گلابی کالم5 ۔۔۔ محمد قاسم سرویا

Spread the love

گلابی کالم5 ۔۔۔ محمد قاسم سرویا

ویسے تو اچھے کا دل کرتا تھا کہ اسے کوئی بھی اوکھا کام نہ ای کرنا پوے۔۔۔ اسی لیے وہ واڈھی کے کام سے بھی ایسے ڈرتا تھا جیسے کاں غلیلے سے۔۔۔پر یہ کام بھی وہ سیکل کے لالچ میں کر رہا تھا۔۔۔رات کو بارش ہو نے کی وجہ سے واڈھی کا کام دو چار دناں کے لیے رُک گیا تھا۔ اچھا اندروں بڑا خش تھا۔۔۔ کہ ہُن چار دن موجاں کراں گے۔آج جب وہ سکول آیا تو وہ بڑے ہیپی ہیپی موڈ میں تھا۔میں نے پوچھا ۔۔۔ ہاں بھئی ارشد ختم ہو گئی واڈھی۔۔۔؟ سر جی ۔۔۔ اجے کتھوں۔۔۔ ہجے تو پورے پنج کِلّے کھلوتے ہوئے ہیں۔ سر جی ایس سال واڈھیوں نے کنک وڈھنے کا ریٹ بڑا ودھا دیا ہے جی۔۔۔ کٹھے چھے من دانے اک کلے کے۔۔۔سر جی تسی ذرآپ حساب لاؤ کھاں ۔۔۔پندرہ سو روپیے من دانے ہون تے چھے من کے کتنے روپیے ہو گئے۔۔۔ بن گئے نا ۔۔۔سِدے سِدے نو ہزار۔
چار بندے نیت کے ساتھ کم کریں تو اک دن میں پورا کِلا رام سے وڈھ سکتے ہیں جی۔۔۔اور دس یاراں دنوں میں پورا لکھ روپیا تے وٹ تے پیا ہے جی۔میںکنک تو نہیں وڈھنا چاہتا تھا پھر میرے ابے نے میرے کو آکھیا تھا کہ ہم نے لوکاں کو جو اتنے دانے یاں پیسے دینے ہیں تو اسیں سارے گھار کے جی رل کے واڈھی کر لیتے ہیں۔۔۔کنے سارے پیسیاں کی بچت ہو جائے گی۔۔۔تے اوہواسیں ایس سال دو کوٹھے پکے چھت لواں گے۔
بلکہ میں تے کل سنیاں تھا کہ نالدے پنڈ اک بندے نے پورے دن میں اک کِلا وڈھ کے ریکارڈ قَیم کر دتا ہے جی۔۔۔کل سارے لوکی شام نوں اوس نوں ویکھن گئے تھے جی۔ بڑا چھینہہ جوان منڈا تھا ، شاماں پئی سورج ڈُبن سے پہلاں پہلاں جب اوس نے اپنا کم مکا لیا تھا تو کوئی اس کی لتیں کُٹ رہا تھا۔۔۔ کوئی اس کے ڈولھوں کی مالش کر رہا تھاجی۔فیر ڈھول وجا کے تے دھمالاں پا کے لوکی اس نوں پنڈ لے کے آئے تو پنڈ کے چودھری نے خش ہو کے اوس کو ویہہ ہزار روپیے ، دو جوڑے لٹھے کے سوٹ اور تِلے نال کڈھیا مُچھاں والا چم دا اک کھسہ انعام میں دیا تھا جی۔ بلے بلے ہوگئی تھی جی چارے پاسے۔
میں اپنے ابے کے نال ایس لئی بھی واڈھی کروانے جاتا ہوں کہ میرے ابے نے میرے کو نویں چائنا کی سیکل لے کے دینے کا بھی وعدہ کیتا ہے جی۔۔۔ میرے کو بڑے چراں کا چاء تھا کہ چائنا کی سیکل ضرور لینی ہے۔۔۔ سر جی بری رَیلی چلتی ہے جی چَینا کی سیکل۔۔۔ اک وری میں اپنے بیلی کولوں ادھاری لے کے چلائی تھی جی۔۔۔ قسمے بڑا مجا آیا تھا ۔۔۔میرے کو تو انج لگ رہا تھا جی کہ میں ہوا میں اُڈا اُڈا جا رہا ہوں۔ اوہدوں کا ای میں دل میں پکا پلوگرام بنا لیا تھا کہ جدوں وی لینی ہے چَینا کی سیکل ای لینی ہے ۔
اتنی دیر میں سکول لگنے کی بَیل ہو گئی تو سارے سٹوڈنٹ اسمبلی واسطے لائنوں میں کھڑے ہونا شروع ہوگئے۔۔۔اچھے کا بھی بڑا دل کرتا تھا کہ وہ اب اسمبلی میں بھی حصہ لینا شروع ہوجائے۔۔۔ میں نے اس کو اجازت تو دے دی پر اوس نے بڑا تماشا لایا۔ ہَرا لا کے لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری تو اس نے اوکھے سوکھے پڑھ ہی لی۔۔۔ پر جب وہ قومی ترانہ پڑھنے لگا ۔۔۔تو ادھ میں جا کر وہ دندیاں کڈھنے لگ پیا۔۔۔ اک دو وری اس کو ڈانٹا تو ۔۔۔ اوس نے اپنا منہ گُھٹ کے ہاسا تو روک لیا۔۔۔ پر فیر وکھیاں راہیں اس کا ہاسا نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔اوہدے ول ویکھ کے باقی سارے بچے وی ہسن لگ پئے۔۔۔ میں جدوں اوہدے ول گُھوری کڈھ کے ویکھیا تو وہ مافیاں منگنے لگ پیا۔۔۔ سر جی میرے کو اک گل چیتے آ گئی تھی جی۔۔۔ میں تہانوں بعد میں دسوں گا۔
اسمبلی کے بعد اس نے بتایا کہ اک وری میرے مامے نے میرے کواک لطیفہ سنا یا تھا تو اس میں قومی ترانے والی گَلّ سُن کے میرے کا بڑا ہاسا آیا تھا جی۔۔۔ اج قومی ترانہ پڑھدیاں ہویاں میرے کو اوہ لطیفہ یاد آگیا تھا۔ تہانوں میں سناواں جی۔۔۔؟میں نے کہا۔۔۔ چل سُنا۔۔۔
سر جی جدوں ٹی وی نہیں آیا تھا تو لوکاں کو ریڈیو پر گانے سننے کا بڑا شوق ہوتا تھا۔اک گھارمیں تین بھائی چاء چاء نال نواں ریڈیو لے تو آئے۔۔۔ پر اونہاں کا ابا ریڈیوپر گانے سننا پسند نہیں کرتا تھا۔ تنیوں بھراووں نے اس کا یہ حل کڈھیا کہ اوہ ریڈیو کو باتھ روم میں لے جاتے اور مجے سے گانے سن کے واپس آجاتے۔
اک دن تینوں نے اک دوجے سے پچھیا۔۔۔ کہ اج کیہڑا کیہڑا گانا سنیا۔۔۔ پہلا آکھنے لگا۔۔۔ میں نے تو مہندی حسن کی غزل سُنی۔۔۔ رنجش ای سئی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔۔۔ میرے کو بڑا سواد آیا۔۔۔ دوجا کہن لگا۔۔۔ جب میں باتھ روم وچ گیا تو نور جہاں ہیکاں لا کر گا رہی تھی۔۔۔ وے سوہنے دیا کنگنا وے سودا اکو جیا۔۔۔ دل دینا تے دل منگنا وے سودا اکو جیا۔۔۔ مان ناں بڑی چُس آئی۔۔۔ جدوں تیجے کی واری آئی تو وہ نِموں جھاناں جیا ہو کر کھلو گیا۔۔۔ جدوں دونواں نے زور دے پچھیا تو آکھن لگا۔۔۔ یارتہانوں کیہ دساں ۔۔۔؟ جدوں میں باتھ وچ گیا تے قومی ترانہ لگیا ہویاتھا۔۔۔ میں تو سارا ٹَیم ترانے کے احترام وچ ای کھلوتا رہیا۔ لطیفہ سنا کے اچھا کِھڑا کھڑا کے ہس پیا۔
فیر اچھا اپنی جمات میں جا کے بیٹھ گیا اور بیبے بچوں کی طرح اپنی پڑھائی میںرُج گیا۔اچھے کا دل بڑا پولا تھا۔۔۔ وہ چنگا بندہ بننا بھی چاہتا تھا۔۔۔ پر کئی گلوں باتوں میں اس کے بھرا اور ابے کا بھی قصور تھا۔اس کے ابے نے کدی اوس کو نئیں پچھیا تھا کہ اوہ نھیرے سویرے گھار کیوں آتا ہے اور جس دن سکول نہیں جاتا ۔۔۔ اوس دن سارا ٹَیم کتھے کھیہہ کھاتا رہتاہے ۔دوسری گل ایہہ کہ اوہ اپنے وڈھے بھرا ول ویکھ کے بھی بڑا چَوڑ ہو گیا ہوا تھا۔اس کا بھرا کوئی کم نہیں کرتا تھا۔۔۔بس اناج کا دشمن تھا۔۔۔سارا دن چِٹے کپڑے پا کے آوارہ گردی کرنی یاںجس دن چار پیسیاں کی لوڑھ ہونی ۔۔۔اپنے ابے کو گُھٹ گُھٹ جپھیاں پاؤنیاں۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو نِکی عمرے ہی ماڑے چنگے کی تمیز سکھانی شروع کر دیں۔۔۔ اپنے بچیاں کو پکی کرنی چاہیے کہ وہ مغرب کی نماز سے پہلے پہلے ہی گھار آجائیں۔۔۔سیانے آکھتے ہیں کہ مغرب کے بعد بچے جب کَلّے باہر پھرتے ہیں تو اونہاں کو باہر دیاں چمبڑ جاتی ہیں۔۔۔ چلو باہر دیاں نہ بھی چمبڑیں۔۔۔نکے نیانے کا دماغ ابھی کچا ہوتا ہے تو کسی کے بھی آکھے لگ کے پُٹھے راہے پے سکتا ہے۔۔۔ بچے نکے ہوندیاں نشے کی بیماری۔۔۔ چوری چکاری۔۔۔ تے ہیراپھیری ۔۔۔ ایس طراں ای گھر سے باہر رہ کے سیکھتے ہیں۔
چھٹی ٹَیم اچھے نے ہور کنی ساری باتیں مجھے بتائیں۔۔۔ کہن لگا۔۔۔ہم صبح جب واڈھی واسطے گھار سے جاتے ہیں تو مٹی کے اک گھڑے میں ٹھنڈا ٹھار پانی بھر کے لے جاتے ہیں اور اوس کو پرالی کے ہیٹھاں لُکا کے رکھ دیتے ہیں۔۔۔ واڈھی کرتے کرتے جدوں وی ہمارے کو تریہہ لگتی ہے تو وہ پانی پی لیتے ہیں۔سر جی اوہ پانی اتنا سوادی ہوتا کہ ایہہ بوتلاں والا منرل واٹر اوہدے اگے تے کجھ وی نئیں جی۔۔۔
سر جی ہُن واڈھی کردیاں۔۔۔ بوندی ویچنے بھی کوئی نئیں آتا جی۔۔۔میری مائی سویرے تڑکے ای دوپہر واسطے وی روٹیاں پکا لیتی ہے تو ہم جب وڈھی پیشی کے ٹَیم تھک جاتے ہیں تو بوڑھ کی چھاں تھلے بیٹھ کے روٹی کھاتے ہیں۔۔۔ سر جی پیلیوں میںبوڑھ یاںپپل کی گُوڑھی چھاں تھلے بیٹھ کر روٹی کھانے کا بڑا سواد آتا ہے جی۔۔۔دیسی گھیو نال چوپڑیاں روٹیاں، امب کا اچار، کدی پکی تے کدی کچی لسی، کسے دن ویسن والیاں مِسیاں روٹیاں، کسے دن مجے دار کریلے۔۔۔ سر جی تہانوں کیہ کیہ دساں۔۔۔ہر چیز کا سواد دُونا چُونا ودھ جاتا ہے۔

 

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *