تہذٍیب……از…..ظہور حیسن

Spread the love

 

تہذیب

اب میں جس شخصیت کو مدعو کرنے جارہاہوں وہ ایک انتہائی قابل، اعلی تعلیم یافتہ ،ادب میں بے مثال ،تہذیب ومعاشرت میں کمال یدطولی رکھتے ہیں۔میرے پاس ان کی تعریف وتکریم کے لئے الفاظ کا فقدان ہے،اُن کی سماجی اورعلمی خدمات کو اس مختصرسے وقت میں بیان کرناایساہے جیسے دریا کوکوزے میں بندکرنا۔آپ نے اپنی اعلی تعلیم دنیاکی بہترین یونیورسٹی سے حاصل کی۔تحقیق کے میدان میں ایسا لوہامنوایاکہ آپ آج دنیاکے چند نامورمحقیقین کے صفِ اول میں شامل ہیں۔تہذیب ومعاشرے کے باب میں آپ کانام پاکستان کے چند بہترین سکالرز میں ہوتاہے۔آپ خودنہ صرف اس شعبے میں ایک بے مثال حیثیت رکھتے ہیں بلکہ آپ کی شریکِ زندگی بھی علمی و ادبی ومعاشرتی لحاظ سے ایک اعلی مقام پر فائز ہیں۔تویہ سارا خاندان علم وادب ،تہذیب ومعاشرت میں اپنی مثال آپ ہے۔توناظرین !میں نظامت کے فرائض میں مزید کوتاہی کیے، بغیر کسی تاخیر کے اب دعوتِ خطاب دیتاہوں، جناب ڈاکٹر محمد افضل صاحب کو کہ وہ سٹیج پر تشریف لے آئیں اورتمام حاضرین وناظرین کے قلوب کو اپنی سنہری باتوں سے منور کریں ۔اس اعلان کے ختم ہوتے ہی صنف میں تالیوں کی ایک ایسی گونج اُٹھی کہ تمام ہال میں ایک ہیجانی سی کیفیت چھاگئی۔حاضرینِ محفل اپنی نشستوں سے اس طرح اُچھلے جیسے کسی سپرنگ کو دبا کر چھوڑدیاجاتاہے۔لوگوں پست قامت لوگوں کے اوپر سے ،اور بلند قامت عوام کے کندھوں سے اپنی بصارت کی شعاعیں اور کرنیں صرف اورصرف سٹیج پرمرکوز کیے ہوئے تھے جہاں پر جناب ڈاکٹرافضل صاحب نے جلوہ افروز ہوتاتھا۔یک بیک حال میں خاموشی چھا گئی اور تمام ہال خاموشی کے سمندر میں ڈوب گیاجیسے ہی ڈاکٹرصاحب سٹیچ پر اُبھرے اور اپنی پیاری مدھر سی آواز میں آہستہ سے ، بہت ہی دلکش انداز میں ، گلابی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے، عوام سے مخاطب ہوئے ،اور بولنے سے پہلے اپنے اشاروں کنائیوں سے بہت کچھ کہہ گئے۔اُنھوں نے اپنے دونوں ہاتھ فضامیں لہرائے اور تمام حاضرین ِ محفل آپ کے اس عمل سے بہت متاثرہوئے اور ادب واحترام کے ساتھ اپنی کاٹھ کی سخت نشستوں میں ڈھیر ہوگئے۔جناب ڈاکٹر صاحب خوش مزاج انسان کے ساتھ ساتھ خوش لباس بھی تھے۔درازقامت ،سُرخ وسپیدرنگت، گھنے بال اورپف والے حصے میں چند سفید بال عمر کی پختگی کا حوالہ دے رہے تھے۔توند ہلکی سی بڑھی ہوئی تھی لیکن شکن آلودشیروانی نے کسی حد تک بھرم قائم رکھاہواتھا۔کلائیوں تک گھنے بالوں کی جھالر پنکھے کی ہلکی ہلکی سی ہوامیں بھی بہت ہی ہلکے انداز میں بالوں کو سہلا رہی تھی ۔ناک کے اوپر ایک عمدہ فریم کے ساتھ چشمہ اُن کی عالمانہ وضع قطع کودوبالاکیے ہوئے تھا۔قصہ مختصرجناب ڈاکٹرافضل صاحب ، ایک دیدہ زیب ہردلعزیز اور خوبصورت شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مقرربھی تھے۔حالات،واقعات میں تمثیل واستعارے کا بروقت استعمال بہت خوبصورتی سے کرتے تھے۔فنِ تقریر میں چند اہم شخصیتوں کے ہم پلہ تھے۔حاضرین ِ محفل کو آہستہ آہستہ غیرمحسوس طریقے سے اپنی گرفت میں لے لیتے تھے اور پھر لوگوں کو اپنی تقریر کی دلکشی کے ذریعے گاہے بگاہے تِگنی کا ناچ بھی نچا لیتے تھے۔لوگ آپ کی تقریر کے اتنے گرویدہ تھے کہ ڈاکٹرصاحب کی تقریر کو اپنے سمارٹ فون کے ذریعے ،کیمرے کی آنکھ سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کرلیتے اور اکثر آپ کی خوبصورت تقاریر میں بگ اوردوسرے ایپس پر وائرل ہو جاتیں۔ایسی تمام وائرل تقریریں تمام دفتری ملازموں کے لیئے بہت مفید ثابت ہوتیں ۔خاص طور پر جب سائل پر جون کے مہینہ میں ایک لمبی قطار بنا کے کھڑے رہتے اور اعلی آفیسر حضرات اے سی کمرے میں بیٹھ کر ڈاکٹرصاحب کی خوبصورت تقاریر سے لُطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی سبق بھی حاصل کرتے۔تو ناظرین ڈاکٹر صاحب نے سٹیج پر سب سے پہلے ہلکی سی پُرترنم کھانسی لی اوراپنے گلےکوصاف کرنے کے بعد تمام حاضرین ِ محفل سے انتہائی مشفقانہ اور دھیمے لہجے میں سلام پیش کیا۔اور پھر اپنی تقریر کے مندرجات پیش کرنے سے پہلے کچھ عذر ومعذوریاں عرض کیں۔آپ لوگوں کی محبت کا انتہائی ممنون ہوں!کہ آپ کافی دیرسے اس بندہ ناچیز کے انتظار میں رہے ۔دراصل مجھے ٹی وی پر ایک انٹرویو میں دیر ہوگئی۔گرچہ میں نے بہت کوشش کی کہ اختصار وجامعیت کے ذریعے اپنا پیغام ٹی وی پر دوں لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ اینکر پرسن کچھ ایسے سوالات داغے جن کا تشفی بخش جواب دینا میرے لئے ضروری قرارپایا۔میں ایک دفعہ پھر معذرت چاہتاہوں اوراُمید کرتاہوں کہ آپ مجھے معاف کردیں گے۔جناب ڈاکٹرصاحب کی عاجزی دونوں لفظوں اورلہجے میں اس طرح اُتر آئی کہ حاضرین ِ محفل کو ندامت محسوس ہونے لگی اور چند جوشیلے نوجوانوں نے جو ڈاکٹرصاحب کے انتہائی فین تھے ،کھڑے ہو کر یہاں تک کہہ دیا کہ جناب ڈاکٹر صاحب ! ہمیں آپ کے انتظار میں بھی لُطف آتاہے،ہم آپ کی علمیت کے دیوانے ہیں۔آپ اس صدی کے عظیم سپوت ہیں ۔آپ برائے مہربانی ہمیں مزید شرمندہ نہ کریں۔نوازش۔۔۔آپ کی محبت ۔۔۔یہ چند مختصرجملے ہوا میں محبت کے ساتھ لپیٹ کرجناب ڈاکٹرصاحب نے لہرائے اور تمام حاضرینِ محفل تازہ دم ہوگئے۔اور پھر اس کے بعد یہ محفل اپنے مقصد کی طرف آہستہ آہستہ سے بڑھنے لگی۔آج کے اس سیمینار وکانفرنس کاعنوان تھا ۔۔تہذیب وتمدن اورموجودہ دورکے تقاضے ۔۔۔۔۔ڈاکٹرصاحب نے سب سے پہلے حاضرینِ محفل سے ایک سوال کیا اور وہ سوال تھا ۔۔۔تہذیب ومعاشرت کیاہے؟اور چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے اور پورے ہال کو کوئی سانپ سونگھ گیاتھا۔کسی نے کچھ کہا۔پھرڈاکٹرصاحب نے اپنے سوال کودہرایااور عوام سے مخاطب ہوئے کہ میں آپ کو آج بتاتاہوں کہ تہذیب کیاہے؟قومیں کیسے مہذب کہلاتی ہیں؟ہم کس طرح یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک تہذیب یافتہ قوم ہے اور کیسے ہم کسی قوم کو غیرتہذیب یافتہ کہتے ہیں۔اچھے مکارمِ اخلاق کا دوسرا نام تہذیب ہے،عوام الناس کے ساتھ حُسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنے کا نام تہذیب ہے۔تہذیب ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں تک کہ دورانِ جنگ بھی کمزور،بچوں، عورتوں اورمفلسوں کوتباہ نہیں کرنا۔اس کے بعد اُنھوں نے تہذیب پر ایک انتہائی جامع اور مفصل خطاب کیا۔ان تمام کا احاطہ اس چھوٹے سے افسانہ میں گرچہ مشکل ہے تاہم اس تقریر کے چند خوبصورت اقتباسات آپ کی سماعتوں کی نذرکرتاہوں ۔تہذیب سے مُراد یہ ہے کہ اگر وقت کا نبی بھی کسی کے ساتھ سفر کررہاہے اور اُن کے پاس سواری ایک ہے اورسواردوتو نبی یہ نہیں کہتاکہ میں ہی صرف سوار ہوں گابلکہ وہ ایک عام اُمتی کو بھی اُس سواری پر اتنا ہی حق دار گردانتاہے جتناوہ خود ہے۔یہ ہے ہماری تہذیب، یہ ہے ہماری قدریں۔اس کے بعد اُنھوں نے مسلم تہذیب کی چند ایک خوبصورت مثالیں عوام کے سامنے پیش کیں۔جنگ کا سماں ہے ،کچھ صحابہ اکرام زخمی ہو جاتے ہیں اورمیدانِ حرب میں زخمی حالت میں کراہ رہے ہیں۔اتنے میں ایک شخص مشکیزہ پانی کے ساتھ نمودارہوتاہے۔تمام غازیوں کی حالت نازک ہے ۔زخموں سے چُورچُورہیں۔لیکن پھر بھی زبان سے یہ نہیں نکلاکہ بھائی پہلے مجھے پانی دو۔نہیں پہلے مجھے پانی دو۔بلکہ پہلے والا زخمی اشارہ کرتاہے کہ سب سے پہلے میرے ساتھ والے بھائی کی پیاس بجھائو ۔وہ زیادہ زخمی ہے۔دوسرا زخمی تیسرے زخمی کے پاس مشکیزہ والے کو بھیجتاہے کہ پہلے اُسے پانی دو۔قصہ مختصر پانی کے ہوتے ہوئے بھی وہ صرف حوضِ کوثر سے جام نوش فرماتے ہیں۔اِ سے کہتے ہیں تہذیب ،بتائو دُنیا میں کونسی ایسی قوم ہے جہاں اس طرح کا تمدن ہو؟جہاں پر ایسامعاشرہ ہو؟جو ہجرت کرنے والے مہاجرین کو اپنی آدھی جائیداد دے دیں۔بتلائو نا ذرا ۔عوام کے اندر نعرہ تکبیر کی فلک بوس صدابلند ہوئی اورپُوراحال اپنے پیارے ڈاکٹرصاحب کے فنِ خطابت سے مسحور ہو گیا۔کافی دیر تک تالیوں کی گونج چلی اور پھر اس کے بعد جب ڈاکٹر صاحب دوبارہ عوام سے مخاطب ہوئے ۔اِ س دفعہ ان کی آواز میں زیادہ جوشِ خطابت تھا اوراُنھوں نے تہذیب وتمدن خاص طورپر مسلم تہذیب وتمدن اورطرزِ معاشرت کے چند ایسے واقعات بتائے کہ عوام میں مزید جوش وخروش اُمڈآیا۔کہتے ہیں ۔۔۔وقت کا خلیفہ ہے۔۔۔۔بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم ہے،اور دربارمیں ایک عام آدمی اپنی آواز سب کے سامنے بلند کرتاہے۔یاامیرالمومنین! ہمیں جو مالِ غنیمت سے حصہ ملا تھا اس سے ہمارا پورا سوٹ نہیں بن سکا۔آپ کا کس طرح بن گیا!وقت کے امیرالمومنین ! اُسے ڈانٹتے نہیں ۔اُس کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھتے ۔کوئی درباری نہیں جو ایسے بندوں کاعلاج کرتاہو۔اُس سے بولنے کا حق نہیں چھیناگیا بلکہ ایک عام شہری کی طرح وقت کے خلیفہ آگے بڑھے اور قاضیِ وقت کے سامنے حاضرہوکر اپنا دامن صاف کیا۔نہ کوئی جلسہ کیانہ کوئی خطاب کہ لوگودیکھو! آپ کے امیرالمومنین کو بھری محفل میں ایک عام شہری نے روکا ہے یا ٹوکا ہے۔بلکہ بتا دیاکہ اپنے بیٹے کے حصہ کا کپڑا ملا کر سوٹ بنوایاہے۔یہ ہے اسلامی تہذیب وتمدن اور معاشرتی نظام ۔جو بنیادی طورپرجمہوریت پسند ہے۔جناب عالی! آپ آج کی دُنیا کی ترقی یافتہ تہذیبوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں جب ایک وقت ایسا آیا کہ انگلستان مکمل طورپرتباہ ہو گیا ۔جنگ کے حالات نے اُس ملک کو کہ جس کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتاتھا مکمل طورپرکسمپرسی میں دھکیل دیا۔پھر چرچل نے کہا تھا کہ کیا ہماری عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا؟تو سوالی نے جواب دیا :جی انصاف تو مل رہا ہے ۔تو چرچل نے کہا کہ پھر انگلستان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔عوام نے تالیوں س ڈاکٹرصاحب کو خوب داد دی ۔اور پھر جناب ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ ظلم کا معاشرہ نہیں چل سکتا ۔عدل ہماری تہذیب ومعاشرت کا اہم جُزو ہے ۔پھر اُنھوں نے اپنی خوبصورت تقریر میں اسلامی طرز معاشرت کی چند اور خوبصورت مثالیں دیں اور فرمایا کہ اسلالم میں غلام اور نوکر کا کوئی فرق نہیں۔آپ خطبہ حجتہ الوداع دیکھیں۔اس جیساچارٹرآج تک پوری دُنیا میں نہیں آیا۔اسلام میں بلال حبشی آئے تو سیدنا بلال ہوگئے ۔وقت کے خلیفہ ،22لاکھ مربع میل کے حاکم بھی سیدنا(سردار)بلال کہہ کراُن کو مخاطب کرتے۔سلمان فارسی اسلام میں داخل ہوئے تو اہل بیعت میں شمار ہو گیا۔ہم لوگوں نے اپنے معاشرے میں دیکھنا ہے کہ ہم اپنے ملازمین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں ؟اس کے بعد تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔حاضرین ِ محفل!بڑھ چڑھ کر آج کے سپیکر کے ساتھ سلفیاں لینے میں مشغول ہو گئے ۔جناب ڈاکٹر صاحب کی زوجہ محترمہ جو خود بھی ایک عالمہ تھیں سٹیج پر اپنے شوہر ِ نامدارکے ساتھ جلوہ افروزتھیں۔میں اس محفل میں ایک کونے پر بیٹھا اپنے آپ کو سب سے بڑاخوش قسمت تصورکررہاتھاکہ آج کی محفل کی جان میرے قُرب میں رہائش پذیرہیں۔میری خوشی دوبالاہوچُکی تھی ۔میں نے دل ہی میں ٹھان لیاکہ اگلے ہفتے ڈاکٹرصاحب کے گھر جا کر قدم بوسی کروں گا اوراُنھیں او ران کی اہلیہ کو ایک عشائیے پر مدعو کروں گا۔تھوڑی دیر بعدطعام کُھلا۔لوگوں نے کی بھر کر کھانا کھایا۔مہمانوں کی خاطر تواضع کی گئ اوراُس ککے بعد آج کی محفل کو چارچاند لگانے والی شخصیت کو تحائف اور پھولوں کے ہمراہ ایک گاڑی میں بٹھاکر چند جوشیلے جوانوں نے الوداعی نظر ڈال کر دروازہ بند کردیا۔میں بھاگابھاگا گھر آیااورگھرکے دروازے پر دستک دی تو کوئی جواب نہ آیا ۔میں نے تھوڑے غُصے میں دوبارہ زورسے دستک دی تو بیگم نے زیرلب یہ کہتے  ہوئے کواڑکھولا کہ”” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور, ” اورمجھے دوسرے کمرے میں جانے کو کہا۔میں بے قرارتھا کہ جلدی جلدی بیگم کو اپنے دل کا حال سنائوں کہ میں پیٹ کا بہت ہلکا ہوں اور بیگم کے الفاظ پر بھی تجسس نے گھیر لیا۔بیگم جب مجھے کپڑے دینےبھی نہ آئی تومیں ذرا کُرخت لہجے میں چلایا،بیگم! ۔۔”۔آئی”۔۔۔۔اُس نے اطمینان سے جواب دیا۔اورپھر وہ دروازے پر نمودار ہوئی تو اُس کی گالوں پر آنسوئوں کی لڑیاں دیکھ کرمیں نے قدرے پریشانی سے سوال داغا:خیریت ہے؟ہاں !وہ بچی ۔۔۔ہے نا!مریم! جو اپنے پڑوس میں ایک ڈاکٹرصاحب کے ہاں کام کرتی ہے۔اتنے کہنے کے بعد بیگم نے ذراتوقف کیاتو میں مزید گھبراکربولا ہاں تو کیاہوااُسے! بیگم نے رُندھے ہوئے لہجے میں بمشکل اتناہی کہا :اُس کی پیٹھ پر بیلٹ کے نشان پرنٹ کی طرح ثبت ہیں۔میری استفساربھری نظروں پربیگم نے بات مکمل کرتے ہوئے کہاکہ :بے چاری نے رات کو ڈاکٹرصاحب کی شیروانی استری کی تھی لیکن ذرا صحیح والی نہیں کر سکی تھی ! میں گُم سُم ہو گیا اور واک کا بہانہ بنا کر آنسواپنے اندراُنڈیلتاہواگھرسے باہر نکل گیا۔

Facebook Comments

18 thoughts on “تہذٍیب……از…..ظہور حیسن

  1. It’s just wow at every step of the story it was provoking me , the diction, the appropriateness of situations, and especially the gestures used in the story occupies my attention and the end all the more astonishing in the sense that it really expounds our real society in pure sense because there is no doubt shallow water runs deep and in this modern era there is chaos in the inner life of the people and this chaos has been shown by my very respected teacher in a very artistic manner though in subtle manner but the reader can feel this turbulence of modern society at heart

  2. بہت خوب سر بڑا اچھا سبق ملتا ہے اس کہانی سے لیکن ایک بات،اس کہانی میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو کسی انسان کی ایک غلطی اور خامی کے پیچھے اس کی تمام تر اچھایاں اور خوبیاں بھول جاتے ہیں اگر اس کہانی میں ڈاکٹر صاحب کے کردار پر آنسو بہانے کی بجائے اس حدیث کو واضح کیا جاتا کہ ایک عالم اس کشتی کی مانند ہوتا ہے جو خود تو پانی میں ڈوبی ہوتی ہے لیکن دوسروں کو محفوظ کر رکھا ہوتا ہے،تو کہانی کا ذائقہ مزید زبردست ہو جاتا.برحال جو لکھا ہے .کمال ہے

  3. Dear Ahsan
    Thanks for your valuable comments and critical perusal of my short story. I have read Munshi Prem Chand and if you ever read him you can find the minute descriptions of each and every thing and second its fiction where a writer uses his imagination to paint different scenes with his brush. Second i have used a technique of sharp contrast in order to create an impact along with describing a social situation and finally I am a writer and not a preacher as my objective is to present things as they are. Lastly , i categorically mentioned that Dr sb was my neighbour. I am afraid as i am not as well read as to read the two digests you mentioned there. I am really happy and thankful to you for giving comments.

    1. آپ حقیقت میں اردو اور انگریزی ادب کے ایک باکمال مصنف ہیں- آپ کے انگریزی ادب کے کام سے خوب متاثر ہونے کے بعد , اردو ادب میں بھی آپ کی دلچسپی دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوئی- انگریزی ادب میں آپ کی شائع کردہ کتب ” A song of a blind bride ” اور ” Eve 2000 ” کسی بھی پڑھنے والے کے دل میں جگہ بنانے کی خوب صلاحیت رکھتی ہیں۔ اردو ادب کے اس حصہ میں جس شائستگی اور تسلسل کے ساتھ آپ نے الفاظ کے مجموعہ کو زنجیر کی مانند جوڑ کر ایک ادبی سانچے میں ڈھالا ہے، قابل تعریف ہے- قوم کو آپ جیسے عظیم قلم نگار پر فخر ہے- اللہ رب العزت آپ کو کامیابی و کامرانی عطا فرمائے- آمین

  4. عوام الناس کے ساتھ حُسنِ سلوک کے
    ساتھ پیش آنے کا نام تہذیب ہے

    Amazing..👌

    1. اول! مصنف نے بہت اچھی کوشش کی ہے معاشرتی مسائل کو اوجاگر کرنے کے لیے ۔دوئم میں یہ سمجھتا ہوں ہوں کہ مصنف نے اتنی سی بات سمجھانے کے لئے اتنے زیادہ ۔وضاحت دے دی جسکی کو ضرورت نہیں تھی
      ۔ زبان اور الفاظ کا چناؤ، سٹیج پر بلونے کیلیے جو استمال کیے وہ اسے تھے جیسے کسی رسالہ یا ڈائجسٹ سے لیے گے ہوں جسے خواتین ڈائجسٹ یا شمع سے۔کیونکہ ایسے تعریفی کلمات انہی ڈائجسٹ میں دیے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ ایسے اٹھے پھر آگے بڑھے پھر سٹیج پر تشریف لانے لاے اور اسے ہاتھ ہلاتے بہت۔۔۔۔۔ تو کوشش تو بہت اچھی ہے لیکن ایک سکالر کیلئے اور تجربہ و مشاہدہ درکار ہے ۔تین لین کے سبق اموز پیرائے کو اتنا کھینچ دینا کہاں کا انصاف ہے ۔ ۔ اور آخر میں مصنف جب گھر پہنچے تو بیگم کا اترا ہوا چہرا کہ مریم جو ڈاکٹر صاحب کے ہاں کام کرتی ہیں ۔۔۔ تو مصنف کو کسے پتا لگا کہ ہے وہی ڈاکٹر صاحب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر اچھی کوشش کی ہے معاشرتی مسائل کو اوجاگر کرنےمیں ۔

  5. اسلام عمل کا نام ہے اور ہم اسے حلق سے نیچے نہیں اترنے دیتے یہی ملسم کی کمزوری ہے , ہمارے پاس سنانے کو قصے ہیں دکھانے کو عمل نہیں

  6. جی سر بہت اچھا لکھا ہے… لیکن آخر پہ حقیقت انتہائی تلخ…
    ایسی تہذیب سکھانے لکا کیا فائدہ… ؟
    جب خود میاں فصیحت.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *