مسجد میں بھی چوری…….از……سراج احمد تنولی

Spread the love

مسجد میں بھی چوری۔۔؟؟

تحریر: سراج احمد تنولی

گزشتہ ہفتے جمعے کی نماز کے بعد نکاح کی تقریب میں مسجد جانا ہوا۔تیز بارش ہو رہی تھی۔اپریل میں دسمبر کا سا سماں تھا۔ چھتری لے کر مسجد کی جانب روانہ ہوا پہلے پہل خیال آیا کہ چھتری ساتھ نہ لے کر جاؤں گم ہو جائے گی پھر سوچا گیلا ہونے سے بچ جاؤں اللہ پاک کرم فرمائیں گے۔ مسجد پہنچا تو تقریب شروع ہونے کو تھی۔ چھتری اندر مسجد کے ہال میں جوتوں کے ریک میں رکھ کر بیٹھ گیا۔ نکاح ہوا اس کے بعد اوپر چائے کا انتظام تھا۔ چائے پینے کے لئے اوپر دوسرے ہال میں گئے، چائے پی۔۔۔ نیچے واپس آیا دیکھا آگے چھتری غائب تھی اور یوں میرا وسوسہ سچ ثابت ہوا کچھ دیر انتظار کیا کہ شائد کسی کو ضرورت آئی ہو اور وہ لے گیا ہو یہ سوچ کر کہ بعد میں واپس چھوڑ دے گا مگر میرا انتظار بے سود ثابت ہوا۔ اور پھرمیں یہ سوچتے ہوئے چلتے بنا کہ شاید کوئی غریب بیچارہ مجبور ہو گا تب لے گیا ہو گا پھر اگلے ہی لمحے سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ معاشرے میں اتنا بڑا جرم اس قدر عام ہو گیا ہے کہ مدعی، مجرم کے لئے عذر تلاش کر رہا ہے۔آئے دن ہم دیکھتے اور سنتے آئے ہیں کہ مسجد سے جوتوں کا گم ہونا معمول بن گیا ہے مگر اب جوتوں کے علاوہ کوئی شے بھی ہم ساتھ کسی مجبوری باعث نہیں لے جا سکتے۔ بلکہ جوتے بھی مجبوری کے تحت پہنتے ہیں،مسجد سے کوئی بھی شے چوری ہونا معمول ہے اور چوروں کا آسان ہدف بھی ہے۔ مسجد میں قیمتی جوتے پہن کر آنے سے اب لوگ کتراتے ہیں۔
روزانہ ہم مختلف لوگوں سے سنتے رہتے ہیں کہ جوتے اندر رکھیں تو گم نہیں ہوں گے، ایک جوتا اندر اور دوسرا باہر رکھیں تو بھی جوتے چوری نہیں ہوں گے کیونکہ چور ایک جوتے کا کیا کرے گا، بعض لوگ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں تو ایسی وارداتیں نہیں ہوں گی، بعض کا خیال ہے کہ سیکورٹی گارڈ رکھنے سے بھی جوتوں کا چوری ہونا ختم ہو گا۔ مگر میرا خیال ہے کہ ایسی وارداتیں روکنے کا یہ بالکل بھی حل نہیں ہے کیوں کہ جہاں سیکورٹی اور کیمرے ہوں بھی تو وہاں جوتے چوری ہوتے ہیں، کسی کو کیا پتا کہ یہ کس کہ جوتے ہیں۔اصل مسلۂ کچھ اور ہے تربیت کی کمی ہے۔ہمارے ضمیراس قدر مردہ ہو چکے ہیں کہ مساجد میں بھی ہم کچھ نہیں چھوڑتے ہمارے علماء حضرات کو چاہئے کہ وہ بڑے اجتماعات میں تاریخی واقعات پر ہی زور دینے کے بجائے موجودہ دور کی برائیوں اور حامیوں پر بھی درس دیا کریں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا بہترین قول ہے کہ! ’جس مقتول کا قاتل نامعلوم ہو جائے تو اس کا قاتل حاکم وقت ہے‘۔
ہم اس سے یہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ ایسی چوریوں کی ذمہ داربھی حکومت ہے جسکی وجہ سے چور چوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ہم بھی بہت عجیب ہیں کہ مسجد میں جاتے ہوئے اپنے جوتوں کو کسی کونے کھانچے میں رکھنے کے لئے تر کیبیں سوچ رہے ہوتے ہیں جہاں یہ جوتے محفوظ ہوں، جہاں چور اچکوں کی نظر نہ پڑے اور ہم بارش سے گیلے ہو جاتے ہیں مگر چھتریاں ساتھ نہیں لاتے کہ گم ہو جائیں گی اور ہم میں سے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ چور مسجد سے چوری کیوں کرتے ہیں؟ کیا عناصر ہیں جو انہیں چوری کرنے پر مجبور کرتے ہیں؟
جس طرح لوہا زنگ آلود ہو جائے تو ہم اسے صاف کرتے ہیں، اس کی مرمت کرتے ہیں، سروس کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں مطلب ہمارا دل غفلت کا شکا ر ہو جاتا ہے۔ ہم اللہ پاک سے بے فکر ہوتے ہیں۔ یہ بھی وہی لوگ ہیں جو مسجد میں بھی چوری کرتے ہوئے کتراتے نہیں ہیں۔ بے شک مال و دولت زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہیں مگر چوری نہیں محنت کر کے۔ مال و دولت زندگی کی گزر بسر کے لئے ایسے ہی ضروری ہے جیسے کشتی کے لئے پانی ضروری ہوتا ہے لیکن اگر تم نے اس پانی کو اپنے دل کی کشتی کے اندر جگہ دے دی تو وہ کشتی کو ڈبودے گا۔ جیسے کہ مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ!
آب اندر زیر کشتی است اَست
آب در کشتی ہلاک کشتی است
اس لئے تربیت کے فقدان کو ختم کرنا ہو گا اور جہالت کا جو دور دورہ ہے اسے بھی ختم کرنا ہو گا تب معاشرہ آگے بڑھے گا۔ جس طرح ملک کے ہر عہدے پر چور براجمان ہیں اس طرح جرائم نہیں رکیں گے۔

 

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں , کالم میں پیش کردہ خیالات لکھاری کے اپنے ہیں

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *