افسانہ ۔۔۔۔ڈبل وکٹ۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

ڈبل وکٹ

صبایارتم بھی عجیب ہو۔کھوکرپالیا،پاکرکھودیا۔تمہیں کتنی بارکہاتھاکہ جس شجر ِ سایہ دارمیں تم دوگھڑی سستائو گی تو وہ تمہیں عمربھر ستائے گا۔یہ ایک ایسی غلام گردش ہے جس میں احساسات کے تُندوتیز طوفان جذبات کی جولانیوں کو یوں دوڑاتے ہیں کہ سبزوخشک کی پہچان لمحہ بھر کوچھین لیتے ہیں اورپھرلُوٹادیتے ہیں ۔پھرعطاکرتے ہیں پھرجفاکرتے ہیں ۔ایک موہوم سی ہوک اُٹھتی ہے پھررائیگانی کا لاشعوری خوف اسے دباکرکہتاہے ایسانہیں ،بالکل بھی نہیں ہے،قطعاً نہیں ہے۔چراغ جلنے سے پہلے تیلی بجھ جاتی ہے لیکن کوئی دوردراز کا جُگنوپھر بھی اندھیری رات میں یکبارگی رونق عطاکرکے ایساکیف طاری کرتاہے جیسے راکھ میں سے چنگاری اُٹھتی ہے تو ایک مہمل سالُطف دیتی ہے جوروح کوسرشارتوکرجاتاہے لیکن سردرات میں دامن بھگوکریاسیت کی ایسی کپکپی طاری کرتاہے کہ ہوش وخِرد لرزجاتے ہیں۔ایسے کہتے ہوئے عاطف کی آواز لرز رہی تھی مگر وہ اپنے آپ پرجبرکرکے اپنے من کو دھوکہ دیئے جارہاتھا ۔صبانے رُندھی ہوئی آوازمیں جواب دیا!ہاں۔
عاطف اورصباڈبل وکٹ کھیل کرجوان ہوئے تھے ۔ایک دوسرے کوشکست دینا پھر شام کو ٹیکسٹ میسجز پرایک دوسرے کو حوصلہ دینا،گیم کی پلاننگ شئیرکرناان کامعمول تھا۔حتی کہ آن لائن کرکٹ کے ٹپس سے لے کراپنے اپنے پسندیدہ کوچزکے دیئے گئے مشورے تک ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرناان کو بہت پسند تھا۔صبا!اکثرایک رنز سے میچ جیت جاتی ۔وہ ایک دوسرے کی جیت کیلئے بھی دعاکرتے اوردورانِ میچ بھی خوب جان لڑاتے ۔ ایسے ہی نشیب وفراز میں گزرتی زندگی کے ایک پل شام ڈھلے صبانے عاطف کو اپنی بیتی زندگانی کی کہانی سناناشروع کی ۔کھیل کے میدان میں sports spiritکے ساتھ کھیلتی اس لڑکی کو جب زندگی کی بے ثباتی پردلائل دیتے ہوئے مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں لڑھکتادیکھاتو عاطف نے اُمید کی بانہوں سے اُسے تھام لیا۔وہ زندگی کوردکرتی ،عاطف بلندکرتا،وہ عشقِ مجازی کو زہرخندلہجے سے کُوستی توعاطف اسے زندگی کی حقیقت قراردیتا،یہ سب بتاتے بتاتے وہ بولی عاطف !ایک بات بتائوں۔عاطف نے کہا!جی ضرور۔نڈھال لڑکی نے اپنی زُلفیں پیچھے کوجھٹکیں ،گھٹنوں سے سراُٹھایا اوراپنے حریف کھلاڑی سے مخاطب ہوئی ۔۔تم اورمیں اچھے دوست بھی ہیں اورہمارارشتہ بہن بھائیوں کی طرح پاکیزہ ہے شاید اس لئےسب بول دیا وگرنہ حالِ دل تو میں نے کبھی اپنی محبوب ترین سہیلی کو بھی اس طرح نہ سنایاتھا جس قدرجزئیات آپ کے سامنے کھول کھول کربیان کردیں۔پھرایک طویل خاموشی چھائی اورصبانے عاطف سے کہامیری آنکھوں میں دیکھئے ذر۔۔ا لیکن عاطف دریا کی بپھری ہوئی لہروں میں اپنے تخیل سے صباکابے آب وگیاہ چہرہ دیکھنے میں مگن تھا ۔وہ موجود تھالیکن لامکاں میں ۔صبا!پھرپکاری ۔دیکھ ناں۔عاطف گُم۔عاطف کی اس کیفیت سے وہ واقف تھی اورایسی حالت میں وہ عمومی طورپرلب سی لیاکرتی لیکن آج دل کی بپتاسناکرنجانے اُسے شرارت کاحوصلہ کہاں سے آیاتھاکہ ریت پر پڑی گیند کو ہوامیں اس زاویے سے اُچھالا کہ عاطف چہرہ بچاتے ہوئے اُسے چونک کردیکھے ۔مگرگیندجیسے ہی عاطف کے چہرے کے قریب پہنچی اُس نے بائیں ہاتھ سے اُسے کیچ کر کے صباکوپیش کرتے ہوئے کہا!بھولی ہم موجودنہیں ہوتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حواس باختہ ہوجاتے ہیں ۔کیفیت میں بھی نظروں کو ایسے سنبھالے رہتے ہیں جیسے رندبے ہوشی میں بھی ہرچیزسے لاتعلق ہوجاتاہے لیکن جام نہیں چھلکنے دیتا۔صبا!نے جنجھلاکرکہا!میرے۔۔۔بھائی ۔۔اس اداس شام میں مجھے آپ کی یہ روکھی باتیں سننا تھیں تومیں آپ کو دریا کنارے نہ لاتی۔پہلے میرامن بوجھل ہے اوراوپرسے جناب افلاطون بنے بیٹھے ہیں ۔یہ کہہ کرصبانے زندگی کی پہلی دست درازی کرتے ہوئے عاطف کے کان سے پکڑکرکہااب دیکھتے ہویاکان پکڑکرہاتھ میں تھمادوں ۔یارآج توبالکل لال پیلی ہو رہی ہو،اوریہ تُم نے میراکان کیوں پکڑا؟تم جانتی بھی ہوکہ ہم نامحرم ہیں پھر۔۔یہ سب۔۔۔؟صبا!نے دائیں ہاتھ سے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے ابھی کہا ہی تھاکہ بھائی ۔۔لیکن شاید اُس کے بائیں ہاتھ پرزورپڑنے کی وجہ سے کان میں زیادہ دردہواتو اس کے ساتھی نے یکلخت اُس کے ہاتھ پر زورسے ہاتھ دے مارااورایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ ہوامیں ارتعاش پیداکرتے ہوئے تین لفظ سنائی دیئے ہائے میرے ہاتھ۔۔۔ پھرآنسوئوں اورہچکیوں کاایساتانتابندھاکہ جنھوں نے عاطف کو صباکی منت کرنے پرمجبورکردیا۔ارے بابا!تم توبالکل بچوں کی طرح روتی ہو۔یارچُپ کرجاناں ۔کوئی سُن لے گا۔اچھاباباہاتھ جوڑکرمعافی مانگتاہوں ۔اچھا یہ ایسے سمجھ کے تُجھ سے میچ ہارگیااب مجھے حوصلہ دے ناں۔بول ناں۔بول۔دیکھ میں بھی رونے لگ جائوں گا۔مجھے کیامعلوم تھاکہ تمہارے ہاتھ اتنے نازک ہیں ۔صبانے بمشکل کہا !نہیں یہ بات نہیں ہے۔عاطف نے کہا:توپھرکیابات ہے ۔صبا!بس مجھے تھوڑی دیررونے دو۔
اِس شام کے بعد رات گئے دیرتک باتیں کرنا ان کامعمول بن گیا۔واٹس ایپ پر آدھی تصاویردیکھ کر ایک مرتبہ عاطف نے صباکومیسج کیاکہ سائیں یہ ملاوٹ کیسی ؟لیکن پھربات گول مول کرگیا۔کھیل کے میدا ن سے لے کر anatomyتک سب تھیوریز عاطف ازبرکرلیتاکہ ان کا تعلق بھی جسم کی فٹنس سے تھا۔ایک بار پچ کو دیکھ کر عاطف نے صباسے کہا کہ یار اب میرے بائونسرز سے خود کومحفوظ کرناوگرنہ سرکے دائیں رُخ پربال لگی توتمہاری یاداشت جاتی رہے گی،ہاتھ کے جوڑ پرلگی تورگوں میں خون کی روانی متاثرہوگی۔صبانے کہا:یار اتنی پرواہ نہ کیا کر اورنہ ہی اتنا پڑھاکر،میں توکسی ٹورنامنٹ سے پہلے بس چند دن پریکٹس کرتی ہوں،تمہاری طرح ایڈوانس گرائونڈ سے نہیں چمٹ جاتی ۔اب جا اورجاکرگیندپھینک تاکہ میں تیری درگت بنائوں ۔عاظف نے قہقہ لگایااوریارکرمارنے کی کوشش کی جسے صبانے فُل ٹاس بناکرچھکالگایااورہیلمٹ اُتارکرلجاجت سے کہاسُوری یارا۔
آج سیمی فائنل تھا اورعاطف پھر ایک سکورسے ہار گیا۔ڈبل وکٹ کے دم توڑتے ہوئے کھیل کو یہ جوڑی آبادکئے ہوئے تھی ۔انھیں نجانے آئوٹ ہوکردس بیس رنز کم کروانے میں کوئی تسکین ملتی تھی یاایک دوسرے پر برابر جملے اچھالنے میں بہرطوریہ ان کا پسندیدہ مشغلہ تھاکہ ہربال اورہراوورپرجُملے کستے ۔میدان کے باقی کھلاڑی کبھی ان کے معاشقے میں رنگ بھرتے اورکبھی خودبیچ میں کُودنے کی سعی ناکام کرتے ۔ایک مرتبہ گیم کے دوران صباکی سہیلی نے عاطف کانمبرمانگاتوصبانے کہااُن سے پوچھ کر دوں گی۔کچھ عرصہ بعد اُس نے عاطف سے کہاکہ بھائی اپنا نمبر تو دیجئے ،عاطف نے بے اعتنائی سے کہا تو صبا سے لے لیجئے گاتو اُس نے کہاکہ صباسے تو بہت دفعہ مانگاہے مگر وہ ٹال مٹول کرتی ہے ۔عاطف کوایسالگاجیسے صبااُسے اپنی ملکیت تصورکرتی ہو اورکسی کوشیئرنہ کرناچاہتی ہو اورپھر اُس نے یہ سوچ کر اِس خیال کو جھٹک دیاکہ نہیں وہ تو بہن ہے میری۔
سیمی فائنل تھا اوراِس سے پہلے کھلاڑی عمومی طورپرزبردست پریکٹس سیشن کرتے ہیں لیکن دونوں اپنے اپنے روم میں ایک دوسرے کو میسج کے ذریعے کامیابی کی دعائیں دے رہے تھے۔عاطف نے صباسے کہاکہ پہلے ہربارریفری کی ملی بھگت سے تمہیں ہرایاگیاہے لیکن اسوقت میں یاتوگیم کاحصہ نہیں ہوتاتھایاپھرمیرابس نہیں چلتاتھالیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوگا۔انشااللہ تم جیتوگی۔باتوں ہی باتوں میں عاطف نے جذبات میں آکرصباکویہ بھی بتادیاکہ آخری بار تحصیل کی سطح پر کھیلے گئے میچ میں ،آخری بال پر میرے نو رنز تم سے زیادہ تھے لیکن جان بوجھ کر میں رن آئوٹ ہوا تاکہ تم جیت سکو۔اس پر صبانے میسجز کی قطارلگادی کہ آخرکیوں؟عاطف نے کہا کہ شاید یہ تمہاری ماں کی دعائوں کااثرہے کہ کوئی تمہارے حق میں خود ہارجاتاہے لیکن صباکی تسلی نہ ہوئی اورمیسج کر دیاکہ میں نے ایسا شخص پہلی بار دیکھاہے کہ جو خود گیم ہارتاہے۔ عاطف جانتاتھاکہ ایسا موقع صباکبھی نہیں لائے گی کہ عاطف جیت سکے ،وہ دعائیں دیتی ہے لیکن قربانی نہیں دے سکتی مگر پھر وہ یہ سوچتاکہ میری عمرڈھل چکی ،میں تو قومی ٹیم میں شمولیت اختیارنہیں کرسکتالیکن صباکی مسلسل کامیابیاں اِسے اُدھرتک پہنچاسکتی ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ اُسے یہ خیال بھی دامن گیر تھاکہ کہیں کامیابیوں کی راہ دکھاکرکوئی اس کی صبابہن کو بھٹکاہی نہ دے ۔تو کیا یہ بہترنہیں کہ وہ ہارکر بھی جیت جائے اوریہی بات اسے تسکین پہنچاتی۔
صبامیچ جیت چکی تھی اوراپنی جیت کو بھرپوراندازمیں مناناچاہتی تھی لیکن اس میں عاطف کوشامل کرنا بھی اس کیلئے ضروری تھاکہ مدِمقابل اس بارپھر خود ہاراتھا اورخوش بھی تھا۔صبانے میسج کر کے کلب میں ہی شام کو ڈنررکھنے کا عندیہ دیا لیکن عاطف جانتاتھاکہ جب تلک فائنل نہ جیت لیاجائے یہ بھنک بھی کسی کو نہ پڑے کہ صباکی خاطروہ خود ہاررہاہے وگرنہ لوگ نہ صرف ان کے معاشقے پر مہرلگادیتے بلکہ صباکی راہ میں بھی روڑے اٹکاتے ۔صبا!کامیسج دوبارہ موصول ہواتو رپلائی میں عاطف نے کہہ دیاکہ فائنل کے بعد۔صبانے میسج کیاجیسے آپ کہیں لیکن اب کی بار آپ نہیں ہاریں گے ،اگرمیرے نصیب میں ہوا تومیں فائنل خود ہی جیتوں گی لیکن عاطف اسے زبان دینے کے باوجود اپنی بات پر اڑارہا۔
فائنل کے پریکٹس سیشن کے بعد اکثرعاطف شہرکے قریب لگے جنگل کی جانب نکل جاتا۔اُسے جنگلوں اورسنسان راستوں سے اُلفت تھی۔اُس نے اپنے دوست کو میسج کرتے ہوئے غلطی سے دل والا میسج صباکوکردیا۔وہ پریشان ہواکہ اب اُس کی خیرنہیں ۔دوسری جانب سے میسج موصول ہوایہ دل مجھے بھیجا گیاہے کہ کسی اورکو؟عاطف نے سوری کی اورکہا کہ آپ کانام صباہے اوردوست کانام صابربس غلطی سے آپ کوکردیا۔جوا ب میں صبانے جو emotionبھیجا وہ آنسوئوں والاتھالیکن عاطف شاید جانتاتھاکہ اس کا جواب دے کر ایسے جنگل میں جاکھڑاہوگا جہاں سے کوئی راہ نہیں نکلتی ہوگی۔خودبھی تکلیف میں رہے گا اورخام خاںصباکوبھی ایک دفعہ پھر دھوکہ پریقین ہوجائے گا۔ضبط کیااورمیسج لکھ لکھ کرمٹادیئے ۔وہ جانناچاہتاتھاکہ صباکیاکہنا چاہتی ہے لیکن پھر رُک ساجاتا کہ جس راہ نہیں چلنا اُس کاراستہ کیاپوچھنا۔رات گئے صباکا میسج موصول ہوا۔۔۔بھائی۔۔۔۔عاطف نے جواب دیا۔۔۔جی۔۔۔صبانے کہا امی بہت یادآرہی ہیں ۔بہت رونے کو دل کر رہالیکن ڈرتی ہوں کہ ابو تک آواز نہ جائے ۔عاطف نے میسج کیاکہ یہ رشتے بہت ضروری ہیں بہت ضروری ہیں لیکن میری بہنا بچھڑنے والوں کو کون روک سکتا؟رب کی مرضی جسے جب جُداکردے ،ہمارے پاس صبرکے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔صبا! نے کہا بھیاوہ سب درست ہے لیکن دل کبھی کبھی بہت تنہائی محسوس کرتاہے،زندگی میں موجود بے رنگی کوماں کی یادوں سے رنگناچاہتی ہوں تو بے بسی ایسے گھیر لیتی ہے جیسے چاندنی رات میں چکورکی پروان جب اُسے چاند کا قرب عطانہیں کرتی تو وہ اپنے وجود کو ہی کوستاہے۔میراحال بھی بالکل ایساہی ہوتاہے۔ناراض نہ ہونا بس آپ ہی تو ہو جس سے زندگی کا دُکھ بانٹتی ہوں ،ابو سے شیئرکروں تو پھر ان کے چہرے پر برسوں کی پرچھائیاں ایک ہی لمحے میں بیدارہوکران کو مرجھائے ہوئے پھول میں بدل دیتی ہیں اورمجھے زندگی مزید تاریک لگتی ہے۔عاطف نے اُسے میچ کی باتوں میں بہلایااورپھر صبا!صبا!کے میسج کرتارہالیکن نجانے اُس کی باتوں کاکیف تھایاماں کی یاد کی لوری ۔۔۔صبا سوہی جاتی۔۔جب بھی عاطف کی انگلیوں سے نکلے لفظ اس کے نینوں سے ٹکراتے۔
عاطف کے دوست آصف نے اُسے کہا کہ میں نے سُناہے تم چاہتے ہے کہ صباسے فائنل ہارجائو۔عاطف نے دیدہ دلیری سے کوچ کے سامنے یہ بات قبول کرلی ۔جس پر کوچ حیران ہوااورسوال کیا کہ آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں؟عاطف نے کہا کہ میں ریٹائرہونے والاہوں لیکن صباابھی بچی ہے ،اُس کا مستقبل سنوارنے کی خاطرایساکررہاہوں۔آصف نے کوچ کو کہا کہ اسے سمجھائیں کہ اِس ٹورنامنٹ جیتنے کی کتنی قدرہے ۔عاطف نے کہا ارے باباہم ہار جیت کے گھمبیر احساس سے کب کے نکل چُکے ۔جتنی خوشی صباکی جیت کی ہو گی اتنی تواپنی جیت سے مجھے نہیں مل سکتی ۔آصف کہا بہت بیوقوف ہویار۔تم نہیں سمجھو گے۔پچھتائو گے۔عاطف نے جواب دیاہرگزنہیں پچھتائوں گا آصف جانتے ہو تم مجھے۔
مبارک ہو صبا!۔۔بھیاکس چیز کی مبارک۔۔۔تم میچ جیت گئی ۔۔۔۔میں نہیں آپ جیتے ہیں۔۔۔نہیں آپ کی محنت ہے۔۔۔نہیں آپ کاساتھ ہے۔۔۔ارے تم محنت نہ کرتی تو کیسے جیت جاتی؟آپ آخری بال پر رن آئوٹ نہ ہوتے تو میں کیسے جیت سکتی؟تو تم تھرونہ مارتی تو میں آئوٹ نہ ہوتا۔۔۔۔ہا ہا ہاہا ۔۔۔دونوں جانب سے قہقے بلند ہوئے ۔۔۔ٹورنامنٹ کے بعد میسجز کے تبادلے ہوتے رہے۔کبھی کبھار اوراکثر۔عاطف ریٹائرہوکر اپنے وطن لوٹ گیا۔ صباکبھی کبھار جذبات میں آکرکہتی کہ آپ کو کبھی نہیں بھولوں گی۔کبھی بھی نہیں۔یہ تعلق رفتہ رفتہ وقت کی گرد تلے دبتاچلاگیا۔مصروفیت،تھکاوٹ،نئے عزائم،نئے احباب،رشتے،ناطے۔۔۔۔اورپھرپرانے ورق اُلٹتے اُلٹتے بوسیدہ بھی تو ہوچکے تھے۔اسی اثنامیں صباکامیسج آیا۔۔بھائی۔۔۔عاطف نے کہا جی۔۔۔۔کل آپ آرہے ہیں ناں۔۔۔ابے کدھر۔۔۔کلب،۔۔۔۔نہیں تو۔۔۔یار اب آنابرالگتا۔۔۔۔نہیں آناپڑے گا۔۔۔۔کیوں جی۔۔۔۔آناپڑے گا۔۔۔کہہ جو رہی ۔۔۔بات کیا ہے ۔۔۔وہیں بتائوں گی۔۔۔بتاناں ۔۔۔وہ۔۔۔کیاوہ؟۔۔اچھاناں وہیں بتائوں گی ۔۔اورپھر کال کٹ گئی۔۔۔عاطف نے کال ملائی تو مردانہ آواز آئی ۔۔۔آج کے بعد صبا سے رابطہ مت کیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وگرنہ ہم سے بُراکوئی نہیں ہوگا۔
شام ڈھل رہی تھی ۔۔دریاکنارے لہروں میں کنکرگررہے تھے اورہر اُبھرتی لہرکے ساتھ عاطف کہتاتھادیکھوصبا!وہ لہر اُٹھی۔۔۔ گم ہو گئی، وہ اُٹھی۔۔ پھر گم ہو گئی ۔۔۔بس یہ جذبات ایسے ہی ہیں ۔۔۔تم ،میں ،وہ ،یہ ،سب کاسب ان لہروں میں ہی گم جاتاہے۔ہماری لغزشیں ہی ہمیں کمزورکرتی ہیں۔ہم حدسے بڑھتے ہی جاتے ہیں اورفطرت کے قوانین پر اپنی مرضی کے قوانین نافذکرتے جاتے ہیں ۔دیکھو یہ جو کانچ کے رشتے بنتے ہیں ناں ،یہ ٹوٹ جاتے ہیں ، پھر ان ٹکڑوں سے نئے رشتے استوارہوتے ہیں،ہم انھیں ایک طرف دھکیل کر بے نیاز ہوجاتے ہیں، جن کا شعور ہمیںاس وقت ہوتاہے جب وہ ہمارے راستے میں آکرہمارے پائوں لہولہان کردیتے ہیںپھر نہ ہم زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں اورنہ ہی انھیں کُھلاچھوڑ سکتے ہیں ۔لاشعورمیں بسنے والے یہ جذبات ایک کسک بن جاتے ہیں اورپھر ہم جیت نہیں سکتے ۔اب تومیرے رن آئوٹ ہونے سے بھی فرق نہیں پڑے گا۔اب کے جو کھیل تم ہاری ہو ،اُس کا کوئی بھی تو حل نہیں میرے پاس۔چل اُٹھ اب چلتے ہیں ۔کوئی آ نہ جائے۔۔اُٹھ ناں۔۔اُٹھ جایار۔۔پلیزمان جاناں۔۔روتے نہیں ہیں۔۔۔۔۔دیکھ نصیب سے ہم کہاں جھگڑسکتےہیں۔۔۔ہونی ہو کر رہتی ہے ،انہونی قصے کہانیوں میں ہوتی ہے۔۔۔اب اُٹھ بھی جاناں صبا ۔۔۔۔۔صباکی رُندھی ہوئی آواز آئی ۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔یہ ڈبل وکٹ ہم دونوں ہارگئے ہیں۔

Facebook Comments

One thought on “افسانہ ۔۔۔۔ڈبل وکٹ۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. A mature piece of work with beautified phraseology reflecting truly the inner trouble and turmoil of both the characters . well done dear, keep it up

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *