زندگی….. .. ….از… . . . . .سمیع اللہ خان

Spread the love

زندگی

زندگی کیا ہے ؟مُحب کی زندگی درست سمت ہے یا محبوب کی حیات مکمل ہے؟مزدوجی دارزندگی گزارتاہے یا سرمایہ دار؟اگرفُرصت زندگی نہیں ہےتومصروف آدمی سہولیات کو کیوں تج دینا چاہتاہے؟اور اگرسہولیات زندگی نہیں ہیں تو مزدور اوور ٹائم کیوں لگاتاہے؟اگرانتظامیہ کی نوکری زندگی ہے تو ضلع کامالک پھانسی کے پھندے کو کیونکرچُومناپسندکرتاہے؟کیاخود کشی بھی زندگی ہے؟اگر نہیں ہے تو آخری رسومات کیوں نہیں اداکی جاتیں؟اگر تخت وتاج زندگی ہے تو ادھم درویشی کیوں اختیارفرماتے ہیں ؟اگر درویشی زندگی ہے تو ابوعبداللہ اندلسی کیونکر ہم کتاب کی محبت میں گرفتارہوکر سب کچھ بُھول جاتے ہیں؟اور اگر محبت زندگی نہیں ہے تو ایڈورڈہشتم ویلس سمپسن کی خاطرایسی سلطنت کو کیوں ٹُھکراتاہےجس میں سورج بھی غروب نہیں ہوتا؟اگراولاد زندگی ہے تو آسٹریا کابادشاہ اکلوتے بچے کو کیونکر اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کے الزام کا نشانہ بنتاہے ؟اگر اولاد زندگی نہیں ہے تو اسماعیل ؑ چھری کے آگے گردن کیوں رکھ دیتے ہیں اورنوح ؑ کیونکرکافرفرزند کی خاطردستِ طلب دراز کرتے ہیں؟حیازندگی ہے تویہ حرم کیاہیں ؟اوراگربے حیائی زندگی ہے تو دہلی کے رقص پر مرہٹہ کو آج تلک ہر ذات کا شخص ملامت کیوں کرتاہے؟اگردولت زندگی ہے تو دہلی کی طوائف نادرشاہ سے ہم وطنوں کی جان کی امان کیوں طلب کرتی ہے؟اگر طوائف جذبات سے عاری ہے تو نادرشاہ اُس کے جذبات کی قدرکیوں کرتاہے؟اختیاراگربادشاہ کے پاس ہے توہنوزدِلی دوراست کی صداابھی تک کیوں گونج رہی ہے؟کال کاٹنے والا خود کیوں کٹ کررہ گیاہے؟پانی زندگی ہے تو جہاز کیوں لنگرانداز ہوتاہے؟اوراگر خُشکی حیات ہے تو پانی کے لئے ہاتھ کیوں بُلند ہوتے ہیں؟پانی زندگی ہے تو جس دستِ مبارک سے چشمے جاری ہوئے وہ کیاہوئے؟پیاسی ایڑیاں کیونکرپہاڑکوسیراب کرتی ہیں؟ حُنین والوں کے چندپیالے پانی کا بدلہ اگرمعافی ہے تو ہاتھ سے پانی کے چشمے کیونکرنکلتے ہیں؟اوراگرمعافی کُچھ نہیں ہے تو حُرکی زندگی کو اُس کی موت پر کیوں رشک آتاہے؟تیر کچھ نہیں ہے تو عباس ؑ کا مشکیزہ کیوںپھٹ جاتاہے اوراگرتیر کچھ ہے تو نَمازمیں امام علیؑ کا جسم کیونکرنرم ہو کرتکلیف سے عاری ہو جاتاہے؟تُم کچھ نہیں ہو تو میں تُم سے گفتگو کا متمنی کیوں ہوں ؟اوراگر تم ہی سب کچھ ہو تو گفتگو کیاہے؟دیدارکچھ نہیں ہے تو اویس قرنی کے دیدے کیوں تھل بنے پھرتے ہیں ؟اوراگردیدار ہی سب کچھ ہے توموسی ؑ بے ہوش کیوں ہو جاتے ہیں؟سوہنی ڈوب کیوں جاتی ہے؟نموزندگی ہے توصاحبہ قتل کیوں ہوتی ہے؟اوراگرنموزندگی نہیں ہے تو نکاح کی اہمیت کیارہ جاتی ہے؟
یار اب چُپ بھی کرجا۔کیوں اتنے سوال کرتاہے؟کیا تجھے جواب کی طلب نہیں ہے؟کیا تجھے سوال میں ہی سکون ملتا ہے؟اگر سوال ہی سکون ہے تو منصورنے جواب کیوں دیا تھا؟اوراگرجواب ہی زندگی ہے توتُم نے اُسے دارپرکیوں لٹکایا؟میں اُن میں سے نہیں۔یاراگرتُم وہ نہیں ہو تو تُم نے کہاں سے جنم لیا؟تُم چُپ کروگے تو جواب دوں گا؟تم نہیں جانتے کہ خاموشی میں عافیت ہے ۔نہیں میں حُسینی ہوں میں اِس بات سے نابلدہوں۔اچھا چلو یہ بتائو سچ زندگی ہے؟ہاں ہے۔اگرہے تو دُوربین والے نے معافی کیوں مانگی؟اچھا تُم بتائو اگر سچ کی افادیت انسانیت کی خاطر کچھ نہیں ہے توسقراط نے زہرکیوں پیا؟میں بتاتاہوں اگرسقراط زہرنہ پیتاتو انسان سچ کوجھوٹ سمجھتااوراگرزمین کو گول کہنے والا سچ پر قائم رہتاتو قربانی قائم رہتی مگرعلم رُک جاتا۔نہیں تو پھر قُربانی تو کچھ نہ ہوئی علم سب کچھ ہوا۔نہیں علم سب کچھ ہوتاتو بلھے شاہ کیوں فرماتے
علموں بس کریں اویار
اکو الف تیرے درکار
کیا بُلھے شاہ سندہیں؟نہیں یہ میں نے کب کہا ۔کہا ہے ناں۔نہیں نہیں بالکل نہیں۔پھر حوالہ کیوں دیا؟یاربلھے شاہ ہو یا بابافرید گنج شکر،باباگورونانک ہو یا حُسینی برہمن سکون ہے اُدھر جس درگاہ پر صوفی ازم ہے ۔واہ اگر سکون ہی سب کُچھ ہے توپھر منشیات کااستعمال کرو۔نہیں منشیات میں وقتی سکون ہے ،راہِ سلوک ابدی ہے۔اچھا چھوڑمولوی کوئی اوربات کرتے ۔مجھے الزام نہ دے۔کیوں صوفی دینیات سے نابلد ہوتے ۔نہیں ایساتونہیں۔پھر مولوی لفظ کا مطلب کیوں بُرابن گیا؟یار یہ لفظ کچھ نہیں ہوتے ۔معاشرے اورزمانے کے ساتھ ان کے مطلب بدلتے رہتے ہیں۔جیسے ہم بھی بدلتے ہیں ،شہربدلتے ہیں ،لوگ بدلتے ہیں ،اپنے سنبھلتے ہیں ،غیربدلتے ہیں۔ارے یہ اپنوں کاسنبھلنااورغیروں کا بدلنا کیاہوا؟یارآج کل لوگ اپنی تسکین کی خاطریہ نہیں کہتے کہ ہم بدل گئے بلکہ کہتے ہیں کہ ہم سنبھل گئے ہیں اورکچھ لوگ خلا کو غیرسے بدلتے ہیں کہ اپنے بھی تو سنبھل گئے ناں۔اچھا یہ ہرکنوئیں کا پانی پیاس بجھادیتاہے ؟یارپانی توپانی ہے ۔ہاہاہاہامطلب کڑوا پانی بھی ۔اوہاں تیری توسائنس ہی وکھری ہے۔یارخود توبولاپانی توپانی ہےبلکہ میں توکہتا یہ ،وہ ،توں میں سب پانی ہے۔اوبھائی میں نہیں ہوں پانی۔اگرتوں پانی نہیں ہے تو تیرے جسم میں دوڑتاخون کیاہے؟اوراگرتو پانی ہے توتجھے پیاس کیوںلگی ہے؟یاریہ سوال بہت پُرانے ہیں کوئی نئی بات کر،جِدت لاخُودمیں ۔کوئی نئی کہانی بیان کر،کسی نئے طرز سے ۔عشق کی داستان کو ایسارنگ دے کہ لُوں لُوں میں اُترجائے۔بابا میں نہ کروں ایسا۔یہ توسنبھلنے ہی نہیں دیتا۔جذبات کی جُولانی،خیالا ت کی فراوانی ،چراغ کی تابانی سب اسی کی ہوکررہ جاتی ۔میں کیوں کہانی کومحض عشق کاسنگھاردوں ؟کیوں نہ اِسے بگاڑدوں۔ہربگڑی چیز ہی تو اچھی لگتی ہے۔خُودتوں کہہ رہا تھاکہ جب محبوب بگڑتاہے تومُحب کواچھالگتاہے۔اوئے میں نے یہ تھوڑی کہا کہ انگوربگڑجائے توہوش میں رہتاہے؟میں یہ تھوڑی بولا کہ جدائی کاخوف دِلاکروہ مجھے اپناسکتاہے؟میں یہ کب بولاکہ دیدارکاسمبندھ کرکے وہ مجھے رُلاسکتاہے؟بگڑی چیز بھی بگڑکرسنورتی ہے تب اچھی لگتی ہے یاپھر کسی کابگڑناہی سنورناہوتاہے۔دیکھ ناں زمین کیسی سیدھی سیدھی ہے۔کسان اس کا سینہ چیرکراتھل پتھل کردیتاہے ۔اس کی صورت بدل دیتاہے ۔پھر ہریالی آتی ہے ،ہرسوبھاتی ہے۔یہ ہے بگڑنااوراِسی کوکہتے ہیں سنورنا۔
باباتیری پشتومیری سمجھ میں نہیں آنے والی،جس طرح سرحدیں نہیں قائم رہنے والی۔یہ کونسی سرحدکی بات ہے مامے؟ہرسرحدکی۔تیری سرحد،میری سرحد،اُس کی سرحد،اِس کی سرحد،آسمان کی سرحد،زمین کی سرحد۔شام کی سرحد،رات کی سرحد،روشنی کی سرحد ،تاریکی کی سرحد۔کوئی بھی سرحد کسی قسم کی بھی سرحدکبھی سرحدنہیں رہتی ۔وقت بدل دیتاہے ۔سب کچھ بدل دیتاہے۔اگروقت سب کچھ بدلتاہے توکہانی کیوں نہیں بدلتی ۔بدلتی ہے یار۔اُس کی کہانی اورہے میری اور۔نہیں توتمہاراخدابھی اوراورہے۔نہیں ایک ہی ہے ۔پھرتمہاری کہانی کیسے مختلف ہے؟ہے ناں،اگرزمین ایک ،ثقافت ایک،زبان ایک،شکل ایک اورقومیں دوہوسکتی ہیں توکیاہماری کہانی مختلف نہیںہوسکتی ۔یارقومیں توبہت سی ہوتی ہیں ۔ایک ہی گھرمیں خاوند بیوی کی قوم مختلف۔بچہ آدھاباپ پر آدھاماں پر جاتاہے۔یارتوں توپاگل ہے ۔اگرایساہے توپھر وہ آدھی سرائیکی اورآدھی پنجابی کیوں نہیں بولتا،باقی بھی مکمل کیوں ہوتاہے اوراگرادھوراہوتاہے توکیاانسان نہیں ہوتا؟ہوتاہے انسان مگرادھوراتوتُم خود کہہ رہے ہو؟یہ غیرانسانی لفظ نہیں ؟ہاں ہے مگرایجادتوانسان کی ہے۔مطلب لفظ انسان نے پیداکئے ہیں؟لگتاتوایسے ہی ہے۔کیا تجھے نہیں لگتا؟لگتاہے مگرپھرلفظ بدلتے کیوں ہیں ؟توں میری اورمیں تیری زبان کیوں نہیں سمجھتا؟جب ایک ہی شاخ سے نکلے ہیں تومختلف کیوں ہیں؟اویارزبان تو وہ بھی میری نہیں سمجھتاجوکہ مجھے ساراسمجھتاہے،ہم پیالہ ہے ہم نوالہ ہے،لفظ بس وہ رہتے مگراُس تک پہنچ کر معنی بدل دیتے ،نہیں معلو م وہ بدلتاہے ،لفظ بدلتاہے ،سوالی بدلتاہے یا سخی بدلتاہے بہرطورحُسنِ ظن سوئے ظن میں اوراچھائی برائی میں ،برائی اچھائی میں بدل جاتی ہے۔بس چُپ اب۔
اچھا ایک بات بتائوں ؟ہاں بتا۔یہ جوتوسوال کرتاہے ناں ۔یہ فضول ہیں۔کیوں ؟اِس لئے کے یہ ہوچُکے۔ان پر بحث ہوچُکی،رائے آچکی۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہااُن کی رائے آئے میری اورتیری کہاں گئی؟وہ سوچتے تھے توہم سوچناچھوڑ دیں ؟نہیں یہ بات نہیں ۔سوچیں مگرکائناتی تعریف کو تو مانیں نہ جِسے یونیورسل ڈیفی نیشن کہتے ہیں۔کیوں میں کیوں مانوں ۔تو کیاتُم خود کومنواناچاہتے ہو؟اپنی جگہ چاہتے ہو؟الگ سے ؟کہ تمہاراذکربھی ہو؟تمہیں بھی تسلیم کیاجائے؟ہاں ہرشخص جینا چاہتاہے ،صدیوں ۔سالوں ۔لمحوں۔بس اپنے وجود کی جنگ ۔خیالات کی ترویج ہی آپ کی موجودگی ہے ۔تبھی ہرسُوفلسفہ کی جنگ ہے۔یہ فلسفہ نہیں اپنی موجودگی کا احساس دِلانے کی کوشش ہے۔یہی کوشش ٹکراتی ہے تو جنگ ہوتی ہے۔اوریہ اُس وقت تک ہوتی رہے گی جب تک اختلاف موجودہے اوراختلاف کاخاتمہ انسان کا خاتمہ ہے۔جس دِن سب معلوم ہوگیا،اُس دن نہ تم رہوگے نہ میں۔نہ وہ رہے گانہ یہ۔پھرکیارہے گا؟نہیں معلوم ۔ابھی توایٹم کاعلم ہواہے اورسب کچھ ختم ہوتانظرآتاہے۔آگے کا سوچ لو۔کون ہے کون ہے جو سب علم حاصل کرنے سے روکتاہے؟کیوں روکتاہے؟اُس کا مقصدکیاہے؟یارسب علم نفع نہیں ہوتاجیسے کہ ایٹم۔کیوں ایٹم سے جنگ رُک گئی؟ہاہاہاہا!اوراب ایٹم پر شروع ہوگی ،یہی ناں؟اوشودھی دُنیاکے شودھے انسان ہم سے کچھ نہیں بدلاجانا،جانا،سب طے شدہ ہے،اورسب بےترتیب ۔دیکھ ناں توں اورمیں جاگ رہے ،مگر سوال ترتیب سے کررہے۔کیا کچھ بدلا نہیں ناں بس وقت بدل رہا ہے اب چاربج چکے،نوسے دس اکتوبرہوچُکی ۔سوتے ہیں۔
نہیں مُجھے نیند نہیں آتی ۔سُلانے والے کھوگئے۔سونے والے سوگئے۔کیاسونازندگی ہے؟نہیں ۔پھرجاگنا؟نہیں ۔توپھرزندگی کیاہے میرے یار۔سمجھاتاہوں،بتلاتاہوں،دِکھاتاہوں۔وہ دیکھ ۔کیا؟شیلف میں کتاب ۔اچھاوہ ناصرملک صاحب کاناول؟جی جی۔لے آ۔یہ لے۔اس میں کتنے کردارہیں۔یاربہت سے ہیں ۔وہ اُٹھالا۔کونسی۔ٹوٹی ہوئی سڑک اورجائی صاحب والی بھی۔پڑھ۔کیا؟کہانی ؟کیوں؟کردارگننے اِس لئے۔ہرکہانی میں بہت سے کردارہیں،کسی میں چار،کسی میں پانچ اورکسی میں سات۔تین بھی ہیں۔میری کہانی میں نہیں ہوتے ۔کیوں؟کیوں نہیں ہوتے ؟بس ویسے ہی۔پھر کہانی تو نہ ہوئی ۔ابے یہی توکہانی ہے۔یہ بتازندگی میں کتنے کردارہیں؟بہت سے ہیں ۔اورموت میں؟خوف کریار،کیساسوال داغ دیا۔اچھابات سُن۔جی بتا۔یہ جب کہانی ختم ہو جائے گی تو کتنے کرداربچیں گے۔ایک ہی ۔۔۔۔۔پھردوسرے کی ضرورت ؟بس یہی ایک سوال زندگی ہے۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *