ہماری سوسائٹی کے گدھ………از۔۔۔۔سراج احمد تنولی

Spread the love

ہماری سوسائٹی کے گدھ۔۔۔
تحریر: سراج احمد تنولی
گدھ نامی پرندے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مردہ ، لاچار اور بیمار جانوروں کو نوچتے ہیں اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں یہ اپنی لمبی موٹی چونچ اور لمبی گردن سے مردہ جانور کی پیٹھ سے سوراخ کر کہ اسے نوچتے ہیں۔اگر گِدھوں کو بیمار، لاچار یا مردہ گدھا مل جائے تو یہ اس کی پیٹھ سے سوراخ کر کہ ساری بوٹیاں نوچ لیں اور خون چوس لیں۔ یہ اس سوراخ میں اس قدر اپنی گردن گھسا دیتے ہیں کہ گردن نظر تک نہ آئے۔ حتٰی کہ جب یہ گردن باہر نکالیں تو وہ بھی خون آلود ہو جائے اور گَدھے کی چیخیں نکل جائیں۔ یہ اس جانور کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اسے کھوکھلا بنا دیتے ہیں باقی صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔یہی حال ہماری سوسائٹی میں موجود گِدھوں کا ہے جو ہمارے کمزور سسٹم کو مزید کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم چھوٹے گِدھوں (عام عوام) یا پھر بڑے گِدھوں (افسران اور وزراء)کو دیکھیں سب کے سب ہی ملک کو نوچتے جا رہے ہیں۔جسکی چونچ اور گردن جتنی لمبی ہے وہ اس قدر ملک کہ کھوکھلا اور کمزور کرتا ہے۔ جسکی پہنچ جہاں تک جاتی ہے وہ وہیں تک لوٹتا جاتا ہے۔ اگر وہ عام ریڑھی والا ہے تو وہ بھی ملاوٹ والی اشیاء بیچتا ہے۔ گوالے دودھ میں پانی اور پاؤڈر ملا کر عوام کو نوچتے ہیں۔ کم تولنا، گَدھے کا یا مردہ جانوروں کا گوشت بیچنا یہ بھی عوام کی بوٹیوں کو نوچنے کے ہی مترادف ہے۔ یہ تو چھوٹے گِدھ ہیں بڑے گِدھ بھی کسی سے کم نہیں یہ مختلف لبادوں میں بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔ پاکستان کا ہرادارہ دن بدن کمزور اور کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔پی آئی اے کو دیکھ لیں کس قدر کمزور اور کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی ریلوے میں 60ارب روپے کے خسارے کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں پنجاب گورنمٹ کے خاص بیوروکریٹ احد چیمہ بھی نیب میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔سابقہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچے بھی منی لانڈرنگ اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔سیاست دان اشتہارات میں بھی سرکا ری وسائل کا بے جا استعمال کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ملک سے فرار ہیں۔ شرجیل میمن بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ بلین ٹری پروجیکٹس میں بھی اربوں کی خرد برد سامنے آئی ہے۔ حتٰی کہ ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے۔ جس پارٹی کے حکومت میں آنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں سیاسی گِدھ اسی کے منڈیر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔
عجیب منطق ہے ہر کوئی اپنا کام چھوڑ کر عہدوں کی لالچ میں گم سم ہے۔ہمارے سیاست دان ہر وقت اسی خواہش میں جی رہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح ان کے ہاتھ سرکاری خزانے میں ہونے چاہئیں، چاہے ان کی ٹانگیں قبر میں ہوں۔ چاہے سرکاری ادارے ہوں یا پرائیویٹ ہر ادارے اور افسران عوام کو لوٹنے کا موقع ضائع نہیں کرتا۔ شاید یہ محاورہ ہماری ہی سوسائٹی کے لئے لکھا گیا ہے کہ! ’اس حمام میں سب ننگے ہیں‘۔
ہمارے ملک میں سیاسی کلچر اس طرح بن چکا کہ یہاں توہین اور بے عزتی کسی پر کچھ اثر نہیں کرتی۔ معروف تجزیہ کار حسن نثار کا یہ کالا قول ہمارے سیاست دانوں کی زبردست عکاسی کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ! ’ہمارا سیاسی میٹریل نجانے کس قسم کا ہے کہ ان پر کسی ذلت، رسوائی، بے عزتی، توہین اور تذلیل کا کوئی اثر نہیں ہوتا‘۔
ہماری سوسائٹی کے سیاسی گِدھ کوئی سانحہ نہیں چھوڑتے جوں ہی کسی سانحے کی بھنک پڑتی ہے تو وہ جائے وقوعہ پر منڈلانے لگتے ہیں تاکہ انہیں کوئی فائدہ ہو سکے۔جب یہ اپنا عہدہ چھوڑتے ہیں تو ان کی لمبی گردنیں بھی گِدھ کی مانند سرخ اور خون آلود دِکھتی ہیں۔
اگر ہم پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو اور ملک کو سیاسی گِدھوں سے محفوظ کرنا ہو گا۔ ہر ادارے کو گِدھوں سے پاک کرنا ہو گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے تو عوام کو ملکی وسائل پر مساوی حقوق دینے ہوں گے۔وگرنہ گِدھ ترقی نہیں چاہتے صرف کھوکھلا کرنا اور نوچنا جانتے ہیں۔

نوٹ : ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *