دھمال ۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

دھمال

مسکرارہے ہو؟؟توکیا تم مجھے روتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو؟ارے!ارے!آنسو کیوں؟میں نے کب کہا میں مسکرائوں توتُم اپنے چہرے کوترکرلو؟میں ؟میں؟میں کیوں رونا؟نہیں !نہیں!آپ کوغلط لگا،بالکل غلط لگا،صریحاغلط،سوفیصدغلط،خلط ملط کردیاجناب نے ۔کیا؟سب کچھ۔پھربھی ؟نہیں نہیں نہیں ایساکچھ بھی نہی جیساتمہارا اُتراہواچہرہ دستِ سوال دراز کئے ہوئے ہے۔میں ؟میں؟میں سوال کیوں کرنا؟ارے !سُن میرالہجہ مت اپنا.۔کیوں بے کیاہوجائے گا؟پھرتوبھی روئے گا،یہ سنسارتجھے رلائے گااورخود مسکرائے گا،سقراط سے لے کراحمدبن حنبل تک۔ابن ِرُشدسے الِکندی تک سب پرپھرتُوترس کھائے گا،کوئی نہیں تجھے پوچھنے آئے گا۔روہی کے شاعرکے بقول
مُنہ دھوڑ ،مٹی سرپائیم
ساراننگ نمودونجایم
کوئی نہ پچھن ویڑے آیم
ہتھوں اُلٹاعالم کِھلدا
کبھی توں مسجدنبوی میں ٹاپوں کی آواز سے لرزجائے گاتوکبھی تیرے لاشے کوکئی دن کعبے کے سامنے ظالم لٹکائے گا،کبھی توں ابوالحسن اشعری وابوحامدغزالی جیسے فلاسفرز کی طرح دُھتکاراجائے گا توکبھی تُجھے اناالحق کی صداپرسولی چڑھناپڑے گا۔ ۔مجھے رُلائے گا؟مُجھے سولی چڑھائے گا؟ہاہاہاہا۔ہم چکر نہ بھی دیں تولوگ چکراکررہ جاتے ہیں۔ہم جب چاہیں کسی کولات مارکرراستے سے ہٹادیں اورآپ ہیں کہ ہم ہی کو اس دنیاسے خوف دِلارہے ہیں۔نہیں ،نہیں بالکل بھی نہیں۔خوف نہیں دِلا رہا بلکہ بتارہاہوں ۔بس!بس!اپنے پاس رکھئے اپنے فلسفے۔ارے !یہ فلسفے نہیں ہیں۔توپھرکیاہیں؟یہ ہوجائے گاوہ ہوجائے گا۔یوں نہ کرویوں کیاکرو،یہ سب،یہ سب کیاہے؟کیوں اُٹھتی جوانی کوروگ لگابیٹھے ہو؟اتنا کیوں سوچتے ہو؟دماغ نہیں پھٹتا؟میں توکبھی کبھاربہت بورہوجائوں تیرے پہلومیں ۔مگربولوں ناہی کہ منہ سوج جاوے گاتیرا۔بس چپ چاپ سہے جائوں ۔اچھا!توپھر اورکیاکیاسہتے ہو؟یابس دریاکی طرح بہتے ہو؟یاشاعرکی طرح غزل کہتے ہو؟نہ سائیں بابا!ہم کچھ نہ کہوے۔تیراکیاہے ،بولے جاوے بولے جاوے ۔ جب بولے توکن پک جاویں ،سماعت تھک جاوے ،لفظ مُک جاویں مگرتوں بولے جاوے بولے جاوے ،ذرانہ رحم کھاوے کہ کوئی معصوم تیری خاطر سب چھوڑآوے۔یار اِدھرہویہ تھارے دامن میں کیالاگے رے؟ہائےربا!یہ کیسا داغ ہے بے؟توتوکبھی ٹِکی نہ بنائی۔یہ توایسالگے ہے کہ کسی نہ تیرے کوکڑاھامیں ڈالاہو،یا چھماکے سے بوہتاساراتیل تھارے دامن کوبھگوگیاہو،ساڑگیاہو،بوآرہی بے۔کیاماجرارے؟بول بولتاکیوں نہیں۔بڑابدنما۔بھدا۔عجیب سابالکل۔داغ پک گیالگتا۔اب کے سرف ایکسل بھی نہ دھوپاوے۔بول کاکرے ہے آج کل؟ماں کی جگہ پکوڑے تونہیں تل رہیا؟یاباپ کی طرح جلیبی کادُکان بنالیا؟سالے!بولتاہی نہیں۔اچھا!سُن ۔اِدھرآناں۔داغ کاحل بولوں۔آہ۔۔آہ۔۔ابے کاہوا؟دوائی ناہی لی کیا؟سرکیاہلاوے؟کچھ زخم بِناداروکے ہوتے ہیں پیا۔کادوائی۔۔۔۔ کامسیحا۔تو بغیرداروکے توں ٹھیک ہوجاوے گا؟ابے رب کی کائنات میں سب کچھ کسی وجہ کے ہووے ہے۔بغیروجہ کچھ نہیں ۔کل میں دارواماں کودیاتوپُڑیا پرابن ِرُشدکاجملہ پڑھاکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ انسان کوعقل دے اورپھر اُس کے خلاف شریعت اُتاردے۔اب سرکیاہلاوے ہے۔بول ،بول، بول،بولتاکیوں نہیں یار۔اچھاکل اِس داغ کومٹاکہ آئونا۔ناہیں ،ناہیں،دس من کا سرہلارہیا،جبان ناہی ہلتی،پھالج تونہیں پڑگیاتیری بولتی پے۔چل میرے ساتھ بابے کی دھمال ڈالیں سکون آوے گاتجھے۔شام کو جب ملنگ اللہ اللہ کانعرہ مارکے دھمال ڈالتے ہیں توسینکڑوں دُکھیارے اپنے دردکامداواپاتے ہیں۔دُکھ بھول جاتے ہیں بقول قلندر
توں آں قتل کہ از بہرتماشاخونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)
ہاں!ایسے۔ایسے ،ایسے۔میرے کودیکھ ناں۔ایسے،ہاہابالکل ایسے ۔میں ہنسوں تو تھارابوتھاسوج کیوں جاوے؟تھاری بولی بھی pidginکی ماسی لگے ،مالک کرے یہ creoleمیں بدلے پھر de-crealizationکاعمل بھی جلد ہی ہووے۔ہاہاہانہ بائو نہ۔ڈی کریولائزیشن اینی چھیتی نہ۔اچھادھمال۔دھمال۔سُن وڈے ملنگ کی صدا ۔اللہ،اللہ ،اللہ ،اللہ ھو۔اللہ ،اللہ،اللہ ،اللہ ھو۔گونج۔۔۔دُکھ دیوے خود،دُکھ لیوے توں کھود،بابے کے دھمالیو،ذراجورسے ڈالیو،رب سائیں رحمت کابھانبھڑبالیو۔نیڑے کوئی نہ آلیو۔سب دُورکی کہانی پالیو۔دُکھ دیوے خود،دُکھ لیوے توں کھود۔اللہ ،اللہ ،اللہ ،اللہ ھو۔اللہ،اللہ،اللہ،اللہ ھو۔
چل ۔ناہی۔چل ناں،ناہی۔چل بے۔نہیں بے۔کیوں؟توں داغ دیو،باباواپس لیو۔اب ہم نہ مُڑکے آیو۔رے سچی پا؟پرتومجھے کیوں چھوڑریو؟میں ہی تجھے لایا،میں ہی دھمال پوایا۔آخرمیں میرے کوہی توں بیچ دوراہے چھوڑریا۔ناہی،ناہی ،ناہی۔۔۔اللہ اللہ اللہ،اللہ ھو۔اللہ ،اللہ،اللہ۔۔اللہ ھو۔۔۔دُکھ دیوے خود،دُکھ لیوے کھود۔اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ ،اللہ ھو۔توں بال مسیتی کھولا،میں بالیامن داچولا،توں واجاں حورنوں ماریں،دھمالی راجہ حجورنوں ماریں،توں وڑیاریاکعبے،چمڑی لاہ دتی بابے،توں پھولیں عملاں دی پٹاری، ایتھے مردے نفس دے پجاری ،تیری تسبیح وچ دانے ہون ہزاری،ایتھے چوربندے نیں قُطب تے حواری،اللہ اللہ اللہ ۔۔۔اللہ ھو۔اللہ اللہ اللہ،اللہ ھو۔

Facebook Comments

3 thoughts on “دھمال ۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. An excellent contribution and different style with open and covered tinge of thoughts outstanding performance in the areas of absurdity

    1. سر حوصلہ افزائی پرممنون ہوں ۔یہ سب آپ کی راہنمائی اور دعائوں کی بدولت ہے۔بہتری کی کوشش کر رہا ہوں ۔طفل مکتب ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *