ادھورا انسان۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔قاسم سرویا

Spread the love

ادُھورا انسان۔۔۔
مصنف: حافظ محمد مبین امجد۔۔۔ گوجرانوالا

تبصرہ نگار: محمد قاسم سرویا۔۔۔ شیخوپورہ

کوئی نظم، غزل، کہانی، افسانہ، ناول یا کوئی بھی تحریر لکھنے میں بہت سا وقت اور توانائیاں استعمال ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے دوستوں کے تخلیقی ذہن کی کھل کر تعریف اور حمایت کرنی چاہیے۔ رائیٹر لوگ بڑے حساس ہوتے ہیں۔۔۔ تبھی تو وہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں جہاد کے لیے کوشاں ہیں۔
جب ہم اپنے تخلیق کار یاروں۔۔۔ بیلیوں کو پروموٹ کرتے ہیں تو اس سے ان کا دل بھی بڑا ہوتا ہے اور قدروقیمت بھی۔۔۔

ناول لینتھی ہونے کی وجہ سے اور افسانے فیک ہونے کے باعث زیادہ تر لوگ انہیں پڑھنا پسند نہیں کرتے اور ان سے کنی کترا کر سمجھ نہ آنے والی سو لفظی کہانیوں سے مجے لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری وجہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کے اس دور میں ہر کوئی جلدی میں ہے اور وقت کی کمی سے پریشان ہے۔ اصل میں یہ وقت کی کمی نہیں ہے، اسے وقت کی بے برکتی کَہ سکتے ہیں۔ بابرکت اعمال، بابرکت رزق، بابرکت علم اور بابرکت وقت ہی ہماری حیات کو بابرکت بنا سکتے ہیں۔ (برکت کے موضوع پر ایک تفصیلی مضمون جلد آپ کو پڑھنے کو ملے گا)

ناول اور افسانے پڑھنے کا چسکا۔۔۔ لگانے کا سہرا جناب رمیض احمد کے سر جاتا ہے۔۔۔ (ویسے ان کی شادی کا سہرا بھی ابھی سجنے والا ہے اور دیگی مٹھے چاؤل پتا نہیں کس کس کی قسمت میں ہوتے ہیں؟؟؟)۔ افسانوں اور ناولوں میں بے شک تھوڑا بہت جھوٹ کا تڑکا بھی لگایا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ مصنفین کی اپنی زندگی میں بِیتے کچھ لمحات ہوتے ہیں، جنہیں وہ اپنی رائیٹنگ آبیلیٹی کی وجہ سے کہانی کا روپ دے ڈالتے ہیں۔ چلو اپنی نمانی جِندڑی نہ بھی ہو، ان کے آس پاس کے حالات و واقعات تو لازمی ہو سکتے ہیں۔ جو افسانوں کی شکل میں کتاب بن کر ہم تک پہنچ جاتے ہیں۔

۔۔۔ اور ‘ادُھورا انسان’ بھی ہمارے پاس پہنچ ہی گیا۔۔۔ مطلب کتاب پہنچ گئی۔۔۔ اس کتاب سےتعارف فیس بک پر ہوا تھا۔ مارچ میں میاں صداقت حسین ساجد صاحب نے مبین امجد صاحب کی کہانیاں ‘کٹھی’ کر کے اپریل میں انہیں ایک کتابی شکل دے ڈالی۔۔۔ اور مئی کے شروع میں ہی یہ کتاب بذریعہ ڈاک انہوں نے مجھے بھیج دی۔اس حوالے سے فیس بک ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہے کہ اس کے ذریعے ایک دوسرے کے خیالات و نظریات جاننے کا موقع ملتا ہے اور نالج شیئرنگ بھی ہوتی رہتی ہے۔ صرف اپنی سلیفیاں، پھوٹُواں، سردھڑ کے بغیر تصویراں اور کھان پِین کی شیواں لا لا کے دوسروں کو ٹیگتے رہنے والے بے شک جتنے مرضی ‘پرنس پنج لس’ یا ‘پرنسَیس ڈیانا’ ہی کیوں نہ ہوں، وہ دلوں سے بھی اَن فالو ہو جاتے ہیں اور ایف بی سے بھی۔
مبین امجد صاحب سے ابھی تک ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن ان کی من موہنی سی صورت دیکھ کے لگتا ہے کہ کافی ماسوم ہیں۔۔۔ اور کالی سیاہ داڑھی بھی ان کے چہرے پر خوب پھبتی ہے۔ لیکن ان کی آنکھیں بڑی ‘شرارتی’ ہیں۔۔۔ اور کسی ناٹی بوائے کی طرح ان کا دل بھی کسی نہ کسی کو چُونڈیاں وڈنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔۔۔ ہانجی۔۔۔ مخولی بندے کی یہی پہچان ہوتی کہ وہ اندر سے بھانویں جتنا مرضی بُجھیا ہوا ہو۔۔۔ اپنی حرکتوں کی وجہ سے دوسروں کے چہروں پر مسکانیں ضرور کھلارتا رہتا ہے۔

انتساب میں ان کے والد محترم کی زندگی کے تین پہلو جان کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔ یعنی دنیا کی بہترین۔۔۔ پاکستان آرمی سے ڈسپلن بھی ملا اور تمغہ خدمت بھی، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں شامل ہو کر (مبین امجد سمیت) نئی نسل کو سدھار رہے ہیں اور۔۔۔ وکالت کے شعبے میں اَینٹر ہو کر قانونی کاروائیوں اور عدالتی لڑائیوں سے نبرد آزما ہوکر خدمتِ خلق کا جذبہ بھی جواں ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ امجد پرویز صاحب کو سکون اور صحت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

اخبار و رسائل میں تو نیوز پیپر (کاغذ کی سب سے ہلکی قسم) چل سکتا ہے لیکن میرے خیال میں کوئی بھی کتاب ستر گرام سے بھی بہتر کاغذ پر پرنٹ ہونی چاہیے۔۔۔ کیونکہ اس سے لکھاری کے ساتھ ساتھ قاری کو بھی طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ میرے پاس بہت اچھی کتاب ہے اور جب وہ کسی بھی لائبریری کی زینت بنے تو دوسروں سے نمایاں ہو۔ لگے پیسے بھول جاتے ہیں، لیکن معیاری لوگ، پیاری کتابیں اور نیاری چیزیں دل و دماغ میں چوکڑی مار کر بیٹھ جاتی ہیں اور پھر وہاں سے ہلنے کا نام نہیں لیتیں۔

ہماری سُنیے۔۔۔ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ۔۔۔ باقیاں نوں چھڈو، پہلاں ساڈی سُنو۔۔۔ اس کو ہونا چاہیے۔۔۔ ‘ناشر کی باتیں’ یا ‘میاں صاحب کہتے ہیں۔۔۔ یا ‘پبلشر کی رائے’۔۔۔ میاں صداقت صاحب کا رابطہ حافظ مبین صاحب سے ہوا تو “ادُھورا انسان” وجود میں آیا۔ ایک بار پھر رابطہ کر لیتے تو شاید ‘پورا انسان’ یعنی دو کتابیں ہاتھ لگ جاتیں۔۔۔ حقیقی چہرے والی بات خوب کی آپ نے۔۔۔ اصل چہرہ دیکھنے کے لیے وہ آئینہ شاید ابھی تک ایجاد ہی نہیں ہوا، جسے دیکھ کر لوگ اپنا اندر باہر ایک جیسا کر لیں۔۔۔ چاہے ٹینشنیں جتنی مرضی ہوں۔

پتا نہیں برقی تار موصول ہوتا ہے یا ہوتی ہے۔۔۔ لیکن محترمہ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی صاحبہ نے یہ تار وصولتے ہی حافظ صاحب کا مان بڑھایا اور دیباچہ لکھ ڈالا۔۔۔ اچھے لوگوں کی یہی تو پہچان ہوتی ہے ڈاکٹرنی صاحبہ۔۔۔ میری طرف سے بھی۔۔۔ ملین تھینکس۔ میں نے آپ کی چھے لفظی تحریریں اور رعنائی و عکس خیال بھی فیس بک پر پڑھی ہیں، بہت اچھا اور متاثر کن ہے آپ کا طرزِ تحریر۔ آپ کی کوئی کتاب بھی ہے۔۔۔؟
اچھا۔۔۔! تو یہ نام آپ نے سجیسٹ کیا تھا۔۔۔! ادُھورے انسانوں جیسی کہانیاں پڑھ کر اللہ کرے بہت سے ادُھورے۔۔۔ پورے ہو جائیں۔

محترمہ راحیلہ ساجد صاحبہ رہائش تو ناروے میں رکھتی ہیں لیکن فیس بک کے ذریعے اپنے اچھے اچھے خیالات سے دوسروں کو عقل اور کام کی باتیں بتاتی رہتی ہیں۔ فیس بک کا انہوں نے یہ فائدہ بھی بتایا کہ فوری لائکوں اور کمنٹوں کی وجہ سے اپنی تحریر کے پانی کے بارے میں پتا چل جاتا ہے کہ وہ گوڈے گوڈے ہے یا نک نک۔۔۔ انہوں نے ‘میری رائے’ میں حافظ صاحب کی کہانیوں کی خوبیاں گنواتے ہوئے انہیں انتہائی سمپل، انڈرسٹینڈیبل اور پاپولر قرار دیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا کہ چند سالوں بعد مبین امجد صاحب ادب کا ایک معتبر نام بن کر ابھریں گے۔۔۔ (حافظ صاحب جدوں وڈھے بندے بن جو گے، چھڈ نہ جانا سانوں)

اپنے پیش لفظ میں مبین بھائی نے نچنت، ضخیم، کم دامنی، سند قبولیت، جرح و نقد، ہدیہ سپاس، کوشش و کاوش، ابلاغ اور ممد ومعاون جیسے کچھ “سادہ اور عام فہم” الفاظ میں اپنا مطمحء نظر بیان کرنے کی بھرپور سعی کی ہے۔ جناب مبین امجد۔۔۔ “رائٹ تو ایکسپریس۔۔۔ ناٹ ٹو امپریس” کے مقولے پر سختی سے عمل پیرا ہونے والی پرسنیلیٹی ہیں۔ اسی لیے یہ اپنے دل کی گلاں باتاں پہلے اپنی ڈائری سے کرتے رہتے تھے، ڈائری نے یہ ساری باتیں ان کی کلاس میٹس کو بتا دیں، پھر بلاگنگ سائٹوں اور مختلف میگزینوں سے ہوتی ہوئی کتابی شکل میں اب قارئین کے ہاتھوں میںکامیابی کے فیصلے کی منتظر ہیں۔

مبین امجد صاحب کی پڑھائی تو انگلش لٹریچر ہے لیکن ان کی لکھنے کی مہارت اردو لٹریچر میں ہے۔ کہانی بنانا ان کے کھبے ہاتھ کا اور لکھنا سجے ہاتھ کا کام ہے۔ اگر کسی کو ان کی تحریریں لائن دے اُتے یعنی آن لائن بھی پڑھنے کا سواد لینا ہو تو ان کی بہت سی تحریریں دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی موجود ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ میرے ان افسانوں سےمعاشرے میں کوئی فرق پڑے نہ پڑے۔۔۔ لیکن پھر بھی یہ اپنی کوشش سے باز نہیں آئیں گے۔۔۔ تاکہ اپنی چونچ میں پانی بھر کر ابراہیم علیہ کی آگ بجھانے والی چڑیا کی طرح ان کا نام بھی سماج میں بہتری کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے۔
جاری ہے۔۔۔
محمد قاسم سرویا۔۔۔

03457835650

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *