مادرِ علمی یا مادرِ دولت ۔۔۔۔تحریر سراج احمد تنولی

Spread the love

مادرِعلمی یا مادرِدولت۔۔۔

یوں تو میرے ریگولر قارئین میرے کالموں پر مثبت یا تنقیدی رائے دیتے رہتے ہیں ۔ خیبر پختونخواہ حکومت نے پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا علان کیا کیا تب سے صوبے میں نجی تعلیمی اداروںاور والدین میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ جب سے نجی تعلیمی اداروں کا ایشو سرگرم ہوا ہے تب سے قارئین کی جانب سے مجھے اصرار کیا جا رہا ہے کہ غیر جانبداری سے تعلیمی اخراجات کے حوالے سے حکومتی پالیسی، نجی تعلیمی اداروں کا مئوقف اور والدین کی جانب سے جو تشویش ہے اس پر ایک کالم ضرور تحریر کیا جائے ۔
جہاں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بوجھ والدین پر ہے وہیں نجی تعلیمی اداروں کی بھاری بھرکم فیسیں بھی اس بوجھ کو کم نہیں ہونے دیتیں۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی معیار بہتر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سرکاری تعلیمی اداروں کے بجائے نجی تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ سرکار کو بھرپور فنڈ ملتا ہے کہ تعلیمی پالیسیاں بنائیں تاکہ سرکاری تعلیمی ادارے فعال ہوں ، کوالٹی تعلیم ہو مگر سرکار اس میںہمیشہ سے ناکام رہی۔ستم ظریفی دیکھئے کہ کے پی کے گورنمنٹ نے جن سرکاری تعلیمی سکولوں میں تعداد کم تھی بند کر دیئے ہیں بجائے انہیں فعال کرنے کے ، تعلیمی معیار بہتر کرنے کے 350کے لگ بھگ سکول بند کردیئے جب کہ نجی تعلیمی اداروں میں بھی بیشتر سکول ایسے ہیں جہاں تعلیمی معیار اس قدر بہتر نہیں ہے جس قدر فیسیں لی جارہی ہے ۔ میرے اپنے کزن اور بھانجی پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سکول و کالج بھی ایسے کہ جو مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے ٹاپ سکول و کالج ہیں مگر افسوس کہ فی کس دس ہزار ماہا نااخراجات کے باوجود انہیں کہیں نہ کہیں اکیڈمیز بھی جوائن کرنا پڑتی ہیں۔ یہ ستم ظریفی نہیں ہے تو کیا ہے کہ شہر کے بڑے سکولوں میں داخلہ کروانے کے باوجود بھی اکیڈمیز جوائن کرنا پڑتی ہیں تو بھاری فیسوں کا کیا فائدہ؟ ہمارے تعلیمی معیار کی یہ پستی نہیں تو کیا ہے؟ بڑے تعلیمی ادارے بھی سکولوں میں طالب علموں کو وہ سہولیات میسر نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے یہ سکول مشہور ہیں۔ بعض سکولوں کا معیار اچھا ہے اور بعض کا بالکل بھی نہیں۔ کچھ نجی تعلیمی ادارے صرف اور صرف پیسے بنا رہے ہیں ۔ پاکستان کا وقعی یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں یہ سرمایہ دار کم سرمایہ کاری سے ذیادہ اور بغیر کسی نقصان کے منافع کما رہے ہیں ۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب سب جانتے ہیں کہ اس کی ذمہ دار کے پی کے گورنمنٹ ہے ۔ اسی لئے یہ سب مکافات عمل ہے ۔کیونکہ تعلیمی میدان میں انقلاب کے کھوکھلے نعروں سے ہی نجی تعلیمی اداروں نے فروغ پایا ہے۔ ہماری بد قسمتی ہر حکومتی دور میں ہی یہ رہی کہ کسی حکومت نے بھی تعلیمی شعبے میں کوئی خاطر خوا توجہ نہیں دی جس کا خمیازہ ہم آج اور ابھی تک بھگت رہے ہیں۔اگر حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بناتی تو والدین ہر گز نجی سکول مافیا کے ہاتھوں کھلونا نہ بنتے ۔
اٹھارویں ترمیم کے آرٹیکل 25کے مطابق ریاست تمام 5سے14برس کی عمر تک کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔ مگر افسوس حکومت ان پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے عاری ہے ۔ یہ سب پاکستان کے بچے ہیں ان پر رحم کیجئے ۔ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی ضرور قائم کیجئے مگر پہلے کوالٹی ایجوکیشن سرکاری تعلیمی اداروں میں تو دیں اور سکالر شپس میں بھی تمام نجی و سرکاری سکولوں کے بچوں کو برابری دیں۔حکومتی تعلیمی اداروں کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ لوگ نجی سکولوں میں کیوں اپنے بچوں کو داخل کرواتے ہیں؟ اسی لئے کہ سرکاری سکولوں سے نجی سکولوں کا معیار تعلیم بہتر ہے۔پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی جو حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ہے اس میں بھی تعلیمی شعبے کے ممبران کو ضرور شامل کرنا چاہئے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
ہمیں مادرِ علمی کو مادرِ دولت بننے سے بچانا ہو گا۔اگر حکومت سرکاری سکول اساتذہ پر توجہ دے، انہیں ٹریننگ دے اور وہ سرکاری تعلیمی اداروں کے طالبعلموں کو ملک کے معماروں میں شامل کریں تو خود بخود طالبعلم جوہر اور کمالات دکھانا شروع کر دیں گے۔

 

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *