کتاب سے محبت …….صائمہ نور عدنان

Spread the love

بدقسمتی سے پاکستان کئی دہائیوں سے معاشی بحران کا شکار ہے جس کے سبب عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور یہ مہنگائی کا عفریت زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتا ہے اشاعت اور طباعت کا شعبہ بھی اس کی زد میں آنے کی بدولت کاغذ مہنگا ہوگیا ہے کاغذ مہنگا ہونے کے باعث کی جرائد اور رسائل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے بلاشبہ کاغذ کتاب کا پہلا مسکن ہے کاغذ نے صدیوں حرفوں کی آبرو سمیٹ کر اسے پروان چڑھایا ہے لفظ اور کاغذ کا بندھن اٹوٹ اور انمٹ ہے . کاغذ لفظوں کی مالا پے روتا ہے اور اسے اپنے دامن میں سجا لیتا ہے .
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
ہمیں بہت پیچھے جانے کی ضرورت نہیں شاید ایک دہائی قبل ہی ہم نے جدت کی دنیا میں قدم رکھا سائنسی دنیا میں انقلاب آۓ اور انسان ترقی کی راہوں میں گامزن ہوتا چلا گیا . جس کا ثبوت موبائل فونز ہر گلی ہر کوچے میں نظر آنے لگے.
انسانی فطرت ہے کہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور بہتر سے بہترین کی چاہ اسکو کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ہے انسانی ارتقاء نے کروٹ بدلی اور آج ہم چھوٹے سے اسمارٹ فون میں اپنی من پسند تمام مطلوبہ اشیاء صرف اپنی انگلی کی ایک جنبش سے حاصل کرسکتے ہیں .بظاہر رابطے آسان تر ہو گئے لیکن حقیقت میں انسان انسان سے کٹ گیا .جدت روایت کو کھا گئی. اخلاص کو زمانے کی جعلی روانی لوٹ لے گئی. کچھ دن پہلے ایک ساتھی لکھاری نے بتایا کہ کاغذ کی گرانی کے باعث ڈر ڈائجسٹ شاید بند ہو جائے لوگوں کے شدید احتجاج کے بعد مدین نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا مگر ایک سناٹا سا چھا گیا اور ایک سوال ذہن میں چھوڑ گیا. کیا واقعی یہ کتابوں سے عشق کی آخری صدی ہوگی .کیا کتاب کا عشق ماند پڑھ جاۓ گا.طبعی سخن کے لیے تو شاید یہ شعر ہمیں بہت بھاتا ہوگا لیکن کیا واقعی حقیقت ہم قبول بھی کر پائیں گے ؟ کیا ہم ادب سے دور ہوتے ہوتے اپنی حقیقت بھی کھو دیں گے.
ڈائجسٹ کتنا مہربان اور شفیق ہے یہ لفظ کوئی اس پڑھنے والے سے پوچھو جس کے لیے اس تک رسائی کسی زمانے میں کس قدر سہل تھی اس نوآموز لکھاری سے پوچھو جسے یہ ڈائجسٹ اپنے دامن میں سمو کر ادب کی وسعتوں سے روشناس کراتا رہا ہے .چاہے وہ کوئی خور ڈائجسٹ ہو رومانیہ و سماجی ہو ڈائجسٹ کی اہمیت سے انکار کوئی بھی باذوق قاری اور لکھاری کر ہی نہیں سکتا کتاب بذات خود ایک رومانوی علامت ہے محبت کرنے والوں کے لیے وہ تمام لوگ جو موضوعات کی محبت میں مبتلا ہیں جو کرداروں میں زندگی ڈھونڈتے ہیں. پڑھنا لکھنا کبھی رکے گا نہیں لوگ پڑھیں گے بھی لکھیں گے بھی مگر کتاب جیسی رومانوی حقیقت خیال بن کر رہ جائے گی ہاتھ میں کتاب کو تھام کر ورق گردانی کرنے کا سحر ایک قاری ہی سمجھ سکتا ہے پڑھنے والے کا تعلق کاغذ کی مہک سے بھی بن جاتا ہے کاش ترقی کتاب اور ورک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے ورک کا سحر محسوس کیے بغیر پڑھنا بھی کیاپڑھناھے کاغذ اور کتاب کاری اور لکھاری کے لیے ایک دنیا ہے انمول ہے۔جدت آئے اور آتی چلی جاۓ مگر خدا کرے کبھی کتاب ختم نہ ہو.موبائل اور کمپیوٹر کے اس تیز ترین دور میں کتاب اپنے روشن ماضی کی طرح آئندہ بھی ہمارے بچوں ، بڑوں اور ہر عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ذہنی بلند اور پاکیزگی کا ذریعہ بنتی رہے ، تاکہ آنے والی نسلیں بھی کتاب کے عہد میں ہی جئیں،اور اس کار نیک میں ہر اس فرد کو حصہ لینے پڑے گا جو کتاب سے محبت رکھتا ہے ، جو ادب سے اصلاح معاشرہ کے عظیم خواب دیکھتا ہے ، تب ہی ہم سب کتاب اور کتاب بینی کو بچا سکتے ہیں…
صائمہ نور عدنان

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *