شمشان گھاٹ ۔۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

شمشان گھاٹ

تسبیح کے دانے کتنے خوبصورت ہیں ۔نہیں بالکل نہیں ہیں۔یہ آنکھ میں موجود حُسن ہے ۔جس سے تمہیں یہ ایسے دِکھ رہے ہیں ۔اُدھر دیکھووہ سامنے ،عین میرے سرکے سامنے۔وہ کیاہے ؟کیا تمہیں نہیں دِکھتا۔نہیں بالکل نہیں ۔کوئی عمارت نہیں ہے۔کوئی دیوارنہیں ہے۔کوئی آدم نہیں ہے کوئی آدم خوربھی نہیں ہے۔وہ شمشان گھاٹ ہے ۔آج بھی اگر وہ لوٹ آئیں تو یہ جگہ میں انھیں بصدِ احترام لوٹا دوں مگرمجھے معلوم نہیں ہیں وہ ناپاک زمین کے کس کونے میں رہتے ہیں۔ارے ناپاک جگہ کون سی ہوتی ہے۔وہی ہوتی ہے جو پاک نہیں ہوتی ۔نہیں ایساتو نہیں ہے ۔تمہیں ایساکیوں دِکھتاہے؟مجھے ایسااِس لئے دِکھتاہے کہ وہ مکارہیں ،گھٹیاہیں ،سُودخورہیں ۔یاریہ تو ذاتی خصلتیں ہیں جوآپ کو پاک زمین اورناپاک زمین دونوں پرملیں گی۔یہ سب فریب ِنظرہے ۔اچھاتوتُم انھیں یہ جگہ کیوں دیناچاہتے ہو؟کیا تمہیں یہ جگہ اچھی نہیں لگتی ۔نہیں لگتی ہے بہت اچھی لگتی ہے ۔کیا ضروری ہے کہ جو اچھا لگے اُسے حاصل بھی کرلیاجائے ؟کیا اُس کی خوشی نہیں دیکھنی چاہیئے ؟توکیایہ زمین بھی احساسات رکھتی ہے؟ہاں اگرآپ کے اندراحساس موجودہے تو ہرشہ آپ کو حساس نظرآتی ہے،ہرشہ میں جذبات کاسمندرموجودہےبس آپ کی ذات بےحِس نہ ہو۔تو تمہیں یہ زمین کب سے اچھی لگتی ہے؟یارمعلوم نہیں ۔بس اب تو اچھی لگتی ہے ۔اس لئے اسے ادھر پہنچاناچاہتاہوں جدھر یہ خوش رہے اوراس کی خوشی اس کے ہمنوائوں کے دامن میں ہے۔کسی نے برنارڈشاسے پوچھا کہ کیاآپ کوپھول پسند نہیں ہیں ،جواب ملا ؛ہیں۔سوالی نے پوچھا:پھرتوڑتے کیوں نہیں تو برنارڈشانے جواب دیاکہ مجھے تو بچے بھی اچھے لگتے ہیں کیااُن کی گردنیں کاٹ کرطاقوں میں سجالوں؟؟۔اورمیں صدیوں کابیٹاہوں ،اِس زمین نے تو چندسال پہلے جنم لیاہے ۔اویارکیسی عجیب عجیب باتیں کرتے ہو۔یہ شمشان گھاٹ ہے سینکڑوں برس پرانی ۔ہاں ہو گی میرے سے توچھوٹی ہے ناں ۔اُس کامیراکیاجوڑ۔بس میں اسے اس کے مالک تو پہنچاناچاہتاہوں ۔او جھلے مذہبی زمین کاکوئی مالک نہیں ہوتا۔کیوں کیوں نہیں ہوتا؟بس نہیں ہوتا؟کعبہ کی زمین کس کے نام ہے؟ویٹی کن سٹی کس کا ہے؟سومنات کے کاغذ کس کے ہیں ؟اچھایارنہیں ہوں گے کسی کے۔۔۔ مگرمذہب کی ملکیت توہیں ناں ۔جی ہیں لیکن مذہب کا شناختی کارڈ نہیں ہوتا۔لے کیسے نہیں ہوتا؟بندہ شکل دیکھ کے پہچان لیتاہے کہ فلاں شیعہ ہے ،فلاں سُنی ہے۔نام سے پہچان ہوجاتی ہے۔اوکملے شکلیں علاقائی نسبت اورجینز کی پیداوارہیں اورنام اُس زمین پر پلنے والے انسانوں کی زبان سے جنم لیتے ہیں ۔اچھا اگرایساہے تومسلمانوں میں راجہ داہراورہندئو ئوں میں محمد بن قاسم جنم کیوں نہیں لیتا؟ہا ہا ہاہاہاہاہاہادیکھاکرجھلے دیکھاکر۔
شمشان گھاٹ ہندئوئوں کے جانے کے بعدتیرے اجدادنے خرید لی اورکافی عرصہ اُس جانب کوئی نہ گیاکہ مقامی لوگ سمجھتے تھے کہ اُدھرجلنے والوں کی رُوحوں کاوجودموجودہےلیکن تیرے دادےنے یہ زمین بالاآخرکاشت کرہی دی۔اچھاپچھلے دِنوں ایک بے آسراشخص سے کہاکہ اِدھرگھربنالوتوکہنے لگایارنہیں “ایتھے تے ساڑنیں ” کہایاراِس معاملے کو تو سات دہائیاں بیت گئیں ۔کہتانہیں سب جلنے والے مرے نہیں ہوتے اورسب مرنے والے جلے نہیںہوتے ۔کچھ جل کرمرجاتے ہیں اورکچھ مرکرجل جاتے ہیں۔یہ رسم دونوں جگہ ہے۔میں نے پوچھا وہ راکھ کاکیاکرتے تھے ۔کہتاکچھ گنگاجمنامیں جاکربہادیاکرتے تھے اورکچھ ادھر ایک جگہ ہے اُدھراُڑادیتے تھے ۔اُڑاتے کیوں تھے؟ بہاتے کیوں نہیں تھے۔شایدوہ کلدیپ نئیرکی طرح اپنی مٹی کوچھوڑنانہیں چاہتے تھے یاپھرجیتے جی آنکھ میں دریارہتے ہوں گےاورمرنے کے بعدوہ اب کسی پانی میں نہیں رہنا چاہتے ہوں گے۔ممکن ہے اُن کادھرم کوئی اورہو؟ارے چچا!ہندو تو ہندوہوتاہے اُس کا اوردھرم کاہے کا؟نہیں بیٹاایسا نہیں ہوتاہرجگہ سیاسی بنیادپرفرقے بنتے ہیں چاہے مذہب ہو ،زبان ہو،علاقہ ہو یانسل ہے ۔یہ مفادات کافریب ہے ۔توچچاکیامذہب انسان کوتقسیم نہیں کرتا؟۔او نہیں پُتربندہ مفادات کے ہاتھوں تقسیم ہوتاہے۔نہیں چچامیں نے تو سُناہے نظریات کے ہاتھوں تقسیم ہوتاہے ۔اونہیں میراپُتریہ نظریات بھی تومفادات کے ہی تابع ہوتے ہیںجومقامی وبیرونی سیاست کے زیرِاثرجنم لیتے ہیں ۔وہ اُندلس کی کہانی سُنی ہے توں نے پُتر؟نہیں چچا!پڑھی ہے ۔اوہی اکوگل اے ۔او سپین دے وچکارجیہڑارولاپیاسی اوہدیاں کڑیاں کربل توں بدرواُحدنال جامِلدیاں نیں ۔پُترچھڈتوں۔
اباآپ کو امی جان بُلارہی ہے۔جاناں واں پُتر!پر اوہ، میری جان شان کوئی نئیں تیری ہوئے گی تیری تےا ماں جواے ۔مینوں تے ابے نیں جمدیاں ای ٹُنگ دِتاسی ایسے پاروں شامی شمشان گھاٹ آجاناں واں کہ مینوں اپناوجودسڑداہویاجاپدااے۔چھڈپُترمیں چلیاواں۔فرحان یارتوادھربیٹھ ،چچاکوجانے دے ۔ہاں بیٹھ ہی رہا ہوں ورنہ اماں کے پاس اتنی دیر کون بیٹھے ویسے بھی اماں سے میری نہیں لگتی ۔اچھا یہ بتاتوں کیوں اُداس ہے ۔عمرمیں مجھ سے بڑاہے ۔یقینی طورپر کوئی جذبات سے عاری فلسفیانہ وادی میں گھوم گھمارہاہوگاتوں۔ہاہا!نہیں نہیں !بڑابھی کہتے ہواورتوں بھی۔ابے یارہم دوست بھی توہیں ناں اچھے دوست ۔لوگ توعمروں کے فرق کی وجہ سے اکثرباتیں بناتے ہیں لیکن ہر شخص کی بات پر دھیان دیاجائے توپھر بندہ بس سولی پر ہی چڑھارہے ۔اچھا کیا سوچ رہے ہو؟ کیوں اُداس ہو؟یاراُداس نہیں ہوں بس موسم ہی ایساہے۔اونئیں موسم تو اندرہوتاہے۔اگرموسم اندرہوتاہے توباہر کیاہوتاہے؟بیرونی معاملات ہم پر اثراندازکیوں ہوتے ہیں ۔میرے بھائی باہراوراندرکی دنیاکے ملاپ سے ہی ایک مزاج جنم لیتاہے۔ یقین نہ آئے تو میدانی اورپہاڑی علاقوں کے لوگوں کے مزاج کامطالعہ کرلو۔نہ بھائی نہ فرحان سے یہ چولوں والے کام نہیں ہوتے ۔چاردن کی زندگی کو کون جھلا تفکرمیں گُھل گُھل کے گزاردے بس ہردم ہیپی ہیپی رہو ۔جو ہو گی دیکھی جائے گی۔
فرحان یاروہ دیکھ ۔کیا دیکھوں۔بادلوں کارنگ ۔کیاہواہے بادلوں کے رنگ کو ؟دیکھ تو سہی ۔دیکھ رہا ہوں ۔حیرت ہے تجھے کچھ نہیں دِکھتا۔دِکھتاہے وہ لال ہیں۔سیانے بادل ایسے لال نہیں ہوتے ۔بزرگ کہتے ہیں جب سیدہ فاطمہؑ کا لعل شہید ہواتھاتب بھی ایسے ہی لال ہوئے تھے۔اچھا یار یہ شمشان گھاٹ پر بیٹھ کر اکثرہی ایسانظرآتاہے ۔یہ بتاتجھے محبت تو نہیں ہوئی ۔نہ نہیں بالکل نہیں ۔ہو بھی نہیں سکتی ۔جی ہو کیوں نہیں سکتی؟کیا محبت درجات بندی میں محدودہے ؟یہ شراب توکسی لمحہ بھی کسی کو بھی مدہوش کردیتی ہے۔ہاں یہ توہے۔مگرتوں ادھربیٹھاکیوں ہے ۔یارآج میراوجود بھی جل رہاتھااِس لئے ادھر آگیااورادھرآکرجلنے والوں کے مالکان کی سوچنے لگا۔اوریارتوں پھرملکیت کے چکرمیں پڑجاتاہے کوئی کسی کامالک نہیں ہوتا۔سواایک مالک کے ۔اپنی زندگی پر خود اختیارہوتاہے بس بندہ ہمت کرے ۔اچھاچھڈتوں پریشان کیوںہے ،ووہٹی تے نئیں لینی ۔او نئیں میراویرووہٹی داکی کرنااے پہلاں تھوڑے چکرنیں میرے گل وچ۔اچھا تے فیر کی سوچی جاناں ایں ۔میری سوچ نوں اگ لادس ٹائم کی ہویا اے ۔دوپچونجاں ۔اوہ ظالموں سانوں بیٹھیاں اینا ں چِرہوگیا۔آہو۔اچھاچھڈ۔مجھے یہ بتااُداس کس کے لئے ہے ۔یار وہ ایک دوست ہے ۔وہ جل رہاہے مگرشمشان گھاٹ پر نہیں ۔خیالات کی آگ میں ۔اُسے خوش دیکھناچاہتاہوں۔بس اُسی کی آگ مجھے بھی جُھلسارہی ہے۔یہ بتادوست میل ہےیا فی میل، اورکیا تیرامسئلہ محسن نقوی کی طرح تو نہیں
ّؔیہ کیساقُرب کا موسم ہے ،اے نگارِ چمن!
ہوامیں رنگ،نہ خوشبومیں ذائقے تیرے
میں ٹھیک سے تِری چاہت تجھے جتانہ سکا
کہ میری راہ میں ،حائل تھے مسئلے تیرے
۔تفریق کو چھوڑ بس حل بتااوراشعارمیں نہ اُلجھا۔حل شل کوئی نئیں ۔فتوی شتوی وی کوئی نئیں ۔
جواب دے ؟توں سوال کر؟ضروری ہے زبان سے کہوں ؟اچھاتوں سمجھ جا۔لفظوں کےبغیرکیاسمجھوں ۔ابے جب لفظ نہیں تھے تو کیاایک دوسرے کے جذبات کوئی نہیں سمجھتاتھا۔مجھے کیاپتہ ۔سوچ ناں ۔ناں میں نئیں سوچیاکدی تے ناں سوچناوے۔اچھا وہ جو آپ کابیلی ہے ناں ۔جو دوست ہے ۔جو ہمرازہے ۔اُسے کہنا جل رہا ہے توجلانابھی شروع کردے ۔وہ تو معصوم ہےیار!کسے جلائے؟اپنے من کو جلائے ۔وہ توپہلے ہی جل رہا من اُس کا۔نہیں ذرا اورجلائے ۔محنت کرکے جلائے ۔اپنے آپ کو اُدھر پہنچائے کہ لوگ رشک کریں ،حسد کریں اور حسد کی آگ میں جل مریں ۔یہی اُس کا انتقام ہو گا۔تب ہی اس کہانی کا اچھا انجام ہو گا۔کہوں گا۔کل ملے گا تو ضرورکہوں گا۔آگ لگائےخودکوکہ ساتھ بیٹھنے والا بھی یا تو آگ بن جائے یا آگ کے خوف سے بھاگ جائے، اتنے تک وہ کُندن بن جائے گااورپھر اُن کاسنگھارہوگاجن سے لوگ جلتے ہیں۔اچھاتوکیااِس دنیاکاحل آگ ہے ؟یا دُکھوں کامداواآگ ہے؟کیاہندواِس لئے جلاتے تھے؟کیاجلنے کے بعد مردے کندن ہوجاتے تھے؟بس اب چُپ وہ دیکھ گھاٹ سُلگ گئی۔اِدھردیکھ ۔اوہ خدایاتیرے تونین بھی سُرخ ہو چکے ۔لگتاآگ ہی آگ ہے ہرسو۔آگ ہی حل ہے اورآگ ہی مسئلہ۔محض شمشان گھاٹ نہیں جلتی ہر سوزندہ ومردہ جلتے ہیں ۔برہمن تو مردے جلتے دِکھاتاہے ۔ورنہ پسِ پردہ تو زندہ بھی جلتے ہیں ۔شمشان گھاٹ باہر نہیں اندربھی ہوتی ہے جہاں ارمان جلتے ہیں اوربغیرکسی تخصیص کے ہر ذی روح کے اندرآگ لگی رہتی ہے بس جو دھاراموڑلے وہی کامیاب۔شمشان ہے ہرسوشمشان ہے ۔میں چیختارہااوروہ چلاگیا۔اُسے جاناتھا۔وہ جانےکیلئے ہی آیاتھا۔پھرمیں نے خود کوشمشان کے اندرپایا۔۔۔۔

Facebook Comments

2 thoughts on “شمشان گھاٹ ۔۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. It’s an excellent effort words wrapped in packets of metaphors and extraordinary allusions and finally reaching the climax of human existence.I appreciate you dear keep it up

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *