شاہی شادی خانہ آبادی……از…رابعہ بصری

Spread the love

شاہی شادی خانہ آبادی

کل سے اب تک سُن رہی ہوں ، پڑھ رہی ہوں ، دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ شہزادہ ہیری اور شہزادی میگھن مرکل کی شادی پر مختلف لوگوں کی رائے اور گفتگو ۔۔۔ ہماری نوجوان نسل نے گھنٹوں لگا کے شہزادے کی شادی خانہ آبادی کی لائیو تقریب دیکھی ۔۔۔ خوشی اور ایکسائٹمنٹ ایسی کہ گویا ‘بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ’ ۔۔۔ حد تو یہ کہ انہوں نے بھی دیکھی جن کے پاس اپنوں کی خوشی منانے کو دس منٹ بھی نہیں ہوتے ۔۔۔ بڑی واہ واہ ہوئی ۔۔۔ بڑا تذکرہ ہوا ۔۔۔
والدہ آنجہانی لیڈی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کی ، پھر بھائی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کی شادیوں سے ساتھ ساتھ موازنے کئے گئے ۔ ڈریسز سے لے کر تاج تک ، بیش قیمت انگوٹھیوں کے تبادلے سے لے کر مہنگے ترین کیک تک ، بات ہوئی ۔۔۔موسیقی ، آتش بازی اور جشن کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ۔ مرکل کے پھولوں کا گلدستہ اٹھانے اور ہاتھ لہرا کے سب کو شکریہ ادا کرنے تک پر بات ہوئی ۔۔۔ ہالی ووڈ کے ٹاپ ایکٹرز اور مشہور شخصیات کی آمد کی تفصیلات اور ان کے بیش قیمت ملبوسات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ” آگاہی ” ملتی رہی ۔ ہمارے ٹی وی چینلز نے لمحہ لمحہ سب کو آگاہ رکھا ۔۔۔ کہیں بریکنگ نیوز کی صورت میں ، تو کہیں ٹِکرز کی فارم میں ناظرین کو مستفید کیا گیا اور کہیں رسومات کے دوران بیک گراوُنڈ میوزک میں ” تُو مجھے قبول ” جیسے گانے بھی چلے ۔۔۔ شادی کی سروسز ، برطانوی روایات کی جدت کے ساتھ ساتھ دلہن کے افریقن – امریکن ورثے کے مطابق انجام پائی ۔۔۔ شہزادہ ہیری نے شاہی رواج کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شادی کی انگوٹھی پہننے کا فیصلہ کیا ۔ تو جنابِ من شہزادہ ہیری اور میگھن مرکل کی شادی ونڈزر قلعے میں سینٹ جارج چیپل میں چھ سو مہمانوں کی موجودگی میں بخیر و خوبی ہوگئی ۔ شادی کے قافلے کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہزاروں لوگ موجود تھے ۔ شاہی جوڑے کو دیکھنے کے لئے عارضی کیمپ بنائے بیٹھے تھے اور شاہی شادی کے لیے نہایت پرجوش تھے ۔۔۔
خاص مہمانوں کو سینٹ جارج ہال میں ظہرانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا ۔ اس ظہرانے میں میگھن نے شاہی رواج کے خلاف اپنے شوہر اور سسر کے ہمراہ تقریر کی ۔۔۔ سٙو نوجوان جوڑے نے کچھ روایات توڑ کر نئی روایات کی بِنا ڈالی ۔۔۔ دعائیں تہہِ دل سے کہ یہ شادی کامیاب رہے ۔۔۔
اس سے پہلے کہ اس لمحے کا ذکر کروں جس نے دل چُھو لیا ذرا اپنوں کی بات کرلیں ۔۔۔ جی ، جی ، اپنے لوگوں کی ۔۔۔ وہ پاکستانی خواتین و حضرات جو برطانوی شہزادے کی شادی پر اوور ایکسائیٹڈ ہیں وہ ذرا یہ بھی جان لیں ، سمجھ لیں ، چھتیس سالہ موجودہ شہزادی ، سانولی ،طلاق یافتہ اور عمر میں شہزادے سے تین سال بڑی ہے ۔ شہزادے نے ان چیزوں سے آگے بڑھ کر ایک لڑکی کو اُس کی تعلیم ، ذہانت اور دردِ دل رکھنے والی ہستی کی بنیاد پر منتخب کیا ہے جو دنیا کے مختلف خطوں میں مینٹل ہیلتھ ، صاف پانی کی کیمپین ، صِنفی مساوات اور خواتین کے حوالے سے بے پناہ کام کر چکی ہے اور کر رہی ہے ۔۔۔ سننے میں آیا ہے کہ دونوں کی پہلی ملاقات بھی ایک چیریٹی پروگرام میں ہوئی تھی ۔ اسی عمدہ روایت اور بات کو بنیاد بناتے ہوئے اب پاکستانی نوجوانوں ، ماوُں اور بہنوں سے ہاتھ جوڑ کے گزارش کہ صرف زبانی تعریف و تحسین کے قلابے نہ ملائیں اور اپنے پینتالیس ، پچاس سالہ ” لڑکے ” کے لئے گورے رنگ کی کمسِن اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیوں کے رشتے دیکھنا چھوڑ دیں ۔۔۔ اپنے معیار بدلیں ۔۔۔ اپنا ذہن اور سوچ تبدیل کیجئے ۔۔۔

ایک بات جو اوپر لکھی تھی کہ دِل کو چھو گئی ۔۔۔ میگھن مرکل شادی کے چبوترے کی جانب تنہا ہی بڑھِیں لیکن آدھے راستے میں ان کا استقبال انکے سسر شہزادہ چارلس نے کیا جو انھیں ساتھ لے کر شہزادہ ہیری کی جانب بڑھے اور پھر میگھن شہزادہ ہیری کے برابر جا کر کھڑی ہو گئیں ۔ وجہ یہ کہ میگھن کےتہتر سالہ والد تھامس مارکل
طبیعت ناساز ہونے کے باعث اپنی بیٹی کی شادی اٹینڈ نہ کرںسکے اور انہوں نے کیلیفورنیا کے ایک ہسپتال میں یہ تقریب لائیو دیکھی ۔ سٙو ایسے میں سسر کا آدھے راستے سے بہو کو محبت سے لینا اور بیٹے کی طرف بڑھنا ۔۔۔ کیا ہی عمدہ منظر ۔۔۔ کاش یتیم بچیوں یا والد کی شفقت سے محروم بچیوں کو بھی کوئی ایسے سر پر ہاتھ رکھ کے جیون ساتھی کے ہمراہ رخصت کرے ۔
لکھنے اور کہنے کا مقصد صرف یہی کہ دوسروں کو دیکھ دیکھ کے محض وقت ضائع نہ کیجیئے ، ان کے مثبت رویوں اور اعمال کی پیروی بھی کریں ۔۔۔

رابعہ بصری کے دل سے نکلے کچھ لفظ

 

نوٹ:ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

Facebook Comments

2 thoughts on “شاہی شادی خانہ آبادی……از…رابعہ بصری

  1. An excellent and reflective piece of writing with a lesson and things should depend on substantial grounds and the writer has paid heed to uproot egregious aspects of our society.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *