نمکین چائے۔۔۔۔۔از۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

نمکین چائے

از۔سمیع اللہ خان

شام کا وقت تھا ۔باہرکہرچھائی ہوئی تھی۔کنٹین کی دیواریں ٹھٹھررہی تھیں۔جنوری کاجوبن عروج پرتھا۔اندرداخل ہونے والی سونی سونی ہوانے جہاں میرے خردکوپابہ زنجیرکردیاتھاوہیں وہ گرم چائے کے بیچ ایسے روڑے اٹکارہی تھی جیسے انتہاپسندی کسی ملک کی ترقی میں رخنے ڈالتی ہے۔دردکسی صاف چشمے کے ابلتے ہوئے پانی کی مانندمیرے اندراٹھکیلیاں کررہاتھا۔چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں کن آکھیوں سے اردگردبیٹھے جامعہ کے لڑکوں کی جانب دیکھ رہاتھاکہ کہیں ان کو میری چائے کے بدلتے ذائقے کی بھنک تونہیں پڑگئی۔
سائے اندھیروں میں بدل گئے ۔اردگردسناٹاچھاگیا۔تنہائی کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی۔اسی اثناء میں جب کاؤنٹرکی جانب نظردوڑائی تو چادرمیں لپٹی ہوئی نظریں مجھ سے سوال کررہی تھیں۔ ایسے سوالوں کے جواب اگرمیرے پاس ہوتے توشایداس کہر آلودرات میں گرم بسترمیرامقدرہوتا۔ان نظروں کے کربناک تسلسل کوتوڑتے ہوئے میں نے ایک اورچائے کی گزارش توبارہ برس کابچہ ایک سردآہ کے ساتھ برتن سمیٹنے لگا۔اب کے مری نگاہیں اس کی نقل وحمل کوجانچنے لگ گئیں۔ننھے سے جسم میں بجلی کی سی تیزی آ چکی تھی شاید غربت کی تپش اورمحرومیوں نے اس کے جسم میں بارود بھردیاتھا۔
’’یہ لوصاحب!‘‘اس جملے نے مجھے چونکایاتو میں مارکسزم کے خواب سے نکل کر اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کی جانب متوجہ ہوا‘جو اب چائے بناکرمیزپررکھ چکاتھا۔میں سوچ رہاتھاکہ صاف ستھری چائے کے متمنی ملازموں کوپراگندہ سوچوں اورچیتھڑوں سے کنارہ ہونے کاموقع کیوں نہیں دیتے ؟جدت کے دعوے دار اب تلک صلیبی جنگوں میں کیوں دھنسے ہیں ؟ روایت سے جڑکراجتہاد نیاپن ہے اورانفرادیت ہی جیتی جاگتی زندگی ہے مگرہم دورِ وحشت کے اندھے مقلدوں کوخارج کیوں نہیں قراردیتے ؟اچھے نتائج کی توقع کرنے والے اساتذہ ‘اچھاکیوں نہیں پڑھاتے؟خالص محبت کی تمنارکھنے والے ہرکسی کو اپنی جانب راغب کرنے میں کیوں مصروفِ عمل رہتے ہیں؟ان کے نازواندازاس شعرمیں کیوں ڈھل جاتے ہیں
اللہ رے چشم یارکی معجزہ بیانیاں
ہراک کوگماں ہے کہ مخاطب ہمیں رہے
سوال پرسوال میرے دماغ کی رگیں چٹخانے لگاتومیں نے موبائل پر شہزادنیرکی غزل لگانے میں ہی عافیت جانی
جیسے دیکھاہے ‘دکھایابھی نہیں جاسکتا
خواب کاحال سنایابھی نہیں جاسکتا
پھینکی جاتی بھی نہیں راہ میں یادیں اسکی
اوریہ بوجھ اُٹھایابھی نہیں جاسکتا
ہوتے ہوتے وہ مجھے عشق نگرلے ہی گیا
میں نے سوباربتایابھی‘نہیں جاسکتا
دل ہی مسمار کریں اہل محبت نیر
پوراماحول تو ڈھایابھی نہیں جاسکتا
ان اشعارکوسنتے ہوئے میں سوچ رہاتھاکہ ٹی ایس ایلیٹ نے درست ہی کہاہے کہ’’ شاعری جذبات کہ آزادانہ اظہارکانام نہیں ہے بلکہ جذبات سے فرارکانام ہے۔شاعری شخصیت کے اظہارکانام نہیں بلکہ شخصیت سے فرارکانام ہے لیکن درحقیقت فرارکی اس نوعیت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے پاس شخصیت بھی ہے اور جذبات بھی۔‘‘
انہی سوچوں میں گُم میں جیب ٹٹولتاہوا جب کاؤنٹرپرپہنچاتودکاندارابھی تک چائے پی رہاتھا۔میں نے حیرانگی سے کہاتمہاری چائے ختم نہیں ہوئی؟تواس کے تھرکتے ہوئے لبوں نے جواب دیا’’را ت کے اس پہرایک کپ چائے ڈالتاہوں اورپیتے پیتے وہ ڈیڑھ کپ ہوجاتی ہے۔‘‘اس مبہم جواب نے مجھے اورسوال کرنے پراکسایااورمیں نے شکوہ کیاکہ یہ چائے تومغرب والی چائے سے بھی زیادہ نمکین تھی ۔کیاتم بھی میٹھانہیں پیتے؟یابھول گئے ہو؟لڑکابولا:بھائی!میرے کومیٹھازیادہ اچھالگتاہے ۔پرکیاہے ناں ‘میری ماں کوکینسرکا مرض ہے ۔اباکب کامرگیا‘بھائی بہن ہے نہیں ۔اماں کواسوقت تکلیف بھی زیادہ ہووے ہے مگرمیں کاکروں ؟اس کی دوائی کاپیسہ بناتاہوں راتوں کو۔۔۔صاحب میری چاہ توری چاہ سے بھی زیادہ نمکین ہوجاوے ہے۔۔۔۔

‘‘

Facebook Comments

3 thoughts on “نمکین چائے۔۔۔۔۔از۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. ماشااللہ بہت ہی پیارا لکھا۔الفاظ کا چناوٓ بھی خوب اور اجزائے ترکیبی کا بھی احسن استمعال کیا گیا ہے۔ دو تین کرداروں میں ہر انسان کا انفرادئ غم بیان کر دیااور تمام پہلووٓں کی تصویر ہماری آنکھوں کے سامنی پیش دی۔ یہ لائن توکمال کی تھی”’را ت کے اس پہرایک کپ چائے ڈالتاہوں اورپیتے پیتے وہ ڈیڑھ کپ ہوجاتی ہے۔۔

    1. السلام علیکم !محترم یہ آپ کا حسن نظر ہے ۔ حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں

  2. excellent attempt with both novelty of thought and expression and you have beautifully portrayed what an average artist consumes many pages to gain the end.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *