔۔کیایہ میری محبت ہے؟ہاں ہے ۔۔۔نہیں۔۔۔ یہ تونہیں ہے ۔۔۔جب اس کے ملن کی امید ہوئی تو راستہ بدل لیا۔۔۔پھروہ کون ہے؟ جس نے میری زندگی کویاسیت کی گہری چادراُوڑھادی ہے۔۔۔میری عمر بڑھادی ہے۔۔تیرگی میں روشنی دکھادی ہے۔۔۔جس عُمرمیں بچے کھیلتے کودتے تھے میں تاریخ جیسے خشک مضمون کوکھنگھالتاتھا۔۔۔میں کاغذکے ٹکڑوں پرنظم رقم کرتا۔۔۔دورانِ کلاس غزل لکھتا۔۔۔جب کچھ بڑاہواتوہم جماعت کہنے لگے، یار شاعرِ مشرق توگزرگیااب تجھے ہم شاعرِمغرب کہیں گے۔۔۔۔نویں جماعت میں جب میر کی غزل کے دواشعارمیم نے تشریح کیلئے دیئے تو انھیں پڑھ کر اتنا محو ہوا کہ تشریح لکھنا بھول گیا ۔۔کلاس میں سب سے زیادہ سزاکامستحق ٹھہراکہ بقول ٹیچرجب شاعربھی ایک لفظ تشریح میں نہ لکھ سکے تو دوگنی سزااس کامقدرہونی چاہیے ۔۔پھرٹیچرنے سوال کیاکہ اس عمر میں کیادُکھ لگ گیا کہ بالی عمر میں ہی شاعری شروع کردی۔۔۔میرے سے کچھ بن نہ پڑاتومیم سے عرض کی کہ علامہ محمد اقبال کو کیاغم تھا؟جواب ملا قوم کا غم ۔۔۔پھرپیریڈکی گھنٹی بجی ٹن ٹن ٹن اورمیم رُخصت ہوگئیں۔۔۔یہ آج کی بیل سے قدرے مختلف تھی ۔۔۔نیم کے درخت کے نیچے توا نما ایک پلیٹ لٹک رہی ہوتی اورکبھی اسے کوئی نائب قاصد اور کبھی کوئی طالب علم انتظامیہ کے حکم پربذریعہ ہتھوڑی بجا لاتا۔۔۔کبھی ہم کسی کو پانی پینے کی شہ دے کربھیجتے کہ پیریڈبورہے پانچ منٹ پہلے بجاکرغائب ہو جانا۔۔۔۔وہ بالکل ایسے غائب ہوجاتاجیسے کوئی انجان سی صورت بھلی لگےاورگاڑی سے اُترجائے۔
اکثرمیرے اند رایک ہوک سی اُٹھتی ۔۔۔ایک تلاش ۔۔۔ایک جستجو۔۔۔رسالوں کے آخری اوراق میں لکھی دانش کی باتیں جب مجھے مطمن نہ کرپاتیں تو میں سراپا سوال بن کر خُود ہی سے مخاطب ہوتا۔۔خود ہی جواب دیتااورخود ہی جواب الجواب ۔۔۔واصف علی واصف سے لے کربلھے شاہ اوربلھے شاہ سے لے کر وارث شاہ تک سبھی سے سوال کرتا۔۔۔اک کیف اک سرور ۔۔۔اک نئی دنیا میں کھوجاتااورکبھی کبھی گنگناتا۔۔۔اجنبی تم مجھے بہت یاد آتے ہو ۔۔۔میں تنہاہوں تم مجھے کیوں ستاتے ہو۔۔۔۔جسے میرا عشق سمجھا گیا اس کےہوتے ہوئے بھی شبِ غم میری زندگی کا حصہ رہی اوراُس کے جانے کے بعد بھی میری جستجو جوں کی توں رہی ۔۔۔سوالوں کے جواب اورجوابوں پر پھر سوال ۔۔۔بس یونہی زندگی کے پل گزرتے رہے۔
ایک دن ایک گرم دن کوئی سامنے آکراپناتعارف کروانے لگا۔۔۔میری نظریں نہیں اُٹھیں ۔۔جب کہ من میں بے چینی سی تھی کہ یہ نسوانی آواز دُور ہو جائے بہت دور۔۔۔پھر ایک اورشخصیت تشریف لائی اورتعارف ہوا ۔۔۔نظریں اُٹھیں ۔۔۔سوال جواب ہوئے۔۔۔۔پھر ایک اورشخصیت تشریف لائی ۔۔۔کھنکتی ہوئی آواز۔۔۔تعارف کروارہی تھی ۔۔۔تھوڑی بہت کنفیوز ،شاید اتنے سامعین پہلی مرتبہ اُس کے چہرے پرنظریں گاڑے اُسے سن رہے تھے ۔۔۔وہ لب ولہجہ سے اپنی الھڑجوانی کابھرپورلُطف لے رہی تھی ۔۔۔لیکن روشندانوں پرموجود سیوی کے نشان اُس کے کمرے کی بربادی کانوحہ بالکل ایسے سنارہے تھے جیسے کوئی عاشق، کوئی دیوانہ، کوئی مستانہ، اپنے اُجڑے ہوئے بالوں ،شکستہ بدن ،دھنسی ہوئی آنکھوں اوررُندھی ہوئی آواز سے بیان کرتاہے ۔۔اُس کے چہرےپرسے میری نظرنہیں ہٹ رہی تھی ،وہ جوکہتی گئی میں سنتاگیا،وہ جو بتاتی گئی میں مانتاگیا،وہ جوسمجھاتی گئی میں سمجھتاگیا،وہ جو ہنساتی گئی میں ہنستاگیا،وہ جورُلاتی گئی میں روتاگیا۔۔۔کیوں؟اس باریہ کیوں نہیں اُبھری تھی۔کوئی سوال کوئی حاشیہ نہیں بناتھا۔کوئی تشریح کوئی ترجمہ کسی کی ضرورت پیش نہ آئی تھی۔
ایک دن بھیڑمیں ہم نے کچھ استفسارکیالیکن اگلے ہی لمحے اُس کے کسی قریبی نے بھی سوال داغا۔۔۔اُس کی نگاہیں میری نگاہوں پرمرکوز ہوگئیں ۔۔۔یہ سوال بھی تھا اورجواب بھی ۔۔۔۔میں بھی نظرنہ ہٹاسکا،جواب دیا ۔۔۔جواب الجواب لیااورپھر سوال کیا۔۔۔بس تھوڑاسامیری بات کاجواب دیجئے اورتھوڑی سی اُس لڑکی کی تشنگی بجھادیجئے۔۔۔۔سکتے میں غوطہ لگائے،میری جانب تکتی وہ مبہوت لڑکی گویا ہوئی :ہاں!یہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔پھر ایک دن اپنی ہی بتائی گئی باتوں میں سےاُس نے ایک بات ایک ہجوم کے درمیان پوچھ لی ۔۔۔ہم اپنی باری پربتانے گئے توپھر سوال ہوا۔۔۔یہ بھی سمجھائیے ۔۔۔۔ہم نے جواب دیا ،سمجھایااورآنکھوں میں تکاتووہ جواب دے رہی تھیں اورسوال بھی کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔لیکن بہرطورہم سراپاسوال تھے سوپھرپوچھ بیٹھے سچ کیاہوتاہے؟؟؟وہ بھولی دلائل دینے لگی ۔۔۔ہم بھی کایاں تھے جواب دیا۔۔۔۔سفرمیں موجود ساتھ والی سیٹ سے پھر سوال ہواہم نے جواب دیا۔۔۔بحث چلی ۔۔۔چند سواریوں نے اپنے دلائل دیئے اورگاڑی ایک روایتی بس کے بجائے یونان کی گلیوں کاسامنظرپیش کرنے لگی۔۔۔وہ چوتھے نمبرپربیٹھی اپنے انداز میں سچ کابتارہی تھی ،ہماری رد دلیل آتی اورپھرنئی دلیل کسی کونے سے آٹکراتی ۔۔۔۔ہماراسوال نہ وہ سمجھ سکی نہ ہم سمجھاسکے لیکن سچ پر بحث جاری رہی ۔۔۔گاڑی سے اُترنے کا وقت آگیالیکن وہ بولی بحث جاری رہے گی ۔۔۔ساتھ والی سواریاں اُترگئیں ۔۔۔ہم انھیں دیکھتے گئے اورجواب دیتے گئے ۔۔۔آوازگونجی، میں! ایم اے سوشیالوجی ہوں ۔۔۔فلاں فلاسفرنے سچ کے متعلق فلاں کہا ۔۔فلاں نے فلاں جواب دیا۔۔۔ہم جو کچھ نہ تھے بس اسی بات پر اڑے رہے کہ سچ وہی ہے جو ہرجاسچ ہوباقی ہرکسی کااپناسچ ہوتاہے۔۔۔چیلنج ہوا۔۔۔ہم اڑگئے۔۔۔۔بات چلی ۔۔۔وکیل بولا!کل ۔۔۔۔وہ بولی آج ہی ۔۔۔لیکن یہ جوان مجھ پر اپنی دلیل سے اثرانداز نہیں ہوسکتا،میں اپنی رائے پرقائم رہتی ہوں ،کسی سے مرعوب ہوجائیں توپھر توہم کچھ نہ ہوئے ،۔۔۔لفظ لفظ ،حرف حرف ،تہہ درتہہ ،تیرگی چھٹتی گئی ،روشنی بڑھتی گئی،چہرہ اُجلاہوتاگیااوروہ کہنے لگی ۔۔۔مان گئی ہوں۔۔۔آپ حق بجانب ہیں۔۔۔۔۔
عرصہ بیت گیاہے، میں آج پھر سراپاسوال ہوں، ارے آئینے جواب دے ۔۔۔کیا آج بھی وہ اُس سچ کو مانے گی ؟جو اُس کامن کہہ رہاہے َ؟؟۔کیاوہ میری طرح تسلیم کرے گی کہ محب نسانیت میں مبتلابھی ہوتولمحہ لمحہ یاد رکھتاہے۔۔۔کیاوہ تسلیم کرے گی کہ وہ جہاں بھی کھوئی رہے بالاآخر جو لاشعورمیں بسی تھی۔۔۔ وہی اُس کی محبت ہے ؟؟؟۔۔لفظوں کے جال اُس کی شفاف محبت کی گیرائی کوکم نہ کرسکیں گے توکیاوہ اتفاقیہ رشتے سے نکل کرابدسے قائم رُوح کے رشتے کوتسلیم کرے گی؟۔۔۔۔کیاوہ اولیااللہ کی اس بات کوتسلیم کرے گی کہ جن روحوں کو ازل سے پیارہوتاہے ،وہی دنیامیں آکرایک دوسرے کوچاہتی ہیں اوریہ تعلق ابدی ہوتاہے،اجسام سے ماورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوقائم رہ جائے وہی محبت ہوتی ہے۔۔۔۔
وہ تسلیم کرے یا نہ کرےلیکن کیامیں اُس کے بغیر جی سکتاہوں؟ ۔۔۔ہاں جی سکتاہوں ۔۔بالکل جی سکتاہوں ۔۔۔فلاں بھی توزندہ ہے ۔۔فلاں بھی توزندہ ہے۔۔۔ارے آئینے دیکھ میں بھی توزندہ ہوں ۔۔بالکل درست بالکل توانا۔۔۔توپھرریت کے بنے آئینے توپتھرکی طرح کیوں کہتاہے کہ جب کھارہاہے ،پی رہاہے تومحبت تیرے اندرکیسے زندہ ہے؟کیاتونہیں جانتاکہ نظامِ فطرت وجبلت کی ضروریات زندہ رہتی ہیں۔ہاں اگروہ درہم برہم نہ ہوں توپھرمحبت نہیں ہوتی لیکن وہ نیست ونابودنہیں ہوتیں کہ غم سہنابھی محبت ہے ۔بہاربھی محبت ہے اورخزاں بھی محبت ہے۔جوان چہرے کوجوانی میں ہی ضعیف دیکھنامحبت ہے، فقط موت کے حوالے کرنامحبت نہیں ہے۔وصل کی لہروں پر نہیں ہجرکے تندوتیزطوفانوں پربادبان قائم رکھنامحبت ہے۔ارے آئینے تجھ میں شکنیں پڑگئی ہیں یامیراچہرہ شکستہ ہورہاہے ۔ارے لوگو!ارے لوگو!میراآئینہ میرے ہاتھ میں ٹوٹ گیا۔۔۔مجھے نہ اُس نے جواب دیانہ اِس آئینےنے ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ کملی کہتی ہے تیرا دل ناکام نہیں نادان ہے ۔۔۔اُسے اُسے کوئی جا کربتلائے کہ وہ جو سچ وہ مان گئی تھی آج بھی اُسی کے لبوں سے سُن کرمجھے تسکین ملے گی ۔۔۔آج پھر آکرمجھ سے بحث کرے ۔۔۔کیونکہ مجھے اپنی محبت کی تلاش ہے ۔۔مجھے اپنی محبت کی تلاش ہے۔….نجانے میری محبت کدھر گئی ۔۔۔وہ شخص یہ کہتاہوا ،چیختاہوا،چھلی کو چوم چوم کرکھارہاتھااورمیں اسٹیشن پربیٹھاسوچ رہاتھاکہ اس غیرآباداسٹیشن پربھی ایک دنیاآبادہے ۔دل چاہاکہ اس کہ زخموں پرمرہم رکھ دوں پھریہ سوچ کراُدھرسے اٹھ گیاکہ جدھراس بشرکابسیراہے اُدھرتواب ٹرین بھی نہیں رُکتی ۔

Facebook Comments

3 thoughts on “افسانہ۔۔۔۔محبت کی تلاش….۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. That is sucһ a fun game and we had an ideаl birthday
    Daddy.? Larry addeɗ. ?Can we ply ?Whɑt?s the perfect
    factor about God? tomorгow too?? he begged his M᧐mmy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *