بنجارا…………….از…………..سمیع اللہ خان

Spread the love

آپ کدھرجارہے ہیں ؟فیصل آباد جا رہا ہوں ۔اچھا اچھااُدھر کوئی کام ہو توبتانا ۔نہیں نہیں کوئی نہیں ۔بس دعا کرنا ۔ہاں دعاکروں گاضرور کروں گا۔اچھا یہ بتائیں وہاں آپ کس کے پاس رکیں گے ؟وہی میرا کملا ڈھولا۔بھائی مجھے کیاپتہ تمہاراکون سا ڈھولا۔وہی چاندکی طرح خوبصورت ،سورج کی طرح روشن ۔او اچھا!توشاعری بھی کرتے ہو۔نہیں یاربس دل کے تارہلتے ہیں تواِک ساز سااُبھرتاہے،وہ بے ہنگم ساز کبھی کبھاراچھے الفاظ کاچنائو کرلیتاہے اورکچھ نہیں۔میرادردیہ بھی ہے کہ میرے یارمیں کوئی خامی نہیں ہے ۔سُلجھاہواسمجھدارانسان ہے لیکن قبائلی مخالفت آڑے آتی ہے۔ابوکہتے ہیں اُن کے ساتھ ہماراکوئی ناطہ قائم نہیں ہوسکتاسوادُشمنی کے ناطے کے،دلوں میں بسی کدورت دہائیوں پرمحیط ہے۔۔تو تمہارے ابو اُس کے ساتھ تمہاری دوستی کوپسند نہیں کرتے ؟ہاں !یار ۔اب بندہ کیا کہے ۔ابو کا احترام واجب ہے مگروہ میرا جگری یارہے۔
لیجئے ؟کیاہے؟ڈرائی فروٹ۔نہیں بس اب بھوک نہیں ہے۔کیوں؟ابو نے کہاہے آخری دفعہ مل لوپھرملاقات کی تونہ صرف جائیدادسے عاق کردوں گابلکہ گھرمیں قدم بھی نہیں رکھنے دوں گا،وہ میرے بھائی کے قاتل ہیں ،مجھے اُن کے چہروں پر شمس خان کاخُون نظرآتاہے۔کتنے بھیانک چہرے ہیں اُن کے۔معلوم نہیں بیٹاکہ آپ اُن کی صحبت میں کیسے اپنے آپ کو پُرسکون محسوس کرتے ہو؟کیاتُمہارے خیال میں میرے بھائی کاخون بہاناجائزتھا؟میں نے عرض کی نہیں ابا جان ۔میں تو اب بھی چچاکی تصویردیکھ کر غمزدہ ہوجاتاہوں مگراس میں عاطف کاکیاجُرم ہے۔بیٹا!نہیں ہے مگرتمہارے سے میں نے ذکرنہیں کیا ۔آج بتلائے دیتاہوں۔عاطف کے ابا نے پیغام بھیجاتھاکہ تمہارے اورمیرے بچے کے درمیان دوستی کاسمبندھ درست نہیں ۔تم بزدل لوگ ہو ،بدلہ تو لے نہیں سکتے اب دوستی کی پینگیں بڑھارہے ہو۔بیٹا!سوچو!کہ مجھ پر کیاکیفیت گزری ہو گی۔جب اُن کا خط مجھے ملا تو میں جرگہ میں فیصلہ سُنارہاتھا۔شبیرنے آکرمیرے ہاتھ میں دیا۔اُس پر جلی حروف میں ابراہیم نُتکانی لکھاتھااور عاطف کے ابا کی خباثت کا اندازہ لگائو میرے فرزند! اُس نے اپنانام’’سُرخ‘‘رنگ میں لکھاتھا۔اِن لوگوں پر آکسفورڈنے اثرنہیں کیا۔یورپ کے تعلیمی اداروں سے یہ ڈگریاں لے آئے ہیں اوربس !اِن کا من آج بھی قدامت پرست ہے۔بیٹیوں کی غیرت کی باتیں کرتے ہیں اورخود کسی غریب کی دُخترکوبغیرکسی حیل وحُجت کے داشتہ بنا لیتے ہیں ۔کیایہی غیرت ہے؟کبھی بھروسہ نہ کرنا عاطف پر۔یا تو انسان مکمل لبرل ہوجائے یا پھر قدامت پرستی کو سینے سے لگائے رکھے ۔پر پُتریہ دورنگے لوگ ہیں ۔تمہیں اِس لئے رُوکتاہوں کہ تُم بھی ایسے نہ ہوجائو۔بھائی! باباکہ یہ الفاظ ابھی تک کانوں میں گُونج رہے ہیں ۔اللہ جانتاہے بارہ سو کلومیٹرکے سفر میں کچھ کھانہیں سکابس پانی پر گزارہ ہے ۔
اچھا لوفروٹ پلیز!!!کسی کی مان بھی لیتے ہیں۔اچھاتھوڑے سے لیتاہوں آپ کاخلوص نہیں ٹُھکراتا۔میں آپ کی کیامددکرسکتاہوں؟آپ ؟نہیں رہنے دیجئے ۔یاربتائو ناں ۔آپ مشورہ دیجئے کہ میں کیا ایساکام کروں کہ اُس سے دوستی قائم رہے اوربابابھی ناراض نہ ہوں ۔مجھے جائیداد کی فکرہرگزنہیں ہے ،میراگھر،میری مٹی،میرے لوگ،میرے احباب ،والدین سب کے سب قیمتی ہیں ۔یار آپ کویہ یقین ہے کہ آپ کادوست آپ کے ساتھ مُخلص ہے ۔جی یقین ہے۔کامل یقین ہے۔آپ ہی اُس کی جانب بڑھتے ہیں یا وہ بھی ؟سر ایک ہاتھ سے تو تالی نہیں بجتی ۔کیا اُس کا والد بھی آپ کی دوستی پر اُس کی اسی طرح سرزنش کرتاہے ؟جی وہ بھی مخالف ہے ۔ابھی پچھلے دِنوں میں نے اُسے تحفہ بھیجا تھا جو کہ اُس کے والد نے ہمارے گھر واپس بھجوادیا۔تو آپ کے دوست نے اِس پر کیاایکشن لیا؟نہیں معلوم بھائی ۔یہی تو معلوم کرناہے کہ وہ بھی کتنا سنجیدہ ہے؟اچھا اگر آپ پسند فرمائیں تو میں کوشش کرکے دیکھتاہوں ۔نہیں رہنے دیجئے ۔آپ کو کیا معلوم وہ کون ہے ؟اُس کاحلقہ احباب کہاں ہے ؟یار ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتاہے اورتمہاری خاطر تو میں آگ میں بھی کودنے سے دریغ نہیں کروں گا۔کیوں؟بس تم،تمہاری گفتگو،تمہارے ااندازسب کے سب اتنے متاثرکون ہیں کہ پتھر بھی موم ہو جائے ۔یہ جب آپ کسی بات پر آنکھیں بند کرکے اثبات میں سرہلاتے ہیں ناں تو خُداکی تخلیق پر انگشت بداں رہ جاتاہوں۔تمہاری نین نقش نجانے کس سے مماثلت رکھتے ہیں کہ اچھے لگ رہے ہو۔کس سے ؟نہیں یادپڑرہا۔بہرطورتمہارے سرکی جنبش سے دل کے تاروں ہل کررہ جاتے ہیں اورایک نامعلوم سی کسک گھیرلیتی ہے۔
صبح کس وقت نکلنا ہے آپ نے اورکس کمرے میں ٹھہرے ہوئے ہیں؟علی الصبح ،کمرہ نمبر ۴۔چلیں میں آپ کو چھوڑ دیتاہوں۔نہیں میں آپ کے کمرے میں چلتاہوں ۔آئیے بسم اللہ ۔بس اب دروازہ بند کردیجئے مجھے کہیں نہیں جانا۔یار آپ اِدھر ہی آرام کیجئے مگرمجھے رات کو نیند نہیں آتی ۔رات گئے تک بے ترتیب سوچوں میں گُم رہتاہوں ۔ہلکا ہلکامیوزک بھی میرارات کا ساتھی ہے۔کوئی نہیں شاید نیند تو اب مجھ سے بھی کوسوں دورہوچکی ۔آپ نے کب جاناہے ؟یارمیں توبغیرمنزل کے مسافرہوں ۔مسلسل تلاش میں ہوں۔کس  کی؟نہیں معلوم۔یہ کیابات ہوئی؟یارجب مجھے نہیں معلوم تو آپ کو کیسے بتلادوں؟ویسے پہلی دفعہ ایساسُناہے۔اچھا اِدھرسے کب جاناہے۔یارابھی کوئی نہیں پتہ ۔چلیں پھر میں بھی کل رات کیلئے رُک جاتاہوں۔نہیں نہیں آپ جائیے سائیں۔میری خاطرمت رُکئے۔۔۔مت رُکئے ۔میں کسی کی راہ میں آتاہوں نہ کسی کو رُوکتاہوں ۔پتہ نہیں کہاں میری منزل کہاں ٹھکانہ میرا۔میں تو بنجارہ ہوں ،بنجارہ ۔چوڑیاں بیچتاہوں۔خُودپہناتے ہیں؟ ۔نہیں حضور!پہننے والیوں سے کہہ دیتاہوں کہ ایک دوسرے کوپہنادیجئے ۔کیوں آپ مولوی ہیں ؟نہیں تُو۔پھر ؟بس ویسے ہی۔پھر بھی ؟بتائیے تو؟آپ کیوں معلوم کرناچاہتے ہیں ؟بس سسپنس ،جُستجو؟تو کیا آپ محض جُستجوکی خاطرکسی کاپردہ چاک کرناچاہتے ہیں؟نہیں،غلط مت لیجئے بس خواہش ہے کہ یہ راز جان لوں۔صرف جاننے کی جُستجومیں کسی کے رِستے زخموں پر کیوںنمک چھڑکناچاہتے ہو؟تمہیں نہیں معلوم پوری بات کرکے نجانے مجھ پر کیاگُزرے،سچ بولوں تو من ناراض ،جھوٹ بولوں تورب ناراض۔آج کسی انجان کواپنا سمجھ کربتلادیجئے ۔تو سُنئیے ۔جب میں پہناتاہوں تو وہ چوڑیاں نہیں رہتیں ۔۔۔کیا مطلب ؟بس !رہنے دیجئے ۔بتایئے حضور!توسُنیئے!وہ ہتھکڑیاں بن جاتی ہیں ،ہتھکڑیاں۔۔۔
بھائی آپ تو بڑے مزے کے بندے ہیں ۔بس میں اب آپ کے ساتھ ہی رہتاہوں کُچھ دِن،دلچسپ گفتگوبھی سُنوں گااورانسانیت کے مزاج کے متعلق بھی کچھ سیکھ لوں گا ۔نہیں تم لوٹ جائو یا آگے بڑھ جائو۔نہیں جانامُجھے۔جائیے جائیے ابھی جائیے ۔اپنے کمرے میں جاکرآرام کیجئے ۔مسافروںکے ساتھ اورراہوں میں دوستیاں نہیں لگایاکرتے اورویسے بھی عاطف آپ کامنتظرہے ۔ایک بنجارے کاساتھ آپ کو دُکھ ہی دے گا۔اُس کی زندگی کے ساتھ ہزاروں فسانے جُڑے ہوتے ہیں۔وہ فلم امرائو جان ادا میں گاناسُنا ہے آپ نے ؟کون سا ؟
اِن آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
اِن آنکھوں سے وابستہ، افسانے ہزاروں ہیں
اک تم ہی نہیں تنہا،اُلفت میں میری رُسوا
اِ س شہرمیں تُم جیسے، دیوانے ہزاروں ہیں
جی جی سُنا ہے مگر میں کہیں نہیں جانے کا۔یار!سُنوتم قبائلی سردارہواورمیں آوارہ پنچھی ۔کیاکبھی چکورکوچاندملاہے ؟نہیں ملا! مگرمل بھی تو سکتاہے ۔نہیں مسافردوست!ہرگزنہیں ۔یہ کتابی باتیں ہیں اورسب ہی جھوٹے وعدے ہیں ۔آپ دوستی کا ہاتھ توبڑھائیے ۔نہیں بڑھاسکتا۔بولئے ۔نہیں بول سکتا۔وہ ارجیت سنگھ کا گاناسُناہے آپ نے ؟کون سا؟
بول دو ناں ذرا
دِل میں جو ہےچھُپا
میں کسی سے کہوں گا نہیں
۔نہیں میرے چاند میں نہیں بول سکتا۔نہ تُم خود کوتکلیف دواورنہ ہی میرے جذبات کوہیجانی کیفیت سے دوچارکرو۔آپ کومیری فکرکاہے کو؟ہے ناں جانی!تم ۔۔۔بہت اچھے ہو،شاید اِس لئے۔کوئی اوروجہ ؟نہیں۔بس!!!
نجانے کب وہ سو گئے ۔صبح جب ناشتہ دینے کیلئے ہم نے دروازہ کھٹکھٹایاتو دروازہ اندرسے کسی نے نہیں کھولا۔کچھ دیربعد دستک دہرائی گئی مگرنتیجہ ندارد۔مزید تحقیق پر پتہ چلا کہ روم نمبر ۴ کی شائستہ بھی اپنے کمرے میں موجود نہیں ۔کمرے کو باہر سے تالا ہے ۔روم نمبر آٹھ کا دروازہ توڑاگیا تو اندر عارف کومُردہ پایاگیا۔اُس کے ہاتھ میں کاغذتھا۔جِس پر تحریر تھا: کیا صرف لمحات کے رشتے بھی سانس کے ناطے توڑدیتے ہیں،تُم چلے گئے تومیں بھی اِس سرائے میں نہیں رہوں گا،ہاں !مگراس جگہ سے مُحبت ہوگئی ہے جہاں تُم مجھے دُوبارہ مِلے ہواب کہانی ختم کرتے ہیں۔۔۔۔خُون کانشان کہیں موجود نہیں تھا۔کھڑکیاں بھی بند تھی ۔۔دوسراساتھی نجانے کس راستے سے بنجارے کوچھوڑگیاتھا۔ بستر جھاڑنے پرمعلوم ہواکہ شائستہ سرداراکبرخان کی واحدبیٹی تھی جسے اُس کے باپ نے بیٹوں کی طرح پالاتھا۔وہ جرگہ میں بھی باپ کے ساتھ رہتی تھی۔ایک دِن کسی بنجارےکے ہاتھ سے چوڑیاں پہن رہی تھی کہ باپ نے دیکھ کر اُسے حویلی تک محدودکردیا۔بنجارے کوسزادیناچاہی لیکن جرگہ نے دلیل دی کہ شائستہ کے اندازولباس سے بنجارہ نہیں پہچان سکاتھاکہ لڑکاہے یالڑکی ۔وہ بے قصورہے۔سرداریہ کہتاہوارُخصت ہوگیاکہ اِس قدرقیمتی لباس میں ملبوس شخص بنجارا نہیں ہوسکتا۔۔۔یہ ساری کہانی ہمیں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے اورورثاکے آنےسے معلوم ہوئی تھی۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *