توکل……. اقرا ریاض ملک

Spread the love

-توکل-

بند کمرے میں اپنے بیڈ پر تنها وہ رات کی تاریک خاموشی اوڑھے نجانے کن خیالات میں گم تھی کہ کافی کا کپ میز پر پڑے پڑے ٹھنڈا ہو چکا تھا .اس خاموشی میں حیا اچانک سسکی کی دبی آوازسے گھبرا کر کھڑکی کی طرف گئی تو دیکھا کہ اس کی
پری جاۓ نماز پر خدا کے سامنےسر بسجود ,سسکتے ہوئے معصومیت سے سوال کناں تھی…

“اےاللہ! کیا ہم اتنے برے ہیں کہ ہم سے برا برتاؤ کیا جاتا ہے؟
اے اللہ! آخر ہمارا کیا قصور ہے ؟ ہمیں اس گناہ کی کیوں سزا دی جاتی ہے جو ہم نے کیا نہیں؟”

حیا جو کھڑی پری کو دیکھ اور سن رہی تھی. اپنے آنسو پر قابو نہ پا سکی اور اسی کے ساتھ وقت پیچھے کی طرف لوٹا……

ابوبکر: میں تمہاری ماں کو لے کر ہسپتال جا رہا ہوں.

حیا: (معصومانہ لہجے میں) اچھا ،ننھی پری کو لینے؟؟ کتنا مزہ آئے گا ناں بابا!

ابوبکر: جی میری گڑیا! بس آپ وعدہ کریں آپ آیا کو تنگ نہیں کریں گی ۔۔

حیا: جی بابا میں اب بڑی ہوگئی ہوں ناں.میں اب تنگ نہیں کرتی آپ بس میری پری کو جلدی سے لائیں.

(ابو بکر حیا کو بوسہ دے کر بیوی کو لے کر ہسپتال گیا .جہاں اس کی ماں نے “خیریت” کے ساتھ ایک ننھی پری کو جنم دیا . سب بہت خوشی کے ساتھ ہسپتال سے گھر کو روانہ تھے جہاں ایک گڑیا اپنی پری کو گود میں لینے کے لیے اپنی عمر سے بڑی ہو گئ تھی…

اگلا منظر…

دروازے پر دستک ہوئی.. . حیا نے بڑی خوشی سے بھاگ کے دروازہ کھولا مگر سامنے کا منظر دیکھ کراس پر سکتہ طاری ہو گیا….وہ اسی کیفیت میں تھی کہ کسی نے آگے بڑھ کر
سفید کپڑے میں لپٹی ننھی پر ی اس کی گود میں ڈال دی.. اس نے ایک لمحے کو اس سفید پری کو دیکھا اور پھر اپنے مما,بابا کی سفید ملبوس میں دروازے پر موجود لاشوں کو دیکھا جن کا ہسپتال سے واپس گھر کو آتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیاتو وہ وقت کے اسی ثانیے میں بڑی ہو گئی اور خود سے تہیہ کیا کہ وہ آج سے اس ننھی پری کی مما بابا جیسی پرورش کرے گی اور اس نے اسکا نام پری رکھ دیا….(اس کا نام پری کے علاوہ کچھ ہو بھی تو نہیں سکتا تھا .)

رشیدا: یہ بچی تو بری منحوس ثابت ہوئی ہے کہ پیدا ہوئی تو ماں باپ چل بسے.

کنیز: کہتی تو تم ٹھیک ہو اللہ کسی کو ایسی منحوس اولاد نہ دے.

حیا جو کب سے کھڑی سب کی باتیں سن رہی تھی،
بولی:
” یہ سب خدا کا کرنا ہوتا ہے آج ہمارے ساتھ ہوا کل خدا ناخواستہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،دکھ میں سہارا نہیں بن سکتے تو خدارا اضافہ بھی نہ کریں”.

( چھ سالہ حیاجو کچھ ہی لمحے پہلے ہی بڑی ہوئی تھی.اب اس نے نہ صرف خود کو سمبھالنا تھا بلکہ اپنا وعدہ بھی نبھانا تھا)

وقت گزرتا گیا..آیا کی شفقت کے ساتھ…حیا بڑی ہوتی گئ اور پھر وہ وقت بھی آن پہنچا کہ اس نے کالج سے نکل کر نوکری کرنا شروع کی تاکہ وہ پری کی اچھی پرورش کر سکے.

پری کے لیے حیا مما بھی تھی اور بابا بھی اور وہ اس کو وہی عزت اور پیار دیتی اور حیا بھی پری کو اپنی بیٹی کی طرح پیار کرتی.

پھر ایک دن… حیا کے کھانا پکاتے دوران کیچن میں آگ لگ گئی . پری جو اپنے کمرے میں بیٹھی امتحانات کی تیاری میں مگن تھی دوڑی اور حیا کو نکالا جو آگ میں جھلسنے کی وجہ سے
بالکل بیہوش تھی .

پری کچھ ہمسائیوں کی مدد سےحیا کو اٹھاۓ قریبی ہسپتال لے جانے لگی تو اسی گلی میں وہی خواتین وہی باتیں کرنے لگیں… ماجرا بس تھوڑا مختلف تھا تب حیا کو باتیں اس لمحے میں وقت سے بہت پہلے سیانا کر گئیں تھیں اور اب پری کو ….

پری ان خواتین اور ان کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ حیا کو ہسپتال لے گئی.جہاں حیا کو داخل کر لیا گیا. خدا کے کرم اور پری کی دعاؤں سےحیا تین دن بعد صحت یاب ہوکر اس کے ساتھ گھر لوٹ آئی….

جیسے ہی حیا اور پری گھر داخل ہونے لگیں محلہ داروں کی آوازیں انکے کانوں میں پڑیں .

“یہ دونوں بہنیں ہی منحوس ہیں اگر یہ محلے میں اور رہیں تو پورے محلے پر نحوست چھا جائے گی.ان کو نکالنا چاہیے یہاں “.

پری انکو جواب دینا چاہتی تھی مگر حیا نے اسے روک لیا کہ” اللہ پر بھروسہ رکھو اللہ کی ذات بہت رحمان و رحیم ہے وہ کسی کے ساتھ برا نہیں ہونے دیتا بس اس کی رحمت سے مایوس مت ہو اور صبر کرو.”

(حیا اور پری لوگوں کو بولتا چھوڑ کر اپنے گھر میں داخل ہو گئیں…)

پری کو خدا کےسامنےگڑگڑاتے ہوۓ دیکھ کرحیا بھی اپنے رب سے ملتجا ہوئی…

“اے خدا ! ہم نے تیری آزمائشوں پر صبر کیا ہے بس اس کےصلے میں اس پری کے یقین کو کبھی ٹوٹنے نہ دینا.اے اللہ! اسکے یقین کو مزید پختہ کر اور اس کی التجائیں سن.. “.

یہ دعا کرتے ساتھ ہی حیا نے اپنی پری کو اپنی بازوؤں میں لے لیا اور بستر پر لے گئی۔۔
“پری اب تم سو جاؤ، اللہ سے مانگا ہے ناں! تو اللہ پر بھروسہ بھی رکھو .وہ کبھی تمہارا بھروسہ نہیں توڑے گا.انشاءاللہ”

اگلی صبح دروازے پر دستک ہوئی تو دونوں سہم گئیں کہ شائد کوئی انکو محلے سے بےدخل کرنے آیا ہے…، مگر حیا کا اللہ کی ذات پر پختہ یقین تھا کہ وہ ذات کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گی..

حیا نے سہمے ہوۓ دروازہ کھولا۔۔

حیا:کون ہے؟

(دوسری طرف) : جی میں عمر

حیا: جی دیکھیں، ہم دونوں بہنیں کہاں جایئں گی؟ ہمارا تو کوئ بھی یہاں نہیں ہے نہ ہی کوئ رہنے کو جگہ ہے ہمارے پاس کچھ تو خدا کا خوف کریں ترس کھاہیں ہم پر..

عمر: میڈم! آپ گھبرایئے مت، میں آپ کے گھر کے کاغذات لایا ہوں جس کے مطابق آپ دونوں کو یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا.آپ کا ہی یہ گھر ہے…..

(حیا نے خدا کا شکر کیا اور پری دوڑتے ہوۓ عمر کے پاس گئی )

پری: بھائی! آپکا بہت احسان ہے ہم پر.. میں واقعی بہت ڈر گئی تھی مگر حیا آپی کو بھروسہ تھا اس ذات پر کے وہ برا نہیں ہونے دے گا ..

(عمر مسکراتے ہوۓ اللہ حافظ کہتا ہوا چلا گیا….. )

دو دن بعد دوبارہ دروازے پر دستک ہوئی . پری دروازے پر دیکھنے گئی۔۔

پری : کون ہے؟؟
دوسری طرف سے جواب آیا “عمر”

پری : عمر بھائی ! آپ ؟ سب ٹھیک ہے ناں؟

عمر: جی. سب ٹھیک ہے. آپکی آپی گھر ہیں؟ میری امی ان سے ملنا چاہتی ہیں..

پری : جی آئیے، آپی اندر ہیں میں بلاتی ہوں.

(پری نے عمر اور ان کی والدہ(خالدہ آنٹی) کو ڈرائنگ روم میں بیٹھایا)

حیا نے اندر آتے سلام کیا اور خالدہ آنٹی کے ساتھ بیٹھ گئی .

خالدہ آنٹی:
حیا بیٹی! میں ذیادہ کچھ نہیں کہوں گی.میں جانتی ہوں آپ دونوں بہنیں اکیلی ہوتی ہیں.جو بات میں کرنے آئی ہوں وہ عام طور پر گھر میں کسی بڑے سے کی جاتی ہے پر آپ ہی گھر میں سب سے بڑی ہو تو آپ سے کرنے پر مجبور ہوں..

حیا: (سہمے ہوئے)
جی انٹی کہیں سب خیریت ہے ناں؟؟

(پری چاۓ کی ٹرے میز پر رکھ کر حیا کے ساتھ بیٹھ گئ)

خالدہ آنٹی:
حیا اصل میں ، میں اپنے بیٹے عمر کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنے آئی ہوں..

( پری خوشی سے کھڑی ہو گئی )

پری :
واہ! حیا آپی کی شادی وہ بھی عمر بھائی سے..ہمیں کوئی اعتراض نہیں ..

(حیا نے غصے سے پری کی طرف دیکھا )

خالدہ :
حیا آپ نے شادی تو کرنی ہے میں زبردستی کی قائل نہیں ہوں.بس آپ ایک بار سوچ لینا.

(خالدہ آنٹی اور عمر خدا حافظ کہہ کر چلے گئے)

پری : حیا آپی! عمر بھائی بہت اچھے ہیں اللہ پر بھروسہ کر کے ہاں کر دیں.

(حیا نے شرماتے ہوۓ پری کو ہلکا سا تھپڑ مارا اور دونوں ہنسنے لگیں )
کچھ دن بعد۔۔۔
حیا اور عمر کی شادی ہو گئی اور پری کو عمر کی صورت میں بھائی مل گیا..

پری سوچتی ہے …

“حیا آپی ٹھیک کہتی ہیں… اللہ پر یقین پختہ ہونا چاہیئے. اس سے مانگو تووہ ضرور نوازتا ہے.ہم تو وہ مانگتے ہیں جو ہمیں پسند ہوتا ہے مگر وہ رحمان ہے مہربان ہے وہ ہماری استطاعت سے ذیادہ ہمیں نوازتا ہے. انسان ایک پھول کی کلی مانگتا ہے مگر وہ پورےگل دستہ سے نوازتا ہے..انسان خطا کار ہے ناشکرا ہے نا شکری کرنا خطائیں کرنا انسانی فطرت ہےمانگووہ جو غفور و رحیم ہے معاف کرنا اس کی شان ہے.. وہ نوازتا چلا جاتا ہے..بس شرط صرف یہ ہے کہ اس عظیم ذات پر پختہ یقین ہو کہ وہ جو کرے گا ہمارے حق میں بہتر ہی کرے گا..

تحریر:
اقرا ریاض ملک

Facebook Comments

10 thoughts on “توکل……. اقرا ریاض ملک

  1. واہ!کمال
    ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے
    اللہ آپ کو مزید لکھنے کی ہمت۔

  2. Iqra Riaz is an emerging star in the field of short story . She with her clear, lucid and vivid description attracts the readers’ attention. Best of luck .

  3. Commendable 👏.. Started with suspense which is followed by tragedy. And the end is really an icing on the cake… Keep posting

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *