ڈر۔۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔مبشر احمد

Spread the love

ڈر

تحریر :مبشر احمد

وہ جون کی صبح تھی جب ہوا اپنی سمت تبدیل کیے اٹھلیلیاں کر رہی تھی ہنوزہوا کاشور کم ناتھاکہ ایک بوڑھا شخص اپنے ساتھ ایک لا غر اور کمزور لڑکے کو لیے نمودار ہوا اور پگڈنڈیوں کو چیرتا ہواآگے کی جانب بڑھا۔بچہ ہر بار باپ سے ہاتھ چھڑا کر اپنا ہاتھ درختوں کے پتوں اوزمین پر بچھی گھاس پر پھیرتا اور نرم و گداز احساس کو بار بار محسوس کرتا۔اس بڑے سے جہاں میں انکی چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا جیسے ان کا گاؤں ایک سیارئے کی ماند اور یہی چند لوگ ہی اس کے رہائیشی تھے۔
لڑکا بھاگتے ہوا رُکا اور ناجانے ماضی کے کس جھروکے؂ کو چھیڑتے ہوے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی
ابا جی…
ابا جی۔۔۔
بات تو سنیں
باپ نے جواب دیا جی میرا لال ۔ اباجی میرا بھائی کیوں نہیں ہے؟ میری بہن کیوں نہیں ہے؟جب میں پیدا ہوا اس وقت دن تھا یا رات اور اماں کوکیا ہوا تھا؟ جب میں پید ہوا تھا اماں خوش ہوئی تھی نا۔اس دن جو کالی آندھی آئی تھی کیا وہ بہت ہی بھیانک تھی؟ایک بات ہے ابا، دادی میرے پیدا ہونے پر خوش تو نہیں ہوئی ہو گی۔
باپ نے جواب دیا ؛بیٹا تو روز یہی باتیں پوچھتا ہے اور یہ سوال او ر اس کے جواب جیسے ت اس میں رچ بس گئے تھے، غلطی میری ہے جو تجھے روز بتاتا ہوں۔ اتنا بڑا ہو گیا ہے اور بچوں جیسی باتیں کرتا ہے۔
رشید ۱۵ کا ہو گیا تھا وہ پیدا ہوا تو جیسے ویرانے میں بہار آ گئی تھی۔ خوشی کیوں ناہوتی آخر کار ۱۷ سال بعد ہی تو اس گھر میں گھی کے چراغ جلے تھے کیوں کہ ملک صاحب کے گھر میں رشید پیدا ہوا تھا۔مگر تمام خوشیوں کی شہنائیاں اس وقت غم میں تبدیل ہوئیں جب رشید کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی۔ایک تو رشید کو ٹی۔بی کی بیماری لاحق تھی دوسر۱۵سال کا ہونے کے باوجود وہی بچوں جیسی حرکتیں ، مٹی میں کھیلنا اور خود سے باتیں کرنا، کرتا بھی کیا بیچارا جس جگہ کے وہ باسی تھے شاید ہی کسی سے ملاقات ہوتی اور دوسرا گھر میں اُسکی دادی جس سے آج تک اسکے تار نا مل پائے، وہ بھی کیا کرے بڑھاپے میں سارا دن بس گھر کے کام کرنا پڑتے اور جلد تھک کر سو جاتی تو دنیا جہاں سے بے خبر ہوجاتی۔
باپ نے آہ بھرتے ہؤئے کہا،بیٹا جب تو پیدا ہوا تھاتیری ماں اللہ کو پیاری ہو گئی اور میرے لال تم کو ہم نے بڑی مرادوں سے مانگا تھا اُس پاک ذات سے۔ ابا ہم اکیلے کیوں رہتے ہیں ؟رشید نے کہا، بیٹا ہمارے پیر صاحب نے کہاتھاجب تک تم گھر نہیں بدلو گے تمھاری اولاد نہیں ہو گی۔جب تم پیدا ہوے تھے بارش خوب برسی تھی اور آندھی بھی شدید آئی تھی۔ رشید سب جانتے ہوے یہی سوال روز پوچھتا اور یہی جواب ہی ملتا۔
ابا !آپ وعدہ کریں کہ ہم چارہ کاٹ کر اور سبزیاں اُکھاڑ کر چاچا حمید کے پاس نہیں رکیں گیں ۔مجھے اسکی باتیں عجیب لگتی ہیں ، مجھے پاگل پاگل کہتاہے۔ارے بیٹا! ایک اُ س کے ساتھ ہی تو ہماری شناسائی ہے ورنہ اس جنگل بیاباں میں ہمیں تو کوئی کیڑا مکوڑا بھی نہ جانے ۔ آخر کا وہ دونوں ذرخیز زمین اور سرسبز کھیتو ں سے نکل کر اپنے ویران کھیت کی جانب بڑَھے۔ وہاں اُگی ہوئیں سبزیاں پھوپھس اور بے رنگ نظر آ رہی تھیں ایسے لگے تھا جیسے کسی نے گلی سڑی سبزیاں وہاں پھینک دی ہوں۔ رشید بولا: ابا ہر جگہ ہریالی ہی ہریالی اور سبزہ پھیلا ہوا ہے مگر ہماری زمین توجیسے اجڑ ہی گئی۔ بوڑھا شخص آہ بھرتے ہوئے بولا : میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں ،ٖفصل کو وقت نا ملے تو ایسے ہی وحشت رقص کرتی ہے۔بوڑھے نے چارہ کاٹا اور بچے نے کچھ بھنڈیاں توڑیں اور بوڑھے نے گھٹڑی سر پر رکھی اور اونٹ کی چال چلتے ہوئے روانہ ہوئے۔چچا حمید کے گھر کے سامنے سے گزر ہوا تو چچا حمید کے حقہ سے نکلتے ہوئے دھوئیں نے بوڑھے کو آ گھیرا اور وہ اُسی کی راہ لیے وہی پر بیٹھ گیا۔
چچا حمید کا حقہ استعمال کرتے ہوئے رشید کے ابا کو ایک عمر ہو چکی تھی۔ اُسی حقہ سے ٹی۔بی کی بیماری ملک صاحب کو ہوئی اور پھر یہی رشید میں منتقل ہوئی۔ رشید جب کھانستا تو یہی بات سوچا کرتا کہ آخر یہ بیماری اُسے کیوں لاحق ہوئی اور یہ آتی کہاں سے ہے۔حمید نے کہا ملک صاحب چھوڑ دو اب حقہ پینا رات کو کھانستے ہو تو جیسے دھرتی کانپتی ہے۔ چند لوگوں کے سوا یہاں رہتا ہی کون ہے،بوڑھے نے کہا۔ مگر ملک صاحب جو چرند پرنداور چند انسان یہاں رہتے ہیں انکو تو آرام کے کچھ پل بخش دو ۔دونوں نے باری باری کش لگائے اور کھانستے ہوئے ہنسنے کی نئیِ ریت چل نکلی۔ اپنی تو زندگی کا سفر تمام ہونے کو ہے مگر فکر ستاتی ہے تو شیدے کی ، پچھلے وقت کی اولاد ہے بڑے لاڈ پیار سے پالاپوسا ہے بعد مرگ کہیں ٹھوکریں نا کھاتا پھرے۔یہ روگ لئے گور میں جانے سے بھی ڈرلگے ہے۔
مخالف سمت میں اینٹ پر بیٹھا ہوا رشید بڑئے انہماک سے باتیں سن رہا تھا۔عجیب عجیب خیال اُسکے ذہن میں جگہ بنا تے، وہ جس سمت کو مڑُتا دھواں اسکی طرف ہو لیتا اور رشید نے بھی کھانسنا شروع کر دیا، کھانسی کم نہ ہوئی تو قریب لگے نلکے سے پانی پیا ،جان میں جان آئی۔ پہلے تو کچھ پل چپ چاپ نظریں جما کر گھورتا رہا لیکن اچانک سے بولا ۔
ابا اٹھو۔۔۔۔ابا اٹھو
اسکے ساتھ بیٹھنا لازمی ہے کیا ، اٹھو مجھے کھانسی ہو رہی ہے۔ حمید چچا نے بات کرتے ہوئے غصے سے رشید کو دیکھا۔ وہاں حمید اور اس بوڑھے کی حالت اُس عاشق و محبوب کی سی تھی جو برسوں کی جدائی کے بعد ملیں ہوں۔مگر رشید نے جب کہا ابا،میرا دم گھٹ رہا ہے کہیں دم گھٹنے سے مر ہی نا جاؤں، یہ سنتے ہی رشید کا باپ اُٹھا اور رشید کو گلے سے لگا لیا، بیٹا ایسی باتیں نہیں کرتے، میرا تو بس ایک ہی تو سہارا ہے، تیرے بنا میرا کون ہے۔ہم گھر کو جاتے ہیں، مگر رشید نے کہا ابا ہم گھر نہیں جاتے بلکہ نہر کنارے بیٹھ کر امی کی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کچھ دیر باتیں کی اور پھر گھر کو روانہ ہوئے۔
رشید بھاگتا ہوا تھوڑ اباپ سے �آگے نکلا تو ایک ہی دم سے واپس اپنے والد کی جانب مڑا اور باپ کا ہاتھ تھاما اور ڈرتے ہوئے پیچھے ہولیا ، باپ نے بھی محسوس کر لیا اور آگے کیطرف بڑھا یہ سوچتے ہوئے کہ کوئی سانپ یا جانور ہو گا مگر دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا کہ ایک آدمی اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا۔اس شخص کے بال مٹی میں الجھے ہوئے اور مونچھیں اور بھنویں دھول میں اٹی ہوئیں،پہلے سوچا کہ یہیں چھوڑ کر چلا جائے مگر دل نے گوارا نہ کیا۔ رشید ابھی بھی دور کھڑاڈر رہا تھا ، بوڑھے نے ہمت جمع کی اور اسے سیدھا کیا اور نوجوان ابھی بھی مدھوش تھا بوڑھے نے قریب نہر سے ہتھیلی میں پانی بھرا ا ور نوجوان کے منہ پر ڈال دیا۔ اسکی آنکھ تو کھل گئی مگر وہ بے سود وہ بنا پلک جھپکے پڑا بوڑھے کو تکے جا رہا تھا رشید پیچھے کھڑا ڈر رہا تھا اور اسکو کو اُ س نوجوان کی شکل اُس شیطان کی سی لگ رہی تھی جس کو ابھی ابھی جنت سے نکالا گیا ہو۔
بورھے شخص نے ہمت کی اور اُسکو سہارا دیا اور گھر کیطرف روانہ ہوا ،رشید نے سہمے ہؤئے اسے گھر نہ لانے کی بات کی مگر اسکے باپ نے اُسکی ایک بھی نہ سنی اور اُسکو گھر لے آیا، بوڑھے نے پہلے تو اُس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی مگر حالت ناساز دیکھ کرکچھ نا پوچھ پایا۔رشید کی دادی نے بڑے مشکل سے کھانا پکایا اور روٹیاں تیار کیں۔ حسبِ معمول آواز بلند ہوئی،روز ہی بھنڈی کا سالن پک جاتا ہے ، سردیوں میں ساگ اور گرمیوں میں یہ سالن پتہ نہیں کیوں کوئی اور چیز نہیں پکائی جاتی ہے۔ ابا کبھی اپنی ماں کو کہہ دو کے گڑوالے چاول بھی پکا لیا کرے۔بوڑھے نے کانپتے ہاتھ سے منہ میں نوالا ڈالا اور کہا ، اپنی زمین کی سبزیوں کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے ،گھر میں کسی نوجوان عورت کے نہ ہونے پر مہمان کو اندر ہی بٹھایاگیا۔ کھانا پیش کیا گیا تو مہمانِ بنا ہاتھ دھوئے کھا نے پر ایسا ٹوٹا جیسے صدیوں کا بھوکھا تھا۔کھانا ختم کرتے ہی چارپائی پر لیٹ گیا۔ جب گندم کی روٹی نے اپنا اثر دکھایا تو سبھی نیند کی آغوش میں ایسے گئے کہ اُسی کے ہولئے۔
رات جوبن پر تھی ہر طرف سے جانوروں کی آواز یں آرہی تھیں اور دوسری طرف کچھ پتنگوں کی چرچراہٹ بھی انوکھا توازن پیدا کر رہی تھی۔ رات نے کروٹ بدلی اور رشید ڈر کے مارئے کانپنے لگا جب ڈر کے مارے آنکھ کھولی تو اندھیرئے نے ہی استقبال کیا۔سکت نہ تھی تو چارپائی پرلیٹے ہوئے اپنی ٹانگ سے کھیس کو اوپر کیجانب کھینچنا چاہا مگر کوشش بے سود رہی۔جس طرف بھی نظر دوڑاتا کوئی نہ کوئی چیز اُسے نظ�آتی اور اسکو اپنے پاس بلاتی۔
رشید کا گھر پرانے خستہ گھروں سے بھی خستہ تھا، دو کمرئے اور چار دیواری جوکہِ اتنی پرانی جتنی بنی نوح انسان۔اور اس میں لگا پیپل کا درخت جو کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے غریب کے جسم پر پیوند لگا قمیض۔پیپل کے ساتھ کھڑئے بیری کے درخت کے جھلسے ہوئے پتے جو اپنی اُداسی کی چھاؤں گھر پر بکھیرئے ہوئے سہمے کھڑئے تھے، حالت بہت خراب تھی دوسرا گاؤں میں تنِ تنہا ایک ہی گھر، جو ایسے دکھائی دیتا جیسے کربلا کے صحرا میں کوئی اکیلا پیاسا۔
رشید کا دم گھٹنے ہی لگا تھا کہ والد کے کھانسنے کی آواز سنائی دی تو جان میں جا�آئی۔اس نے طاقت جمع کی اور حلق سے آواز نکالی
ابا جی اباجی۔۔۔بیٹے کی لڑکھڑاتی آواز کا گونجنا تھا کہ باپ بجلی کی سی پُھرتی سے اُٹھا اور رشید کی چارپائی پر آ بیٹھا۔کیا ہوا میرئے شیدئے کو، باپ نے کہا
ابا وہ ۔۔۔۔ وہ درخت کے پیچھے کوئی ہے۔ وہ مجھے بلا رہا ہے،،،،،وہ مجھے لے کر چلا جائے گا، ابا وہ ابھی کمرے کی طرف گیاہے۔بوڑھے نے نظر دوڑاٰئی تو کچھ نہ پایا جب مہمان کی چارپائی کو دیکھا تو اسے وہاں نہ دیکھ کر مزید پریشان ہو گیا۔۔کچھ لمحے بعد وہ مہمان ایک سمت سے عیاں ہوا توجان میں جان آئی اور طاقت جمع کر کے جھٹ سے پوچھا
بیٹا کہاں گئے تھے؟، جواب نہ پایا تو کہا کہ کہیں پیشاب کرنے تو نہیں گئے تھے؟
مہمان نے اپنا سر اوپر نیچے کر کے ہلایا اور سو گیا۔بوڑھے نے سر ہلانے کو ہی غنیمت جانا اور اٹھ کر مٹی کے گھڑے کے پاس پہنچا ، مٹی کے مٹکے میں خود بھی پانی پیا اور رشید کو بھی پلایا۔ بیٹے نے باپ سے دیاروشن کرنے کاکہا تو فرمائش مانی گئی اور اُس نے ویسا ہی کیا تو رشید سو گیا۔ بوڑھا شخص بیٹے کے ساتھ سورہاتھا کہ کھانسی شروع ہو گئی۔ اسکی کھانسی کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر کئی بار سنائی دیتی ایسا لگتا جیسے کسی کنویں میں مسلسل کنکیریاں گر رہی ہوں۔ آنسو اور آہوں کے ساتھ رات بیت ہی گئی جب صبح آنکھ کھلی تو مہمان کو اپنی جگہ پر ناپایا پہلے تو ماں سے پوچھا مگر پھر یہی سوچ کر چپ کر گیا کہ کوئی رہرو تھا سو رات کو ہی روانہ ہوگیا ہو گا۔
اس دن کے بعد رشید کی حالت مزید خراب ہو رہی تھی اور پھر دن گزرتے گئے اور رشید کی حالت مزید بگڑتی گئی، اب تو اُسے دن میں بھی عجیب عجیب لوگ نظر آتے، بیٹھے بیٹھے کبھی کسی نظارے کو دیکھتا تو کئی لمحوں کے لئے اُسی کا ہی ہو جاتا۔حالت تو پہلے بھی ٹھیک نہ تھی مگر یہ بے نام سا ڈر پہلے کبھی بھی ظاہر نہ ہوا تھا۔ چند دنوں میں منہ ذرد پیلا اور آنکھیں لال ہو گئی تھیں۔ بدن لاغر اور کمزور ہونے کے بعد عجیب ہی لگتا تھا۔ ایسے لگتا جیسے چھڑی پر کسی نے کپڑا ڈال دیا ہو۔
ایک دن دادی نے کہا، بیٹا کیا وجہ ہے کہ رشید کی حالت رفتہ رفتہ بگڑ رہی ہے۔ ایک ہی اولاد تھی تمہاری اور وہ بھی ایسی نکلی ۔سوچا تھا تمھارے بڑھاپے کا دکھ درد بٹائے گا مگر یہ تو ابھی سے بیمار پڑ گیا ہے۔بوڑھے نے کہا، اماں سب اللہ کی مرضی ہے ، رشید کی ماں زندہ ہوتی تو شاید وہ ایسا نہ ہوتا ہو سکتا ہے ماں کا پیار نا ملنے کیوجہ سے ایسا ہو گیا ہو۔کیوں بیٹا میں نے رشید کا خیال نہیں رکھا کیا؟یہُ اسی کے ساتھ ہی کو ئی بلا ہے وہ ہر وقت کسی اور دیس کے خیالوں میں رہتا۔
دن بدن اُسکی طبیعت خراب ہو رہی تھی، ان دنون بیٹھے بیٹھے رو پڑتا اور روتے روتے ہنس دیتا۔ گندے گندے کپڑے بدن پر سے تعفن پھیلا رہے تھے، بوڑھا اپنے اکلوتے لال کی حالت دیکھتا تو کلیجہ منہ کو آتا۔ایک دن باپ نے رشید کو ساتھ لیا اور چچا حمیدکے گھر کو روانہ ہوا۔آج تو بڑے دن بعد حاضری لگائی ہے کہاں تھے اتنے دن ؟اور رشید کیوں بجھا بجھا ہے، حمید نے پوچھا ، تو بوڑھے نے حالات کی گرہ کھول کر حمید کے سامنے رکھ دی۔حمید بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا اور اس نے رشید کو ساتھ بٹھایاِ اس پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور رشید نے انجان نظرون سے حمید کو دیکھا وہ پریشان ہو گیا۔
دن گزرتے گئے اور اب دونوں کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا ہر کوئی دوسروں سے انجان مگر پھر بھی خامشی کا ہی گھر میں راج تھا۔
ایک رات پھر سوتے ہوئے رشید نے چیخ ماری اور اُٹھ کر والد کے ساتھ اآکرچمٹ گیا، ابو مجھے امی دکھائی دی ہے اسکے بڑے بڑے بال اور لمبے لمبے ناخن تھے اور وہ مجھے اپنے پاس بلارہی تھی ابو وہ مہمان بھی انکے ساتھ تھا۔ اسی شام رشید کا ابو کہیں دور بازار سے گڑ اور چاول لایا ، گھر میں داخل ہوا تو رشید خستہ دیوار کو دیوانہ وار کھرید رہا تھا۔بوڑھا گیا اور اسکو ساتھ لئے کمرئے میں آیا، بتایا کہ دیکھ بیٹا میں تمہارئے لئے کیا لایا ہوں ؟َ، آج میرا چاند گڑ والے چاول کھائے گا۔مگرکسی انجان ڈر نے رشید کو یوں جھنجھوڑا تھا کہ وہ پلکیں گراتا یا اُٹھاتا تو وحشت ہی ٹپکتی۔
شام کا وقت تھا کہ دیگچی چوہلے پر سکوں سے دھری ہوئی تھی ، گڑ کے چاول پکائے جا رہے تھے ، ایک سمت سے کالی اور سرخ گھٹایءں بلند ہوئیں اور لمحے بھر میں گھر کو اپنی لپیٹ مین لے لیا ،بوڑھا باپ گھر جلدی آ پہنچا، آنافانااسکی نظر رشید کو دیکھنے کے لئے گھومی پر رشید نظر نہ آیا۔
اماں؛ رشید نہیں مل رہا۔ماں نے جواب دیا ، بیٹا ابھی تو یہی تھا پتا نہیں کہاں چلا گیا۔ایک تو سخت آندھی اور شام کا وقت بوڑھا باپ بے لگام گھوڑئے کی مانند اپنے بیٹے کودیوانہ وار ڈھونڈ رہا تھا اندر کمرے میں چارپائی کے نیچے دوڑائی تو وہ اپنی گردن کو اپنے ہاتھوں سے لپیٹے زمین پربیٹھا تھا،۔ باپ نے باہر نکالا اور پیار کیا منہ ہاتھ دھلوائے اور اسے بتایا کہ آؤ تمھارئے پسندیدہ گڑُ والے چاول پک گئے ہیں۔باپ نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس کو کھانا کھلایا ، اس نے بس کچھ منتشر فقرئے جوڑے اورکئی دنوں بعد بولا اور کہا ابا یہ وہی آندھی ہے نا ں جو میرے جنم والے دن چلی تھی ؟، باپ نے نفی میں سر ہلایا اور شاید بہت دنوں کے بعد رشید نے اتناکھانا کھایا اور اپنے باپ سے بات کی تو بوڑھے کے چہرے سے جیسے غم کے بادل چھٹ گئے۔
اب بھی موسلادھار بارش ہورہی تھی اور تیز آندھی چل رہی تھی اور کہیں دور سے مغرب کی اذان کے کچھ فقرے ہوا کے دباؤ کے تحت سماعت کے ساتھ ٹکراتے دوسری جانب صبا درختوں کے پتوں سے گزر کر شاں شاں کی آواز پیدا کرتی۔تیز آندھی اور بارش سے مکان کی چھت سے پانی ٹپ ٹپ گرنے لگا ادھر بجلی کی گھن گرج سے رشید اور بھی سہم گیا۔ بارش رکی تو بوڑھے باپ نے وضو کیا اور نماز پڑھنا شروع کی دوران نماز بھی اپنے بیٹے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ نماز ختم ہوئی تو دعا کرنے لگا، اے پروردگار ایک تو پیری میں ایک بیٹا دیا جب میں پادر رکاب تھا او دوسرا مجھ سے ایسے امتحان کیوں لے رہا ہے جس کا بوجھ اٹھانے کی مجھ میں ہمت نہیں اور اب اُسکی ایسی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی اس پر رحم فرما ۔ باپ دعامانگ رہا تھا کہ رشید دیوار کیطرف بھاگا ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور دیوار رشید پر گر گئی، ادھر رشید کی چیخ سن کر باپ بھاگا مگر قضا یہ قصہ تمام کر چکی تھی۔ بمشکل ماں بیٹے نے رشید کی لاش اٹھائی اور اندر چارپائی پر رکھی ۔اس قیامت سے بوڑھے کواپنی روح جسم سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔اس نے چارپائی کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اپنا سر رشید کے سینے پر رکھ دیا اور آنسوؤں کی ایک نہ رُکنے والی جھڑی لگ گئی۔

Facebook Comments

6 thoughts on “ڈر۔۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔مبشر احمد

  1. It z,simply a great piece of writing which enthrals the reader through its vivid images and narrative has been aptly refered to that of Hardy’s by respected Sir. Zahoor Hussain.may Allah bless you..

  2. .Nice piece of creativity Mr
    Mubashir especially the similes “chaar dewari itni purani jitna bani noo Insan and peeple ka drakhyt jese ghreeb k jism p pevand lga qamees.keep going.M

  3. wow great flow and very true and life like reflection of pain . Your narrative is as impressive and effective as Hardy’s sad lines. I m really moved by your passionate skecth with sad touches . Keep it up.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *