2013-18مانسہرہ میں نواز شریف کے جلسوں کا تقابلی جائزہ۔۔۔تحریر ۔۔۔سراج احمد تنولی

Spread the love

2013-18مانسہرہ میں نواز شریف کے جلسوں کا تقابلی جائزہ۔۔۔
تحریر : سراج احمد تنولی

اگر ہم 2013میں جائیں اور ن لیگ کے مانسہرہ کے جلسے پر نگاہ ڈالیں تو ٹھاکرہ سٹیڈیم میں پاکستان مسلم لیگ ن نے ایک کامیاب جلسہ کیا تھا جو کہ مانسہرہ کی تاریخ کا بڑا اور کامیاب جلسہ تھا ۔ جس میں بیس ہزار کے لگ بھگ لوگوں نے شرکت کی تھی ۔ جلسے میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر نواز شریف نے بھی مسرت کا اظہار کیا تھا ۔ہمیشہ کی طرح میاں صاحب نے ہجوم دیکھ کر کارکنان سے پیار بھری باتیں کیں اور مَنوں مکھن لگایا ۔ اس خوشی میں اور ووٹوں کے حصول کے لئے میاں صاحب نے بڑے بڑے وعدے کئے تھے ۔
سب سے اہم وعدہ کہ وہ جیت کر سب سے پہلے صوبہ ہزارہ بنائیں گے ۔ صوبہ ہزارہ آپ کا حق ہے ۔ صوبے سے یہاں ترقی آئے گی ۔ اس کے بعد الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن نہ صرف جیتی بلکہ دو تہائی اکثریت بھی حاصل کی ۔ ان پانچ سالوں میں بھاری منڈیٹ کے باوجود بھی مسلم لیگ ن نے صوبے کا نام تک نہیں لیا۔اس کے علاوہ جو وعدے کئے تھے کہ مانسہرہ میں ائیر پورٹ بنائیں گے تا کہ مانسہرہ کے لوگ بھی پی آئی اے میں سفر کر سکیں ، ریلوے لائینز بچھائیں گے، دانش سکول بنائیں گے ،آشیانہ ہائوسنگ سکیم بنائیں گے ، میڈیکل کالج بنائیں گے، وومن یونیورسٹی بنائیں گے، ایبٹ آباد بائی پاس بنائیں گے ، ہری پور میں جدید سہولیات سے آراستہ 500بیڈز پر مشتمل ہسپتال بنائیں گے اورسب سے بڑھ کر نوجوانوں کو روز گار دیں گے۔ یہ سب 2013کی الیکشن کمپین میں ہزارہ اور مانسہرہ کے انتخابی جلسوں میں کئے گئے وعدے تھے۔اس الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن نے مانسہرہ سے کلین سویپ کیا تھا اور ہزارہ میں اکثریت حاصل کی تھی بلکہ پارلیمنٹ میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل کی ۔ اس کے باوجود بھی ہزارہ کی عوام کے مسائل کا ازالہ نہ کیا جا سکا اور نہ ہی کوئی وعدہ پورا کیا گیا۔نہ صوبہ ہزارہ بنایا گیا اور نہ صوبہ ہزارہ کا نام لیا گیا۔پانچ سال میں کوئی منصوبہ بھی پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
چونکہ اب پانچ سال کا وقت گزر چکا ہے الیکشن سر پر آن پہنچے ہیں اور نواز شریف بھی تا حیات نا اہل ہو چکے ہیں ۔ احتساب عدالت میں ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں ۔اپنے خلاف ہونے والے فیصلوں کے خلاف میاں صاحب عوام کی عدالت میں نکلے ہوئے ہیں ۔ اسی سلسلے میں جہاں انہوں نے پورے پاکستان میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے وہیں انہوں نے مانسہرہ میں 6مئی کو میدان سجایا۔مجموعی طور پر میاں صاحب کا مانسہرہ مویشی منڈی کا جلسہ کامیاب رہا ۔گو کہ تعداد میں 2013کے جلسے سے بہت چھوٹا تھا۔ اس جلسے میں لوگوں کا جوش و خروش بھی اس قدر ذیادہ نہ تھا جو 2013کے جلسے میں تھا۔اس جلسے میں ایک بار پھر سے میاں صاحب نے مانسہرہ کی تقدیر بدلنے کے وعدے کئے اور ساتھ ہی یہ کہہ ڈالا کہ نواز شریف کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتا ہر وعدہ پورا کرتا ہے ۔ اگر یہاں کے پی کے میں شہباز شریف کی حکومت ہوتی تو صوبے کی حالت بدل جاتی ۔ اس بار کی تقریر میں انہوں نے صوبہ ہزارہ کا نام تک نہیں لیا ۔ اور ساتھ یہ بھی دعویٰ کر ڈالا کہ ہزارہ اور مانسہرہ ملکی معیشت کا مرکز بنیں گے۔اگر پھر ہزارہ کی عوام نے ووٹ دیا تو ہزارہ کے بوسیدہ نظام کی دوبارہ تعمیر کریں گے ۔ انہوں نے دوبارہ سے وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ مانسہرہ میں ریلوے لائینز بچھائیں گے ۔ وہ وہی وعدے بار بار کررہے تھے جو پانچ برس قبل کئے تھے ۔ اس بات کا میں عینی شاہد ہوں کہ نواز شریف کی تقریر شروع ہوتے ہی لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ سے واپس جا رہے تھے اور یہ مناظر میں نے اپنے کیمرے میں بھی محفوظ کئے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ان پر سے اعتماد ختم ہو تا جا رہا ہے ۔ عوام اب جان گئے ہیں کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدے اب تک پورے نہ ہو سکے ۔ مانسہرہ کے اس جلسے میں مانسہرہ کے لئے کچھ بھی نہ تھا سوائے اپنے حق میں نعرے لگوانے کے ۔ شائد اسی وجہ سے لوگ جلسے میں ذیادہ تعداد میں نہیں آئے اور نواز شریف کی تقریر میں بھی کوئی خاص انٹریسٹ نہیں لیا۔اگر آپ بھی ان کی 2013مانسہرہ جلسے کی تقریر اور 6مئی 2018مانسہرہ جلسے کی تقریر کا تقابلی جائزہ لیں تو اس میں آپ کو کچھ نیا نہیں ملے گا اور نہ ہی کوئی وعدہ پورا ہوا ملے گا۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *