کیا آج بھی مزدور کام کریں گے؟؟۔۔۔۔۔از۔۔۔۔سراج احمد تنولی

Spread the love

 

کیا آج بھی مزدور کام کریں گے۔۔؟؟

تحریر: سراج احمد تنولی

سو جاتا ہے فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتا
آج یکم مئی جویوم مزدور کے طور پر عالمی سطح پر منایا جا تا ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی آج یوم مزدور منایا جا رہا ہے۔اگر ہم یوم مزدور کے تاریخی پس منظر کو دیکھیں تو یہ 1806سے ہی امریکہ میں مزدوروں کی بد حالی کی وجہ سے شروع ہوتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز امریکہ میں سرمایا دارانہ نظام کے خلاف اور صنعتی انقلاب کے بعد اور سرمایا کاروں کی بد کاریوں کے خلاف احتجاجاً ہوا تھا جہاں گھنٹوں مزدوروں سے کم اجرت میں ذیادہ کام کروایا جاتا تھا مزدوروں کی بدحالی اور استحصالی جب حد سے بڑھ گئی تو محنت کشوں اور مزدوروں نے 1886میں 8گھنٹے کام کے اوقات کا مطالبہ کر ڈالا تھا۔ اس سلسلے میں امریکہ میں یکم مئی کو اسی سال مکمل ہڑتال کی گئی اور تین مئی کو شکاگو میں بھی اس سلسلے کے احتجاج میں حملہ سے چار مزدور ہلاک ہو گئے تھے بعض جگہ پر مزدوروں کو پھانسی دینے کی بھی تاریخ درج ہے۔ اس کے بعد مظاہرے شدت اختیار کرتے گئے پھر آخر کار مغربی دنیا نے مزدوروں کے آٹھ گھنٹے کے مطالبے کو منظور کیا۔ جس کے سلسلے میں آج پوری دنیا میں یوم مزدور منایا جا رہا ہے اس سلسلے میں مزدوروں کے حق میں مظاہرے اور جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اس دن سرکاری تعطیل بھی ہوتی ہے جو ہمیشہ کی طرح آج بھی ہے ۔ مگر افسوس آج کے دن بھی مزدور جگہ جگہ مزدوری کر رہے ہیں ۔کیا آج بھی مزدور کام کریں گے ؟افسر شاہی اور صاحب لوگ آج چھٹی منا رہے ہیں اور سیر وتفریح کر رہے ہیں۔
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
مگر مزدور بے چارے اگر آج چھٹی کریں تو شام گھر کیا لے کہ جائیں ۔ مزدوروں کے حق میں پروگرامز ضرور ہونے چاہئیں مگر مزدوروں کے گھروں کا چولہا کم از کم ہم آج کے دن نہ بجھنے دیں ۔ مگر افسوس اس امر کا ہے کہ پاکستان میں یوم مزدور تو منایا جاتا ہے مگر مزدوروں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں تو پھر یہ اظہار یکجہتی بے معنی ہی تصور کیا جا سکتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس دن ہم مزدوروں کے ساتھ ان کی جگہ کام کریں ان کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی مراعات کا اعلان کریں۔ سب مل کر مزدوروں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کریں۔ ان کے لئے فری میڈیکل کیمپ ہر علاقے میں لگائیں تا کہ یہ دن وہ سکون سے گزاریں۔ اس سلسلے میںجو ٹریڈ یونین پوری دنیا میں کام کرتی ہیں وہ مزدوروں کے حقوق کو فعال اور متحرک بنائیں تا کہ ان کی محرومی کا ازالہ ہو سکے۔ یہاں ستم ظریفی تو یہ کہ سرمایا درانہ طبقہ مزدوروں کی محرومیوں کو لے کر بلیک میل کرتا ہے۔ اکژ مزدور بچوں اور بچیوں کو حراسگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے سیاسی اداکار اس بھی موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا کر ماڈلنگ کرتے ہیں تا کہ کچھ ووٹ ملیں کچھ شہرت ملے۔
جب یکم مئی کا یہ نام نہاد دن گزرتا ہے اور اگلا دن شروع ہوتے ہی وہی پرانی ڈگر وہی استحصالی اور پھر وہی محنت کشی شروع ہو جاتی ہے سب بھول جاتے ہیں ان مزدوروں کو چاہے جو ہو۔
ہمارا دین اسلام کتنا پیارا مذہب ہے یہاں امیر ، غریب کا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہاں کالا گورا، امیر غریب ہر کوئی برابر ہیں یہاں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں ہوتی یہاں زکٰوۃوصدقات تمام مصارف میں تقسیم ہوتے ہیں۔ جس سے ایک حوشحال معاشرہ تکمیل پاتا ہے مگر افسوس کہ یہاں اسلامی نظام مکمل طور پر نافظ نہیں ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اگر مکمل نافظ ہو تو ملک ِ پاکستان ترقی، خوشحالی و کامرانی کی نئی راہوں پر نکل پڑے گا۔
پاکستان میں آج بھی دو ڈھائی کروڑ کی آبادی سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جن میں ذیادہ تر دیہاڑی دار ہیں وہ بھی کبھی کام ہوتا ہے تو کبھی نہیں۔ جھنیں کسی بھی قسم کے قانونی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ دوسروں کے گھر تو بناتے ہیں مگر اپنے گھر سے محروم ہیں ۔یہ دو وقت کی روٹی کما کر سڑک پر سو جاتے ہیں۔
اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا
بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں
سرمایا داروں کے لئے دن رات کام کرتے ہیں مگر اپنا سرمایا نہیں ۔ سکول کی بلڈنگز تو بناتے ہیں مگر ان میں اپنے بچوں کو نہیں بھیج سکتے ۔ جوتے تو سیتے ہیں مگر خود کے پاس جوتے نہیں ۔ دوسروں کے کپڑے تو سیتے ہیں مگر خود کے پاس پہننے کے لئے نہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ’محنت کرے کوئی بھرے کوئی‘ ۔
اس کا یہی حل ہے کہ مکمل اسلامی نظام نافظ کیا جائے سرمایادرانہ اور جاگیرددرانہ نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ تب ہی مزدوروں کا استحصال کم ہو گا ۔ آج تمام لیبر یونین کو اس بات کا اعادہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنے حقوق پر آواز ہر فورم پر اٹھائے گی اور متحرک رہے گی۔
ہونے دو چراغاں محلوں میں کیا ہم کو اگر دیوالی ہے
مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور کی دنیا کالی ہے

نوٹ :ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *