ملکیتpossession) n)….. از۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

ملکیت((possesion

 

از۔۔سمیع اللہ خان

دسمبرکی شام اپنے عروج پرتھی ۔ہلکی ہلکی بارش نے ہرجانداروبے جان کے اندراُداسی اُنڈیل دی تھی۔ہوادرختوں پرسے گزرتے ہوئے کمزورپڑجانے والے پتوں کوسبق دے رہی تھی

ہے جُرمِ ضعیفی کی سزامرگِ مفاجات

خشک پتوں سے زمین پرایک پژمردگی کی چادربچھ گئی ۔ٹنڈمنڈدرخت اوربوسیدہ عمارتیں اپنانوحہ سناتے رُک گئیں ۔خزاں رسیدہ پتے ایک دوسرے کے گلے لگ کرایسے روئے کہ درخت کے نیچے بیٹھاشخص ان بے جان اشیا کے غم میں شریک ہوئےبنانہ رہ سکا۔اُس کے چہرے پردوآنکھیں تھیں اوردونوں بہارکے دِنوں میں چلتی نہرکاسامنظرپیش کررہی تھیں ۔منڈیرپربیٹھی اکیلی کونج کی کُرلاہٹ فضامیں عجیب سی کیفیت طاری کررہی تھی۔وہ ماتم کناں کونج اُس شخص سے مخاطب ہوئی کہ وہ دورنگری میں ایک ڈاراُڑتے میراساتھی بچھڑگیاہے ۔مجھے یہ دُکھ رُلارہاہے کہ وہ بھی میری طرح تنہاہوگا۔وہ تورات گئے تک مجھ سے محوگفتگورہتاتھا۔وہ اب بورہورہاہوگا۔ہم تم انسانوں کی طرح نہیں ہیں کہ لمحہ بہ لمحہ ساتھ بدلتے رہیں ۔ہم ایک سے لولگاتے ہیں بس پھر اگر وہ بچھڑبھی جائے تواُس کے غم میں ہی جان گنوادیتے ہیں۔

پتے بولے :ارے آدم ذات!دیکھ جس درخت پر بہاردیکھی ،ہم مردہ ہوکربھی اُسی کے قدموں میں ہی گرے ہیں ۔اُ س سے ناطہ ٹوٹاہے توکسی اورسے نہیں جوڑیں گے یہ دنیاکے آغازسے ہماری ریت ہے اورتاابدرہے گی۔ہم نے اپنی آخری سانسیں بھی اُسی پیٹرکے ساتھ لی ہیں جس پر آنکھ کھولی تھی۔موسم کااثرپیٹرنے لیااورہماری خوراک کم ہوتی گئی ۔عمرکاتقاضہ تھاہم سوکھتے گئے لیکن ساتھ تب چھوٹاجب تمہاری سانس کی طرح فوٹوسائنتھیسیزکاعمل رُکا اوروہ بھی اس بے رحم ہوانے ہمیں جُداکیاوگرنہ ہم توٹھٹھرتی شام میں بھی اپنی میت لئے یارکے درسے لگے کھڑے تھے۔

بینچ کی چیخ سے آدمی اُچھل کے کھڑاہواتووہ مخاطب ہوادیکھ انسان!ہوابادلوں کولے گئی ہے ۔دُھندچھارہی ہے ۔اِس اندھیرے میں مجھے اپناساتھی پہاڑیاد آرہاہے ۔وہ بھی اِس اندھیرے کی مانندکالاتھا مگردل کامیلا نہیں تھا۔تیری طرح کابشرہمیں جُداکرنے کیلئے بم پھاڑا۔مختلف اوزاراستعمال کئے ۔کریشرسے گزارا۔دکانوں پربیچالیکن سُن! ہم پھربھی اپنے ہم ذات پتھروں کے ساتھ رہے ۔ہم کیاجُداہوئے اب ہمارے پہاڑکاجسم کٹ رہاہے ۔مسلسل کٹ رہاہے ۔اُس وادی کی زینت وہ خشک پہاڑاب لب سی کررہ گیاہے وگرنہ بم کے ساتھ دوسری چیخ ہماری جُدائی کی ہوتی تھی ۔تب ہی وادی کے لوگ کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیتے تھے کہ بم کی آواز سہہ سکتے تھے ۔ہجرکاساز سننااُن کے بس میں نہیں تھاکیونکہ وہ ہم پتھروں کے پڑوسی تھے،سب جانتے تھے ۔دیکھ آج بھی ،اس عمارت کے پیچ وخم میں ،اس بینچ کی ساخت میں ہرسوہم پتھر کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جُڑے ہیں ۔پتھرذات ہے مگربدذات نہیں ہم۔

کھڑکی سے صداآئی ارے ہابیل قابیل کے ہم ذات سُن!درخت ہماری آن تھا،شان تھا۔وہ ہم سے تھا ،ہم اُس سے تھے ۔ہمیں کاٹاگیا۔ہمیں سرد ،گرم ماحول مِلا۔ہمارے جنگل ہمارے گھر کو سنسان کردِیاگیا۔ہم تمہیں آکسیجن دیتے تھے ۔ہم نے تمہاراکیابگاڑاتھا؟لیکن سُن! اس سب کے باوجود دیکھ !ہم جُدا نہیں ہیں ۔تمہارے جیسے ایک انسان نے ہمارے سینے میں ،بازومیں ،سرمیں،کندھوں میں تیسے چلائے اورمیخیں گاڑدیں لیکن ہم نے لب سی لئے کہ جیسے تیسے سہی لکڑی کاساتھ تومیسرہے ۔ہم آج بھی بے جان ہوکرایک دوسرے سے جُڑے ہیں۔

دُھندمیں لپٹے رات کے یہ لمحات اِس بشرپرعجیب کُرب بن کرگُزررہے تھے ۔ہرطرف سے طنز کے نشتربرس رہے تھے لیکن وہ خاموش تھا۔کُرب کاکوئی پہاڑ تواُس پر بھی ٹوٹاتھاکہ وہ نیم مردہ کھڑاسب کچھ سن رہاتھا۔اُس کے آنسوخُشک ہوئے تو فوگ نے اُسے نم کرناشروع کردیااورگویاہوئی اے زمین زادے! دیکھ فلک بھی رو رہاہے ۔یہ دُھندنہیں ہے فلک کے آنسوہیں ۔ہم نے تیری لاج رکھی ہے اورتیرے وجودکوترکردیاہے ۔توں! تیرے آنسو،ایک حدتک ایک دوسرے کاساتھ دیتے ہوپھر سب ندارد۔دیکھ ہمیں دیکھ ۔وہ شخص آنکھیں اُٹھاکرجب فوگ کی جانب دیکھتاہے تویکلخت وہ عمارت کی اوٹ میں چلی جاتی ہے ۔تیز ہواکھڑکیوں کے بندکواڑتوڑکررکھ دیتی ہے ۔مٹی کے بنے وجود پرلرزاطاری ہوتاہے اوراپنی مسلسل تذلیل کے باوجود اپنے لبوں سےدل ہی دل میں شکوہ کرتاہے کہ تُم نے میری صفائی کیوں پیش نہ کی ۔میرادرد کیوں نہ سُنایا۔اصل وجہ کیونکر نہ بتائی۔صبح ہونے کوہے منظربدل جائے گا۔تارے چھٹ جائیں گے۔رات کے راہی میری داستانِ غم حقیقت کے برعکس سنائیں گے ۔تم کیوں نہ ہلے ۔

اسی آن پتھرکے بنے بینچ سے چند پتھر نکل کراُس کے ہونٹوں سے ٹکراتے ہیں ۔لب کُھلتے ہیں اورپوراماحول ہمہ تن گوش ہوکراِس مجرم کی طرف محو ہوجاتاہے ۔وہ گویاہوتاہے :میں پتھروں کامشکورہوں کہ انھوں نے مجھے قوت گویائی عطاکی۔میں انسان ہوں ۔مجھ میں بھی زبان تھی۔احساس تھا۔وفاتھی۔آس تھی۔پاس تھا۔لحاظ تھا۔میں عام نہیں تھا۔میں خاص تھا۔میرادُکھ میرادُکھ نہیں ہے ۔کسی اورکادُکھ ہے ۔میں ویرانے میں اِس لئے آیاہوں کہ یہاں مجھ پرکوئی دست درازی نہ کرے ،مگرزبان درازی توتمہیں بھی انسانوں کی طرح آتی ہے۔تم بھی جلدباز ہو ۔فوری فیصلہ کرناچاہتے ہو۔تم مجھے اپنائوگے کیا؟ہرسوایک ہی گونج تھی !ہاں۔۔ہاں۔۔ہاں۔مگرسنو!تم پھر آدم کی بستی کی طرف نہیں جائو گے ۔کسی سے مخاطب نہیں رہوگے ۔ہم سے ہی باتیں کرو گے۔ہم ہی تمہارامحور ہوں گے۔اِن شرائط پرہماے ہوجائو۔ ۔عمارت گویاہوئی!سنو!مجھے میں بھی ایک دفترآبادتھامگرمیں نے آسیب سے دوستی لگاکرسب کوبھگادِیاکہ وہ سب اِدھراُدھرنوک جھونک کرتے تھے۔بشر نے جواب دیا!نہیں!ایسانہیں میں کسی کابھی نہیں ۔تب ہی توانسانوں کی بستی میں بھی منفردہوں ۔سب امتیازروارکھتے ہیںجیسے میں کوئی اورمخلوق ہوں ۔اے عمارت!سُن!اِس ویرانے میں تم ملکیت کازہرپالے ہوئے ہو۔میں تم جیسوں سےخوب واقف ہوں ۔میں اگرکسی کی ملکیت بن بھی جائوں تواُس کاخماربھی توڑدیتاہوں ،میں جس کاتھااُسے بھی توڑڈالا۔میں گرفت میں نہیں آتا۔درخت بولے:مٹی کے بت سن!آگ سے بناابلیس بھی مغرورتھا۔خاک ہوگیا۔بشربولا!درخت میرے بھائی!ضروری تونہیں انسان کس کواپناتن من دھن سونپ کراُسے یہ احساس بھی دِلادے کہ میں صرف تیراہوں ۔اس طرح ملکیت کانشہ اس بشرکوپابندِ سلاسل کردیتاہے۔وہ مٹی کاوجود لئے پھرتاہے لیکن ملکیت کے نشہ میں درحقیقت اپناسکون بھی گروی رکھ آتاہے۔جب کسی کے آئیڈیل بننے لگوتواپنے وجود کوداغدارکردوتاکہ وہ دورہوجائے ۔جنگ ِانگورہ کے بعد یزدانی خاموش تھا لیکن حُسن بول پڑا۔امیر تیمور کی آئیڈیل اُمت الحبیب سے حمیدہ بانو بنی اوراستخرہ میں آگ سے کھیلنے لگی۔ورڈز ورتھ کی بہن ڈروتھی بھی اُسی کاسامزاج لے بیٹھی ۔پتے اپنی بے بسی پررورہے تھے کہ بشرنے اُن سے پوچھاتم کیاکہتے ہو۔کہنے لگے!ہم اتناجانتے ہیں کہ ناطہ رکھوآخری سانس تک ۔یہ ہوا بہت ظالم ہے ،جُداکردیتی ہے مگرہم جہاں بھی رہے ہمارے نین نقش ہماری نسبت کاپتہ دیں گے ۔ہم اس درخت کی ملکیت ہیں ۔ اسی کی رہیں گے ۔بشر بولا!انسانوں کی بستی میں بھی یہ نشہ جاگ اُٹھاہے ۔اُدھربھی ایک بشرتھا۔مجھے حصارمیں رکھناچاہتاتھا۔میں ازل کاآوارہ ہوں ،ابدتک رہوں گا۔میراحال اظہرفراغ کے ان اشعار کی مانند ہے

وہ جو اک شخص مجھے طعنہ جاں دیتاہے

مرنے لگتاہوں تومرنے بھی کہاں دیتاہے 

تیری شرطوں پہ ہی کرناہے اگرتجھ کو قبول

یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتاہے

  1. میری نسبت کس سے ہے ؟میں کس کاہوں؟کس طرف جائوں گا؟کس طرف لوٹ پائوں گا؟یہ سب سوال اُس کے دماغ میں گھومتے ہیں ۔وہ نجانے کیوں اپنادست نگررکھناچاہتاہے یہ توبھلا ہواُس ہوا کا جس دِن چلی مجھے میرے پیٹرسے جدا کرگئی ۔ہاں میرانین نقش میری نسبت کی گواہی دے گا۔میرے اخلاص پرمہرثبت کرے گا۔میں کبھی اپنی صفائی نہیں دیتا،وقت کے سپرد کردیتاہوں۔وقت سے بڑامُنصف کوئی نہیں۔بشرنے اتناکہاہی تھاکہ آندھی چلی اورعمارت نے دھڑام سے اُسے موت کی نیندسُلادِیاکیونکہ وہ پہلے بتاچکی تھی کہ جسے اپنالوں اُس کی توجہ بکھرتے نہیں دیکھ سکتی ،ہاں اُسے مرتادیکھ سکتی ہوں۔

Facebook Comments

3 thoughts on “ملکیتpossession) n)….. از۔۔سمیع اللہ خان

  1. Finally you got a mastery of painting as your pen is now a brush painting different scenes of autumn but elements and parts of autumn are vocal and telling their stories through your heart maybe yours own. I appreciate your effort and your brought a tinge of natural discourse along with passion of possession. Congrats a lot.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *