پنکی اور کٹو۔۔۔۔۔۔مجید احمد جائی

Spread the love

پنکی اور کٹو

 

تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی

 

یہ خوشیوں کا دن ہے ۔میں اپنی ادبی لائبریری میں بیٹھا کتابوں سے باتیں کر رہا ہوں ۔دور جد یدمیں مجھے کتابوں سے حال دِل سننا سنانا اچھا لگتا ہے ۔اس وقت میرے سامنے بچوں کی دلچسپ کہانیوں پر مشتمل کتاب ’’پنکی اور کٹو‘‘پڑی ہے ۔مجھے تَک رہی ہے ۔مجھ سے خوش ہے اور میں اِس سے خوش ہوں ۔خوشی کی وجہ یہ ہے کہ دو دن قبل میں نے اس سے بہت باتیں کی ہیں ۔اس کا ورق ورق پڑھا ہے ۔اس کی سطر سطر پڑھی ہے ۔اس کا مکمل مطالعہ کیا ہے ۔
پنکی اور کٹو کی بات ضرور کریں گے پہلے ذرا اس شخصیت کے حوالے سے بات ہو جائے جس نے پنکی اور کٹو لکھی ہے ۔جی ہاں میں نے سمیرا انور کو بچوں کا گلستان کی چوتھی سالانہ تقریب میں دیکھا ۔باپردہ ،سادہ شخصیت کی مالک ،سادہ لکھنے والی ،سادہ بولنے والی اور شاید کم گو بھی ۔اس تقریب کی خصوصیت یہ تھی کہ اِس میں چارکتابوں کی پذیرائی بھی تھی اور ان چار کتابوں میں ایک خوبصورت کتاب پنکی اور کٹو تھی ۔
میں ’’پنکی اور کٹو‘‘پڑھنا چاہتا تھا لیکن اِن دِنوں فاقہ کشی تھی ۔بے روز گاری اور جیب بھی خالی تھی ۔اپنی سفید پوشی کا بھرم تھا سو خاموش رہا ۔میں کتاب خریدتا ہوں اور یہ بھی خریدنا چاہتا تھا لیکن ان دِنوں خریداری کتب کا سلسلہ بند کیا ہوا تھا ۔پیاسی نگاہوں ،مچلتے دل کے ساتھ ،لبوں پہ قفل لگے رہے اور خود کو حالات اور وقت کے سپرد کر دیا ۔معاملہ رب رحمان کے سپرد کر دیا ۔
کہتے ہیں جب معاملات اُلجھ جائیں اور حالات کی گردش آپ کی سمجھ سے بالاتر ہو جائے اور کچھ سجھائی بھی نہ دے تو تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرکے خود پُرسکون ہو جائیں۔رب جانے ۔۔۔رب کے کام جانے ۔۔۔
اِن دنوںیہ حالات تھے پھر ایک انہونی ہوئی ۔عقل دنگ رہ گیا ۔سوچیں اِنسانی حیرت میں مبتلا تھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی مہمانی کا پروانہ بھیج دیاتھا۔۔حالات یہ تھے کہ لوگوں مدتوں انتظار میں رہتے ہیں اور میں تھا کہ ایک بار فلائٹ کینسل کروانی پڑی ۔پھر بھی میں نہیں جانتا ،کیسے پہنچا ،کیسے معاملات حال ہوئے ۔رقم کا بندوبست کیسے ہوا؟اور یہ معاملہ ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا اور شاید آئے بھی نہ ۔
رب تعالیٰ کے مہمان تھے ۔وقت رُخصت قریب تھا ۔ہم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ بھی ہو آئے تھے اور اب واپس مکہ مکرمہ تھے ۔مدینہ منورہ سے واپسی پر ایک بار پھر عمرہ کی سعادت حاصل کی اور شام کو عشاء کی نماز کے بعد ہوٹل آگئے۔میرے ساتھی جن میں میری جنت ۔۔میری امی ۔۔۔میرا گلستان ۔۔۔میری بیگم اور ایک رشتہ دار بزرگ خاتون شامل تھے ۔وہ اپنے کمرے میں آرام کرنے لگے اور میں استقبالہ میں آکر بیٹھ گیا ۔اُنہوں نے وائی فائی کی سہولت دے رکھی تھی تب میںنے وائی فائی اون کیا ۔دوستوں سے رابطہ ہوا۔تب پنکی اور کٹو کی ایک پوسٹ دیکھی ۔اس پہ کمنٹ کیا ۔۔۔۔سمیرا انور کا فوراًجواب ملا ۔جانے دِل کے کون سے کونے سے ’’پنکی اور کٹو‘‘کی فرمائش ہوئی ۔سمیرا انور نے ایڈریس طلب کیا جو فورادے دیا گیا۔حالانکہ اس سے پہلے تصورعباس بھائی نے کتب خریدنے کا کہہ رکھا تھا اور میں خریدوں گا کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔لیکن ۔۔۔یوں یہ معاملہ بھی رب کی طرف سے تھا۔
مقدس شہر وں کی زیارتیں ہوتیں رہیں ۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ،نعمتوں ،برکتوں سے فیض یاب ہوتے رہے پھر وقت جدائی آن پہنچا۔یوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رب کے گھر سے اپنے گھر لوٹ آئے ۔لبوں پہ یہی کلمات تھے ۔دِل وہی رہ گیا ،جان وہی رہ گئی ۔۔۔بس ہم خالی خالی لوٹ آئے ۔۔۔
گھر آ تو گئے لیکن تصور میں مدینہ منورہ تھا ۔وہاں کی رونقیں ،وہاں کی بہاریں تھیں ۔بے چینی تھی کہ ختم نہیں ہوتی تھی ۔سکون میسر نہیں آ رہا تھا ۔ایک دیوانگی چھا ئی ہوئی تھی ۔نماز پڑھتے ہوئے رم جھم جاری ہو جاتی ۔۔۔کاش !میرے پَر ہوں اور میں اڑ کر وہاں پہنچ جائوں ۔۔۔
اِسی عالم میں اپنے مقررہ ایڈریس سے ڈاک موصول کرنے گیا ۔جہاں بہت سی ڈاک جمع ہو چکی تھی۔اس میں ایک رجسٹری تھی جس میں ’’پنکی اور کٹو ‘‘قید تھی ۔بے اختیار میں پنکی اور کٹو کو آزادی دی ۔بس ایک انجانی سی مسرت ہوئی دِل میں سمیرا انور کے لیے دُعائوں کے گلدستے سجے ۔لبوں پہ بے اختیار آیا یااللہ !سمیرا انور کو اپنے گھر کا دیدار کرانا۔وقت قبولیت کا تھا۔رب رحمان نے میرے دِل کی آواز سُن لی ۔شاید یہی وجہ تھی کہ یہ کم گو ،تیز ترین لکھنے والی سمیرا انور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے حجاز مقدس کی طرف روانہ ہو گئیں ۔جب مجھے خبر ہوئی تو دِل سے آواز نکلی ۔الحمد للہ !
سمیرا انور وہاں رحمتوں ،برکتوں ،نعمتوں سے اپنا دامن بھر رہی ہیں اور میں یہاں پنکی اور کٹو کے ساتھ باتیںکر رہا ہوں ۔پنکی اور کٹو تیئس کہانیوں پر مشتمل پیاری اور عمدہ کتاب ہے ۔بچوں کا گُلستان نے خاص اہتمام سے اِسے شائع کیا ہے ۔سرورق بہت خوبصورت اور دیدہ زیب ہے ۔ننھے فرشتے اِسے دیکھتے ہی اس کی طرف یقینا لپکتے ہوں گے ۔پہلی نظر پڑتے ہی اِس کی دیوانگی چھانے لگتی ہے ۔تصّورعباس سہو نے عمدگی سے ڈیزائنگ کے فرائض نبھائے ہیں ۔
میرے لیے پنکی اورکٹو یوں بھی اعزاز ہے کہ سمیرا انور نے 06.05.18کو جب میں حجاز مقدس میں تھا اپنے آٹو گراف کے ساتھ میرے نام کی ہے ۔انتساب اپنے نانا محمد علی مرحوم کے نام کرتے ہوئے اُن کے درجات ِبلندی کے لیے دُعا گو ہیں ۔مرزا ظفر بیگ صاحب نے سمیرا انور کے فن کا احاطہ کرتے ہوئے کسی حدتک سوانحی خاکہ بھی پیش کیا ہے ۔لکھتے ہیں ’’سمیرا انور اُبھرتی ہوئی لکھاری ہیں جنہوں نے کم عمر ہونے کے باوجود اِس کام میں بہت جلد مہارت حاصل کر لی ہے ‘‘اِسی طرح محمد ادریس قریشی لکھتے ہیں ’’سمیرا انور زیادہ لکھتی ہیں مگر پھر بھی بہت اچھا لکھتی ہیں ۔اِنہوں نے بچوں کی دل چسپی کے پیش نظر جانوروں کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا ہے ۔‘‘
عبدالرشیدفاروقی صاحب لکھتے ہیں ’’سمیرا انورکو بہت سی داداور شاباش اِس لیے دوں گا کہ اِس نے بہت کم عرصے میں یہ پالیا ہے کہ بچوں کے لیے اصل میں لکھنا کیا ہے اور کیسے لکھنا ہے ؟‘‘خود لکھاری ’’سمیرا انور اپنے بارے میں لکھتی ہیں کہ رب العزت کی بے حد شکر گزار ہوں کہ اُس نے اپنی عطائوں کی وسعت سے میرا دامن بھر دیا ہے اور مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنے لفظوں کے جگنوسے ننھے منے چہروں کو خوشی سے ہمکنار کر سکوں ۔
پہلی کہانی ’’پچھتاوا ‘‘ہے پھر ’’نیلی چڑیا ،نانی اور منکوہے ۔ببلو کی چالاکی میں فارسی کی ضرب المثل استعما ل کی گئی ہے ۔سمیراانور فارسی کی ضرب المثل لکھتے ہوئے شاید بھول گئیں کہ یہ بچوں کے لیے لکھا جا رہا ہے ۔اب بچے تو بچے بڑے بھی فارسی پڑھنے اور سمجھنے سے گئے۔میائوں ۔میائوں بڑی پیاری ،شاندار اور دلچسپ کہانی ہے ۔جس میں چنٹی،منٹی کی شرارتیں خوب تھیں لیکن ٹونی بھی کسی سے کم نہیں تھا اُس نے بھی ٹھیک انتقام لیا ۔یوں تو دلچسپ کہانی ہے لیکن اِس فقرے کی سمجھ نہیں آئی’’اُنھوںنے بہت تلاش کیا مگر رسّی مل کر نہ دی ‘‘
ننھا بھالو دلچسپ کہانی ہے یہاں بھی مصنفہ کرداروں کے معاملے میں پریشان ہیں جہاں ننھا بھالو لکھنا تھا وہاں ’’ننھا ہرن ‘‘لکھ دیا ۔حالانکہ ہرن ڈاکٹر تھا ۔فقرہ کچھ یوں ہے ’’ننھا ہرن سوچ رہا تھا کہ میں تو ایسے ہی گھبرا رہا تھا ۔مجھے تو کچھ بھی نہیں ہوا‘‘کالے بادل ،گورے بادل سبق آموز کہانی ہے ۔چُوں چُوں کے اختتام پر اچھا سوال پوچھا گیا ہے ۔’’اپنا گھر ‘‘یہاں بھی مصنفہ نے کرداروں میں گڈ مڈ کر دی ۔ننھا بھالو پھسل کر گِر گیا جس کی وجہ سے اُس کے پائوں میں موچ آئی تھی اور شیرو بیمار ہوا تھا لیکن سمیرا انور لکھتی ہیں ’’حکیم ہرن نے شیروکا پائوں دیکھا اور مرہم لگا کر پٹی کر دی ‘‘حالانکہ شیرو کی جگہ بھالو لکھا جانا تھا۔
سرورق کہانی ’’پنکی اور کٹو‘‘خوب رہی ۔سفید پری نے بھی اچھا کارنامہ سر انجام دیا ۔انکل ٹک ٹک میں بھی اچھا درس ملتا ہے ۔آخر میں حافظ حمزہ شہزاد خوبصورت پیراہن میں سمیرا انور کے فن کو سراہتے ہیں ۔مصنفہ کے بھائی ’’صدام حسین ‘‘کہتے ہیں ’’سمیرا نے ننھے منے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کچھ عرصہ پہلے ہی کیا ہے اور اس کی مستقل مزاجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ چٹان جیسا حوصلہ رکھنے والی لڑکی ہے ۔اس نے ہر طرح کے حالات کا بہادری سے سامنا کیا ہے ۔اس نے اپنی کہانیوں میں اخلاق ،نیکی اور بہادری جیسی اقدار کو اپنایا ہے ۔‘‘
پنکی اور کٹو کی تمام کہانیاں دلچسپ ہیں ۔ہر کہانی اخلاق،نیکی اور بہادری کا سبق لیے ہوئے ہے ۔کرداروں کو خوبصورتی سے نبھا یا گیا ہے ۔کہانیوں کے کردار جنگل کے ہیں لیکن بڑی عجیب بات یہ ہے کہ اِن کا بول چال اِنسانی ہے ۔اِن کے عہدے بھی انسانی ہیں ۔چھوٹے بچوں کی ذہنی سطح کو مد نظر رکھتے ہوئے تما م کہانیاں لکھی گئیں ہیں لیکن کہیں کہیں مشکل الفاظ کا استعما ل ضرور کیا گیا ہے ۔ممکن ہوتا مشکل الفاظ کے معانی الگ لکھے جاتے ۔چند مشکل الفاظ یہ ہیں ’’لتھڑے ،سپوتوں ،شدومد ،عتاب ‘‘وغیرہ ۔ایک جگہ لفظ ’’اباّ ‘‘کہ جگہ ’’اباں ‘‘لکھا گیا ہے ۔۔فہرست میں بھی نٹ کھٹ خرگوش کی جگہ خرگوشکل لکھا گیا ہے ۔
سمیرا انور واقعی داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے بچوں کی ذہنی سطح پر آ کر کہانیاں تحریر کی ہیں ۔یہ کہانیاں اپنے اندر چاشنی اور کشش رکھتی ہیں اور قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں ۔سمیرا انور کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کی کہانیاں نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کو بھی بُورنہیں ہونے دیتی ۔ہر کہانی میں دلچسپی کا عنصر نمایا ں ہے ۔یہ کتاب صرف بچوں کے لیے نہیں بلکہ بڑوں کے لیے بھی ہے ۔۔
میں دعا گوہوں کہ سمیرا انور کا یہ سفر ہمیشہ جاری و ساری رہے اور جدید دور کے بچوں کو بہترین ،اچھوتی ،معیاری اور دلچسپ کہانیاں پڑھنے کو ملتی رہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو ہمیشہ جوان اور سلامت رکھے آمین ثم آمین !

Facebook Comments

One thought on “پنکی اور کٹو۔۔۔۔۔۔مجید احمد جائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *