پنجابی، بلوچی نہیں ،پاکستانی کا قتل۔۔۔۔تحریر۔۔۔۔ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

Spread the love

پنجابی ،بلوچی نہیں پاکستانی کا قتل

خاران (بلوچستان) میں چھ مزدوروں کو قتل کر دیا گیا۔ ان سب کا تعلق پنجاب سے تھا۔ نہیں ، ایسا نہیں کہ میں کوئی نوحہ لکھنے والا ہوں یا یہ گلہ کہ پنجابیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے ، اور نہ ہی یہ کہ کسی نے اس قتل عام پر پرسہ تک نہیں دیا ۔۔۔۔ کوئی پوسٹ نہیں لگی اس بات پر۔ یہ بھی نہیں کہ یہ کیڑے مکوڑے تھے جو کسی کو فکر نہیں اور ریاست اگر اس کو روک نہیں رہی تھی تو ضرور ریاست ہی اس سب کے پیچھے ہے۔

عرض صرف یہ کرنا ہے کہ اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ ایک ہی بندوق ہے جس سے ایک دن سیکیورٹی ادارے والے مارے جاتے ہیں، دوسرے دن ہزارہ اور عیسائی برادری کے لوگ قتل ہوتے ہیں اور پھر اگلے روز اسی بندوق سے نکلی گولی سے پنجابی مرتے ہیں۔ یہ بندوق کسی کی دوست نہیں۔ اسے کسی سے دشمنی بھی نہیں ۔۔۔۔ یہ صرف اپنے مالک کے مفاد کو یقینی بنانے کے لیے خاک اور خون کا یہ کھیل کھیل رہی ہے۔ اس سب کا مقصد ہمیں افراتفری سے دوچار کرنا ہے، ہماری صفوں کو اتحاد کے بجائے ایک دوسرے سے صف آرائی کا میدان بنانا ہے اور پاکستان کے لیے سماجی۔ معاشی اور داخلی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔

ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے ان پر دباؤ بھی رکھنا چاہیے اور انہیں بھی باقی سب سے ہٹ کر صرف اپنی core responsibilities پر توجہ دینا چاہیے لیکن ریاستی اداروں پر الزام تراشی اور آپس کی سر پٹھول سے صرف دشمن کا حوصلہ بڑھے گا، اس کے اہداف پورے ہوں گے اور ہم ایک مرتبہ پھر اپنی راہ کھوٹی کر لیں گے۔

افغانستان، سی پیک اور خطہ میں تبدیل ہوتےبین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں ریاست، اس کے اداروں اور شہریوں کو اور بھی بہتر ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک طویل engagement ہے۔ اس میں حتمی فتح میں کافی وقت درکار ہو گا لیکن اس میں شکست ناقابل یقین سرعت کے ساتھ واقع ہو سکتی ہے۔ صرف ہمارے مابین بدگمانی اور بد اعتمادی کی فصل پکنے کی دیر ہے۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *