بے غیرت…….از……سمیع اللہ خان

Spread the love

بے غیرت

ارے نجم الحق بائیک کیوں روک دی؟
یار کسی بچے کی آواز آرہی ہے۔
بھائی !تو انسانوں کا شہر ہے اس میں بچے تو ہوں گے۔
نہیں یار آپ بائیک سنبھالیں میں ابھی آتاہوں۔یہ کہہ کر محمدطاہرنہری نالے کے اوپر سے گزرتاہوا،سنبھلتاہوا،آہستہ آہستہ آواز کے قریب ترہوتاجارہاتھا۔گنے کے کھیت میں سے آنے والی آواز اب تکلیف دہ سازلئے بڑی معصومیت سے اُبھر رہی تھی۔شیرخواربچے کی آواز ۔۔۔محمدطاہر کا دل زہربھرے تیرکے ہاتھوں شہادت پانے والے چھ ماہ کے معصوم کی محبت سے لبریز ہوگیا،وہ رُکااورگال پر ہاتھ پھیراتووہ نم ہوچُکے تھے۔خیال جھٹک کر وہ آگے بڑھناہی چاہتاتھاکہ ایک گیڈڑاُس کے سامنے دُم دباکربھاگ نکلا اورآواز یکلخت خاموش ہوگئی۔لاشعوری طورپروہ گیڈڑکے پیچھے بھاگ کھڑاہوا۔سرسراہٹ نے نجم الحق کومتوجہ کیا تووہ بائیک کچے راستے پرچھوڑکرکھیت کی طرف دوڑا۔محمدطاہر۔۔محمدطاہر پکارتا ہوا یک دم اوندھے میں جاگرا۔چہرے پر مٹی کے نشانات ایسے پڑگئے جیسے سفید چادرپرکوئی بدنما داغ لگ جائے ۔اُس نے فوری طورپرسنبھلتے ہی اُس بچے کو دیکھاجوبے یارومددگارگنے کے کھیت میں بے سُدھ پڑاتھا۔دراصل اسی بچے کو پائوں کے نیچے آنے سے بچاتے ہوئے اس نے تیزرفتاری میںجمپ لیا اوردورجاگرا۔وہ اونچی اونچی کہنے لگابیٹا!دیکھ میں بھی مٹی توں بھی مٹی۔میرے چہرے پرلگے یہ داغ اُس داغ سے کہیں بہترہیں جو تیرے ماں باپ کے دِل پرلگے ہوں گے یاپھرمعاشرےکے بےجاخوف سے شاید اتنے بے حِس ہوگئے کہ تُجھے اِدھرچھوڑگئے ۔اسی اثناء میں اُس کے کانوں میں آواز گونجی۔۔۔نجم ۔۔۔نجم ۔۔۔نجم۔۔۔۔اُس نےطاہر کو جوابی طورپرکہامیں اِدھر کھیت میں ہوں۔اِدھرایک بچہ پڑاہے۔طاہر!دوڑکرآیااوراُسے ٹٹولنے لگا۔کہیں بھی کوئی نشان نہیں تھا۔طاہر نے پوچھا کہ کیادیکھتے ہو؟کہتاپہلے توگیدڑکے نشان دیکھ رہاتھا۔اب دیکھ رہا ہوں کہ شاید اس بے نشان بچے کے جسم پرکوئی نشانی ایسی ہو کہ اس کے ماں باپ تک پہنچا جاسکے،اس کے مذہب ،فقہ یاذات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔طاہر نے کہا!ابے جایار!اُن کو پرواہ ہوتی تو اِسے کیونکر پھینک جاتے۔یقینی طورپر یہ اُن کی دوستی کاانجام ہوگا۔کیایہ حرام کاہے؟طاہر!یار حلال حرام کو چھوڑ،یہ بتااِس کاکیاکریں۔اب باقی سوال معدوم ہوگئے، اس کی اُن سانسوں کے تسلسل کاسوال ہے جوربِ رحیم وکریم نے اِسے عطاکی ہیں۔نہ تیری بیگم ہے نہ میری ۔اِسے کون سنبھالے گا۔محمدطاہر چونکااوربے ساختہ کہاکہ لطیف ابراہیم بھائی کو بُلالیتے ہیں۔موبائل نکال کر طاہرنے صحافی کو کال لگائی اوروہ موقع پر پہنچ گیا۔بچے کولیا ،پیارکیا۔پھر موقعہ کی تصاویر بنائیں اورکہاکہ اِسے میں پالوں گا۔
محمدطاہر نے کہا بڑے بھائی جزاک اللہ مگر ایک بات تو بتائیں۔یہ کتنے بے غیرت لوگ ہیں جو اِس معصوم کو اِدھرچھوڑ گئے۔لطیف ابراہیم نے کہا کہ ہم سب بے غیرت ہیں ،اگرہم کسی کی جائز محبت کو قانونی درجہ دینے میں رکاوٹ نہ بنیں تومعصوم جانیں اس طرح کچرے کے ڈھیر اورگنے کی فصل میں پڑی ہوئی نہ ملیں۔طاہر!نے پھرسوال داغا!اچھا بھائی یہ بتائیں کہ بچہ حلال ہے یا حرام۔اس کے متعلق معاشرتی پہلوکیاہے؟سماج میں اس کا کیامقام ہے؟بھائی یہ ہماری طرح انسان ہے ۔اس کو جینے کا وہی حق حاصل ہے جو ہم سب کوہے۔رہی بات مقام کی تو سائیں مقام خودبنانے پڑتے ہیں ،اُمید ہے یہ بھی ایک دن بنا لے گا۔اچھا چلو پھر یہ بتائیںکہ اس کا باپ اورماں کس زمرے میں آتے ہیں ؟یار ممکن ہے اُن کا نکاح پوشیدہ ہو مگر معاشرے کے خوف سے بچہ نہ پال سکتے ہوں۔لطیف بھائی !حُسن ِظن کی بھی حدہوتی ہے ۔یار وہ اتنے اچھے ہیں کہ جہنم کے ڈرسے نکاح کرلیا مگراتنی غیرت نہیں کے اپنے بچے کو بھی اپناسکیں؟یارطاہر! یہ غیرت کیاہوتی ہے؟یہ کس بیماری کانام ہے ؟اِس کی خالص انگریزی بتائو؟جی انگریزی تو نہیں ہے اِس کی۔وجہ؟طاہر!بھائی وجہ یہ ہے کہ انگریز دوسروںکے معاملات میں دخل اندازی پسندنہیں کرتے اورشاید اسی وجہ سے اُن کو غیرت کالفظ استعمال کرنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔باقی غیرت ایک عجیب فلسفہ ہے۔انسان اگراہل وعیال کو چھوڑ کر دوستوں کے ساتھ وفاکرتاہے تو بھی لوگ کہتے ہیں کہ کتنا بے غیرت ہے کہ گھر والوں کی پرواہ نہیں ۔محبوب کی خاطرسب کچھ چھوڑچھاڑکر،عزت ووقارخاک میں ملاکردولت وحشمت بھی تیاگ دے تو ایسا لمحہ بھی آتاہے کہ وہی یارِغاربھی اُسے غیرت وبے غیرت کے فلسفے سمجھانے لگتاہے۔طاہر!میرے بھائی!یہ ’’غیرت‘‘نامی فلسفے سب کے اپنے ہوتے ہیں۔۔ ۔دوسروں کی بہن کے ساتھ دوستی رکھنے والے اپنی بہنوں کو سیدزادی سمجھتے ہیں ۔دوہرے معیارنے اس معاشرے کوکھوکھلا کردیاہے۔ہم اسلام نہیں فرسودہ رسومات کے متعقدومتعرف ہیں ۔میرافلسفہ ء غیرت انسان ہے ،انسان کو جینے کا حق ملے تو وہ کیوں بے غیرت بنے گا،کوئی نہ کوئی ،کسی نہ کسی کی محبت میں اندھا ہوکرہی ’’بے غیرت ‘‘بنتاہے اوریہ لقب اُسے وہ معاشرہ عنایت کرتاہے جو پسِ پردہ طوائف کی سی صورت اپنا سب کچھ بیچ رہاہوتاہے ۔اب میں چلتاہوں ،شام پڑنے والی ہے اورمیرے بچے کو بخارہورہاہے ۔ لطیف ابراہیم بچے کو لے کرجیسے ہی گھر داخل ہوتاہے ،اُسے ہمسائے کی دیوارسے ایک مانوس سی سرگوشی سنائی دیتی ہے،جودل کے تارہلانے کے ساتھ ساتھ اُس کے چہرے کے چھبیس پٹھوں پراثراندازہوتی ہے۔اُس کے کانوں میں الفاظ گونجتے ہیں؛کتنا بے غیرت ہے ،حرام کا بچہ اُٹھالایاہے۔پھروہ مسکراتاہے اوربچے کو سینے سے بھینچ کراندرچلاجاتاہے۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *