شریفوں کی بستی میں طوائف۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔حمیدہ گل

Spread the love

(شریفوں کی بستی میں طوائف)

آج یونیورسٹی سے آتے ہوئے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے اگر آپ قارئین کے ساتھ شیئر نہ کرو تو اس شخص کے ساتھ ذیادتی ہوگی جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اس واقعے نے دماغ کو ہلا کر رکھ دیا اور ذہن میں یکایک اس شعر نے اپنی جگہ بنائی کہ:
عورت ہونا اگر جرم ہی ہے حمیدہ
تو آدم کی پسلیوں سے حوا کیوں ہوئیں پیدا
آج ایک حوا کی بیٹی جو کسی کی ماں،کسی کی بہن،کسی کی بیوی یا کسی کے گھر کی زینت تھی سر عام کچھ درندوں نے اس کی عزت کو پامال کردیا یونیورسٹی سے آ تے ہو ئے بس جب صدر میں داخل ہوئی حسب معمول روزانہ کی طرح صدر کی سڑک بسوں اور مسافروں کے رش کی وجہ سے بھری ہوئی تھی سوچا کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہوگا دل نے ضمیر سے کہا جاکر دیکھو تو ہے کون؟جاکر دیکھا تو دل دہل گیا کچھ انسان نما درندے ایک لڑکی کو بُری طرح پیٹ رہے تھے یہاں تک کے

اس لڑکی کے کپڑے پھٹ چکے تھے اور جسم سے خون بہہ رہا تھاتمام لوگ حسب معمول خاموش تماشائی بن کر تماشہ دیکھ رہے تھے میں نے مداخلت کی تو پتہ لگا لڑکی طوائف ہے وہ طوائف خانے سے بھاگ کر شریفوں کی بستی میں آگئی ہے ہجوم میں کھڑے ایک داڑھی والے ضعیف نے کہا کہ اس لڑکی کو زندہ جلا دو یہ ہماری بہن بیٹیوں کو خراب کردی گی اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجائے گا میں نے بزرگ سے کہا کہ آپ کے پاس کیا جواز ہے کہ یہ لڑکی طوائف ہے؟ کیوں کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ لڑکیوں،عورتوں اور چھوٹی بچیوں کے ساتھ ہمارے سماج میں موجودوحشی درندے کیا کر رہے ہیں اور صدر میں ایک سے ایک ہوٹل ہے جہاں عورت کو اغوا کرکے یا زبردستی لے جا کر بیچا جاتا ہے گہنونے کام پر اکسایا جاتا ہے مار پیٹ کر سنگل پر بھیک مانگنے کے لئے بٹھا دیا جاتا ہے عورتوں کو اسمگل کرنا اس معاشر ے میں فیشن بن گیا ہے کچھ عورتیں خود غلط کام کرتی ہیں مگر کچھ نوکریوں کی مجبوری کی وجہ سے اس دلدل میں پھنس جاتی ہیں کچھ بھی ہو تھی تو وہ ایک عورت وہی عورت کہ جہالت کے زمانے میں یہی لوگ تھے جو ان کو زندہ دفنا دیتے تھے مگر آپ ﷺ نے آکر اس رواج کا خاتمہ کیا غصہ تو تھا ہی ان بزرگ سے میں نے کہا کہ اگر اس کی جگہ آپ کی بیٹی ہوتی وہ طوافف خانے کی زینت بنتی تو کیا کرتے کیوں کہ ہر عورت خود سے نہیں جاتی اس غلیظ دنیا میں۔ اس لڑکی کا چہرہ اس کی آنکھوں کی چمک میں کچھ تو ایسا تھا جو اس بات کی شہادت دے رہا تھاکہ وہ اپنی عزت کے خاطر بھاگی ہوگی کیوں کہ عورت کا اغوا اور پھر اس بازار میں بکنا معمول کی بات ہے۔ ابھی میں اس شخص سے اور اس ظا لم سماج کے گونگے لوگوں
سے یہ کہہ ہی رہی تھی کہ وہ سفاک درندے پھر اسے اسی پنجرے کی طرف گھسیٹتے ہوئے لے گئے جہاں سے وہ بھاگی تھی نہ کسی نے روکا نہیں کچھ کہا یہ دیکھ کر تعجب بھی ہوا اور دل رویا بھی کہ اب اس لڑکی کے ساتھ کیا ہوگا؟اس لڑکی کی نظریں ہر اس تماش بین سے کہہ رہی تھی کہ کاش میری جگہ تمھاری عزت ہوتی اس کے لفظوں میں یہ فریاد ضرور ہوگی کہ
میں تو پنچھی ہوں کہاں جاؤ گی
آخر قید ہونے پنجرے میں ہی آؤگی
آخر میں بھی گھر کے لئے پھر گاڑی میں بیٹھ گئی سب تماشہ دیکھنے والے اندھے،بہرے،گونگے بھی اپنی منزلوں کی طرف چلے گئے جب گھر پہنچی تو امی نے میرے حالت دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے آ ج خاموشی سے گھر میں داخل ہوئی روز چہکتی ہوئی آتی ہو غصہ تو تھاہی بے اختیار منہ سے نکلا کہ
مجھ سے کیا پوچھتی ہو میری اداسی کا سبب
ماں گھر سے باہرنکلو جا ن جاؤگی سب
خدارا اب تو جاگو ورنہ اس لڑکی کی جگہ خدانخواستہ ہماری بہن،بیٹی بھی اس مشکل میں پھنس سکتی ہیں تو ان کا بھی سرعام تماشہ دیکھنے والے بہت ہوگے مگر بچانے والا کوئی نہیں۔

     نوٹ:ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔کالم میں پیش کئے گئے خیالات اور تحقیق کا تعلق لکھاری کے اپنے تجربات و نظریات سے ہے:

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *