Meri kainaat h wo………از …….اقرا ریاض ملک

Spread the love

میرا تعلق جس خاندان سے تھا وہاں لڑکیوں کی زیادہ تعلیم کو غیر مناسب سمجھا جاتا تھا، باپ ایک سرکاری دفتر میں معمولی سا ملازم اور ماں گھریلو خاتون تھی۔ ابو کے سخت مزاج اور گھر کے سربراہ ہونے کے باعث گھر میں کوئی بھی بات ان کے مزاج کے خلاف کرنا ممنوع تھی۔بچوں کی اعلی تعلیم ان کا خواب تھا مگر غربت اور خاندان کی پابندیوں کی وجہ سے ان کو اپنے خواب صاف چکنا چور ہوتے نظر آرہے تھے۔

میرا میٹرک کا رزلٹ آیا تو میں نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی اور میری مزید تعلیم ابو کے بس میں نہ تھی مگر مجھے شروع سے کسی آفس میں جاب کرنا تھی اور اگر بینک کی جان مل جاتی تو سونے پہ سہاگہ ہو جاتا۔ ابو اپنے خواب تو دل میں ہی دبائے بیٹھے تھے مگر میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی تھی میں چونکہ سب سے چھوٹی بیٹی ہونے کے ساتھ لاڈلی اور ضدی بھی تھی بھوک ہڑتال بھی کی کہ ابو کو میری ضد کے آگے ہار ماننی پڑی اور انہوں نے مجھے آگے پڑھنے کی اجازت دے دی بینک میں نوکری کے لیئے مجھے کامرس پڑھنی تھی۔ مجھے اجازت تو مل گئی مگر گھر کے مالی حالات کچھ خاص نہ تھے کہ میری کالج کی پڑھائی کا خرچ برداشت کیا جا سکے تو مجھے پرائیوٹ ہی تعلیم جاری رکھنے کو کہا گیا مگر میرے مضامین ایسے تھے کہ مجھے کسی استاد کی اشد ضرورت تھی۔ ابو نے مجھے پاس میں ہی ایک ٹیوشن جانے کی بھی اجازت دے دی، نہ ہی وہ ایک نامور اکیڈمی تھی اور نہ ہی وہاں اسٹوڈنٹس کی کثیر تعداد تھی۔ شروع میں جب میں نے ٹیوشن جانا شروع کیا تو میرے علاوہ صرف دو ہی لڑکے میری کلاس کے تھے تو ہم تینوں کی اچھی دوستی بھی ہو گئی۔

کچھ ہی دنوں میں اسٹوڈنٹس کی تعداد بھی بڑھ گئی مگر احمد اور طلال شروع سے میرے ساتھ تھے تو میری اسٹوڈنٹس سے کچھ خاص دوستی نہ ہوئی، مجھے کسی قسم کی بھی ہیلپ چاہیے ہوتی کوئی کتاب یا کوئی نوٹس میں طلال یا احمد سے کہتی۔ طلال میرا ہم عمر تھا مگر احمد مجھ سے بڑے تھے، جس طرح وہ مہذب،سنجیدہ اور شریف انسان ہونے کے ساتھ مجھ سے بڑے بھی تھے تو مجھے ان کو ان کے نام سے بلانا مناسب نہ لگتا تھا تو میں ان کو احمد بھائی کہہ کر بلایا کرتی تھی۔ جبکہ طلال تھا تو شریف فیملی کا نوجوان لڑکا مگر ہنسی مذاق شرارت کرنا اس کی صفات میں شامل تھا شاید اسی وجہ سے میری طلال سے زیادہ دوستی تھی۔

یونہی وقت گزرتا گیا امتحانات بھی قریب تھے تو اب کلاس نہ ہوتی بلکہ ریگولر ٹیسٹ شروع ہو گئے۔ ایک دن ٹیسٹ کے دوران میں ٹیسٹ لکھنے میں مصروف تھی جب مجھے لگا کہ میرے سر پر کوئی کھڑا ہے میں نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو مس رومانہ نے مجھ سے میری کتاب مانگی، میں پہلے حیران ہوئی مگر کتاب دے کر دھیان سے دوبارہ اپنا ٹیسٹ لکھنے بیٹھ گئی۔جیسے ہی ٹیسٹ ختم ہوا اور میں کمرے سے باہر آئی تو مس رومانہ نے مجھے اپنے دفتر بلوا لیا اور پوچھا
” یہ کتاب دیکھیں، کیا یہ کتاب آپ کی ہی ہے؟”

میرے مثبت میں سر ہلاتے ہی انہوں نے ایک لفافہ مجھے تھما دیا اور غصے میں مجھ سے اس لفافے میں موجود خط کے بارے میں پوچھنے لگیں جسے دیکھ کر میرے رنگ اڑ گئے، مس کے کہنے پر جب میں نے خط کھول کر پڑھا تو اس میں لکھا تھا،

“آداب !میری عالیہ میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں، میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا تھا مگر یہ محبت اب عشق میں بدلتی جا رہی ہے پلیز میری محبت کو قبول کر لو اور مجھے میری محبت کا جواب اپنی محبت سے دو۔ ٹیوشن کے باہر سبز میز کے نیچے اپنا جواب لکھ کر رکھ دو۔ میں تمھارے جواب کا انتظار کروں گا۔
فقط
تمہارا عاشق”

یہ خط پڑھتے ہی میرا دل چاہا کہ بس زمین پھٹ جائے اور میں اس میں دفن ہو جاؤں مگر اس وقت میں اپنی صفائی میں بس اتنا کہہ پائی کہ میں نہیں جانتی کہ یہ کس کا ہے اور کس نے کیوں کس کے لیئے رکھا ہے مگر مس شدید غصے میں بولیں،

” یہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ یہ کتاب آپ کی ہے تو اس کتاب میں موجود ہر شئے آپکی ملکیت ہوئی ناں، کیا آپ یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ یہ خط میں نے خود رکھا ہے یا یہ آپکے خلاف کوئی سازش ہے؟ جب کسی چور کی چوری پکڑی جاتی ہے ناں تو وہ ایسے ہی بہانے بناتا ہے۔ آپکو میں ایک سمجھدار اور شریف لڑکی سمجھتی تھی، یہ ہے آپکی شرافت؟یہ کام کرنے کے لیئے آپ یہاں آتی ہیں؟ ایک بار بھی اپنے غریب اور بوڑھے باپ کا خیال نہیں آیا آپ کو؟”

میں یہ سب سنتے ہی رونے لگی اور بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ میں نہیں جانتی کہ یہ خط کس نے اور کب رکھا مگر مس کو میری بات پر ذرا بھی یقین نہ آیا۔ خیر رو دھو کر انکو اپنی صفائی پیش کرنے کی ناکام کوشش کر کے میں آفس سے باہر نکلی تو پوری ٹیوشن میں اسی بارے میں باتیں ہو رہی تھیں کوئی کہتا اس کا محبت نامہ پکڑا گیا تو کوئی کہتا دیکھنے میں تو شریف زادی لگتی تھی ہمیں تو گھاس ہی نہیں ڈالتی تھی تو جواب میں کسی نے کہا عاشق منع کرتا ہوگا ناں، ان کے قہقہوں کی گونج سے میرا سر پھٹنے لگا۔ یہ میرے لیئے نہایت ہی شرمندگی کی بات تھی مگر گھر میں اس بات کا ذکر کسی سے بھی نہ کر سکتی تھی نہ ہی ٹیوشن چھوڑ سکتی تھی بس میں ہر وقت اداس اور پریشان رہنے لگی۔ ٹیوشن میں بھی گھر میں بھی کسی سے میں زیادہ بات نہ کرتی۔

احمد بھائی کی میں بہت عزت کرتی تھی کسی اور سے بات نہ بھی کرتی تو ان سے بات کر لیا کرتی۔ایک دن احمد بھائی میرے پاس آئے اور کہنے لگے،
“عالیہ ! مجھے اپنا بڑا بھائی مانتی ہو ناں؟ تو سچ سچ بتاؤ کیا تمہیں واقعی نہیں معلوم کہ تمہاری کتاب میں خط کس نے رکھا تھا؟”
میرے نفی میں سر ہلاتے وہ بولے،
“اگر میں تمہیں بتاؤں کہ یہ خط کس نے رکھا، تو کیا تم میری بات پر یقین کر لو گی؟”

میرے غصے کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں نے اس گھٹیا انسان کو نا جانے کتنی گالیاں دے دیں مگر جب میں چپ ہوئی اور ان سے اس کا نام پوچھا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ نہیں جانتے بس مذاق کر رہے تھے جس کو میں سچ سمجھ کر ان کے سامنے ان گنت گالیاں دے چکی تھی۔ اس دن طلال ٹیوشن نہیں آیا تھا مگر اگلے دن جب وہ آیا تو اس کا برتاؤ کچھ بدلا بدلا سا تھا میرے بار بار پوچھنے پر اس نے بس یہ کہہ کر بات ٹالی کہ دو دن سے طبیعت نہیں ٹھیک۔

امتحانات شروع ہونے والے تھے اور یہ ٹیوشن میں ہمارا آخری دن تھا، مس رومانہ باقی ٹیچرز کی ہیڈ تھیں تو انہی سے بات کر کے ٹیسٹ کے بعد دوستوں کے ساتھ مستی کے لیئے کچھ فارغ وقت مانگا۔ میری کلاس میں چونکہ میں اکیلی لڑکی تھی تو میری باقی مضامین کی کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ بھی اچھی دوستی تھی۔ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ تھی اور طلال لڑکوں کے ساتھ مگر اس شرارتی مستی پسند طلال کا برتاؤ اس دن قدرے عجیب تھا اس کا سارا دھیان میری طرف تھا اس دن اس کی آنکھوں میں کچھ الگ سی کشش تھی جو مجھے اس کی طرف کھینچ رہی تھی اتنے ہجوم کے ہوتے ہوئے بھی ہم دونوں کے دل و دماغ کہیں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک میری سہیلی نے بتایا،
“عالیہ، تمہارے ابو تمہیں لینے آئے ہیں”

میں اپنا بیگ لینے کلاس میں گئی تو طلال میرے پیچھے آگیا، اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جسے میری طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا،
“عالیہ! اس کاغذ پر میرا نمبر لکھا ہے پلیز گھر جا کر مجھے کال کرنا، مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے، میں تمہاری کال کا انتظار کروں گا”

میں نے جیسے ہی اس سے وہ کاغذ پکڑا وہ کلاس سے باہر چلا گیا اور میں کاغذ بیگ میں چھپاتی ٹیوشن سے گھر آگئ مگر میرا دماغ بس اسی سوچ میں الجھا رہا کہ آخر طلال نے مجھے کیا بتانا ہو گا میں بھی انتظار نہ کر پا رہی تھی اور اس سے جلد از جلد بات کرنا چاہتی تھی مگر موبائل فون تو میرے پاس تھا نہیں اور گھر کا فون امی ابو کے کمرے میں ہوتا تھا جس کو استعمال کرنے کی اجازت ہمیں نہیں تھی۔ آپی جو کہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں اور موبائل فون بھی صرف انہی کے پاس تھا کیونکہ وہ نوکری کرتی تھیں میں نے آپی سے فون مانگا کہ مجھے دوست سے نوٹس کے بارے میں بات کرنی ہے تو پہلے انہوں نے منع کیا مگر میرے بار بار کہنے پر انہوں نے فون دے دیا، میں نے جلدی سے طلال کا نمبر ملایا اور چھت پر چلی گئی۔

طلال کے فون اٹھاتے ہی میں نے پہلا سوال یہی کیا کہ بتاؤ کیا بتانا تھا جس پر وہ ہنسنے لگا اور بولا،
“بتا دیتا ہوں، پہلے سلام دعا تو کر لو، اتنی جلدی کیا ہے پگلی؟”
مگر میں تھوڑی گبھرائی ہوئی بولی،
“میرے پاس سلام دعا کا وقت نہیں ہے، یہ میری آپی کا نمبر ہے بڑی مشکل سے ان سے مانگ کر لائی ہوں اس لیئے زیادہ بات نہیں کر سکتی”

تو اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،
“تمہیں یاد ہے عالیہ، تمہاری کتاب سے ایک خط ملا تھا، وہ کس نے رکھا تمہیں آج تک معلوم نہیں ہوا۔”

میں اس کی بات کاٹتے ہی بولی، ” تمہیں پتہ ہے تو بتاؤ ناں طلال کہ وہ حرکت کس کی تھی میں اب تک اس بات کو لے کر پریشان ہوں۔”

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد طلال نے بتایا کہ وہ خط اس نے رکھا تھا۔جیسے ہی میں نے یہ سنا میں بے اختیار بولی،
“طلال تم؟ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟ میں تو تمہیں نہایت شریف اور اچھا لڑکا سمجھتی تھی”

تو وہ بولا،
“کیا شریف لڑکے کو کوئی پسند نہیں آسکتی ؟ کیا شریف لڑکے کسی سے پیار نہیں کر سکتے؟”

مجھے اس کے منہ سے یہ سب سن کر بہت عجیب لگ رہا تھا کیونکہ مجھے اس سے اس حرکت کی امید کبھی نہ تھی میں شروع سے اسے شریف لڑکا سمجھتی تھی جو میرے علاوہ کسی بھی لڑکی سے بات نہ کرتا تھا، مجھ سے بھی صرف اس لیئے کہ ہم شروع سے ساتھ تھے اور میں اسکی کلاس میں اکلوتی لڑکی تھی جو تھوڑی لائق اور پڑھاکو بھی تھی۔

میرے پاس زیادہ وقت تو نہیں تھا تو میں نے اس کو یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ اس نمبر پر دوبارہ فون مت کرے اور آج سے وہ میرا دوست بھی نہیں۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا جب اسکا کوئی فون اور میسج نہ آیا تو میں نے آپی کو فون واپس دے دیا اور سونے چلی گئی مگر میرے ذہن میں صرف طلال اور اسکی باتیں چل رہی تھیں مگر میری نیند تو جیسے کوسوں دور بھاگ گئی تھی سونے کی ناکام کوشش پر بھی جب نیند نہ آئی تو میں پڑھنے لگ گئی، مگر یہ کیا عجیب سی حالت تھی، نہ ہی نیند آئی نہ ہی پڑھا گیا۔ آنکھیں بند کرتی تو طلال کا چہرہ آنکھیں کھولتی تب طلال کا چہرہ، میں نہیں جانتی تھی کہ جب میں اس سے اتنا غصہ ہوں پھر اسکا خیال دماغ سے کیوں نہیں جا رہا۔ بڑی مشکل سے رات کاٹی اور اللہ اللہ کر کے صبح ہو گئی۔

صبح تو ہو گئی روزمرہ کے کام بھی جاری رہے پر دماغ سے طلال کا خیال نہ گیا مگر نہ میں نے اس سے رابطہ کیا نہ اس نے مجھ سے رابطہ کرنے کہ کوشش کی کچھ دن ایسے ہی گزرے کہ اچانک آپی کے نمبر پر میرے لیئے کال آئی میں نے جیسے ہی طلال کی آواز سنی تو چونک گئی، اور وہ فون پر بس یہی بولے جا رہا تھا،
“پلیز مجھے معاف کر دو، دوستی تو ختم نہ کرو، آئندہ میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا مگر عالیہ پلیز دوست بن کر تو بات کر لیاکرو۔”

چونکہ آپی ساتھ تھیں تو میں زیادہ بات نہ کر پائی اور بس اتنا کہا کی میں ابھی پڑھ رہی ہوں فری ہو کر بات کروں گی۔ وہ بھی سمجھ گیا کہ میرے ساتھ کوئی ہے تو اس نے بھی رات کو فون کرنے کا بول کر فون بند کر دیا۔ میں نے آپی کو فون تو دے دیا مگر یہ فکر لگ گئی کہ رات کو بات کیسے کروں گی آپی سے موبائل کیسے مانگوں گی۔

خیر میں نے اپنی سہیلی کی سالگرہ کا بہانہ بنایا اور اسکو سالگرہ کی مبارک دینے کے لیئے فون مانگا آپی پہلے غصہ ہوئیں مگر پھر تھوڑی دیر کے لیئے فون دے دیا۔ موبائل ملتے ہی میں نے طلال کو میسج کیا تو اس نے فورا کال کا پوچھا، میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میسج کرو کال نہیں آپی ساتھ سو رہی ہیں۔ اس نے میسج پر بھی معافیاں مانگیں اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی بات نہیں کرے گا جو دوستی کی لائن کراس کرے بس اس کو اپنی دوست واپس چاہئیے اور شاید میں بھی اس سے بات کیے بغیر نہیں رہ پا رہی تھی میں نے اس کو معاف کر دیا اور ہر روز رات کو میں آپی کے سو جانے کے بعد آپی کے موبائل سے طلال سے باتیں کرتی۔

طلال سے روز بات ہوتی رہی اور مجھے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی عادت ہوگئی۔ امتحانات شروع ہوئے تو میں دیر تک پڑھائی کے بہانے سے اس سے دیر تک باتیں کرتی۔ کبھی ابو کبھی آپی اور کبھی بھائی کے موبائل سے اس کو میسج کرتی اور دوبارہ اس نمبر پر رابطہ نہ کرنے کا بھی کہہ دیتی اور وہ دوبارہ خود سے رابطہ نہ کرتا۔ اسی اثنا میں امتحانات بھی ختم ہوگئے جب رزلٹ آیا تو میں جو بہت اچھے نمبر لیا کرتی تھی اس امتحان میں بہت ہی کم نمبروں سے پاس ہوئی جس کی وجہ سے گھر والوں سے بہت باتیں بھی سنیں کیونکہ ہماری اچھی تعلیم ابو کا خواب تھا اور انہوں نے خاندان کے خلاف جا کر غربت میں بھی مجھے آگے پڑھنے کی اجازت دی تھی۔

رزلٹ کے بعد پھر سے ٹیوشن جانا تھا مگر ابو نے منع کر دیا کہ اس غربت میں پورے سال کی ٹیوشن کی فیس نہیں بھر سکتے چونکہ میں نہیں جا سکتی تھی تو طلال نے بھی ٹیوشن جانے سے منع کر دیا۔ہمیں فون پر بات کرتے کب تین مہینے گزر گئے پتہ ہی نہ چلا۔ اچانک اس نے بتایا کہ وہ اپنے گاؤں جا رہا ہے اور وہ ہفتے بعد آئے گا چونکہ گاؤں میں موبائل سگنل بہت کم ہوتے ہیں تو ہمارا رابطہ نہیں ہوگا۔ جیسے ہی اس نے یہ بتایا میرا دل چاہا میں رو دوں اس کو روک لوں کہ وہ گاؤں مت جائے اتنے دن اس سے بات نہ ہو پانے کا خیال ہی مجھے توڑ رہا تھا مگر میں نے اس کو جانے دیا۔

طلال کے جانے کے بعد پورا ہفتہ مجھ پر ایک عذاب کی طرح گزرا اسکی نہ ہی کوئی کال آئی نہ ہی کوئی میسج اور جب بھی میں کال کرتی تو موبائل بند ہوتا میرا دل گبھرانے لگا کہ کہیں وہ مجھے ہمیشہ کے لیئے تو چھوڑ کر نہیں چلا گیا عجیب سا ڈر عجیب سی پریشانی تھی۔ پورے ہفتے بعد رات کو اس کا میسج آیا کہ وہ ابھی گھر پہنچا ہے تھوڑا آرام کر کے بات کرے گا۔ اسکے اس ایک میسج سے دل کو سکون ملا اور میں اس کے میسج کا انتظار بے صبری سے کرنے لگی مگر اس کا میسج نہ آیا میں اس کو بار بار میسج کرتی رہی مگر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو رونے لگی اور روتے روتے سو گئی۔
اگلی صبح بھی اس کا میسج نہ آیا تو میں نے میسج کیا،
“طلال بات نہیں کرنی تھی تو بول دیتے اس ڈرامے کی کیا ضروت تھی؟”
تو اس کا جواب آیا کی وہ تھک گیا تھا تو سو گیا اور میں نے ایک بار پھر اس کا یقین کیا اور اسکو معاف کر دیا اور پہلے کی طرح بات کرنے لگی۔

کچھ ہی عرصے بعد میں دوبارہ اسی ٹیوشن جانے لگی میں نے ٹیوشن جانا شروع کیا تو طلال اور احمد بھائی نے بھی ٹیوشن دوبارہ سے آنا شروع کر دیا۔ اب احمد بھائی بھی جانتے تھے کہ میں اور طلال فون پر بات کرتے ہیں۔ ٹیوشن میں طلال سے روز ہی ملاقات ہو جایا کرتی تھی جو میرے لیئے خوشی کی بات تھی۔وہ ہر وقت مجھے دیکھتا رہتا اور میں بھی نظریں چرا کر اس کو دیکھ لیا کرتی تھی۔ مجھے اس کی بہت بری عادت ہونے لگی تھی ٹیوشن وقت سے پہلے جا کر طلال کے آنے تک نظریں دروازے میں جمائے رکھنا میرا معمول بن گیا تھا۔ وہ آتا تو ایسا لگتا کہ میری سانس بحال ہو گئی۔

وقت گزرتا گیا اور ویلنٹائن ڈے پر پورے بارہ بجے اس نے مجھے پروپوز کر دیا اس بار مجھے برا نہ لگا بلکہ ایسا لگا کہ جیسے میں خود یہ سننے کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی اس نے جواب مانگا تو میں نے ٹیوشن میں آکر جواب دینے کا بول دیا مگر ابو کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے میں ٹیوشن نہ جا سکی۔رات کو جب میں نے اس کو میسج کیا اور معافی مانگی تو اس کا ایک نیا ہی روپ میرے سامنے آیا جس سے میں ناواقف تھی اس نے مجھے بہت برا بھلا بولا کہ میں سمجھتی کیا ہوں خود کو، وہ میرا انتظار کرتا رہا اور میں نہیں گئی۔ اس نے غصے میں فون بند کر دیا اور جو محبت ابھی ابھی پروان چڑھی تھی میں اس محبت کو کسی بھی حال میں ختم ہونے نہیں دینا چاہتی تھی اس لیے میں نے اس سے معافیاں مانگیں کہ ہاں میری غلطی ہے کم از کم میں بتا دیتی مگر وہ نہ مانا اور بنا بات کیئے سو گیا مگر میں ساری رات روتی رہی جب صبح ہوئی تو اس کا سوری کا میسج دیکھ کر میں سب بھول گئی اور اس طرح ہماری دوستی محبت میں بدل گئی۔

میری محبت دن بدن شدت اختیار کرنے لگی مجھے ایسا لگتا کہ میں اس کے بنا ادھوری ہوں۔ وہ تھا تو عام شکل و صورت کا مالک اور میں دیکھنے میں اچھی شکل کی پھر بھی میں نے کبھی اس بات کو نہیں سوچا مگر طلال وقت کے ساتھ ساتھ احساس کمتری کا شکار ہوتا چلا گیا۔
وہ بات بات پر یہی کہتا کہ میں یہ نہ سمجھوں کہ میں پیاری ہوں تو وہ میری ہر بات مانے گا۔وہ خود کو چودھری کہتا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ اصلی مرد تو وہی ہے جو عورت پر حکمرانی کرے۔میں اس کی ہر بات ماننے لگی تھی وہ جس بات سے منع کرتا میں رک جاتی وہ کہتا بال نہ کٹواؤ میں نہ کٹواتی اس کے کہنے پر میں نے حجاب لینا شروع کیا میک اپ کرنا چھوڑا، ہر وہ کام کرتی جو اس کو پسند ہوتا۔

ایک دن اس نے مجھے ٹیوشن میں الگ کمرے میں بلایا کہ مجھ سے اکیلے میں بات کرنی ہے میں چلی گئی تو اس نے ایک خوبصورت انگوٹھی دی اور اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ مجھے خود پہنائےگا جب میں نے منع کیا تو اس نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی مگر میں ہاتھ چھڑا کر باہر بھاگ آئی اور اس بات کو اس نے اپنی بے عزتی سمجھ لیا اور مجھ سے کافی دن ناراض رہا۔
اسی دوران ہمارے امتحانات بھی آ گئے اور چھوٹی چھوٹی بات کو لے کر ہماری بحث ہونے لگی اور وہ بحث جھگڑے میں بدل جاتی۔امتحانات کے دوران بھی ہماری لڑائی ہی رہتی اور میں امتحان کی تیاری کے بجائے یا تو اسکو مناتی یا روتی رہتی۔رزلٹ آیا تو اس بار بھی میں نے کچھ خاص نمبر نہ لیئے مگر چونکہ مجھے بینک میں جاب کرنا تھی تو میں نے ابو کو مشکل سے منایا اور کالج میں داخلہ لے لیا جبکہ طلال کو لڑکیوں کا کالج جانا پسند نہ تھا۔اسی روٹھنے منانے میں وقت گزرتا رہا ۔

اچانک ایک دن اس نے مجھے اپنی یونیورسٹی میں ملنے کے لیئے بلایا میں نے منع کیا اور وہ ہمیشہ کی طرح ناراض ہو گیا اور میں نے ہمیشہ کی طرح اس کو منا لیا اور اس کی سالگرہ پر اس سے ملنے کا وعدہ بھی کر لیا۔اس کی سالگرہ پر میں کالج سے اس کے پاس چلی گئی یہ دن اس کا تھا مگر اس نے وہ لمحات میرے لئے حسین اور یادگار بنا دیئے ۔

میں اس سے محبت کے ساتھ ساتھ اس پر اندھا اعتبار بھی کرنے لگی ہر نماز میں تہجد میں اسکو مانگنے لگی یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کرنے کا رواج نہیں پھر بھی میں اس کو جنون کی حد تک چاہنے لگی۔ میں ہر ایک بات اس کو بتاتی میرے خاندان میری سہیلیوں سب کے بارے میں وہ سب جانتا تھا حتی کہ سب کے موبائل نمبرز بھی اس کے پاس تھے۔ ہمارے رشتے کو تقریبا تین سال ہو چکے تھے وہ مجھے یقین دلاتا رہتا تھا کہ وہ تعلیم مکمل کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کہ بعد مجھ سے شادی کرے گا۔

خاندان میں شادی تھی مگر میں کالج کے ٹیسٹ کی وجہ سے نہ جا سکی طلال کو معلوم ہوا تو اس نے گھر آنے کی ضد کی اور میں بھی خود کو نہ روک پائی اور اس کو بلا لیا۔ وہ کچھ ہی لمحوں میں میرے گھر کے سامنے تھا۔ میں نے اس کو اندر بٹھایا ہم نے اکٹھے چائے پی اور ڈھیروں باتیں کیں اسی دوران اس نے بہانے بہانے سے کئی بار مجھے چھونے کی کوشش بھی کی میں نے منع کیا مگر اس دن اس کے اندر کوئی شیطان تھا، وہ میرے قریب سے قریب ہوتا گیا بہت مشکل سے میں نے اس سے خود کو بچایا۔

طلال نے جاتے ہی مجھے فون کیا اور اور غصہ کرنے لگا کہ میں نے اس کو اپنے قریب کیوں نہیں آنے دیا، وہ مجھے اپنی بیوی مانتا ہے مگر میں اس پر اعتبار نہیں کرتی۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگا، ناراض میں تھی مگر غصہ وہ کر رہا تھا غلطی نہ ہونے پر بھی ہمیشہ کی طرح میں اس سے معافی مانگنے لگی۔ اس کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی اور بڑی مشکل سے اپنی کاوشوں میں کامیاب ہوئی۔

کچھ دن بعد میری اکلوتی خالہ کے اکلوتے بیٹے کی شادی دوسرے شہر میں تھی طلال نے مجھے جانے سے منع کیا چونکہ سب جا رہے تھے تو مجھے بھی ساتھ جانا تھا۔ شادی میں ماموں کے بیٹے عادل نے جو کہ مجھے شروع سے پسند کرتا تھا، مجھے شادی کے لیئے پروپوز کر دیا اور میرے انکار پر وہ بار بار انکار کی وجہ پوچھتا رہا تو میں نے اس کو طلال کے بارے میں بتا دیا کہ میں جلد ہی گھر بات کر کے اس سے شادی کرنے والی ہوں۔ عادل کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا،

“عالیہ تمہاری محبت میرے لیئے آج بھی اتنی ہے جتنی کل تھی اور ہمیشہ رہے گی مگر تم نے جو راستہ چنا ہے اس کی کوئی منزل نہیں کیونکہ ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کرنے کا رواج نہیں تو تم اپنی زندگی کیوں اجیرن کرنے چلی ہو؟ بہتر ہے کہ اس کو بھول جاؤ”

میں نے دل میں ہی سوچا کہ اس لیئے بول رہا ہے تاکہ اس کا راستہ صاف ہو اور میں اس سے شادی کر لوں مگر عادل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،

“میں یہ نہیں چاہتا کہ تم مجھ سے شادی کر لو مگر حقیقت سے انکار بھی تو نہیں کیا جا سکتا، میں تمہیں کل بھی چاہتا تھا آج بھی چاہتا ہوں اور ہمیشہ چاہتا رہوں گا، میرے دل کے دروازے تمہارے لیئے کبھی بند نہیں ہوں گے میں ہمیشہ تمہارا انتظار کروں گا۔”

میں نے اس کو مجنوں سمجھ کر اس کی بات ان سنی کر دی۔ شادی ختم ہوتے ہی ہم لوگ گھر واپس آگئے اور گھر آتے ہی میں نے طلال کو میسج کیا اور ایک بار پھر ہمارا جھگڑا ہوا کہ عادل نے پروپوز کیوں کیا ہمیشہ کی طرح جھگڑا ہوا میں نے منایا اور وہ مان بھی گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ طلال کی محبت ہوس میں بدل گئی بھروسہ تو مجھے اس پر خود سے زیادہ تھا مگر میرا ضمیر نا جانے کیوں اس سے اکیلے میں ملنے کی اجازت نہ دیتا اس لیئے جب بھی وہ ملنے کا کہتا میں کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے ٹال دیتی اور ساتھ ہی ساتھ میں اس کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار بھی کرتی رہتی تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور ہم شادی کریں مگر جیسے جیسے وقت قریب آرہا تھا اس کا برتاؤ بدلتا جا رہا تھا وہ مجھے یا تو اگنور کرتا یا بات ہوتی تو بھی بس جھگڑے سے شروع ہو کر جھگڑے پر ختم ہوتی۔

ایک دن اچانک اس نے مجھے اپنی زندگی سے جانے کا بول دیا اس کی یہ بات مجھے ایسی لگی کہ جیسے کسی نے مجھے مرنے کا بول دیا ہو مجھ سے میری سانسیں ہی مانگ لی ہوں، جو میری محبت تھا جس کو میں اپنی زندگی مان بیٹھی تھی اپنا سب کچھ جس نے نام کر چکی تھی جو میرے وجود کا حصہ تھا میں اس سے دور کیسے ہو سکتی تھی میں روتی گڑگڑاتی رہی کہ مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا مگر وہ ہر وقت بس چھوڑنے کی بات کرتا۔

میرے رزلٹ کے بعد میں نے جاب کے لیئے اپلائی کرنا چاہا مگر طلال نے اس کے لیئے بھی منع کر دیا، نوکری کرنا میرا خواب اور میری ضرورت تھی مگر اس کی خاطر میں نے اپنا خواب بھی توڑ دیا اور بدلے میں میں نے اس سے صرف اتنا چاہا کہ وہ اپنے گھر ہماری شادی کے لیئے بات کرے مگر وہ ٹالتا رہا اور میں انتظار نہ کر پا رہی تھی میں ضد کرتی
رہی کہ آخر اس نے وہ ساری حقیقت میرے سامنے رکھ دی جسے وہ سالوں سے چھپاتا آرہا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ مجھے پسند کرتا تھا اس لیئے اس نے وہ خط بھی رکھا تھا مگر جب میں نے احمد بھائی کے سامنے اس کو گالیاں دیں اور احمد بھائی نے دوستوں کے سامنے طلال کا مذاق اڑایا کہ تم جو بڑے چودھری بنے پھرتے ہو ایک عام سی لڑکی نے تمہیں ذلیل کر دیا تو اسی وقت اس کی محبت نفرت میں بدل گئی اور اس نے اپنی ذلت کا بدلہ لینے کی ٹھان لی، تبھی اس نے یہ پیار کا کھیل کھیلا اور اس کو اپنی ضد بنا لیا کہ اس کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر ویسے ہی ذلیل کرے گا جیسے میں نے اس کو کیا۔

اسے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے میں چار سال لگ گئے اس نے ہر رات مجھے رلایا بھی اور ہر جائز ناجائز بات پر معافی بھی منگوائی۔ اس نے مزید کہا کہ وہ اب بھی معاف کر دے گا اگر میں اسکا پیچھا چھوڑ دوں۔ یہ سب سن کر میں پوری طرح ٹوٹ چکی تھی میں یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ طلال میرے ساتھ ایسا کر سکتا ہے میں نے بہت منتیں کیں بہت بار فون کیا میسجز کیئے مگر اس نے جواب نہ دیا۔

میرے بار بار فون کرنے ہر اس نے غصے میں فون اٹھایا اور دھمکانے لگا کہ اگر اب میں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہ میرے گھر بتا دے گا، مجھے لگا غصے میں ہے تبھی بول رہا مگر میرے پیروں تلے سے تب زمین نکل گئی جب اس نے میرے ابو کو فون کر کے کہا،
“اپنی آوارہ بیٹی کو لگام دیں مجھے فون کر کے پریشان کرتی ہے اگر وہ باز نہ آئی تو میں وہ سلوک کروں گا کہ آپ ساری زندگی پچھتائیں گے۔”

میں جانتی تھی کہ شاید یہ دن میری زندگی کا آخری دن ہو گا کیونکہ میرے پاس کچھ صفائی میں کہنے کو بھی نہ تھا۔ ابو نے فون کر کے امی کو ساری بات بتائی تو امی نے مجھ سے پوچھا جب میں نے امی کو سب سچ سچ بتایا تو انہوں نے طلال کو فون کیا اس نے امی کو بھی کہا “مجھے آپکی بیٹی میں کوئی دلچسپی نہیں، اگر اس نے میرا پیچھا نہ چھوڑا تو میں اس کو پوری دنیا میں بدنام کر دوں گا”

اتنے میں ابو بھی گھر آگئے اور آتے ہی انہوں نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا کہ میں تقریبا بےہوش ہو چکی تھی جب بھائی نے ابو کو روکا۔

مجھ سے فون بھی لے لیا گیا جو کہ مجھے طلال نے اسی سے بات کرنے کے لیئے دلایا تھا، مجھ پر ہر طرح کی پابندیاں عائد کر دی گئیں مجھے نظر بند کر دیا گیا پڑھائی بند گھر سے باہر جانا بند، مجھ پر زندگی اتنی تنگ کر دی گئی کہ میں موت کی دعائیں مانگنے لگی۔ مگر ایک رات میں اللہ کے سامنے گڑگڑائی، اس اذیت سے نکلنے کی دعا کی اور اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔

یونہی وقت گزرتا گیا اور آپی کی بھی شادی ہو گئی میرے لیئے بھی پروپوزل آنے لگے جو کہ گھر میں سب بنا مجھ سے پوچھے آپس میں مشورہ کرتے رہتے۔ میرے پروپوزلز کے بارے میں جب عادل کو معلوم ہوا تو اس نے ممانی سے اپنی پسند کا اظہار کیا اور آپی کے زریعہ مجھ سے بات کی اور اس کے پوچھنے پر میں نے طلال کی محبت کی سچائی عادل کو بتا دی اور کہا کہ میں اس کے قابل نہیں وہ رشتہ نہ بھیجے مگر اس نے پھر بھی وہی کہا کہ وہ اب بھی اتنا ہی چاہتا ہے اور چاہتا رہے گا۔ اب میرے پاس انکار کی کوئی وجہ باقی نہ تھی۔ کچھ ہی دنوں میں سادگی سے نکاح کے ساتھ رخصتی کر دی گئی۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میرے دل میں عادل کی محبت اور عزت بڑھتی گئ۔ میری زندگی کے ہر دکھ کی جگہ ڈھیروں خوشیوں نے لے لی۔ وہ عادل جس کا نام مجھے زندگی میں نہیں سننا تھا اس کے بنا ایک پل بھی جینا دشوار ہو گیا تھا وہ میری زندگی بن گیا تھا۔ اور اب میں سمجھ گئی تھی کہ جو میری عزت مجھ سے محبت کرتا ہے وہی میری محبت ہے عادل ہی میرے جینے کی وجہ بھی ہے اور میری کائنات بھی۔۔

اقرا ریاض ملک

Facebook Comments

One thought on “Meri kainaat h wo………از …….اقرا ریاض ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *