چائے کی پیالی۔۔۔۔۔۔از ظہور حسین

Spread the love

چائے کی پیالی

دکھتا ہے ۔بی۔کدھر ۔یہاں پے،دکھتا ہے آرام سے دھیرج سے بس یار کمینے دکھتا ہے دکھ ہے درد ہے بے دردی آرام سے،دو پیالی چائے نہیں تین دو تین وہ آرہا ہے آگیا فارغ دکھتا ہے لا دوا نہیں ہے دوا بھی داور بھی ختم۔درد نہیں دوا نہیں شفاء۔دے گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔سب کچھ ٹھیک ٹھاک۔بی بی کے نعرے ۔آئی آئی،آیا آیا،شیر آیا،چل بے کون شیر،کون چیتا،جئے جئے۔جئے جئے۔پاگل ہے گیا۔جئے جئے ،کھپے کھپے،پاکستان کھپے،کھپ گیا،کھٹ گیا،گھٹ گیا۔او چھوٹے چائے کی پیالی !ذرا گرم۔زرا جلدی۔درد ہے بہت۔دکھتا ہے۔اللہ کرم کرے،اللہ تو کرم کر۔آلو سو دو سو روپے کلو،پیاز دو پچیس کے۔تبدیلی آنہیں رہی آگئی۔تبدیلی آئی ہے،بدل دیا ،بدل ڈالا،بدل گیا ،بدل گیا،بدل چولا،بدلا چولا سبز، سرخ،سفید،بدلا چولا کالا،کالا چولا،نیلا چولا،سرخ چولا،کالا ،سرخ، سیاہ،سفید،بدل چولا روز،بہت گرمی ہے،اُف توبہ۔کمال گھٹن ہے حبس ہے ،حبس بے جا،بے جا حبس،نہا،بہت گرمی اُف توبہ۔بدلو سب،سب بدل ڈالا،رھن، سہن سہن رہن،رنگ نسل،عمر،نسل ،عمر،پیسہ ،پیسہ،پیسہ،پیسہ،ڈالر،شہرت و عزت،بدل،بدل ڈال سب کچھ،ریت رواج،مزاج،مزاج،راج،دھن،رن،دھن ،رن،رن دھن،طریق اسلوب،معیار، کردار،قرار،بے قرار،بے قرار،بے کار،بے کار۔سب بدلا ،سب بدل گیا۔بدل گیا ،بدل گیا۔دکھتا ہے،درد ہے،گرم چائے پی،گرم گرم،نرم نرم،چائے گرم۔انڈے گرم۔نرم نرم گرم۔گرم نرم۔نرم گرم۔کھٹ گیا،کھٹ گیا،پھٹ گیا ،پھٹ گیا۔کفر کفر لا حول ولا قوتہء،کفر کفر ہے،ظلم ہے،کفر کافر،ظالم،ظالم،پھٹ گیا،کھٹ گیا،کھٹ گیا،پاکستان کھپے،کھپ گیا،بدل گیا،بڑھ گیا۔بوہے،بدبو،اُف،بدبو،کب نہاتاہے تو،بدبو،بدلا نہیں چولا،آہ دکھتا ہے،درد ہے ،دکھتا ہے کیا؟؟اُوہو!سب دُکھتا ہے،درد ہے۔چائے گرم۔ـــآیا آیا آیا آیا۔وہ آگیا،وہ آیا ہے۔پاگل ہے کیا۔عقل ہے نہیں ۔صرف بی بی ،صرف بی بی۔غریب کی آواز۔امیر کی زبانی،پاکستان کھپے،غریب کھپ،کھپ غریب۔دھیرج دکھ۔ہماری باری اب آئے گی ہماری باری۔باری باری ۔تیری باری۔میری باری۔واہ یاری۔یاری۔غداری۔غداری ہے ،غداری ہے،یاری ہے،غداری یاری۔یاری غداری،باری باری ،تیری باری ،میری باری۔بدلا ہے بدل کے رکھ دیں گے،بدل دیا ہے،سب کچھ،رواج،ریت،دھن رن،رن دھن۔مجھے کیوں نکالا؟تجھے کیوں نکالا؟اُسے کیوں نکالا؟آجا۔نکل جا،داخل ہو جا،پورا کے پورا،نکل جا،بھاگ جا،آجا آجا۔تینوں اکھیاںاُڈیکدیاں۔جا بھئی جا۔ٹھنڈی ہوا کھا۔کھیر کھا۔شیر کھا،یہاں سے جا۔آجاآجا۔بھر سے جھولی میری جس میں سو چھید ہیں۔ہماری عطا،ہماری عطا،خطا،عطا خطا،خطا عطا،مرد مومن ،مرد حق،مرد مومن،مومن ،مومن،اللہ اَکبر!اللہ اَکبر،ٹھا! ٹھا!اللہ اَکبر۔دکھتا ہے بہت دکھتا ہے،اُوئی۔کمینے ہاتھ پرے کر۔آہ۔دکھتا ہے ۔آرام آئے گا،چین ملے گا،راحت نصیب ہو گی۔راحت مل جائے گی۔سکون قلب مل جائے گا۔جئے،جئے ،جئے۔جیسے رو،جینا ہے،جیو اور جیو۔درد پیو،دردسہو،درد ہے گیا،دکھتا ہے کیا درد ہے کیا۔ ادلا بدلا۔بدلاسب کچھ،ریت رواج ،من تن۔تن من دھن۔بدلا ہے سب کچھ۔بہت بدبو ہے،اُف دور دور۔پرے ہٹ۔نہاتا نہیں کیا؟بہت بدبو! اللہ معافی ۔اللہ کافی۔اللہ شافی!آہ!پھر دکھتا ہے کیا؟چائے لا،گرم گرم،چائے گرم لا۔داغ ہے کیا اتنا بڑا،دھبہ ہے کیا اتنا گول مٹول،کیسے داغ ہے،داغا ہے ،داغدار ہے،غدار ہے،غدار ہے،وفادار ہے،وفا شعار ہے،دُھل جائے گا،صاف ہو جائے گا،بہت پکا داغ ہے،سراغ ہے،سراغ بندگی،نہیں سراغِ زندگی،زندگی بندگی ہے،بندگی کیسی زندگی ہے؟دکھتا ہے کیا؟آہ!درد،درد،کسک،درد۔داغ،داغ کا درد۔مجھے کیوں نکالا۔زرا بتلائو۔اب بتلائو۔تم بتلائو۔میں کیا بتلائوں ۔کیا سمجھائوں ،کیسے سمجھائوں۔بدلو چولا،بدلو چولا،سرخ،سفید،سیاہ،چولا۔بس چولا بدل چولا۔چائے نہیں آئی۔او چھوٹے۔تین چائے۔زرا گرم۔چائے گرم۔بدلو چولا،بدلو چولا،ختم سب رولا،بدلو چولا۔مرد مومن مرد حق۔حق حق،حق بحق،حق حق۔ان الحق،ان الحق،جاں بحق،حق حق حق صرف حق،صرف حق،حق،حق فق ،فق حق،حق فق،سب غلط،سب کفر،سب کفر،سب غلط ،سب غلط،حق حق نعرہ حق۔نعرہ حق،جاں بحق۔جاں بحق۔جاں بحق۔جاں بحق۔بہت دکھتا ہے۔غریب کی کہانی امیر کی زبانی۔غریب ختم، غربت ختم، غریب نہیں رہے گا۔غربت مفقود،منزل مقصود،منزل مقصود،پاک سَرزمین۔کشور حسین،کشور حسین۔حسین ماہِ جبیں ،زہرہ جبیں ۔پاک سَر زمین۔پاکستان کھپے،سب کھپے،کھٹ گیا،پھٹ گیا۔پھٹ گیا۔ٹھا ٹھا ٹھا ٹھا ۔دشمن ہے دوست،دوست دشمن ہے۔دوست دشمن۔بیلی۔سجن بیلی۔نکالی ریلی۔اللہ بیلی۔مرد مومن مرد حق۔ان الحق۔اللہ بیلی۔دکھتا ہے کیا؟درد مدھم،مدھم،درد،مدھم۔گرم چائے۔گرم گرم چائے۔میں تو ناچوں گی،میرا پیا گھر آیا،گھر لے گیا پورا گھر،پورے کا پورا گھر،سر!جناب ،جناب عالیٰ!میرا پیا گھر آیاہے ،او رام جی،زرا دھیان جی،رام جی،گیان!دھیان،دھیان۔بدلو۔بدلوچولا،سبز،سرخ، سرخ ،سرخ،سبز،سرخ،سفید، سفید،سفید،نہیں سرخ ۔بدلا چولا،رام جی!پیا گھر آیا،رام جی!پیا گھر بسایا ہے،رام جی،پیا گھر بنایا ہے ،رام جی،گھر سے گھر تک کا سفر،گھر سے گھر۔گھر سے گھر،بھر بھر بھر بھر۔بدلا بدلا۔بدل دیا،سرخ ،سفید،سفید،نہیں سرخ دکھتا ہے کیا؟ اُئوئے چھوٹے چائے۔

 

Facebook Comments

3 thoughts on “چائے کی پیالی۔۔۔۔۔۔از ظہور حسین

  1. In the wave of Modernism people are mere puppets on the face of society the pain of one is just the interpretation of suffering of people which last for a moment..! On one side there is hue of humanity which is just a mask of a barbarian. But where these tramps dwell ? Where such masses question their existence ? Their presence has been counted an odd odour. They only question their meaningful identity which society made them deprive. Chaey Ki Pyali according to me is the exemplification of their identity which they never get. The love like Mansoor who mount the gallows just to pour the cascade of love for Allah but people regard him out of the circle of Islam. Hence love is not love but just interpretive of ones mind. Beauty , affection , love and emotions are all interpretive and tramps are all devoid of it

  2. In the wave of Modernism people are mere puppets on the face of society the pain of one is just the interpretation of suffering of people which last for a moment..! On one side there is hue of humanity which is just a mask of a barbarian. But where these tramps dwell ? Where such masses question their existence ? Their presence has been counted an odd odour. They only question their meaningful identity which society made them deprive. Chaey Ki Pyali according to me is the exemplification of their identity which they never get. The love like Mansoor who mount the gallows just to pour the cascade of love for Allah but people regard him out of the circle of Islam. Hence love is not love but just interpretive of ones mind. Beauty , affection , love and emotions are all interpretive and tramps are all devoid of it

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *