شاہدہ لطیف کا نیا ناول ’’سلطان محمد فاتح ‘‘شائع ہو گیا

Spread the love

شاہدہ لطیف کا نیا ناول ’’سلطان محمد فاتح ‘‘شائع ہو گیا

نامور شاعرہ، ادیبہ اور صحافی شاہدہ لطیف (صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی ’’ادب و صحافت‘‘)کا نیا ناول ’’سلطان محمد فاتح‘‘ (فاتح قسطنطنیہ) شائع ہو گیا ہے ۔ یہ ان کا دوسرا تاریخی ناول ہے ۔ 2006ء میں ان کا پہلا ناول ’’سات قدیم عشق‘‘ شائع ہوا تھا۔ ’’سلطان محمد فاتح‘‘ میں شاہدہ لطیف نے ابتداء سے آخر تک دلچسپی برقرار رکھی ہے ۔ قاری بور نہیں ہوتا ۔ تاریخ کی تاریخ اور ناول کا ناول‘ یہی شاہدہ لطیف کی خوبی ہے۔ ’’حرف ِ آغاز‘‘ میںمصنفہ شاہدہ لطیف لکھتی ہیں ’’کیا یہ کسی عشق و محبت کی رومانوی داستان سے کم ہے کہ جس میں ہمارے حکمران سپہ سالار دنیاوی عیش و عشرت کو تج کے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے اپنے دین کی سر بلندی کے لیے شیرازہ بندی کرتے اور آنے ولی نسلوں کے لیے آگ کو گل زار بنا دیتے ہیں۔ عشق مجازی تو صرف اپنی ذات کے لیے ہوتا ہے جبکہ عشق حقیقی رہتی دنیا تک کے لیے انسان کو امر کر دیتا ہے۔
ملت اسلامیہ کے ان لازوال کرداروں کو موجود نسل سے روشناس کرانے کا مقصدایک طرف تو دین اسلام کی سر بلندی اورپاسداری ہوتی ہے تو دوسری طرف ان کے اسلامی تشخص کو ابھار کر ان میں جوش و جذبہ اور ولولۂ تازہ پیدا کرنا ہوتا ہے ۔
یہ ناول سلطنت عثمانیہ کے نو عمر شہزادہ محمد کی حقیقی داستان شجاعت ہے جس نے اپنی ذہانت اورفطانت کی بنا پر تاریخ کے دھارے موڑے اور اپنی خداد صلاحیتیوں کی بدولت 29مئی 1453ء کو قسطینن یا زدہم کی حکومت اور بازیطینی سلطنت کا خاتمہ کر کے اس اہم اور عظیم شہر قسطنطنیہ کو فتح کر کے ملت اسلامیہ میں شامل کیا اور سلطان محمدفاتح کہلوایا۔
اس ناول میں قسطنطنیہ ۔۔۔۔تاریخ کے آئینے میں سے لے کر سلطنت عثمانیہ کی تاریخ‘ سلطان محمدخان کی تخت نشینی‘ سلطان محمد خان کا قسطنطنیہ پر حملہ ‘ سلطان محمد فاتح کی فرمانبروائی میں قسطنطنیہ کی فتح اور عروج و دیگر تفاصیل دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ناول میں تاریخی واقعات کا بیان ناول کی تاریخی تناظر کا تعین کرنے کے لیے کافی ہے۔
شاہدہ لطیف اُردو ادب کے حوالے سے ایک نام ہی نہیں بلکہ ادب کی کئی ایک جہتوں کا نام ہے ۔ جس طرح ایک عہد کا تجزیہ کرنا اتنا آسان نہیں ‘ اسی طرح شاہدہ لطیف کے نام اور کام کا تجزیہ بھی اتنا آسان نہیں ہے ۔ کیونکہ ان کی زندگی اتنی زیادہ جہتوں پر مشتمل ہے کہ ہم آسانی سے ان جہتوں کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دن رات کام ہی کام کیا ہے۔ آرام کبھی نہیں کیا۔ وہ بیک وقت شاعرہ، صحافی، ناول نگار، مترجم ، تجزیہ نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ شاعری کے علاوہ شاہدہ لطیف نے نثر کی کم و بیش سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ ان کی اصل پہچان شاعری ہے کہ ان کے 9شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں نعتیہ مجموعہ اور منظوم سفر نامے شامل ہیں۔
ناول ’’سلطان محمد فاتح‘‘ سیونتھ سکائی پبلی کیشنز(غزنی سٹریٹ الحمد مارکیٹ40اُردو بازار لاہور) نے انتہائی دیدہ زیب انداز میں شائع کیا ہے۔ 376صفحات پر مشتمل اس تاریخی ناول کی قیمت 800روپے رکھی گئی ہے جو انتہائی مناسب ہے۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *