۔۔۔ میری آخری محبت…. ۔۔۔ اقراریاض

Spread the love

۔۔۔ میری آخری محبت۔۔۔

پچھلے پندرہ مینٹس میں کوئی 25 مس کالز آ چکی تھیں. موبائل فون پر دوبارہ رینگ ہوئی.

ہیلو؟
(لرزتے ہو ئے اس نے کال پک کی )
دوسری جانب ناجانے کون تھا اور اس نے ایسا کیا کہا کہ عینی سہم گئی.

تاریک رات میں بند دروازے پر دستک سے وہ مزید ڈر گئی.

مومی:
عینی دروازہ کھولو میں ہوں مومی.

عینی نے گھبراتے ہوئے دروازہ کھولا۔۔

مومی:
کیا ہوا عینی؟ تم ٹھیک تو ہو ناں؟ اور یہ کمرے میں اندھیرا کیوں کر رکھا ہے ؟

مو می نے جلدی سے کمرے کی بتی جلاتے اس سے پوچھا ۔۔

عینی:
نہیں کچھ بھی نہیں میں ٹھیک ہوں تم ایسے ہی فکر کر رہی ہو .
مومی:
Are you sure?

عینی:
Yes, m sure .
بس خواب دیکھا تھا اس میں ڈر گئی پر اب میں ٹھیک ہوں ڈونٹ یو واری..

مومی:
چلو ری لکس رہو تم ..آرام کر لوتم میں پھر صبح آجاؤں گی..

(مومی عینی کو حوصلہ دیتی ہوئی چلی گئی ۔۔۔)

“اوہ میرے اللّه! ایک تو ہی ہے جو مجھے اس مسئلے سے نکال سکتا ہے .اے اللّه! میری مدد کر..”

عینی نے دل ہی دل میں اللّه سے دعائیں کرتی رہی مگر ساتھ ہی عادل کا خیال بھی اسکے مائنڈ میں چلتا رہا کہ عادل سے شدید محبّت اس سے دن بھر باتیں کرنا یہ سب جھوٹ تو نہیں تھا. گزرے لمحوں کی یاد اسکی آنکھوں میں آنسو بن کر چمکنے لگی اور پھر وہ نا جانے کب ان حسین لمحات کو لے کر نیند کی آغوش میں جا پہنچی …

اگلا دن۔۔۔

عینی اور مومی نے اپنی فرینڈ رباب کی شادی میں جانا ہے سو عینی شادی میں جانے کے لیے ریڈی ہوئی..
“اممم! آئ ایم ڈان وید میک اپ ناؤ ہیئر اسٹائل”

عینی نے جونہی ہیئراسٹائلنگ کے لیے کومب اٹھائی تو موبائل فون پر رینگ ہونے لگی اس نے موبائل چیک کیا اور عادل کا نمبر دیکھ کر بنا کچھ سوچے( رات کی یادوں کے زیر اثر ) اس نے کال پک کی۔۔

“ہیلو”

عینی کا فیس بلش کرنے لگا۔۔

عینی کے چہرے کی لالی اور امڈے جذبات اس وقت مدھم پڑ گئے جب دوسری سائیڈ سے لڑکی بولی..

عینی نے سہم کر فورا” کال ڈراپ کر دی ••• ابھی وہ اس خوف سے نکلی ہی نہیں تھی کہ اچانک میسج ٹون سے چونک اٹھی ••• موبائل چیک کیا…

” عادل کا میسج ؟”
عینی نے حیرانی سے دیکھا اور میسج پڑھنے لگی..

“میں عادل کی وائف ہوں تم میں اگر ذرا شرم ہے تو میرے میاں سے دور رہو ورنہ میں جو کروں گی تم سوچ بھی نہیں سکتی”

میسج پڑھتے ہی عینی کے فیس سے باقی لالی بھی کھو گئی..اسکی ہمت جواب دے چکی تھی اس میں اب اتنی بھی سکت نہیں تھی کہ وہ رباب کی شادی کے لیے تیار ہو سکے مگر اسکو خود کو ابھی سنبھالنا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو ..وہ خود کو کمپوز کر کے رات کے ساڑ ے سات بجے جب میرج ہال پہنچی تو اسکی فرینڈز الریڈی پہنچ چکی تھیں. عینی وہاں سب کے ساتھ باتیں کر کے خوب انجوئے کر رہی تھی تاکہ کسی کو گماں تک نہ ہو کہ بظاہر خوش نظر آنے والی عینی اندر سے بہت خوف زدہ اور پرشان ہے مگر وہ
نیچرل بیہیو کرنے کی کامیاب کوشش کر رہی تھی.

مگر مومی ۔۔۔اسکی بیسٹ فرینڈ اور نیبر ۔۔۔ جانچ گئی کہ عینی کچھ پرشان ہے وہ صرف خوش نظر آنے کا ناٹک کر رہی ہے.

شادی کا فنکشن دیر گئے ختم ہوا تو عینی مومی کے ساتھ گھر چلی گئی.مومی جو کہ عینی کی ہمسائی اور قریبی دوست تھی اس کا بیشتر وقت عینی کے گھر اس کے ساتھ گزرتا اور بعض اوقات وہ عینی کے ساتھ اسی کے گھر سو بھی جایا کرتی..

رات کافی ہو گئی تھی اس لیئے مومی نے عینی سے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور دونوں سو گئیں مگر نیند میں عینی مسلسل ہڑبڑائے جا رہی تھی ۔۔

“میں نے کچھ نہیں کیا میں نے سچ میں کچھ نہیں کیا” .

“عینی عینی کیا ہوا”
مو می نے گھبرا کر اس سے پوچھا ۔۔۔

“خدا کی قسم میں اسکے لیے خوش ہوں میں نے اب کچھ نہیں کیا “
عینی مسلسل روتے ہوئے یہی کہے جا رہی تھی۔۔۔

مومی نے پریشانی کے عالم میں پوچھا،

“عینی آنسو پونچو پہلے اور پھر بتاؤ مجھے کہ کیا ہوا ہے میں نےکچھ دن سے نوٹس کیا ہے کچھ تو ہوا ہے.”

عینی روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی۔۔۔ اور پھر بولی؛

“ہاں میں مانتی ہوں میں نے اس سے محبت کی تھی میں نے اسکو مانگا بھی تھا اللّه سے”

(مومی خاموشی سے سننے لگی۔۔۔)

عینی نے بات جاری رکھی۔۔۔

” ناجانے کب مجھے محبت ہوگئی عادل سے، یونیورسٹی کے آفس میں ورکر تھا وہ، میں نے اس سے کبھی کچھ نہیں چاہا تھا”

مومی ابھی بھی بس خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔

“مومی، میں نے تو دعاؤں میں بھی بس اللّه سےمانگا تو اتنا کہ اگر وہ میرا ہے تو میرے نصیب میں لکھ دے، وہ مجھے نہیں ملا کیوں کہ شاید وہ میرے نصیب میں نہیں تھا اس لیے میں بھی اسکو خدا کا فیصلہ سمجھ کر مان چکی ہوں.”

مومی سب سننے کے بعد بولی،

“ہاں تو یہ تو اچھی بات ہے کہ تم خدا کہ فیصلے پر خوش ہو”

عینی:
مومی ایکچولی اسکی شادی ہوگئی ہے اور اب کلاشز بھی ہیں اسکی میرڈ لائف میں..

مومی غصے سے ،

“سو واٹ؟ کلاشز ہیں تو اس سے تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے عینی، کیا تم اب بھی عادل سے کونٹکٹ میں ہو؟؟”

عینی نفی میں سر ہلاتی ہے،

“نہیں مومی، میں خوش ہوں کہ وہ سیٹلڈ ہے”.

مومی غصہ دیکھاتے ہوئے ،

“تو پھر اصل مسئلہ ہے کیا سیدھا سیدھا بتاؤ”

مومی:

اسکی وائف مجھے کونٹکٹ کرتی ہے مجھے دھمکیاں دیتی ہے، مومی یار آئ ایم مچ واریڈ…

عینی آنسو پونچ کر مزید بتاتی ہے ،

“میں تو شروع سے جانتی تھی مومی کہ عادل میرا نہیں ہے کیوں کہ اس نے مجھے کبھی خوش فہمی میں رکھا ہی نہیں نہ ہی مجھے کبھی کوئی حسین خواب دیکھائے وہ مجھے پہلے سے بتا چکا تھا کہ انکی فیملی میں شادی اوٹ اوف فیملی نہیں کی جاتی. محبت میں نے کی تھی اس نے نہیں اس لیے ہم صرف اچھے دوست تھے صرف دوست. ہاں میں لکی فیل کرتی ہوں کہ وہ میرا دوست تھا جس نے کبھی مجھے دھوکے میں نہیں رکھا اور نہ ہی کوئی سبز باغ دیکھائے “

عادل کے بارے میں بتاتے ہوے اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی.

مومی:
تو تم اسکی وائف کو سب بتاؤ ناں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے.

عینی:
میں اسکو ہزار بار سمجھا چکی ہوں کیوں کہ میں اسے اپنا نصیب مان چکی ہوں.

مومی:
اگر واقعی ایسا ہے تو تم اسکی باتوں پر دھیان نہ دو، سب ٹھیک ہوجاے گا انشاء اللّه.

عینی ایک لمبا سا سانس لیتی ہے ،

“مومی! میں اب عادل کو بلکل بھول چکی ہوں وہ میری پہلی محبت ضرور تھی پر اب میں جس سے محبت کرتی ہوں وہ میری آخری محبت ہے اور پہلی محبت کے بعد دوسری محبت کی گنجائش ہو سکتی ہے آخری محبت کو عشق کہا جاتا ہے اور عشق کے بعد اور کسی کی گنجائش نہیں ہوتی.”

مومی:
آخری محبت۔۔۔ کون ہے ؟ اب کس مسئلے میں پڑ رہی ہو؟پہلے اس پہلی محبت کے مسئلے سے تو آزاد کراو خود کو ..

عینی:
اب ہی تو خود کو آزاد کیا ہے میری جان۔۔۔ اس دنیا سے اور اس کے مسائل سے…

مومی حیرانی سے؟
“کیا مطلب عینی؟”

عینی:
میری آخری محبت اللہ اور اسکا رسول ہیں۔۔۔ میں نے انکو وسیلہ بنایا ہے۔۔۔ میرے مسئلے خود ہی حل ہو جائیں گے۔۔۔

مومی عینی کے چہرے پر عزم رنگ دیکھ کر بولی ،

” صحیح کہتی ہو عینی، جب اللہ کو اپنا وسیلہ بنا دو تو اللہ جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے. اور وہ اپنے پاس آئے بندے کو نامراد نہیں لوٹاتا!!

اور دونوں بے فکر ہوکر سو گئے..یہ کافی دنوں کہ بعد کی بات تھی کہ عینی رات کو پرسکون سوئی.

لکھاری:
اقراریاض ملک

Facebook Comments

8 thoughts on “۔۔۔ میری آخری محبت…. ۔۔۔ اقراریاض

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *