مرد……تحریر……ظہور حسین

Spread the love

پاں پاں پیں پیں او کتے سائیڈ پرہوجا ٹھنڈی ٹھنڈی گنڈھیراں 10روپے میں من منٹھار بڑھتی ہوئی گرمی فضا کے اندر گندھی ہوئی مٹی کسی قریبی کھیت سے فضا کی طرف بڑھتے ہوئے طوفان سے فضا مکدر ہر طرف چھوٹی بڑی بھگدڑ اللہ کے واسطے 10روپے دے معاف کر ترنت سلامی موٹر سائیکل کی دُم سے گرم دھواں سیدھا نتھنوں سے مُنہ کے راستے اندر رات کی کارگزاری دن کی دیہاڑی باری باری باری باری بریک کتا ہے نہیں کتے کا بچہ ہے کلچ پلیٹ پاؤں کی گرفت سے آزاد دھکے سے جھٹکے سے آنکھ کھل گئی دن دھواں دھار رات خوار خوار خواری ؟ ساری عمر گزاری وصول حاصل حاصل وصول غم لمحے خوشی اساں نیءں جانڑاں رانجھے دے نال بکواس بکواس نان سینس ساری بکواس رانجھا ہیر نہیں ہیر رانجھا رانجھا رانجھا رانجھا ہیر سیال سسی پنوں سب بکواس دھم ہلکے سے ہچکولے دھم کتے ڈرائیو کرنی نہیں آتی آ جاتے ہیں سڑک پر منہ اٹھا کر پہلو میں ہیر رانجھے کی گاڑی میں ہیر پہلو میں ہر پہلو میں ہر سٹاپ پر پہلو بہ پہلو ہیر رانجھے کے ساتھ نہیں رانجھے صاحبہ کے پڑوس کیا فرق پڑتا ہے فرق ہی نہیں پڑتا کہیں تفریق جمع ضرب تقسیم نفی نفی نفی اور نفی اثبات نفی اثبات کا سبق نہیں نہیں ہاں ہاں اثبات میں اثبات میں باتیں سب سب باتیں سب کچھ سب کچھ نہیں سب مایہ ہے سب مایہ ہے مایہ ہے مایہ کیا ہے کون مایہ ہے کیسا مایہ ہے رنگت سرخ و سپید آنکھیں جھیل سے گہری آنکھیں تیری آنکھیں خنجر تلوار تیری آنکھیں تیرے نین سارے بین ساری وائین بے کار فضول مشغول نہیں نہیں مقبول مقبولِ جاناں جانِ جاناں چہار سو تیری آنکھیں تیری آنکھیں سب مایہ ہے سب مایہ ہے گھر سے گھٹیار تک حلقوں میں پیوست خار خار خوار دل لاچار دل بے کار کار خام خام خام کندن کندن تیرا خام تیرا کندن نہیں مس خام کو کندن بنایا بگاڑا سنوارا اجاڑا سنوارا اجاڑا اجاڑا اجاڑا سنوارا سنوارا اجاڑا جاڑا سب مایہ ہے اجاڑا ہے جوڑا توڑا توڑا پھر توڑا جوڑ توڑ جوڑ کے توڑ توڑ کے جوڑ صاحب جی آپ کے بچے اللہ توبہ اودھم اودھم شوروغل صاحب جی آپ کے بچے جی آپ کی زوجہ محترمہ محترم محترم محترم محترمہ مکرمہ محترمہ مکرمہ زمین میں دھنس دھنس زمین میں پھٹ جا زمین پھٹ جا زمین او بیلو کم بختو بدلو کروٹ زرا زور سے بلند و بالا مصنوعی اصلی نقلی مرئی غیر مرئی نگل جا سب پھٹ جا پھٹ جا اس کی دو کوئلوں کی طرح دھکتی آنکھیں سوکھی ہوئی خشک لکڑی کی ٹہنیوں پر بلند ہوگئی آگ آگ آگ آگ فائر بریگیڈ پانی پانی جل گیا خاکستر ہوگیا سب کچھ سب کچھ جل گیا مٹی میں مل گیا جل گیا جی جی حکم میں غلام آپ کا نوکر جی جی جی جی حکم حکم نوکر شاہی نوکر آپ کا تابعدار فرمانبردار نوکر غلام غلامی میں زندگی زندگی غلامی غلام کی زندگی زندگی ہے غلام جی حضور میں ابھی ابھی دوں گا سرانجام اپنا کام اپنا کا م رکھوں گا دھیان ضرور دھیان گیان دھیان ضرور دھیان آگ شعلے شعلے اور آگ ہر سمت ڈھونڈتے ہو خاک اب جستجو کیا جلا ہے جہاں وہ بھی جلا وہ دیکھو وہ دیکھو کسی کا گھر جلا پانی پانی سب خاکستر سب خاکستر سب مایہ سب مایہ سب مایہ جلایا جل گیا بل گیا بل گیا سب گیا نہیں بل نہ گیا ہاتھ جوڑ کے منہ کے بل ذلت نہیں عزت نہیں ذلت پتہ نہیں کیسی عزت کیسی ذلت ذلت و عزت عزت و ذلت ذلیل خوار عزت دار عزت دار علمبردار بر خوردار برخوردار آرام سے بیٹھو یہاں پر ہلنامنع ہے ایک قدم نہیں ڈالنا کوئی خلل کوئی خلل خلل خلل خلل خلل نہیں کوئی خلل مخل نہیں نہیں ہونا حضور مصروف ہیں محو گفتگو ہیں راز و نیاز کی باتیں عشق کی سوغاتیں ملاقاتیں یہ راتاں یہ لمبی طویل راتاں تاروں سے کریں باتاں تاروں سے کریں باتاں یہ سوغاتاں محبت والوں کو ملتا ہے جھوٹ جھوٹ فریب مکاری باتاں راتاں راتاں باتاں سب مایہ ہے میں نے گرایا ہے اس نے بنوایا ہے سب مایہ ہے گرایا ہے گرا دیا ہے بنا دیا ہے سنوارا ہے سنوارا ہے اجڑ گیا وہ سنوارا ہے جی جی میں حاضر نہیں کوئی نہیں مخل آپ کریں باتاں چاندنی راتاں دھکتے دوپہر کی سخت دھوپ صحرا میں کریں باتاں چاندنی راتاں باتاں باتاں باتاں چاندنی راتاں باتاں ہی باتاں تیری کیا باتاں راتاں چاندنی راتاں سوغاتاں شب براتاں کریں کریں مزید کریں قلب کی ٹھنڈک کیلئے روح کی پیاس پیاس پیاسا کون کنواں رھٹ خشک بنجر زمین زمین بے آب و گیا کنواں رہٹ خشک کنواں کنواں نشان کنواں آب آب آب آب آب بے تاب اک خواب بے تاب آب آب کم خواب ایک گھونٹ پانی پانی کنواں خشک رھٹ بے آواز بیل بیچارہ صحرا بنجر صحرا ریت اور اور ریت جون کا مہینہ خشک پسینہ پانی نا پید پانی نا پید پیاس رھٹ کنواں مسافر خالی ڈول مسافر منزل کٹھن منزل کٹھن مسافر پانی جون گرمی پیاس کنواں بیل بیمار بیمار بیل مسافر پیاسامحبت محبت سراب ہے سب سراب ہے کہاں آب ہے لق و دق صحرا صحرا ہے ہر سو سراب ہے بے آب ہے بے آب ہے بیمار بیل کنواں خشک خشک تر نہیں خشک تر تراوٹ تراوٹ ترسی مخلوق مسافر بڑھ گیا رک جا نہیں چلا جا جا جا ضرور جا تیری پیاس تجھے پیاس بجھانی ہے جا جا نہیں رک جا میرے در کا مسافر نہیں آب آب آب نہیں آب نہیں آب آب چلا جا چلو آپ آپ چلو جناب پی لیں ٹھنڈا ہے مشروب وہاں سے میڈم نے بھجوایا ہے گرمی بڑھ رہی ہے پی لیں آب کے دو قطر ے آبِ جو ہے پی لیں ترس آیا ہے آب بھجوایا ہے آب کنواں کنواں خشک کنواں آب آب آب بے تاب بے چین زہر آب زہر آب آب نہیں زہر زہر سم قاتل پی لے غٹ غٹ غٹ غٹ پی گیا پی گیا نروان حاصل بھگوان حاصل نروان بھگوان نروان بھگوان بھگوان نروان بھگوان حاصل پی گیا مر گیا پی گیا زندہ ہے نہیں مردہ ہے زندہ ہے مردہ ہے دیکھتا ہے چلتا ہے سنتا ہے کھاتا ہے زندہ ہے مردہ مردہ ہے مرگیا زندہ کیا رہ گیا مر گیا مر گیا مار دیا قاتل مقتول ایک ہوئے مقتول کا قاتل کون قاتل کون مقتول کس کے ہاتھ پر لہو لہو لہو لہو ہوگیا پر کہاں سب ٹھیک سب جہتیں درست ناک درست کان درست ہاتھ درست منہ درست بالوں کی مانگ درست کپڑوں کی شکنیں درست حواس درست عقل درست بات درست بات چیت درست سب درست وہ غلط وہ غلط درست غلط غلط درست درست غلط غلط درست چھ فٹ کا قد درست چوڑے چکلے کندھے درست سرخ و سپید رنگت درست گھنی سیاہ مونچھیں درست مردانہ چال ڈھال درست بیان درست اندازِ بیاں درست سب درست سب غلط ملط ملط غلط صاحب جی گاڑی کا بیلٹ اچھی طرح باندھ لو کس لو جی ہاں گاڑی کا ڈور اوپن ہوا مسافر زاد راہ کے ساتھ آ دھمکا کنواں خشک راہٹ بے آواز بھر بھر بھر بھر بھر بھر گاڑی الٹے قدم پیچھے مڑی پھر آگے بڑھی اور بڑھتی گئی بڑھتی گئی چلتی گئی کنواں خشک راھٹ خاموش پاں پاں پیں پیں

Facebook Comments

12 thoughts on “مرد……تحریر……ظہور حسین

  1. this short story is absurd in nature but it becomes realistic by its dialogues. The dialogues reveals the perpelexities of modern man and the age. At some turns it becomes existentialist as the opening and ending of the short story becomes unicontextual.
    Furthermore, the short story is rupture in the traditional form of writing in urdu literature. excellent expreience to read.

  2. Respected Sir! It’s undoubtedly bit difficult and different piece of writing to understand
    at first but the way you wrote and choosed the words are really amazing💖

  3. ‏Sometimes ignorance is a bliss and when we become unconsciously conscious of our conscious then such happenings used to happen. what the world makes the perceptions what ordinary things seems be to ordinary minds and what perceptions did a sensitive person of sensitive nerves watch with the faculty of deeper sight. Nevertheless the man serving in this world is not serving himself but he is actually relying upon the conditions imposed upon him by his surroundings and whatever the man achieve or not the ultimate goal is death i.e the departure from everything first departure from oneself then from the world.Although the man in this world is ultra active but has decayed from inside .as in Verse I tend to summarise “
    جل کی مچھریا جل میں ہے پیاسی
    خوشیوں کے دِن ہیں پھر بھی اداسی پھر بھی اداسی

  4. ظہور صاحب آپ کی پچھلی تحریر بھی پڑھی اور یہ پڑھ کر تو لگ رہا ہے جیسے آپ نے لطیفہ پیش کیا ہے۔ سر جی آپ انگریزی کے پروفیسر ہیں نا کہ اردو یا پنجابی کے۔ مہربانی فرما کر آپ انگریزی کے لیے کام کریی۔ ارود اور پنجابی تحریر لے اک الگ جوہر چاہیے۔ آپ کی یہ تحریر پڑھ کر تو لگ رہا ہے جیسے آپ فرسٹ ائیر کے طالب علم ہیں معذرت چاہتا ہوں لیکن سچ بھی کسی چیز کا نام ہے ۔

  5. Very nice Sir, keep it up. Its a bit difficult to read first time but really interesting way of writing the things.

  6. شروع میں انداز بیان بہت ہی خوبصورت رکھا گیا پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔ بہت ہی خوب عکاسی کی گئی، اور الفاظ کا انتخاب اور ترتیب دونوں منفرد رکھے گئے، جو کہ ادب کے حوالے سے اک نیا رخ معلوم ہوتا ہے۔ اردو ادب میں اپنی تحریروں کے انداز سے، ہمارے دلوں کو گرمایا۔ شکریہ

    پسندیدہ جملہ:
    آنکھیں جھیل سے گہری آنکھیں تیری آنکھیں خنجر تلوار تیری آنکھیں تیرے نین ۔

  7. Exclnt pc of wrk sir… May Allsh Pak give u more success in ur life…Aameen
    Nice personality in Layyah..Dabbung teaching method
    ..c

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *