۔۔۔۔۔۔نحر۔۔۔۔۔۔تحریر ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

Spread the love

نحرٗٗٗ””

نحر” ہوتے دیکھا ہے کبھی آپ نے ؟ یعنی وہ طریقہ جس کی مدد سے اونٹ کو ذبح کیا جاتا ہے۔ کھڑے اونٹ کو جکڑ کر اس کے نرخرے میں برچھی ماری جاتی ہے تاکہ خون بہ جانے سے وہ نقاہت کا شکار ہو کر خود ہی گر پڑے ۔ جکڑے ہونے کی وجہ سے اس کے لیے بھاگنے یا مزاحمت کے تمام راستے مسدود ہوتے ہیں اور بے بسی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

بین الاقوامی معاملات میں بھی “نحر” کا فارمولہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی ایک مثال ایران کا نیوکلئیر معاہدہ ہے۔

پہلے ایران کو اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کی نوید سنا کر اس کا جوہری پروگرام رول بیک کرنے کا معاہدہ ہؤا۔ ایران نے اپنی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ کڑوا گھونٹ بھر لیا۔ پھر بھی دھمکیوںکا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر کل امریکی صدر نے اس معاہدے کی مزید توثیق سے انکار کر دیا ہے اور یوں امریکہ اس شش فریقی گروپ سے الگ ہو گیا جس کے ساتھ ایران کا معاہدہ ہؤا تھا۔ گویا اب ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں دوبارہ بحال ہو جائیں گی۔ یہی نہیں، خبر ہے کہ انہیں اور بھی سخت کیا جائے گا۔ یعنی ایران کی معیشت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب اس معاہدے میں یورپ کے گارنٹر ممالک بظاہر امریکہ کی مخالفت میں جاتے نظر آ رہے ہیں اور ہنوز اس معاہدے کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن درحقیقت ان کا کام یہ ہے کہ ایران کو جکڑے رہیں ۔ اسے کسی بھی رد عمل سے باز رکھیں اور معاہدے کے لیے اپنی حمایت دکھا کر اسے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے ہرصورت باز رکھیں۔ دوسرا یہ کہ یہ ممالک چین اور روس کو بھی ایران پر اثر انداز ہونے سے روکتے رہیں ۔ یہ ٹیم ورک کی بہترین مثال ہے۔

اس سب کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو اپنی شرائط پر ایک نیا معاہدہ آفر کیا جائے اور یہ شرائط محض نیوکلئیر پروگرام سے متعلق نہیں ہوں گی بلکہ مشرق وسطی کی نئی شیرازہ بندی اور ایران کے اس میں مقام کے حوالہ سے ہونے کا امکان ہے۔ بظاہر پلان یہ نظر آتا ہے کہ ایران کی معیشت مزید دباؤ میں آنے سے اندرونی خلفشار بڑھے گا جس کے نتیجے میں یا تو موجودہ بندوبست ڈھیر ہو جائے گا یا پھر وہ ہر مطالبہ کو ماننے پر آمادہ ہو جائے گا۔

افغانستان میں امریکہ موجود ہے۔ ایران کو اس نے پوری طرح انگیج کر لیا ہے۔ اور بیچ میں بچا ہے (اب تک) پاکستان۔ پاکستان کی مشکیں بھی کسی جارہی ہیں۔ ملک کی دگرگوں اقتصادی حالت ہو، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے گرے لسٹ کی بات ہو ، انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا معاملہ ہو یا پھر وہی حقانی نیٹورک کے خلاف ڈو مور کی صدائیں۔ آہستہ آہستہ معاملات میں عملاً سختی آ رہی ہے۔

پھر سول ملٹری کشمکش کی آڑ میں بڑھتی تلخیاں، سوشل میڈٰیا میں ایک دوسری کی تذلیل اور تضحیک پر مبنی مہمات اور کہیں قوم پرستی اور کہیں مذہبی منافرت پر مبنی سرگرمیاں۔ ان سب پر مستزاد الیکشن سے متصل کڑواہٹ سے لبریز ماحول۔ عدلیہ، فوج، نواز شریف صاحب، اچکزئی صاحب و دیگر ۔۔۔۔ سارے پر عزم، جزباتی اور نظریاتی حلقوں سے یہ اپیل ہے کہ اس نقارے کی آواز سننے کی کوشش کریں جو اصل میں آپ سب ہی کے لیے بجایا جا رہا ہے۔ اپنے معاملات کو آپس میں بیٹھکر درست کریں۔ آئین کی بالادستی اور اس پر سختی سے کاربند رہنے کا عہد کریں اور تمام بدخواہوں کو ششدر اور بہی خواہوں کو مسرور کر دیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ اس وقت اندرونی محاذ آرائی اور بد گمانی اس سطح پر ہے کہ کوئی حادثہ ، کوئی چنگاری ، داخلی استحکام کو بھک سے اڑا کر رکھ دے گی اور کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا سوائے خاک اور خون کے۔ دشمن اسی گھڑی کے انتظار میں انگلیاں “حادثہ” کے ریموٹ کنٹرول پرجمائے بیٹھا ہے۔

ایران کے پاس ایٹم بم نہیں ہے ، صرف جوہری پروگرام ہے اور اس کے لیے نحر کا بندوبست ہو چکا۔ سارا زور اب اس پر لگے کا کہ داخلی انتشار کا سامان کیا جا سکے۔ ہمارا جوہری پروگرام سب پر آشکار ہے اور ہمارا داخلی انتشار بھی ۔۔۔۔ اس غلط فہمی میں مت رہیے گا کہ ہم کسی کی نظر میں کھٹکتے نہیں۔ پاکستان کے سکہ بند عرب اور یورپی دوستوں نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف فیصلے کی پشت پناہی کی ۔۔۔۔ وہ امریکی دباؤ میں اور کیا کر سکتے ہیں ، اس کے لیے ارسطو ہونا ضروری نہیں۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کریں ۔۔۔۔ یا ہمیں کسی ہزیمت کے بعد غیروں کے ساتھ میز پر بیٹھنا پڑے، بہتر ہے کہ ہم آپس میں، اپنے ہی گھر کی میز کے گرد بیٹھ کر مسائل کو حل کر لیں۔

Facebook Comments

One thought on “۔۔۔۔۔۔نحر۔۔۔۔۔۔تحریر ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

  1. A thoughtprovolking piece with an objective analysis of the current situation where we are just vexing each other

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *