کالے قول….دوسری قسط..سراج احمد تنولی

Spread the love

کالے قول۔۔۔

  سراج احمد تنولی

حسن نثار کے نام سے کون نہیں واقف جو پاکستان کے معروف تجزیہ کار جنگ کے کالم نگار اور جیو ٹی وی کے اینکر پرسن ہیں۔وہ اپنے کاٹ دھار جملوں کی کی وجہ سے بھی کافی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے کالم ’چوراہا‘ میں بھی اکثر سیاست دانوں کے ضمیر جگانے میں مگن رہتے ہیں جنہیں بڑی تعداد میں پذیرائی بھی ملتی ہے۔سوشل میڈیا پر ان کے پیجز پر بھی ان کے کالے قولوں کو پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ گزشتہ سال ہی ان کے کالے قول نامی کتاب شائع ہوئی اور چھا گئی۔ کالے قول پڑھتے ہی مردہ ضمیروں کے ضمیر جاگ جاتے ہیں۔ان کے قول صحیح معنوں میں ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کی اور یہاں موجود گِدھوں کی عکاسی کرتے ہیں۔پڑھیئے کالے قول۔۔۔
انسانی گوشت حرام ہے یا حلال ؟ میں نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوںکہ عوام کا گوشت حکمران طبقوں کی مرغوب ترین غذا ہے۔
جو بے غیرت اپنی ساکھ نہ سنبھال سکے ملک کیسے سنبھال سکتا ہے؟
ہم دو نمبر کاموں میں ایک نمبر قوم ہیں۔
وہ بے وقوف ہیں جن کا خیال ہے کہ بر صغیر پر مسلمانوں کی حکومت رہی ۔ یہ چند مسلمان خاندانوں کی حکومت تھی جسے مسلمانوں کی حکومت بتایا جاتا ہے۔
خود کشی کرنے والے ہر شخص کا بھی کوئی نہ کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے ۔ ہمارے ملک میں ریاست ہی ایسے لوگوں کی قاتل ہے۔
طاقت ور تو ہر جگہ اپنا آپ منوا لیتا ہے سو ’اپنا ملک‘ کمزوروں کی ضرورت ہوتا ہے اور جو ملک اپنے کمزور کو طاقت نہ دے سکے وہ ملک نہیں’منڈی‘ ہوتا ہے جہاں ڈنڈا اور ڈنڈڈے کی حکومت ہوتی ہے۔
شرافت اور صداقت نام کے دونوں بھائی عرصہ دراز سے لاپتہ ہیں۔کاش! کوئی تاوان دے کر انہیں رہائی دلا سکے۔
کشمیر تو ہماری شہ رگ ہے لیکن ہماری ذاتی شہ رگ ہماری شہ رگ نہیں ہے۔
ہم نے گَدھوں کی خرید و فروخت کو ’ہارس ٹریڈنگ‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔
حالات ایسے ہیں کہ کراچی سے خیبر تک دہکتے ہوئے انگاروں کی ’موٹروے‘ پر انسان ننگے پائوں ماتم کرتا ہوا چلتا جائے تو بھی کم ہے۔
یہاں یحیٰ خان پورے پروٹوکول کے ساتھ دفن ہوتا ہے اور عام انسان کے لئے قبر کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
عنقریب پٹرول پرفیوم کے طور پر استعمال ہوا کرے گا۔
پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے مشرقی پاکستان کی صورت نے قائد کا آدھا احسان اتار دیا۔۔۔ اب کوشش میں ہیں کہ باقی آدھا بھی اتار دیں۔
یہ بدمعاش اپنے بچوں کو مہنگے ترین سکول میں ڈراپ کرنے کے بعد ’تعلیمی پالیسی‘ پر میٹنگ کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔
یہ منافق بیش قیمت ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کی ’بہتری‘ پر غور کرتے ہیں۔
دنیا سکڑتے سکڑتے گائوں بن گئی اور گائوں مکھیا ، چوہدری، چوکیدار، زمین دار ہی نہیں ۔ کمی کمین بھی درکار ہوتے ہیں، کم تر قومیں اس عالمی گائوں میں یہی کردار ادا کریں گے۔
جہاں طاقت اور دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہو ۔۔۔۔ وہاں کبھی کسی فراز نصیب نہیں ہوا اور سب نشیب کی نذر ہو گئے۔
سرکاری ملازمت نا اہل لوگوں کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔
بیوروکریسی ایک دیو ہیکل نظام ہے جسے اکثر بونے چلاتے ہیں ۔
ترقی یافتہ قوموں کی زندگی میں ہر سال نیا سال ہوتا ہے جب غیر ترقی یافتہ معاشرے گھسے پٹے کئی سال پرانے سال کو بھی ،نئے سال کے طور پر مناتے ہیں۔
دہشت گرد مارنے میں وقت نہیں لگاتے تو انہیں مارنے میں اتنا وقت کیوں ضائع کیا جاتا ہے؟
ان قاتلوں کی فہرست کون بنائے گا جو پیشہ ور دہشت گردوں کو اپنا بتاتے اور عوام میں کنفیوژن پھیلاتے رہے؟
اگر حکومت مرکزی ہو سکتی ہے تو ملائوں کے فتوے مرکزی کیوں نہیں ہو سکتے؟
پاکستان کے اتنے ہی مسلئے ہیں جتنی اس کی آبادی
پاگل کتوں کو بھی اگر یہ علم ہو جائے کہ ان کے کاٹنے سے موت واقع ہو سکتی ہے تو وہ بھی بچوں کو کاٹنے سے گریز کریں۔
ہمارے حکمران تو عوام کو وہ عزت دینے کے لئے بھی تیار نہیں جو مفت ملتی ہے اور جس کے لئے کسی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے اجازت نہیں لینا پڑتی ۔
ناصر کاظمی کو صرف اداسی نظر آئی جب کہ ہمارے گھر پاکستان کی دیواروں پر ڈھٹائی، بے شرمی اور دروغ گوئی بھی بال کھولے سو رہی ہے۔
دشت تو دشت صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمت میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے

نوٹ ۔۔۔ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اس کالم میں پیش کئے گئے خیالات لکھاری کے اپنے ہیں۔ ادارہ

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *