آخری سانسیں لیتے ہوئے دیہات۔۔۔۔تحریر: سراج احمد تنولی

Spread the love

آخری سانسیں لیتے ہوئے دیہات۔۔

پاکستان میں تقریباً دس بارہ ہزار کے قریب چھوٹے بڑے گائوں اور قصبے موجود ہیں۔ جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہاتی آبادی شہروں کی جانب مجبور اً نقل مکانی کرتی ہے ۔ حالیہ مردم شماری کے بعد اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستانی دیہاتوں میں بسنے والی 50فیصد آبادی 2025تک شہروں کی جانب منتقل ہو جائے گی۔ اسی حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق ملک کے دس بڑے شہروں کی آبادی میں اکہتر فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں بڑی تعداد دیہات سے نقل مکانی کرنے والوں کی ہے۔ یہی حال ہمارے دربند کے دیہاتی علاقوں کا ہے جن کے ساتھ عشروں سے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ روز مرتے اور جیتے ہیں کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ ان لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک کی سہولت میسر نہیں ، پانی کے بغیر زندگی کا حصول ممکن ہی نہیں سے دور رکھا گیا ہے۔ بہترین روز گار کے حصول کے لئے ہی یہاں باشندے گھر بار چھوڑ کر شہری علاقوں میں رہتے ہیں یا ملک سے باہر نوکری کرتے ہیں تناول کی تقریباً 20فیصد آبادی ملک سے باہر اور 30فیصد سالانہ شہری علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ ایک دوست محمد ضیاء تنولی جو روز گار کے حصول کے لئے ملک سے باہر شارجہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے مجھے مسیج کیا کہ ہماری آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔ آپ ہمارے لئے ہمارے علاقوں کے لئے آواز اٹھائیں تا کہ ہماری آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچ سکے۔ حسب وعدہ ان کے مسائل پر بھی بات کرنا ضروری ہے۔
دربند کا سب سے بڑا مسلئہ روڈ کا تھا اللہ اللہ کر کہ اوگی دربند روڈ تو بن گیا مگریونین کونسل دربند کے چھوٹے چھوٹے دیہات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جو دیہات سڑک تک سے محروم ہیں ان میں نکہ پانی ، کرکالہ، ترسبائی ، کاجلہ ڈھیری اور نریانی ہیں۔ لوگوں کو مریضوں حتیٰ کہ میت کو بھی لے جانے میں مشکل ہے۔مشکل گزار راستے کسی بھی وقت حادثے کا شکار بن سکتے ہیں ۔ حلقے کے سیاست دان ان راستے پر آتے جاتے ہیں مگر دل پر نہیں لیتے ۔ شاید مولانا ابو الکلام آزاد نے یہ بات ایسے ہی لوگوں کے لئے کہی تھی کہ!’ سیاست بے رحم ہوتی ہے ، اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔‘
ان علاقوں میں نہ بجلی برابر ملتی ہے۔ پانی کا مسلئہ بھی سنگین ہے اور صحت کی بھی ابتر صورتحال ہے ۔ دربند میں ایک ہسپتال تو ہے مگر کوالیفائیڈ ڈاکٹر نہیں ہے۔
اس سے قبل بھی میں متاثرین تربیلہ ڈیم اور دربند کی رائلٹی کے متعلق لکھ چکا ہوں کہ صرف ہماری رائلٹی ہی ہر سال پوری کی پوری عوام کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ ہو تو تناول و دربند پاکستان کے خوبصورت ترین علاقہ بن سکتا ہے۔ قدرتی خوبصورتی کا شاہکار اور جنت نظیر وادیاں دیکھنے والے کا دل موہ لیتی ہیں۔میاں محمد نواز شریف بھی جب 90کی دہائی میں دربند آئے تھے تو انہوں نے بھی بڑے بڑے وعدے کئے تھے کہ دربند جنت کا ٹکڑا ہے ہم اسے خوبصورت بنائیں گے ۔مگر ایک بھی وعدہ ان کا وفا نہ ہوا۔
ان علاقوں میں لوگوں کے ان پڑھ ہونے کا یہ سیاستدان بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے جنازوں اور شادیوں میں شریک ہو کر یہ اپنی ذمہ داریوں سے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔اگر ہم تمام سیاست دانوں پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جس نے حقیقی معنوں میں عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ہو۔ کیا کسی سیاستدان نے اس طرح کے مسائل پر دھرنا دیا؟ کیا کسی سیاستدان نے ان مسائل پر بھوک ہڑتال کی؟
حکومت کو دیہاتی علاقوں پر خصوصی توجہ دینی چاہئے تب ہی شہروں میں ٹریفک اور دوسرے مسائل حل ہوں گے ۔ دیہات ہی سیاحت میں فروغ کا باعث بنتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں میں بھی مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے وگرنہ اسی طرح دیہات سے قصبے اور قصبوں سے شہر بنتے جائیں گے۔
بقول شاعر:
اب نہ وہ گیت نہ چوپال نہ پنگھٹ نہ الائو
کھو گئے شہر کے ہنگاموں میں دیہات مرے

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *