خان صاحب سے نظریاتی کارکنوں کی فریاد۔۔۔…سراج احمد تنولی

Spread the love

خان صاحب سے نظریاتی کارکنوں کی فریاد۔۔۔

تحریر: سراج احمد تنولی

عمران خان نے 22سال کے کم عرصے میں پوری دنیا میں جتنی شہرت حاصل کی شاہد ہی پاکستان کے کسی اور سیاستدان نے کی ہو ۔ بہت تیزی سے پاکستان بھر میں مقبول ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف کو کو نمبر ون جماعت بنا دیا ۔ گزشتہ ہفتے 29اپریل کو عمران خان نے مینار پاکستان لاہور میں ایک بڑا جلسہ کیا گو کہ وہ 31اکتوبر 2011کے جلسے جتنا نہیں تھا کیونکہ وہ جلسہ پاکستان کا بڑا جلسہ تھا اور لاہور کی ہی عوام تھی اس مرتبہ پورے پاکستان کا مجمع اکھٹا کر کے بھی اس طرح کا جلسہ نہ کر سکے ۔ اسے ہم سونامی کہہ سکتے ہیں پر سونامی پلس نہیں اس میں کوئی شک نہیں پی ٹی آئی قیادت بشمول عبدالعلیم خان نے اس پر بہت محنت کی۔ کروڑوں کا خرچہ کیا تشہیر و انتظامات کا بھی بہترین انتظام کیا جو مخالفین کو ایک آنکھ نہ بھایا ۔ عورتوں کے بارے میں زہر اگلوایا اور خواتین کے بارے میں نا زیبا الفاظ استعمال کئے۔ ن لیگ نے ہمیشہ عورت کارڈ ہی کھیلا تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں خواتین کے بارے میں یہی رویہ رہا جو گزشتہ ہفتے ہوا۔
خیر! تحریک انصاف نے جلسے میں بہترین نکات پیش کئے ۔ جس میں تعلیم ، صحت ، قرضوں کا خاتمہ ، عورتوں کے حقوق، کرپشن کا خاتمہ ، لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا، زراعت کی ترقی ، سیاحت کا فروغ ، سرمایایہ کا ری و روزگار کا حصول دینا، پولیس کی بہتری اور سب سے اہم انصاف ہر شخص کو فراہم کرناہے۔ مگر خان ساحب نے بیوروکریسی کو ٹھیک کرنے کے حوالے سے کچھ نہ کہا جس پر تشویش ہے۔ ہماری بیوروکریسی بھی ملکی اداروں کو کھوکھلا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ چھوٹے یونٹس کے بارے میں انہوں نے کوئی بات نہیں کی ۔ ان کی سب سے اچھی بات ہی مجھے یہ پسند تھی کہ وہ چھوٹے چھوٹے صوبے بنائیں گے مگر انہوں نے جنوبی پنجاب کے صوبے کے علاوہ کسی دوسرے یونٹ کا نام تک نہیں لیا۔صوبہ ہزارہ جس کے لوگوں نے بھر پور احتجاج بھی کئے اپنی جانیں نچھاور کیں اپنا حق مانگا مگر خان صاحب نے ان کی قربانیوں کے باوجود جنوبی پنجاب کے اڑتے ہوئے پنچھیوں کو ہتھیانے کے لئے جنوبی پنجاب کو منشور کا حصہ بنایا جس پر ہزارہ کے رہنے والوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ باقی جو جو صوبہ بن سکتا ہے خان صاحب کو ان پر بھی بات کر لینی چاہئے تھی۔ عمران خان نے کے پی کے میں بھی پانچ سال حکومت کی مگر کچھ نہیں کر سکے اگر وہ گیارہ نکات کے پی کے میں لاگو کرتے تو انہیں پارٹی منشور بنانے کی بھی ضرورت نہ تھی۔
ایک اور اہم بات کہ جس پر پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن بہت نالاں ہیںکہ پی ٹی آئی سے آہستہ آہستہ نظریاتی کارکنوں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ خان صاحب کو چاہئے کہ وہ نظریاتی کارکنوں کو ذیادہ فوقیت دیں ۔ کیونکہ لوٹوں سے ذیادہ یہ آپ سے اور جماعت سے محبت کرتے ہیں۔ جب کہ اپنے منڈیر بدلنے والے پنچھی موقع پرست ہوتے ہیں ۔جن سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف آپ نے اور آپ کی جماعت نے اٹھ کھڑا ہونا تھا وہی آپ کے دائیں اور بائیں سٹیج پر کھڑے تھے جس کی ایک جھلک مینار پاکستان کے جلسے میں دیکھی گئی۔یہی منڈیر بدلنے والے پنچھی تحریک انصاف میں نظریاتی رہنمائو ں اور کارکنوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دنیا میں جب بھی کوئی انقلابی اقدام ہوتے ہیں تو سب سے پہلے یہی سرمایہ دار اور جاگیر دار راستے کی رکاوٹ بنتے ہیں۔ جس کی زندہ مثال کے پی کے میں گزشتہ مہینے آپ کے صوبائی وزیر تعلیم نے ثابت کی۔ جب پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا اعلان ہوا تو اس کے خلاف احتجاجاً آپ کے وزیر نے بھی اپنے نجی سکول و کالجز بھی بند کئے۔
اس لئے نظریاتی کارکن آپ سے التجا کرتے ہیں کہ اس وقت تک یہ گیارہ نکات فضول ہیں جب تک آپ لوٹوں کو پارٹی سے نہیں نکال دیتے ،جن کے درمیان آپ جکڑے ہوئے ہیں۔ نظریاتی کارکن اس بارے میں سخت مئوقف رکھتے ہیں۔
ان سب کے باوجود پھر بھی نظریاتی کارکن خان صاحب سے محبت رکھتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ آپ اگلے وزیراعظم بنیں آپ کو ووٹ ملنے چاہئیں ، کیونکہ آ پ میں لیڈر والی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ اگرخدا نخواستہ خان صاحب کو اس بار ووٹ نہ ملے تو یہی کرپٹ لوگ پاکستان کی نمائندگی کرتے رہیں گے اور شائد عمران خان کی سیاست بھی 2023تک ختم ہو جائے یہ آخری موقع ہے خان صاحب کواپنی کوتاہیوںپر نظر ثانی کرنی ہو گی کارکن یہی چاہتے ہیں تا کہ آپ کو یہ اعلیٰ منصب پر فائز کر سکیں۔

 

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *