افسانہ ۔۔۔۔محسن۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔۔ظہور حسین

Spread the love

محسن

حضرات ایک ضروری اعلان سنیے،بردرانِ اسلام ایک ضروری اعلان سنیئے،جیسے ہی مسجد کے میناروں میں نصب لاؤڈ سپیکروں سے یہ صدا بلند ہویٔ ،تمام لوگ کچھ لمحے کے سکتے میں چلے گے۔دل میں صرف ایک ہی شبط تھا،اللہ خیر کرے،اور اتنے میں مناری کرنے والے نے بغیر کسی توقف کے کہا،چاچا غلام حسین المعروف غلام حسین جہاز اس دارِ فانی سے کُوچ کر گے ہیں ۔ان کی نمازِ جنازہ آج شام ۵ بجے گاؤں کی عید گاہ میں ادا کی جاے گی۔تمام بردرانِ اسلام سے اپیل کی جاتی ہے کہ جنازے میں شرکت کر کے ثوابِ دارین حاصل کریں‘‘۔ان اللّہ وانا الیہ راجعون!سب گھر والوں کے منہ سے نکلا۔مرحوم بہت علیل تھا۔کیٔ دنوں سے بسترِ مرگ پر تھا۔اللّہ کی مرضی۔ایک انتہایٔ اچھا ،محنتی اور اپنے کام سے کام رکھنے والا تھا۔ ا للہ جوارِ رحمت میں جگہ دے۔میرے ذہن میں صرف ایک سوال پورے طور پر شور ڈالے ہوئے تھا۔ وہ تھا ان کے نام کا آخری حصہ’’جہاز‘‘ اور گاؤں میں شاید ہی کویٔ ایسا نام ہو جو اس طرح کے دُم چھلے سے محفوظ ہو مثال کے طور پر امام دین لالی،خیر بخش دُھئرنکا،طالب حسین مرچی اور اسطرح تقریباً تمام ناموں کے ساتھ یہ اضافت پوری استقامت کے ساتھ جڑی تھی۔اور لوگ ایک دوسرے کو اپنے اصلی نام جو کہ بوقت پیدائش اُن کے آبائواجداد دیتے تھے سے کم اور اسطرح کے عرف و اضافت سے زیادہ جانتے تھے اس لیے کبھی بھی کسی فوتگی کا اعلان اُن کے اس عرف کے بغیر نا مکمل تصور کیا جاتا تھا۔لہذا لوگ بھی اسطرح اپنے غم کا اظہار کرتے کہ جہاز آج ڈوب گیا،چڑنگا آج خاموش ہو گیا،دھڑنکا گنگ ہو گیاوغیرہ۔ تو گاؤں میں عرفِ عام عموماًاس گاؤں کے لوگ ہی عطا کرتے تھے اور عموماً طور پر اسی نام سے پکارتے اور یہ عرفِ عام قاعدے کے مطابق اکژ ان لوگوں میں موجود اُن کی کسی خاص خوبی و خامی کی وجہ سے عنایت کیا جاتا تھا۔میرے مطابق ان میں جہاز سی تیز و طراری یا پھر آج کل یہ نام عمومی طور پر نشے میں ملوث افراد کے لیے بھی مختص ہے۔گلیوں میں گندی نالیوں پر گرے انسان دوسرے لوگوں کی نظروں میں ،اپنے قبیل کے آیٔنے میں اکثر اس استعارے ’’جہاز‘‘کے ناموں سے پہچانے جاتے تھے۔تاہم غلام حسین کا اس لعنت سے دور دور کویٔ تعلق نہ تھا اور نہ ہی کویٔ ایسی کوالٹی ان میں تھی کہ ان کو جہاز کہا جا ے ما سواے اس کے وہ در از قامت تھے۔سر کو اکثر پگڑی کے ساتھ ڈھانپے رکھتے،تا ہم گندمی رنگت کے اوپر چہرے پر سفید داڑھی اور موچھیں اُن کی وضع قطع میں اضافہ کرتی۔اکثر لمبے چغے کے نیچے گہرے سرمیٔ رنگ کی چادر لیتے،اور پاؤں میں دیسی ساخت کی بنی ہوئی پیشہ ور خاندانی موچی سے بنی ہویٔ جوتی پہنتے ۔میں نے انھیں زندگی میں کبھی کویٔ سینڈل و چپل میں نہیں دیکھا اور نہ ہی بغیر پگڑی کے۔ایک عدد لمبی چھڑی اُن کا سفری سہارا تھا۔وہ اکثر نہر کے کنارے اپنی چھڑی کو ٹھوڑی کے نیچے دے کرپگڑی کے ساتھ ایسے کھڑے ہوتے جیسے کو یٔ کھجور کا درخت جس کا تنا ہمیشہ ایک جیسا اور سر پر ایک گچھا بنتا ہے۔وہ کافی دیر تک اس کیفیت میں نہر کے کنارے کھڑے کھڑے اس کے طراح کے مراقبے میں مشغول و مصروف رہتے۔تاہم بڑے عرصے بعد مجھ پر یہ راز افشاء ہوا کہ وہ ایک جگہ پر معلق رہے ایک ہیلی کاپٹر کی طرح اپنے بوڑھے نینوں کو چاروں اطراف گھوم گھوم کر اپنے جانوروں کا جائزہ لیتے اور بغور ان کا مطالعہ و مشاہدہ کرتے رہتے۔اس جانور کی صحت کا اندازہ اس کی پھرتی سے لگاتے،اس کی جست سے جانچتے،اور اگر خدانخواستہ کوئی ان میں سے ڈھیلا ڈھالا معلوم ہوتا تو اگلے ہی دن سورج طلوع ہونے سے پہلے وہ مویشوں کی منڈی میں بک چکا ہوتا۔سادگی ان کا رہنا سہنا ،اور ایمانداری اُن کا گہنا تھا۔وہ سادہ خوراک کھاتے اور لمبی واک جو قدرتی طور پر اُن کے نصیب میں تھی،سے اُن کی صحت بہت کم ہی خراب گزرتی ۔کئی کئی ٔ سال گزر جاتے اور چاچا غلام حسین جہاز کو مجال کہ کسی حکیم و ڈ اکٹرکا منہ دیکھنا پڑتا۔پھرتیلا شریر انکی ضرورت تھا کیونکہ بھیڑ بکریوں کے ساتھ چلنا ،اور انھیں اپنی ڈگر پہ رکھنا انتہایٔ صبر آزما کام تھا۔دن میں تقریباًدس سے پندرہ کسانوں ،مزارعوں سے باری باری گالیاں کھانا اس کا معمول تھا۔چاچا غلام حسین ایک ایماندار چرواہ تھا تاہم گم دام کا کیا اعتبار۔اور اکثر لوگ اس چرواہے کی پرچھائی دیکھتے ہیںبغیر کسی بریک کے شروع ہو جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جوان کو کمال صبر و ہمت سے نوازا تھا۔سب کی گالیاں اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا کے کھا لیتا۔جواباً کچھ بھی نہی کہتا اور د ھیرج رکھتا۔بلند حوصلے والا انسان تھا۔کیٔ دفعہ اس کی زندگی میں ایسا بھی ہوا کہ کمزور و نحیف بلند فشارِ خوں میں ملوث کسان اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیتے،کبھی چھڑی سے بے جا پیٹتے ،اور دھکے دے دے کر اسے اپنے کھیت سے نکالتے۔مجال کہ اس چرواہے نے جا کر اپنے گھر ،دوست، دشمن کے سامنے کویٔ گلہ کیا ہو۔اس کے دوست و دشمن وہ گنتی کے چند جانور تھے جنہیں وہ صبح شام ہانکتا ،اور شام کو انکے دودھ کو بیچ کر اپنی گزواقات چلاتا۔میرے سے رہا نہ گیا،میں نے اپنے والد مکرمی سے یہ سوال ہمت کر کے پوچھا‘‘بابا! لوگ اس چاچا کو جہاز کیوں کہتے تھے؟ بابا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے بعد کہا،بچہ یہ سب ایک واقعے کے بعد ہوا۔ایک ایسا دن ان کی زندگی میں آیا جو انھیں ہمیشہ کے لیے یہ نام دے گیا۔میرا تجسس مزیدبڑھ گیا۔میں تھوڑا بے قرار ہو گیا اور بے چینی نے مجھے مجبور کر دیا کہ بابا سے اُس دن کے بارے میں پوچھوں ۔’’ بابا آپ مجھے بتاؤ نا۔اُ س دن کیا ہوا تھا!اور کونسا ایسا حادثہ رونما ہوا جو آ ج تک ان کے نام کے ساتھ یہ عرف ’’ جہاز‘‘ ہمیشہ کے لیے ایڈ ہو گیا۔بابا نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پھر اسطرح ایک جھوٹی سی کہانی سنا ئی ۔بیٹا پرانے دنوں کی بات ہے جب چاچا غلام حسین ایک نو عمر لڑکے تھے۔اُس وقت تمام لڑکے زیادہ تر اپنے کھیل کود میں گزارتے تھے ۔کیونکہ بہت کم لوگ اس گاؤں سے سکول میں جاتے،لہذا ایک دن چاچا غلام حسین اپنی ہم عمر جوانوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھے۔اور ملتان میں نیانیا ایٔرپورٹ بنا تھا۔یہاں سے جہاز کا اڑنا اور اترنا لوگوں کے لیے ایک خوبصورت نظارہ تھا لہذا گاؤں کے چند شریر لڑکوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چاچا غلام حسین کو ایک جہاز بنا کراُ ڑایا جاے۔شریر لڑکوں کی ایک کمپنی بیٹھ گیٔ اور اس کے سر غنہ امام دین تھے۔کافی غوروخوض کے بعد،انھوں نے ایک تجویز نکالی،کہ ایک لمبی کاٹھی لی جاے اور پھر انھوں نے اس شیطانی ترقیب کو عملی جامہ اسطرح پہنایا کہ وہ لمبی کاٹھی جو چاچا غلام حسین کے لمبے بازو جتنی تھی اُس کے سینے پر رکھ کر دونوں طرف اُس کی طاقتور کلائیوں سے باندھی ٔ بالکل جہاز کے دو پروں کی طرح۔چاچا غلام حسین نے اپنے دونوں بازو پھیلاے ہوے تھے ایک پی آئی اے کے طیارے کی طرح اور اس کے بعد ایک رن وے کا انتظام کیا گیا اور وہ رن وے نہر کی لمبی پٹٹری تھے۔کچھ دوستوں نے اب پائلٹ کے فرائض کچھ اس طرح سنبھالے کہ ان کو رن وے پر لا کر کہا کہ زور سے دوڑو اور تھوڑی دیر بعد آپ ہوا کے شانوں پر جست لگا کر اوپر اُڑو گے اور ہم سب لوگ آپ کو سلامی پیش کریں گے ۔یہ بھولا بھالا سیدھا نوجوان اس کام کے لیئے تیار نہر کی پٹٹری کو رن وے سوچ کر زوں زوں کی آوازاپنے منہ سے نکالتے ہوئے اپنی پوری ہمت سے دوڑا اور پھر سارا دن اس رن وے پر دوڑتا رہا اور پھر اس کے دوست اسے دوبارہ اس رن وے پر دوڑا دیتے ۔متعہ مختصر، صبح دس بجے سے شام تک یہ ہلکان طیارہ اُڑتا رہا،اُڑتا رہا اور گرتا رہا شام کو کسی بزرگ نے آ کر ان کے سا تھیوں کوطعن و تشنیع کی اور اس کو اس کاٹھی کی گرفت سے آزاد کرایا۔پھر وہ دن اور آج کا دن یہ نام ’’جہاز‘‘ انکے نام کا ضروری حصہ ٹھہرا۔تاہم گائوں والوں نے اس پر نہ کوئی شور مچایا اور نہ ہی دنگا فساد کیا کیونکہ برداشت تھی ۔اور یہی برداشت چاچا کی زندگی میں اس طرح حلول کر گئی کہ باقی کی زندگی میں اُنھوں نے انتہائی صبر سے کام لیا۔میری چاچا غلام حسین سے ملاقات ان کی ادھیڑ عمر میں ہوئی ۔ان دنوں خدا نے انھیں ان کے صبر کا پھل دیا تھا۔وہ اس وقت چند ایکڑ زمین کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹے سے آموں کے باغ کا مالک بھی تھا ۔تھوڑی بہت پیسے کی بہتات تھی اور انھوں سے سب سے پہلے عمرہ اور یکے بعد دیگرے کچھ حج بھی کیئے۔اب وہ ذرا خوش پوشاک ہو گئے اور معاشرے میں ایک سمجھ دار انسان کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ۔ساتھ ہی اُن کے اندر ایک سیاسی شعور نے بھی کروٹ بدلی اور وہ تھوڑی بہت سیاسی شعور و بصارت بھی رکھنے لگے ۔انکی اور میری پارٹی میں گرچہ نظریاتی اختلاف رہا تاہم وہ اپنی سیاسی پارٹی میں کافی شہرت رکھتے اور خا ص پر انکی پارٹی کا چیئرمین ملک محمد امین تھا ۔وہ اب اپنی ہر گفتگو میں انکا ذکر کرنا ضروری سمجھتے اور اپنے چھوٹے بڑے تمام مسائل کااسے ماوی و ملجا سمجھتے۔اپنے بیٹوں کی شادی سے لے کر،چھوٹے موٹے تمام امور ان کی مشاورت سے طے ہوتے تھے۔کوئی زمین کا مرلہ بھی لینا ہوتا وہ ملک صاحب کی خدمت میں ضرور حاضری دیتے میں اور وہ تھے انتہائی مودت،انھیںوہ اپنی گفتگو میں اپنا بہت بڑا محسن کہتے ۔اُن کے ہر چھوٹے بڑے فنکشن کے مہمان ِ خصوصی وہ محسن تھے۔وہاں ہر سال میں میلاد کا ایک بہت بڑا فنکشن ہوتا ااور اس تقریب میں ملک کے نامور علماء آتے لیکن مہمانِ خصوصی اُن کے محسن تھے۔اُن کی ہر بات میں ،ہر محفل میں اُن کی زبان پر صرف ایک ورد رہتا وہ تھا اُ ن کے محسن ۔ہر کسی کو پتہ تھا کہ اگر ان کو کانٹا بھی چبھے گا تو اس کی اطلاع محسن تک ضرور جائے گی۔وہ اپنے محسن کی انداز تقلم کے گرویدہ تھے او ر اکثر وہ اُن کی طرح پگڑی بھی باندھ لیتے۔میں اُن کے اس محسن سے حسد کرتا اور اکژ انھیں تنگ بھی کرتا۔لیکن وہ ہر دفعہ زیادہ پُرجوش نظر آتے اور یہی کہتے کہ اُن کے محسن سے نہ کوئی سیاست دان بڑا نہ کوئی اور اُن کی زندگی میں محسن۔میں اُن سے پوچھتا ! اچھا بتائو کہ آپ کے محسن آپ کے لیئے کیا جتن کئیے۔جواب یہ ہوتا،بھائی ہر کام میرا محسن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔پرسوں تحصیلدار نے مجھے چائے پلائی اور کہا کہ پرسوں پھر آنا اور آپکا کام ہو جائے گا۔ اور یہ بات میں گذشتہ چھ ماہ سے سن رہا تھا ۔لیکن اُن کی ذات پات کا سب کچھ محسن تھے۔میں نے والد کے ہمراہ وضو کیا اور ہم دونوں جنازہ گاہ روانہ ہوئے ۔اتنے میں جنازہ آگیا اور اُمت محمدؐ صفوں میں حاضر ِ میت کے لیئے دعا کے واسطے کھڑی ہو گئی اور میں معمول کی طرح آخر صف میں ایک کونے میں کھڑا ہو گیاتھا اور پہلے امام نے باآواز بلند جنازے کی نیت کے بعد ،دوسری ،تیسری اور آخری تکبیر پڑھی اور میں نے دائیں جانب سے جیسے ہی سلام پھیرا،ایک شخص جنازے کی طرف بڑھ رہا تھا،سر پر پگڑی تھی ،لمبا کرتا اور نظر کی عینک لگائے۔لیکن جنازہ ہو چکا تھا وہ تیزی سے لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہونے لگا۔میں رکا ،میں چونکا’’محسن چاچا غلام حسین جہاز‘‘۔

Facebook Comments

2 thoughts on “افسانہ ۔۔۔۔محسن۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔۔ظہور حسین

  1. بہت خوب جناب بہت خوب اس میں ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ دیکھایا گیا ہے 😥

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *