پی ٹی آئی کی خواتین اور رانا ثنا اللہ کا بیان……..از ….مظہر چودھری

Spread the love

 

پی ٹی آئی کی خواتین اور رانا ثنا اللہ

 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ رانا ثناء اللہ کے پی ٹی آئی لاہور جلسے میں شرکت کرنے والی خواتین کے بارے انتہائی نازیبا اور غلیظ جملے استعمال کیے تاہم وزیر اعلی شہباز شریف کی معذرت کے بعد پی ٹی آئی کو احتجاج کا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے

واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں گھریلو خواتین نہیں آئیں بلکہ وہاں موجود خواتین کے ٹھکمے بتا رہے تھے کہ وہ کہاں سے آئی ہیں. رانا ثناء اللہ نے خواتین کے خلاف جس طرح کی گھٹیا زبان استعمال کی اس کی نہ صرف تحریک انصاف بلکہ ن لیگ اور سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی شدید مذمت سامنے آئی ہے.

ایک طرف پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان، وزیر دفاع خرم دستگیر خان اور ماروی میمن نے رانا ثناء اللہ کے نازیبا استعمال کی مذمت کی تو دوسری طرف جیو نیوز کی اینکر پرسن رابعہ انعم نے رانا ثناء اللہ کے واہیات بیان کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ رانا ثنا اللہ، عابد شیر علی اور اس قسم کے لوگوں کا انٹرویو نہیں کریں گی جب تک وہ کھلے عام معافی نہیں مانگتے۔ بہت ہو گیا ہے۔ تمام خواتین اینکر پرسنز اور صحافی ان کا بائیکاٹ کریں۔

پی ٹی آئی کے جلسوں میں شرکت کرنے والی خواتین بارے ن لیگ کے رہنماؤں کے جلے کٹے اور نازیبا جملے کوئی نئی بات نہیں. ماضی میں بھی متعدد بار رانا ثناء اور عابد شیر علی سمیت دیگر رہنما پی ٹی آئی خواتین بارے اسی طرح کی غلیظ سوچ کا اظہار کرتے رہے ہیں. پی ٹی آئی کی سیاست سے لاکھ اختلاف کیے جا سکتے ہیں لیکن ایک بات کا کریڈٹ اسے ضرور جاتا ہے کہ اس جماعت نے خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے. ہونا تو چاہیے کہ ہم خواتین کے سیاسی عمل میں شرکت کی حوصلہ افزائی کریں لیکن بدقسمتی سے اپنے اقتدار کو خطرے میں دیکھ کر ن لیگ کے رہنما خواتین بارے انتہائی غلیظ زبان استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے. پی ٹی آئی کے جلسوں میں شرکت کرنے والی بیشتر خواتین فیملیز کے ساتھ آتی ہیں. اگر وہ اپنی فیملیز کے ساتھ پارٹی ترانوں پر جھوم کر خوشی کا اظہار کرتی ہیں تو کسی تیسرے شخص کو کیا تکلیف پہنچتی ہے.

رانا ثناء اللہ صاحب کا ایک ویڈیو کلپ شوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں موصوف اپنی بیٹی کے ڈانس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن دوسروں کی بیٹیوں کے پارٹی ترانوں پر فرط جذبات میں آ کر لہرانے میں انہیں سارے زمانے کی برائیاں نظر آنے لگتی ہیں. سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت ایک آنکھ نہیں بھا رہی، خواتین کی سیاسی عمل میں بھر پور شرکت سے انہیں اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتا نظر آ رہا ہے. سیاسی جلسوں میں شرکت کرنے والی خواتین بارے واہیات اور نازیبا الفاظ خواتین کی اجتماعی ہراسمنٹ کے مترادف ہے جس کی پارٹی تعصب سے بالاتر ہو کر ہر اس شخص کو مذمت کرنی چاہئے جو انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے اور جس کے نزدیک خواتین کا سیاسی عمل میں شرکت جمہوری عمل کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *