نواز شریف کے بیان سے تحریک انصاف کے 100 دن پلان تک۔۔۔۔۔۔۔تحریر۔۔مظہر چودھری

Spread the love

نواز شریف کے بیان سے تحریک انصاف کے 100 دن پلان تک

چترال اور وادی کیلاش کے ٹھنڈے موسم کا مزاج پر کچھ ایسا ‘ کول ایفیکٹ’ ہوا کہ ملکی سیاست پر کسی قسم کے ردعمل یا تبصرہ کرنے کو دل نہ کیا. کچھ دوستوں کے اصرار پر گزشتہ ہفتے کی اہم سیاسی پیش رفت پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں.

جہاں تک ممبئی حملوں بارے نواز شریف کے بیان کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اسے جسٹیفائیڈ قرار دینا کافی مشکل ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ نواز شریف نے کہا وہ اس سے پہلے اہم عہدوں پر فائز کچھ اور لوگ بھی کہہ چکے ہیں تاہم تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے شخص سے ایسے غیر زمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں رکھی جا سکتی. تسلیم کیا کہ نواز شریف کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کو نیچا دکھانے کے لیے جس حد تک نواز شریف چلے گئے وہ کسی بھی طرح درست نہیں. نواز شریف کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ڈان لیکس کے ایشو پر ان کے خلاف معاملات یہاں تک پہنچ سکتے ہیں تو ایسے غیر مقبول بیان کے بعد نوبت کہاں تک پہنچ سکتی ہے. انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زرداری صاحب کو اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان کے نتیجے میں خود ساختہ جلا وطنی قبول کرنی پڑی تھی. نواز شریف یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ ان کی محاذ آرائی پر مبنی سیاست کی وجہ سے ن لیگ کا پنجاب سے سادہ اکثریت سے انتخابات جیتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے.

ن لیگ کی انتخابی مہم ملکی مسائل کے حل کیلئے کوئی لائحہ عمل دینے کی بجائے صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف بیان بازی تک محدود ہے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف ایسا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے کہ جیسے واقعتاً آئندہ حکومت انہی کی ہو گی. تحریک انصاف کے 11 نکات کے بعد 100 دن کا پلان میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی نفسیات پر اثر انداز ہونا ہے اور کافی حد وہ اس میں کامیاب بھی رہی ہے. 11 نکات اور 100 دن کے پلان پر تنقید کی بہت گنجائش ہے لیکن میرے خیال میں ایسے اقدامات سے میڈیا اور عوام میں یہ تاثر جڑ پکڑ چکا ہے کہ آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہی ہو گی. نواز شریف کے غیر زمہ دارانہ بیان سے میں نے کئی ایک ن لیگیوں کو نواز شریف کی مخالفت کرتے دیکھا ہے. دوسری طرف تحریک انصاف کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ 2013 کے برعکس وہ بھر پور تیاری کے ساتھ میدان میں اتری ہے. اگرچہ انتخابی مہم میں تحریک انصاف کو مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہے تاہم 11 نکات اور 100 دن کے پلان دینے سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ تحریک انصاف میڈیا اور عوام کی نفسیات پر اثر انداز ہونے کا کارڈ کامیابی سے استعمال کر چکی ہے

نوٹ:ادارے کا کالم نگارکی رائےسے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *