افسانہ :عورت…..تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:سمیع اللہ خان

Spread the love

یہ کیا ہے ؟نہیں معلوم ۔وہ کیاہے ؟نہیں معلوم۔تم کیاہو؟نہیں معلوم ۔میں کون ہوں ؟نہیں معلوم ۔جب کچھ نہیں معلوم توتم ادھرکیاکررہے ہو؟یہی تو معلوم کر رہاہوں۔کیا؟کہ یہ چکرکیاہے؟ارے یہ چکرنہیں ہے؟توپھر یہ کیاہے؟یہ مکرہے۔لیکن اگرمکرنہیں ہے توپھر کیاہے؟پھریہ فکرہے۔تو پھر تم اِس لئے تفکر کر رہے ہو۔نہیں تو۔۔۔۔تو پھر کس لئے کررہے ہو؟نہیں معلوم ۔اچھا جو تمہیں معلوم ہے وہ کیاہے؟وہ ایٹم ہے ۔ایٹم کیاہے؟یہ سائنسی باتیں ہیں تم نہیں سمجھوگے۔توپھر یہ کون سمجھے گا؟یہ نیوٹن سمجھے گا؟لیکن نیوٹن تومرگیاہے۔تمہیں کس نے کہا وہ مرگیاہے؟مجھے ایٹم نے بتایاہے۔ایٹم نے کیا بتایاہے؟ایٹم کہہ رہا تھا کہ میں حفاظت کررہاہوں جبکہ وہ کھارہاہے ۔مجھے کھارہاہے ۔تمہیں کھارہاہے ۔اُسے کھارہاہے۔اِسے کھارہاہے۔ابے یہ اُسے اوراِسے کیابلاہے؟اوئے یہ میں ہوں ۔اگر تُم وہ ہو تویہ کیاہے ؟یہ یہ یہ تو میں ہوں ۔نہیں میں یہ نہیں ہوں ۔تو پھر تُم کون ہو؟ارے میں وہی ہوں ۔اوباباکون؟وہی جو مرگیاہے ۔ابے کون مرگیاہے؟وہی جسے لوگ سٹیفن ہاکنگ کہتے تھے۔تو سٹیفن کون تھا؟نہیں معلوم ۔تو کیاتُم خود کونہیں جانتے ؟ابے جانتاہوں۔توپھر؟بس یہی جانتاہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔لیکن سٹیفن تو جانتاتھا۔وہ کیاجانتاتھا؟وہ ،وہ سب کچھ جانتاتھا۔جو تُم نہیں جانتے ۔جو میں نہیں جانتاکیاتُم جانتے ہو؟نہیں ۔جب ہم نہیں جانتے تو پھر وہ کیسے جانتاتھا؟اِ س لئے کہ اُس نے کتابیں لکھی ہیں۔کتابیں تو شاعربھی لکھتے ہیں۔ارے نہیں وہ نہیں ۔تو پھر کیا؟ ارے وہ کتابیں بتاتی ہیں کہ ابھی کچھ نہیں معلوم ۔ہاں یہ تو مجھے بھی معلوم ہے۔جب تجھے یہ معلوم ہے تو پھر تو معلوم کیوں نہیں کرتا؟ارے یہاں سب معلوم کررہے ہیں ۔اوسائیں کیامعلوم کررہے ہیں؟یہی کہ زندگی کیا ہے؟ذرا وہ دیکھووہ اُتررہاہے۔نہیں وہ تو اُتر گیاہے۔یار تم پاگل ہو ۔جا بے میں کیوں پاگل ہوں توں پاگل ہے ۔ہاں کہتے تو درست ہو کہ میں بھی تو پاگل ہوں ۔لیکن ہم پاگل کیوں ہیں ؟ہم اِس لئے پاگل ہیں کہ ہم پاگل نہیں ہیں۔ہا ہا ہا ہا۔۔۔ ہاں یہی تو اصل بات ہے۔تو کیاتمہیں اصل معلوم ہو گئی؟او نہیں تو پھر اچھا وہ دیکھو وہ رکشے پر لگی تصویر دیکھ رہاہے۔ہاں ۔۔۔ذرا سنو۔۔۔آواز آرہی ہے۔۔۔نہیں نہیں آ رہی ۔۔۔اگر آگئی تو تم بھی اپنا آپ کھودوگے۔کیوں ؟اِ س لئے کہ سنا ہے جب وہ آواز آئی تو سب نیست ونابود ہو جائے گا۔کونسی آواز۔۔نہیں معلوم ۔۔۔ارے یہی معلوم کرنے کیلئے تو بولاگیاہے ۔۔کہ آواز آئے گی۔۔۔اور یہ سب جھلے خاموش بیٹھے ہیں کہ آئے گی۔۔۔۔بیٹھنا نہیں ہے۔تلاش،جستجو۔۔سمت ،بے سمت چلناہے ۔۔۔پھر کچھ معلوم ہو گا۔۔۔ارے جو چلے ہیں انھیں معلوم ہوا ہے کچھ؟ہاں۔کیا؟کہ نہیں آئی ۔۔۔یہ تو ان کو بھی پتہ ہے ۔کن کو ؟انھیں کو جو سکون سے بیٹھے ہیں، جو کِنرکو کِنرکہہ کر محبت کے دائرے سے نکال دیتے ہیں۔ارے یہ تیسری جنس کون سی ہے ؟۔او مامے یہ وہی ہے جسے اتنا نہیں معلوم جتنا ہمیں معلوم ہے۔تو ہمیں کیا معلوم ہے۔او ئے جو انھیں نہیں معلوم ۔۔۔۔اچھا یہ بتا یہ معلوم کیاہوتاہے۔وہی جو سائنسدان کوہوتاہے۔صُوفی کو ہوتاہے۔کتاب کو ہوتاہے۔او بھائی کیا کتاب دوسری کتاب کو جانتی ہے؟نہیں وہ تو بس ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔کبھی کبھی حوالے دیتی ہیں ایک دوسرے کے ۔ایک دوسرے سے منسلک چلتی ہیں ۔۔۔لیکن جُداجُدارہتی ہیں۔ ارے جب انھیں معلوم ہیں تو یہ جُدا کیوں رہتی ہیں ۔ اس لئے کہ جدائی میں ہی سب معلوم ہوتاہے ۔تنہائی میں ۔ بیابان میں ۔جہاں نہ چرند نہ پر ند ۔نہ بشر نہ حشر۔ارے تو پھر معلوم کیسے ہوتاہے جب کوئی نہیں ہوتا۔ کچھ نہیں ہوتا؟ہوتاہے سب ہوتاہے لیکن نہیں ہوتا۔کیسے ؟اِدھر دیکھ میری آنکھوں میں دیکھ۔یہاں وہ تھا جو نہیں تھا۔اور جو تھا وہ نہیں تھا۔کوئی آیا تھاپھر چلا گیا۔پھر کیاہوا؟وہ آنکھیں بھی لے گیا؟نہیں تو۔تو پھر میں تو دیکھ رہا ہوں تیری آنکھوں میں تو بلیک ہول ہے ۔تجھے معلوم ہی نہیں ہوا کہ تجھے کوئی دیکھ رہا ہے اور تو کہتاہے کہ میری آنکھوں میں دیکھ۔کیوں ؟ابھی میں نے بولا تھا ناں اُسے دیکھ وہ اُترگیا۔تو پھر ؟میں دیکھتاہوں ۔تو کیسے دیکھتاہے۔میں اُس کی آنکھوں سے دیکھتاہوں۔کس کی؟وہی جسے اِتنا نہیں معلوم ۔کتنا؟اُتنا۔اُتناکِتنا؟جتنا آئن سٹائن کو تھا۔آئن کو کتنا معلوم تھا؟جتنا سب کونہیں ہے۔وہ کیسے؟دیکھ ناں یہ سب مطمئن ہیں ۔وہ نہیں تھا؟جب اسے معلوم تھا تو وہ مطمئن کیوں نہیں تھا؟جسے معلوم ہوتاہے کہ اُسے کچھ نہیں معلوم وہی نامعلوم سے معلوم کی جستجومیں جان کر بھی انجان رہتاہے ۔جیسے صوفی اناالحق کا نعرہ لگا کربھی نہیں جانتاکہ وہ کیاکہہ رہاہے ۔کیوں کہ وہ دیوانہ ہو جاتاہے ۔وہ کھوجاتاہے اور جو کھو جاتاہے وہ لوٹ کر نہیں آتا۔کبھی نہیں آتااور لوٹ کر اس لئے نہیں آتاکہ پھر اُسے ضرورت ہی نہیں رہتی ۔میری آنکھیں نہیں آئیں۔دہائیاں بیت گئیں ،وہ لوٹ آیا لیکن آنکھیں نہیں لوٹائیں کیونکہ میں آنکھیں لُٹا چُکا ہوں ۔تیری آنکھیں کہیں سراب میں کھو گئیں یا سیراب میں؟جنگل میں یاآب میں؟سیلاب میں یا شباب میں ؟عتاب میں یا خطاب میں ؟آنکھیں آنکھیں ہیں دیکھ میں دیکھتاہوں اب مجھے بھی سب جھوٹ لگتاہے۔کوئی اپنائیت نہیں لگتی ۔میری آنکھیں مجھ سے خود کو جُدا سمجھتی ہیں ۔او!لالے ابھی تو نے بولا کہ تو اُس کی آنکھوں سے دیکھتاہے۔ہاں بولا۔تو پھر تیری آنکھیں تجھ سے نہ صرف جُدا ہوئیں بلکہ توں تو اندھا ہوا۔اس دنیا میں سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ۔نہیں نہیں یہ دیکھ میں ہاتھوں سے چھو رہاہوں ۔یہ ہیںآنکھیں ۔دیکھ ہیں ۔یہ دیکھ یہ ہاتھ مجھے نظرآرہے ہیں۔ہاتھوں کا تو سب اندھوں کو پتہ ہوتاہے کیونکہ وہ ان کے اپنے ہوتے ہیں ۔لیکن نہیں یہ ہاتھ میرے ہاتھ نہیں ہیں ۔جب تک میرے تھے میں انھیں دھوتابھی نہیں تھا۔دیکھتابھی نہیں تھا۔گرمیوں میں گرم پانی سے اورسردیوں میں یخُ پانی سے دھو دیتاتھا۔لیکن سُناتھا ایک بار وہ انھیں پیاراکہہ رہا تھا.تب سے ان کا بہت خیال رکھتا ہوں۔تو یہ ہیں کس کے ؟ ۔یہ اُس کے ہیں۔اگر اُس کے ہیں تو تیرے ہاتھ کدھر گئے؟میں مائع ہوں اورمائع جب مایا میں ملتاہے تو سب مایا ہو جاتاہے۔ ۔تو سٹیفن ؟وہ ؟ہاں وہ۔سب کھو دیا اس نے۔تو اس کے پاس کیا رہا؟آنکھیں بچ گئیں؟۔نہیں یار کہاں بچیں ۔اگر بچ جاتیں تو وہ کیسے دیکھتا۔تو پھر وہ کیسے دیکھتاتھا؟وہ بھی کسی کی نظر سے دیکھتا تھا۔کس کی نظرسے؟۔اُس کی نظرسے ۔ارے وہی ؟ہاں ہاں وہی ۔چُپ۔

Facebook Comments

One thought on “افسانہ :عورت…..تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:سمیع اللہ خان

  1. You completely answered the other half of human life absurdity and the beauty of blackhole is that everyone and everything disappeared there.Very beautiful effort and May Allah give you enough strength to write more .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *