’’میری تحسین ،میرا شوق ،میراذوق،میرا جنون ‘‘ تبصرہ نگار :مجیداحمد جائی

Spread the love

’’میری تحسین ،میرا شوق ،میراذوق،میرا جنون ‘‘
تبصرہ نگار :مجیداحمد جائی
میری تحسین ،میرا شوق ،میرا ذوق،میرا جنون کتاب میرے سامنے’’میری تحسین ،میرا شوق ،میراذوق،میرا جنون ‘‘
تبصرہ نگار :مجیداحمد جائی پڑی ہے اور میری آنکھوں میں وہ مناظر گردش کر رہے ہیں جب میں سچی کہانیاں میں لکھتا تھا اور میری تحریر کے ساتھ دوسری تحریر جو ہوتی تھی وہ’’گڈی آپا ‘‘کی ہوتی تھی۔میں بڑے ذوق و شوق سے گڈی آپا کی کہانیاں پڑھتا تھا۔اُن کی تحریروں میں سادہ بیانیہ اور کمال کا اسلوب تھا ۔پہلے جملے سے لے کر آخر تک بند ہ سانس لینا بھی بھول جاتا تھا ۔ایک تجسس سا ہوتا کہ اس کے آگے کیا ہو گا ۔گڈی آپا کے قلم میں جادو تھا اور یہ جادو ہر کسی کے سر پہ چڑھ کر بولتا تھا۔
شاعر کبھی بھی دوسرے شاعر کو داد نہیں دیتا اور اِسی طرح کا حال افسانہ نگار کا بھی ہے لیکن میں بطور افسانہ نگار ،نقاد ،قاری ،گڈی آپا کے فن کا گرویدہ ہوں ۔۔گڈی آپا کے نام میں ایک تجسس تھا ۔میں اُن کا اصل نام جاننا چاہتا تھا ۔ملاقات کی جستجو تھی ۔سوچ تھی کہ کسی تقریب میں ملاقات ہو جائے گی لیکن صدا افسوس۔۔۔وقت نے وہ لمحے میسر ہی نہ کیے۔
میں اپنی من پسند لکھاری کو مل تو نہ سکا ،دیکھ نہ سکا لیکن اُن کی تحریروں کی چاشنی میں ڈوب کر گڈی آپا سے ہزاروں باتیں کر لیتا تھا ۔غالباًاگست،ستمبر 2015کی بات ہے ۔سچی کہانیاں کا رسالہ خوشیوں کی بجائے غمناک ،درد ناک خبر لے کر آیا ۔۔۔۔آہ ۔۔۔وہ رسالہ مجھے نہ ملتا۔۔۔وہ خبر میری نظروں سے نہ گزرتی ۔۔۔وہ ایک رولا دینے والا سیاہ دن تھا جب مجھے معلوم ہوا کہ گڈی آپا ’’تحسین اختر‘‘کا انتقال ہو گیا ہے ۔اُس رسالے میں اُن کے شوہر ’’عبدالقدوس ‘‘کا خط شامل تھا ۔میرا دِل صدمہ میں ڈوب گیا ۔۔۔آنکھیں نمکین پانی سے تَر تھیں۔
وقت سب سے بڑا مرہم ہے ۔بڑے بڑے صدمے ،بڑے بڑے زخم مندمل کر دیتا ہے ۔بھلا ہو علی عمران ممتاز کا جنہوں نے مجھے ’’میری تحسین ،میرا شوق ،میرا ذوق ،میرا جنون ‘‘سے ملوایا ۔جی ہاں یہ انوکھی ،نرالی ،پیاری اور یادوں سے مزین یاداشت ،سُنہرے لوگوں کی سُنہریں باتیں لیے ایک بولتی ،مسکراتی کتاب ہے ۔
اس کتاب میں خوبیاں ہی خوبیاں ہیں ۔خامیاں ڈھونڈنے کے باوجود نہیں ملتیں ۔معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو ہمیشہ یہ بات سامنے آتی ہے کہ میاں بیوی کے رشتے میں ،شوہر بیو ی کے گلہ کرتے پائے جاتے ہیں اور بیوی شوہر کی بُرائیاں کرتی نظر آتی ہیں ۔لیکن یہاں معاملہ اُلٹ ہے میجر عبدالقدوس وہ واحد شوہر ہیں جو اپنی شریک حیات کے قصیدے پڑھ رہے ہیں ۔اُن کے گُن گارہے ہیں ۔اُن کی حسین یادوں ،باتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔اُن سے بچھڑنے کا غم اُن کو کیچوے کی طرح اندر ہی اندر کاٹ رہا ہے ۔وہ بھری دُنیا میں تنہا ہو گئے ہیں ۔سب کچھ پا کر بھی اکیلے ہیں ۔
بے شک شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے غمگسار ہوتے ہیں ۔اُن میں ایک بچھڑ جائے تو دوسرے کی زندگی اُداس،غم زدہ ہو جاتی ہے ۔میجر عبدالقدوس نے اپنی شریک حیات کی حسین یادوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں اور کتاب کی صورت زندہ رکھ کر خود اپنے ساتھ ساتھ اُن کے بے شمار قارئین کو بھی غم میں بھی مبتلا کر دیا ہے ۔
آپ حیران ہو ں گے ،یہ کیسی بات کر دی ۔اُنہوں نے غم میں کیوں مبتلا کر دیا ۔میں بتاتا ہوں جی ہاں ’’میری تحسین ،میرا شوق ،میرا ذوق ،میرا جنون ‘‘میں نے جتنی بار بھی پڑھی ہے آنکھیں نم ،دل رنجیدہ ہوا ،ایک در د میں تڑپا ہوں ،آنسوؤں میں نہایا ہوں ،بچھڑے والے کے غم میں رویا ہوں ۔میجر عبدالقدوس کا کیا جاتا اگر وہ یہ خبر عیاں ہی نہ کرتے یا کم از کم یہ کتاب سامنے نہ لاتے ۔لیکن وہ سچے ہیں جن کے ساتھ زندگی کے حسین لمحے ،دُکھ سکھ کے لمحے بسر کیے ہوں اُن کو بھلانا کیسے ممکن ہے ۔اور یوں میجر عبدالقدوس نے اپنے دُکھ شیئر کرکے دِل کا بوجھ ہلکا تو کیا ۔
قاری اور لکھاری کا رشتہ بڑا انمول رشتہ ہوتا ہے ۔یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو اِس منزل تک پہنچا ہو گا ۔’’گڈی آپا ‘‘آج بھی میری چشم کی اسکرین میں بیٹھی کاغذ قلم سنبھالے لکھ رہی ہیں ۔اُن کا نام سُنہری حروف میں چمک دمک رہا ہے ۔۔۔
میری تحسین ،میراشوق ،میرا ذوق ،میرا جنون ۔یاداشت پر مشتمل کتاب ہے ۔اس میں گڈی آپا کے مختلف رسائل میں شائع شدہ آٹھ منتخب افسانے شامل ہیں جن میں چند ایوارڈ یافتہ بھی ہیں ۔اِس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔باب اول کودا ستان تحسین کا نام دیا گیا ہے جس میں تصویریں بولتی ہیں ۔مختلف جگہوں ،مختلف مناظر پر جوتصویر کشی کی گئی ہے وہ شامل ہیں ۔شادی کے حسین بندھن کی تصویر ،سوکھے پھول کی تصویر۔صفحہ نمبر 2پر مرجھایا ہوا ،سوکھا ہوا پھول کی تصویر دیکھ کر پتھر دِل انسان بھی رو دے گا ۔ہم تو پھر بھی حساس دل والے ہیں ۔یہ پھول میجر عبدالقدوس نے 1961ء میں تحسین اختر المعروف گڈی آپا کو دیا تھا ۔اس تصویر کے نیچے یہ شعر لکھا ہوا ہے ۔:
جاتے ہوئے سونپ گئی مجھ ہی کو وہ یہ پھول
شاید اُس کے دل میں یہ خواہش رہی تھی مچل
جنت میں ملیں تو میں پھر کروں یہی حرکت
تصویروں کی دُنیا وقت کے ارتقا ء کے ساتھ چلتی ،بڑھتی ہیں جوانی سے بوڑھاپے کی طرف خوبصورتی سے تصویروں کی صورت ایک زمانے کو کوزے میں بند کیا گیا ہے ۔اُن کے لکھے خطوط بھی دِکھائے گئے ہیں ۔یوں میجر عبدالقدوس نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنی شریک حیات کے ساتھ گزرے پل ہمیشہ کے لیے زندہ اور محفوظ رہیں ۔
صفحہ نمبر 9پر تحسین اختر کے زیرِاستعمال اشیاء کا عکس دِکھایا گیا ہے جن میں ہینڈ بیگ،قلم ،پن ،مارکر ،جیولری ،عینک ،تسبیح،سرکاری کرنسی نوٹ،کتب و رسائل ،پاسپورٹ ،آئی ڈی کارڈ،شامل ہیں ۔
میں گڈی آپا کو بطور افسانہ نگار کے طور پر جانتا تھا لیکن میجر عبدالقدوس نے میری تحسین ،میرا شوق،میرا ذوق ،میراجنون کی صورت گڈی آپا کے فن کو مختلف پہلوؤں سے پردہ عیاں کرتے ہوئے ہمیں آشکار کیا ہے۔۔تحسین اختر افسانہ نگار،مصور اور شاعرہ بھی تھیں ۔اُن کے چند فن پارے بھی دِکھائے گئے ہیں ۔اُن کی کامیابیوں کے اعتراف میں ملنے والی اسناد ،ایوارڈز کے عکس بھی دِکھائے گئے ہیں ۔صفحہ نمبر 28سے گڈی آپا کے فن کا اسلوب بطور افسانہ نگار کھل کر سامنے آ جاتا ہے ۔پہلا افسانہ ’’لو گ مر جاتے ہیں ‘‘افسانہ کا نام پڑھتے ہی آہیں بھرنے لگتا ہوں ۔دِل میں درد کی ٹھیس اُٹھتی ہیں ۔جانے کتنے اپنوں کو اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے چھوڑ آئے ہیں ۔
ہاف سیٹ ،یادوں کے چراغ ،کون دلاں دیاں جانے ،زندگی کی کہانی ،یہ سب کہانیاں ایوارڈ یافتہ ہیں ۔زندگی کی کہانی میں ،کے ساتھ گڈی آپا کا مختصر تعارف بھی شامل ہے جس میں سترہ جون بروز جمعہ المبارک پیدائش کا دن بتایا گیا ہے ۔عجیب عورت،رہے ہم اکیلے ،سلام عرض میں چھپی کہانیاں ہیں ۔ان تحریروں کو پڑھ کر گڈی آپا کا فنِ اسلوب واضح ہو جاتا ہے ۔آپ کے کردار معاشرے کے عام لوگ تھے ۔عام گھروں کے مسائل اور ان کے کرداروں کی کشمکش ،ڈائیلاگ کی صورت اِن مسائل کے حل بیان کرتی ہیں ۔کمال فن کے ساتھ سادہ بیانیہ اور عام فہم میں چھوٹی سی بات کو بھی لفظوں کا روپ دے کربیان کرتے ہوئے واضح کر دیتی ہیں ۔۔
تحسین کا غم ،آہ گڈی آپا کے عنوان سے وہ خط ہے جو میجر عبدالقدوس نے سچی کہانی کے ایڈیٹرکو گڈی آپا کی وفات کی اطلاع کے لیے ای میل کیا تھا۔تحسین کو خراج تحسین ،میجر عبدالقدوس کی روداد ہے جو اُنہوں نے گڈی آپا کے حوالے سے بیان کی ہے ۔صفحہ نمبر 114سے لے کر 265تک شاعری سے مزین ہیں ،جس میں نظمیں اوراشعارشامل ہیں ۔حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ہر نظم کے نیچے وہ دن اور سال لکھا گیا ہے جب یہ لکھی گئی۔یہ انوکھا اور تاریخی کام ہے ۔
میری تحسین ،میرا ذوق ،میراشوق،میراجنون کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔یہ انمول چیز ہے ۔یہ کتاب ہر باذوق قاری کو بطور ارسال کی جائے گی بشرط یہ کہ حسب استطاعت وہ اپنے قرب میں رہنے والے حاجت مندوں کی حاجت روائی بصورت صدقہ جاریہ یا خیرات فی سبیل اللہ کرے۔اس کتاب میں خوبصورت ،پیارا اور اعلی کاغذ لگایا گیا ہے ۔جو بہت کم کتب میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ تحسین اختر المعروف گڈی آپا کو کروٹ کروٹ سکون و راحت نصیب فرمائے اور اُن کے درجات بلند کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام نصیب فرمائے آمین ۔میجر عبدالقدوس کی زندگی میں سکون اور خوشیاں قائم رکھے اور اجر وثواب سے نوازتا رہے ۔دُنیا اور آخرت کی ہر منزل میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے آمین ثم آمین !۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *