ووٹ کی حقیقت کیا ہے؟؟؟ از ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

Spread the love

فیس بک پوچھتی ہے “? What’s on your mind ” …. تو جناب 24 جولائی کو اور کیا سوار ہو گا ذہن پر سوائے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے۔ یہ کیفیت میری ہی نہیں ہے، مجھے یقین ہے اس ملک کے 21 کروڑ شہریوں کی کثیر تعداد کی سوچ اور گفتگو کا یہی مرکز ہو گا اس وقت۔

اگر ہم انتخابی عمل کے نتائج کا خآکہ اور ان سے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات پر غور کریں تو یقین جانیے یہ ہمارے رونگٹے کھڑے کر دے گا۔

ووٹنگ محض ایک میکانکی عمل کا حصہ بننے کا نام نہیں، بلکہ یہ تو اگلے پانچ سال میں حالات کو بہتری کی طرف لیجانے کا ایسا امکان ہے جسے شرمندہ تعبیر کرنے کے عمل میں ہر ہاتھ اور ہر کوشش بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ کندھے اچکا کر گھر بیٹھ رہنے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ حل کا حصہ بننے کے بجائے مسائل کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس عمل سے باہر رہ کر ہم ان کے لیے راہ ہموار کرنے کا باعث بن سکتے ہیں جنہیں پھر سب مل کر بھی شاید منصب سے ہٹا نہ سکیں، اور جو اس کے نتیجہ میں مشکلات اٹھانا پڑیں گی، وہ الگ۔

جمہوریت جمہور سے ہی عبارت ہے ۔ انتخابات کے بے جان جسم میں روح جمہور کی پر جوش شمولیت کی رہین ہے۔ یہ آفاقی سچائی ہمارے تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتی ہے ۔ آج اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی پسندیدہ پارٹی اقتدار سے بس دو ہاتھ کی دوری پر ہے تو اسے اس ممکنہ کامیابی کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ کامیابی اور بھی ٹھوس ہو ۔۔۔۔ برتری اور بھی واضح تاکہ منشور اور وعدوں کی تکمیل کی راہ میں کوئی نمبر گیم حائل نہ ہو سکے۔ اس کا راستہ بڑی لیڈ ہے اور بڑی لیڈ زیادہ ووٹوں سے آتی ہے۔ دوسری جانب اگر کسی کو یہ شکوہ ہے کہ اس کی پارٹی کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں ہو رہا یا اسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو اسے بھی چاہیے کہ خود بھی ووٹ دینے نکلے اور دوسروں کو بھی اس پر آمادہ کرے ۔ انتخابات ٹرن آؤٹ کا کھیل ہے جس قدر ٹرن آؤٹ زیادہ ہو گا ، ووٹنگ کی بلند ہو گی اسی قدر انتخابات شفاف ہوتے چلے جائیں گے۔ نتائج واضح ہوں گے۔ اور تو اور محض ایک شاندار ٹرن آؤٹ پس از انتخابات استحکام کا مضبوط ضامن بن جاتا ہے۔

ایک طرف یہ منظر دیکھیے کہ میرے ووٹ سے کیا ہو گا کہہ کر 5 کروڑ ووٹر گھر بیٹھا رہ جاتا ہے اور پھر اگلے پانچ سال کڑھتا رہتا ہے ۔ دوسری جانب ترکی کے حالیہ انتخابات دیکھیے، کرد علاقوں میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال، شام سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں آمد اور شام کے سرحدی علاقوں میں ترکی کی بڑی فوجی کاروائیوں اور اس کے نتیجہ میں ہیدا عدم استحکام کے باوجود 87 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اردگان یہ انتخاب جیت گئے۔ لیکن اس سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ شکست کھا جانے والے اپوزیشن رہنما نے ان اتخابات پر مغرب کی تنقید کے جواب میں کہا کہ کہیں کم شرح ووٹ والے ممالک سے ترکی کو جمہوریت کا سبق سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ گویا ، فتح یاب کے بجائے ہار جانے والا ان انتخابات کی ثقاہت کی گواہی دے رہا ہے۔

25 جولائی والے دن کسی حوصلہ شکن بات کو خود پر اثرانداز مت ہونے دیں۔ یقین رکھیں اس دن کوئی دھاندلی یا انتخابی عمل میں کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی ۔ ووٹ ڈالنے ضرو جائیے، بارش کا خطرہ ہے تو چھاتا بھی ساتھ لے جائیں ۔۔۔ پانی کی بوتل لے جائیں کیونکہ جب ٹرن آؤٹ بڑھتا ہے تو قطار طویل بھی ہو سکتی ہے۔ بس یہ بات یاد رکھیں کہ اس ایک دن کی تکلیف آپ کو پانچ سال کی کوفت سے بچا لے گی اور بار بار سڑکوں پر نکلنے کی زحمت سے بھی ۔

کامیابی ، مزاحمت، مضبوط جمہوریت، عوامی رائے کے احترام ، شفاف انتخابات اور ملک و قوم کے روشن مستقبل کا اولین اور غالباً اہم ترین قدم ووٹنگ کی شرح کو آئیڈیل سطح تک لے کر جانے میں مضمر ہے۔

ہم اپنے وطن کی سلامتی اور بقا کے لیے جان تک قربان کر دینے کا عزم رکھتے ہیں ، آئیے فی الحال ووٹ سے اس کا آغاز کریں

!

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *