چاند تیری مثال ہو جائے ،کی خیالی دُنیا‘‘۔۔۔۔۔از۔۔۔۔مجید احمد جائی

Spread the love

’چاند تیری مثال ہو جائے ،کی خیالی دُنیا‘‘

تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی
چاند تیری مثال ہو جائے حافظ محمد حیات المعروف خیال احمد پوری کا پہلا شاعری مجموعہ ہے ۔شاعری کو روح کی غذا بھی کہنے والے کہتے ہیں اور جوبات افسانہ نگار اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر افسانہ ،کہانی یا ناول میں تخلیق کرتا ہے اور خیالی دُنیا میں غوطہ زن ہو کر صفحہ قرطاس پر جب لفظوں کے روپ میں موتی بکھیرتا ہے تو شاہکار تحریر معرض وجود میں آتی ہے اور یہی بات اگر شاعر کرے تو وہ مختصر لفظوں میں بیان کرتا ہے اور یوں اشعار معرض وجود میں آتے ہیں ۔شاعر اپنے جذبات ،احساسات،مشاہدات اور دل کی آواز کو لفظوں کا روپ دیتا ہے اور ہم تک خوبصورت اور پُر اثر کلام پہنچتا ہے ۔
میں بذات خود افسانہ نگارہوں لیکن مجھے شاعری سے بے پناہ لگاؤ ہے ۔کتا ب دوست ہوں یوں یہ ذوق اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔کتابوں سے ہم کلام رہتا ہوں اور یوں زندگی سہل بسر ہوتی ہے ۔
چاند تیری مثال ہو جائے :گذشتہ ماہ میرے دستر س میں آئی ادھر رب رحمان کے گھر کی مہمانی کا پروانہ آگیا تو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدسہ روانہ ہو گیا ۔بے بہا رحمتوں ،نعمتوں ،بہاروں سے لطف اندوز ہوئے اور اپنا سب کچھ وہاں چھوڑ چھاڑ کر مجبوراًخالی گوشت پوست کا وجود لے کر اپنے وطن واپس لوٹ آئے ۔انسان کی زندگی کیسی ہوتی ہے ؟جب دل ودماغ مقدس شہر کی گلیوں میں رہ جائے اور جسم کو ایک لاش کی طرح لیے اپنے شہر میں کسی مجنوں کی طرح مارا مارا پھر رہا ہو۔
چاند تیری مثال ہو جائے حافظ محمد حیات کا مجموعہ شاعری غزلیات ،رباعیات ،قطعات اور نظموں پر مشتمل ہے ۔یوں 135صفحات سے خوشبو حلقہ احباب کو معطر کرتی ہے ۔اچھے اور معیاری کاغذ پر لفظ موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں اور اس کی مناسب قیمت 300روپے ہے۔یوں یہ قیمت کاغذ کی ہے لفظ بے مول ہوتے ہیں جس کی قیمت کوئی کتنا ہی سخی کیوں نہ ہو ادا نہیں کر سکتا ۔
سرورق کی بات کچھ یوں ہے کہ رات کے منظر میں چاند ،ستاروں کے جھرمٹ میں چمکتا دمکتا نظر آ رہا ہے اور روح زمین پر تاریکی کی چادر میں ایک درخت کسی دیو ہیکل کی طرح ماحول کو خوف ناک بنا رہا ہے ۔خیال احمد پوری تصور محبوب میں ڈوب کر کچھ یوں کہہ رہے ہیں :
اپنی حسرت ہے کہ چاند تیری مثال ہو جائے
حورو پری کے حسن میں تیرا جمال ہو جائے
اندر کی دُنیا میں غوطہ زن ہو تے ہی پروفیسر نصیر احمد چیمہ کے الفاظ نظروں کو خیرہ کرتے ہیں ،لکھتے ہیں خیال احمد پوری کے اشعار میں شاعرانہ نمو کے تمام اصناف ملتے ہیں اور وہ فن کی پختگی کے بالکل قریب ہیں ۔چاند تیری مثال ہو جائے 12-4-18کو میرے ذوق مطالعہ کے لئے بدست اسدر ضا سحر مجھ تک پہنچائی گئی ہے ۔خیال احمد پوری کا تہہ دل سے شکریہ کہ انہوں نے اس قابل سمجھا ۔اب مجھ پر فرض بلکہ قرض ہو گیا تھا کہ میں اس کو پڑھوں اور اپنی آراء سے شاعر کو تنقیدی یا تعریفی کلمات کہہ سکوں ۔
خیال احمد پوری چاند تیری مثال ہو جائے کا انتساب اپنے دادا منشی احمد بخش مقبول کے نام کرتے ہیں جو آپ کے استاد بھی ہیں ۔حرف آغاز میں محمد طاہر عباس صاحب خیال احمد پوری کی سوانحی خاکہ پیش کرتے ہیں اور خیال احمد پوری کی زیست اور فن کے بارے ہمیں آگاہ کرتے ہیں ۔اظہار تشکر میں شاعر اپنے کرم فرماؤں کے نام گنواتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔حمد و نعت کے بعد غزلیات شروع ہوتی ہیں جان من اب کس سے میں انصاف محبت مانگوں
اب نہ زنجیر جہانگیری ہے نہ وہ جلاد رہے
تمام غزلیات میں خیال احمد پوری تصور محبوب میں ڈوب کر محبوب کو ہی موضوع سخن بناتے ہیں ۔محبوب سے شکوے شکایات ،محبوب کی بے رخی ،لاپرواہی ،اس کے دیئے درد و غم کا پرچار کرتے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ محبوب سفر محبت کے آغاز ہی میں چھوڑ کر چلا گیا ہے اور اب شاعر اسی کے خیالوں میں زندگی کے ایام بسر کر رہا ہے ۔ایک طرف شاعر محبوب کی جدائی اور تڑپ میں مایوسی ،اداسی کا شکار ہے تو دوسری طرف اپنے محبوب کی خوبیاں گنوا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’’چاند تیری مثال ہو جائے‘‘یہ کہہ کر محبوب کو چاند پر فوقیت دے کر تمنا کر رہا ہے کہ کاش چاند بھی تیری جیسی خوبیاں پاسکتااور دوسری طرف محبوب کی ادا،ناز و نخرے ،بے رُخی کا پرچار کرکے محبوب کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے خامیاں عیاں کر رہا ہے ۔
نہ چھیڑوذکر الفت کا نہ پوچھو حال مجھ جیسے پریشاں کا
اجڑے چمن کا پھول ہوں قیدی ہوں اپنے گریباں کا
ایک اور جگہ کہتے ہیں :
ہے بڑے درد کا یہ قصہ اور بڑی مختصر کہانی
کس سے چھپائیں ہم اور کس کو یہ سنائیں
خیال احمد پوری سے ملاقات ایک تقریب میں ہوئی ،جبکہ چاند تیری مثال ہوجائے جناب اسد رضا سحر کے توسط سے پہلے موصول ہو چکی تھی یوں ٹیلی فونک رابطہ خیال احمد پوری سے ہو چکا تھا ۔ایک شام ملاقات ہوئی اور اگلی شام میں حجاز مقدسہ روانہ ہو گیا ۔واپس آنے پر یہ مجموعہ دل اور دماغ کی آنکھ سے پڑھا ۔
ہم جس دور جدید میں سانس لے رہے ہیں ،محبت کے سوا اور بھی غم ہیں زمانے میں کے مصدق خیال احمد پوری کو چاہیے کہ محبوب کے غم اور تصور سے نکل کر زمانے کے معاشی ،اقتصادی حالات کا جائزہ لیں اور انہیں شاعری کا روپ دیں ۔
چاند تیری مثال ہو جائے میں پچاس غزلیں ہیں اور پھر رباعیات اور قطعات ہیں ۔رباعیات اور قطعات میں احمد خیال پوری محبوب کے تصور سے نکل کر تصوف کی دُنیا میں سفر کرتے نظر آتے ہیں پیغام و نصائح کے ذریعے مسلمانوں کے سوئے ضمیر جاگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔احمد خیال پوری کا فن نظمیوں میں ابھر کر وضع ہو جاتا ہے یہاں محبوب کا تصور کم ہے اور معاشرے کے سدھار میں سر گرم نظر آتے ہیں ۔ان کی نظم مسلمان ہو یا میرا وطن ،زندگی ،موت ،صبح ،شام ،حسن ،عشق ،نیند ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ۔
احمد خیال پوری اگر مثنوی پر گرفت رکھیں تو بہت ترقی کریں گے اور جد ید شعراء میں اپنا نام و مقام پیدا کرکے ترقی کی تمام تر منزلیں بآسانی عبور کر جائیں گے ۔اللہ کرے احمد خیال پوری یونہی ،اخلاقی ،عشقیہ ،جذبات کی عکاسی کرتے رہیں اور اپنے فن اور کام سے ادب کے افق پر تادیر چمکتے دمکتے رہیں آمین!ol

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *