قرض۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔سیدزادہ نعیم شاہ

Spread the love

آج شام اس قدر اداس تھی کہ کوٸ اندازہ نہ لگا سکتا تھا۔۔۔ہوا بوجھل اور کٸ انسانوں کی آنکھوں میں نمی اس بات کی طرف چیخ چیخ کر اشارہ کر رہی تھی کہ کوٸ بنی نوع حد درجہ کا بے بس تھا۔۔۔اپنے کمرے میں براج مان شیردل مفلسانہ لہجے میں اپنی شریک حیات سے مخاطب تھا۔۔۔نہایت سنجیدہ مسٸلے پر تبادلہٕ خیال جاری تھا۔۔۔
شیرو ہم نیست ونوبود ہوۓ اس کی فراخ چشمی تو دیکھو کہ ابھی فارغ التحصیل بھی نہ ہوٸ تھی کہ باپ کے نام کو ڈبو کر اس حرام زادے کے ساتھ بھاگ نکلی۔۔۔عاصمہ روتے ہوۓ بولی۔لیکن شیرو ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکا گویا حلق سے نکلنے والا لفظ اس کے لیے کسی سخت چیزکی مانند تھا جسے وہ نہ تو اگل سکتا تھا اور نہ ہی نگل سکتا تھا۔۔۔بہت دیر کی خاموشی کے بعد آخرکار اس نے بیوی سے کہا عاصمہ تم تو نورین کی پہلی اتالیق تھی تم بھی اس کے اندر کے راز کو نہ جان سکی۔۔۔؟؟؟
اس سوال پر گویا عاصمہ کے منھ پر قفل لگ گیا تھا۔۔۔وہ روتی رہی لیکن کوٸ جواب نہ دیا۔۔۔شاید قہ بھی نورین کی عادتِ اتبال سے نا واقف تھی۔۔۔شیرو بولا خیر جانی مکافات عمل تو اٹل ھے دیر سویر ھو سکتی ھے لیکن ٹل نہیں سکتا۔۔۔اس خدا کی لاٹھی بے آواز ھے۔۔۔
مکافات عمل۔۔۔؟؟؟ عاصمہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔عاصمہ میں تمھارا گناہ گار ہوں پچیس سال سے ایک راز سینے میں دفن کر رکھا تھا پر بتانے کی جسارت نہ کر سکا۔۔۔
کونسا راز شیرو۔۔۔؟؟؟ عاصمہ نے سوال کیا۔۔۔
میں تقریباً بیس سال کا عیاش و اوباش نوجوان تھا۔۔۔ہدایت ربانی سے محروم زندگی گزار رہا تھا۔۔۔والد کے کھیتوں میں دن بھر کام کرتا تھا اس اذیت کو برداشت کرتا تھا لیکن مدرسہ جانے کے لیے راضی نہ تھا۔۔۔ہمارے گاٶں میں منشی صاحب اور اسکی ایک بیٹی رہتی تھی۔رخسانہ اس وقت کی حسین و جمیل خاتون تھی۔میں نے اسے ایک مرتبہ چاچا شبیر کی شادی میں دیکھا تھا اور اس پر فدا ھو گیا ایک دن میں کھیتوں میں ہل چلا رہا تھا کہ رخسانہ سرخ لباس پہنے وہاں سے گزر رہی تھی۔اس کی ادا اس قدر دلکش تھی کہ میں ہواس باختہ ھو گیا اور اپنے ذہن میں اس کی قربت کے سہانے خواب سجانے لگا۔۔۔اب وہ روز وہاں سے بن ٹھن کر گزرتی اور اس کے پیچھے ایک سیوک اس کی رکھوالی کے لیے تعینات ہوتا۔ایک روز وہ اکیلی وہاں سے گزر رہی تھی کہ جب میں نے اس کی طرف نظر دوڑاٸ تو وہ کھڑی مجھے تکتی ھوٸ مسکرا رہی تھی۔مجھے اپنا راستہ ہموار لگا اور میں اس کے قریب جا پہنچا۔۔۔وہ شرم سے پلکیں جھکا کر کھڑی تھی۔میں اسے کھیت کے ایک کچے مکان کی طرف لے جانے لگا اور اس نے بھی کوٸ مخالفت نہ کی۔چپ چاپ میرے قدموں کی چھاپ پر چلنے لگی۔مکان میں داخل ہوتے ہی میری شہوانی قوت جوش میں آنے لگی۔اور وہ بھی اسی حالت سے دو چار ہو کر موم کی طرح پگھلنے لگی۔میں نے اپنا ہاتھ اس کے شانے پر رکھا اور لمس کی حدت سے وہ پھولی پھولی سانسیں لینے لگی۔رات میری آغوش میں سونے کے بعد جب صبح ہوٸ تو سارے گاٶں میں تہلکہ مچا ہوا تھا کہ منشی کی بیٹی کل سے غاٸب ہے مجھے اپنی جان کے لالے پڑنے لگے۔۔۔
میں نے اسے اپنے ہمراہ لیااور چندی گڑھ جا پہنچا۔وہاں جا کر مجھے علم ہوا کہ رخسانہ تپ دق کے عارضہ میں مبتلا تھی۔اس بات کے معلوم ہوتے ہی مجھے اس سے گھن محسوس ہونے لگی۔وہ محبت کا جذبہ جو کل رات تک عروج پر تھا آج دن چڑھتے ھی ماند پڑ گیا۔ایک لمحہ کے لیے مجھے محسوس ہوا کہ گویا میں ہوس پوری کرنے تک کا طالب تھا۔وہ راستہ جس پر میں نے رخسانہ کے ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا وہ ایک ٹھوکر لگتے ھی سرے سے محبت کا جذبہ ختم ھونے لگا۔۔۔میں نے اس سے پہیچھا چھڑانے کی ترکیب لگاٸ تو سامنے ایک ادھڑ عمر کے حکیم کی دکان تھی۔میں نے رخسانہ کو جھوٹی تسلی دے کر اس بات کا یقین دلایا کہ اس کا علاج کرواٶں گا۔اس وجہ سے ہی اسے حکیم کے پاس لے کر جا رہا ہوں۔وہاں لے جاتے ہی میں نے رخسانہ سے کہا رخسانہ تم یہیں بیٹھو میں رقم کا انتظام کر کے آیا۔وہاں رخسانہ کو آخری مرتبہ دیکھنے کے بعد میں نے دہلی کا رخ کیا اور واپس کبھی چندی گڑھ نا گیا۔۔۔مجھے یقین ہے کہ رخسانہ نے بد دعا نہ دی ہوگی لیکن شاید اسکا صبر اور آنسوٶں کی تپش اس قدر تھی کہ مکافات عمل کی تکمیل کر کے ہی دم لیا۔۔۔
شیرو جو اب تک غم کی شدت سے نڈھال ہو چکا تھا۔چشم نم سے چشمہ اتار کر کہنے لگا۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔عاصمہ یہ ایک قرض تھا جو اتر گیا۔۔۔ایک بہت بڑا قرض۔۔۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *