گلابی کالم قسط 3

Spread the love

۔۔

محمد قاسم سرویا

اگلے دن اچھے نے سکول سے چھٹی کر لی تھی ، کیوں کہ اس کو اپنے ابے کے ساتھ واڈھی جو کروانی تھی۔واڈھی کے دنوں میںپنڈ کے سارے بندے اور بُڈھیاں اپنے بالاں بچیاں کو سویرے تڑکے نال لے کے پیلیاں کی طرف چل پڑتے اور سارا دن خون پسینا اک کر کے شاماں پئی اپنے گھراں کو واپس آتے تو بہت تھک چکے ہوتے۔ رات کو اپنے سارا دن کے کم کار سے ویہلا ہوکر ’اچھا‘ پِھرتا پھراتا سر جی کے کول پہنچ گیا۔آج وہ کچھ زیادہ ہی بُھجیا بُھجیا اور تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ سرجی نے اچھے کو ایک پیالے میں گرما گرم دُدھ اور پِھیکیاں جلیبیاں ڈال کے کھانے کے لیے دیں۔اچھا کناّں تیکر راضی ہوگیا۔
پھر اچھا آکھن لگا۔۔۔سر جی ۔۔۔ میرے ابے نے دسیا تھا کہ پرانے زمانے میں واڈھی کا کم بڑا وکھا ہوتا تھا ۔ سارے لوگ اپنی اپنی کنک آپے ای وڈھتے تھے یاں فر۔۔۔ اک دوجے کی ونگار پا لیتے تھے۔۔۔
اچھیا ۔۔۔! پتا ای یہ ونگار کیہ ہوندی ہے۔۔۔؟
ہانجی سر جی۔۔۔ یہ بھی میرے ابے نے دسیا تھا۔۔۔ کہ پرانے زمانے میں لوگ آپس میں سب آنڈیوں گوانڈیوں کا بوہت خیال رکھتے تھے اور اک دوجے کے ساتھ واہی بیجی اور دوسرے کاموں میں ہیلپ شیلپ کروا دیتے تھے۔اس طرح کام بھی چھیتی ہو جاتا تھا اور اک دوجے کا بھلابھی ہوجاتا تھا۔سارے بندے رل کے اک دن اک جٹ کی کنک (گندم) وڈھ لیتے تھے اور اگلے دن دوجے کی۔۔۔ اس طرح آٹھ دس دنوں میں سارا کم چٹم ہو جاتا تھا۔۔۔
سر جی میرا ابا آکھتا تھا کہ اج کل تو کنک وڈھن اور گاؤن والی مشیناں۔۔۔ ریپر، تھریشر تے ہارویسٹر آ گئی ہیں نا۔۔۔ پرانے وقتاں وچ کنکاں گاؤہنے کے لیے ’پھلے‘ استعمال ہوتے تھے۔۔۔ہُن تسی نہ پچھیو جی۔۔۔ میں آپے دساں گا کہ پھلے کیا ہوتے تھے۔۔۔ میرے ابے نے اک اک گل میرے کو سمجھائی ہوئی ہے جی۔۔۔ چلو جی دسو۔۔۔بزرگو۔۔۔ سر جی نے ہس کے کہا۔
سر جی یہ ایک لکڑی کا بہت بڑا چوکٹھا ہوتا تھا جس کو ڈھگیوں (بیلوں) کے ساتھ کھچیا جاتا تھا۔۔۔ کنک وڈھ کے ۔۔۔ بھریاں بنھ کے اک تھاں پر ’’پِڑ‘‘ لا دیتے تھے اور پَیلی کو چنگی طراں صاف کر کے کنک کے وڈھ میں ای واہوا ساری کنک کھلار دیتے تھے اور پھر ڈھگیوں کے پچھے وہ پھلے باندھ کر بولدوں کوکنک کے اوپر نسایا جاتا تھا۔جٹ جینوی دار اوس پھلے کے اپر کھلو کر ڈھگیوں کو ہِکتا جاتا تھا اور کنک کے سِٹوں سے دانے وکھرے ہوتے جاتے تھے۔
جے کر کسے جٹ کا بھار ہولا ہوتا تو وہ پھلیوں کے اوپر کوئی بھارا پتھر یاں کوئی ہور بھاری چیز رکھ دیتا۔۔۔ لگدے چارے جے کوئی بھی چیز نہ لبھتی تو اپنے دو تِن بالاں کو ای پھلے کے اپر بٹھا دیا جاتاتھا۔۔۔ بچوں کو بھی پھلے پر بیٹھ کر ہوٹے لینے میں بڑا مجا آتا تھا۔۔۔کدی بچے اپنے ابے یا چاچے کے موڈھیوں پر چڑھ کر بیٹھ جاتے اور کدی ان کی لتوں کے ساتھ چمبڑ جاتے۔۔۔جے بولداں نے جرا تیز دوڑن لگ پینا تے نکیاں بالاں نے چیکاں مارنے لگ پینا۔۔۔
سارا دن پھلے چلا چلا کے جدوں کنک میں سے دانے وکھرے ہوجاتے تو ان کو تن پھالی کے ساتھ اوپر ہوا میں سُٹتے تاکہ توڑی میں سے دانے وکھرے ہو جان۔۔۔اج کل تو لوک واڈھی کے دنوں میں دعاواں منگتے ہیں کہ ہوا اور بارش نہ آوے۔۔۔ پرپچھلے وقتوں میں جٹ روز ای سچے دلوں دعا منگتے تھے کہ یااللہ اج چنگی تیز ہوا چلادے۔۔۔ تاکہ اسیں اپنا دانہ پھکا سانبھ لئیے۔۔۔پر جے بارش ہو جاتی تو سارا کم خراب ہو جاتا۔۔۔پھر جو کام دس دناں میں مُکنا ہوتا وہ بیس دنوں پر چلا جاتا۔
سر جی ۔۔۔ اج کل تو کم بڑا سوکھا ہو گیا ہے جی۔۔۔ جٹ اک دن میںای پورے مربعے کی کنک بنھے پر بیٹھ کر سکون سے گھار لے آتے ہیں جی۔۔۔کوئی فکر فاقہ ای نئیں ہوتا جی۔ان مشینوں نے ساڈا کام بڑا سوکھا کر دیا ہے ۔۔۔ پر سر جی تسیں آپ ویکھو۔۔۔ اج کل دے بندے وی تے بڑے سوہل ہو گئے نے نا۔۔۔کوئی اوکھا بھارا کم کرنا ہی نہیں چاؤندے۔اور جدوں کوئی دل لا کے محنت نال کم نئیں کرتا ہے تو اس کو کُھل کے پسینا بھی نہیں آتا ہے جی۔۔۔جدوں کنک وڈھدیاں کُھل کے پسینا آ جاتا تھا تو شریر ہلکا پھلکا ہو جاتا تھااور ماسا گرمی نئیں لگتی تھی۔
میرے ابے نے اک ہور بڑی سوادی گل دسی تھی جی۔۔۔ جدوں سارے رل کے کنک وڈھ رہے ہوتے تھے تو دوپہراں کے وقت اک بندا اپنے جھولے میں مٹھی بوندی، مچھیاں ، ٹافیاں، گریوں اور میووں والا گڑ اور کدی کدی جلیبیاں اور برفی لے کے آجاتا تھا۔۔۔ اور وہ سب واڈھیوں کو واج مارکے آکھتا۔۔۔ آجو بھئی۔۔۔ منہ مِٹھا کر لو۔۔۔سارے واڈھے اک رُکھ کی چھاں تھلے بیٹھ جاتے اور مجے لے لے کر اپنی اپنی پسند کی چیزیں کھاتے۔۔۔ اور پھر جاتے ہوئے اس بوندی والے بندے کو کنی ساری کنک دے دیتے۔۔۔ اس طراں سارے دن وچ اس کی دو چار بھریاں ہو جاتی تھیں۔۔۔ اور پھر وہ ان کو اک تھاں پر جمع کر کے اپنے گھار لئی سال جوگے دانے بنا لیتا تھا۔
اچھے ۔۔۔! وہ بندا مِٹھیاں چیجاں ہی کیوں لے کر آتا تھا۔۔۔؟ ہانجی سر جی۔۔۔ میں وی یہ گل اپنے ابے سے پچھی تھی۔۔۔ جدوں سارا دن واڈھے کنک دی واڈھی کرتے رہتے تھے تو ان کے منہ اور نک میں گھٹا مٹی چلیا جاتا تھا۔۔۔حالاں کہ بوہتے لوکاں نے مڑاسے ولے ہوتے تھے۔۔۔اور اپنا منہ سر چنگی طراں لویٹیا ہوتا تھا۔۔۔سیانے آکھتے تھے کہ ویسے تو یہ گھٹا مٹی کوئی نسقان نئیں دیتا تھا لیکن جدوں کوئی مٹھی شے کھالئی جاندی تھی تو سارا گھٹا مٹی ہجم ہو جاتا تھا۔۔۔ میرا ابا تو ہُن بھی روٹی کھانے کے بعد گڑ کی ادھی پیسی کھا جاتا ہے جی۔۔۔ کہ ایس طراں روٹی بوہت چھیتی ہضم ہوجاتی ہے۔
سارا دن کے تھکے ہارے ۔۔۔ اچھے کو اب آواسیاں آنے لگ پڑی تھیں۔۔۔اس کو بڑی نیندر آ رہی تھی۔۔۔ اوہ باقی گلیں باتیں اگلے دن دسنے کا وعدہ کر کے اپنے گھار چلا گیا۔۔۔
کہہ رہا تھا باقی کل سکولے آ کے دساں گا۔۔۔اللہ نگہبان جی۔

 

note: pakistan adab is not responsible of the opinion of columnists

 

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *