اُجلے چہرے ۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

 

اُجلے چہرے ۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے لیکن تھل کی دھوپ ایسے سلگ رہی تھی جیسے اسے ابھی تک سسی کے برہنہ پا سے کدورت باقی ہو۔ یونیورسٹی کے اندر ہر شہ تھم سی گئی تھی لیکن سڑکوں پرسکولوں سے واپس جاتے بچوں کی قطاریں ٹریفک کو جام کررہی تھیں کیونکہ ایم ایم روڈجیسی خونی سڑک نے ابھی ون وے کامکمل نظارہ نہیں کیاتھا۔ایسے میں ایک سفید رنگ کی مہران ہائوسنگ کالونی کی جانب مڑی اورپھردائیں ٹرن لیتے ہوئے شیرشاہ روڈکے سامنے جاکررک گئی۔کارکا دروازہ کھلااورایک شخص یہ کہتے ہوئے اُترگیاکہ جناب آپ بھی تشریف لے آئیے لیکن اسے وہی جواب ملاجس کی اسے توقع تھی اورپھرشکریہ ادا کرکے وہ چوراہے پر موجود ریڑھی والے سے محوگفتگوہوگیا۔
چوک کے دوسری جانب سے ایک رکشہ آیا اورکالج کے سامنے جاکررک گیا۔ اس سے دولڑکیاں نیچے اتریں اورکالج کے گیٹ کے اندر داخل ہوگئیں۔ چاول کھاتا ہوا لڑکا واپس جانے کاسوچ رہاتھا۔ اس کے دماغ میں بس ایک ہی جملہ گونج رہا تھا۔۔اوروہ شاید اسے ہی بے دھیانی میں بڑبڑا رہا تھا۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔۔ساتھ ہی میسج پرکسی سے بات کرتے ہوئے اس کے چہرے کے اتار چڑھائو اس کے اندرکی ٹوٹ پھوٹ کی غمازی کررہے تھے۔ایسالگتاتھاجیسے وہ کسی پراسراررموزکی تلاش میں سرگرداں ہے۔ جیسے وہ عربی کی مشکل گردان کورٹانہیں لگاناچاہتابلکہ اسے عجمی سرپھرے کی مانند قواعدکے مطابق سمجھنے کی سعی ناکام میں کھویاہواہے۔اس کے سرپربال ایسے الجھے تھے جیسے اس نے کسی اورکی ڈورسلجھاتے سلجھاتے اپنی پتنگ کٹوالی ہو اورہاتھ میں موجود ڈورگورکھ دھندہ بن گئی ہو۔ریشمی سوٹ پہن کر بھی وہ کسی بجھی ہوئی موم بتی کی مانند لگ رہاتھا۔جتنااس کے کھانے کا اندازسادہ تھااتناہی اس کاچہرہ معصوم تھا۔ اس سب کے باوجودمیں جانتاتھاکہ اس طبع کے لوگ گوکہ زندگی کے تمام اصولوں سے ناواقف ہوتے ہیں لیکن اپنے پیشہ وارانہ کام سے دیوانوں کی مانند چمٹے رہتے ہیں۔ انھیں سبزی نہیں خریدنی آتی لیکن جوان کےمن میں سماجائے تووہ مخمل میں ٹاٹ کے پیوند ایسے لگاتے ہیں کہ زمانہ شناس بھی ان کی کا ریگری پرعش عش کراُٹھتے ہیں۔
جب میں نے اسے کریدنے کے لئے پوچھاکہ بائوکدھرکی تیاری ہے۔
توبولاکہ میرانام سام ہے۔
میں نے اس کی ناگواری کونظراندازکرتے ہوئے والہانہ اندازسے کہاکہ ارے سام بھیا! آپ اتنے کھوئے کھوئے سے کیوں ہیں ؟
اس نے میری بات کاجواب دیئے بنا سوال داغا
بھائی کیا میں آپ کانام پوچھ سکتاہوں؟
میں نے اپنائیت کااظہارکرتے ہوئے کہاجب بھائی کہہ ہی دیاہے تو نام میں کیارکھاہے ؟
سام:نہیں سرکارایسی بات نہیں ٗ نام اپنے اندرپوری طاقت رکھتے ہیں لیکن بسااوقات پرورش یاماحول کی وجہ سے بے معنی ہوجاتے ہیں وگرنہ آج بھی لوگ ڈنکے کی چوٹ پراپنے بچوں کانام یزیدرکھتے۔
اس کاجواب سن کے اس کے اندرکی گیرائی کااندازہ مجھے بخوبی ہوگیا۔میں نےاپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسکراکرکہاجناب عالی !اس۔۔۔ سرکار۔۔۔کانام۔۔۔شام۔۔۔ہے۔
سام:ارے بھائی پھرتوتین نقطوں کاہی فرق ہے۔
اس کایہ جواب سن کرمیںنے لفظوں کی چال چلنے کے بجائے سیدھاسوال داغا۔۔۔ارے سام ! جب کالج کے سامنے رکشہ رکاتوتمہارے چہرے کے رنگ متغیرکیوں ہو گئے؟
سام:ارے شام صاحب! بس ماضی کی ایک جھلک ایسے آکرگزرگئی جیسے اندھیری رات میں بجلی چمکے توکچھ نظرآتاہے اورپھر اوجھل ہو جاتاہے۔
شام:لیکن بجلی چمکے تو چہرہ تو صاف نظرآجاتاہے۔
سام:ہاں شام بھائی! لیکن کبھی کبھی انسان کوایساکچھ کرناپڑجاتاہے کہ اجلے چہرے مسلسل چمکتی ہوئی بجلی میں بھی داغدارنظرآئیں۔
مجھے محسوس ہواکہ رکشہ نے اس کے اندرگومگوں کی سی کیفیت پیداکردی ہے اوروہ ماضی کے کسی دریچے میں گم ہوکرحال کی تصویردیکھ رہاہے۔ اس کی آنکھوں میں موجودبیابانی مجھے تپتے ہوئے صحراکی مانندجھلسارہی تھی۔ اس کی بھنویں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں۔ پسینہ کی کثرت کی وجہ سے بھیگ کراس کے اجلے چہرےپرایسے سایہ فگن تھیںجیسے کسی پرانی قبرپرجھاڑیاں بونداباندی کی وجہ سے بھیگ کر قبرپراپنے آنسوئوں سے دہائی دے رہی ہوں۔
میں نے اس سے کہاسام تم کیاسمجھتے ہو کہ اجلے چہرے داغدارکرنے سے انسان کے من میں سکون آجاتاہے؟
سام:نہیں لیکن کسی کی خوشی کی خاطرایساکرناپڑجاتاہے۔
شام:توکیاایسی حماقتیں کرنے والے کے اردگرد کوئی نہیں ہوتاجواس سے متاثرنہ ہو۔
سام:ہوتاہے۔
شام :توپھر؟
سام:بات ترجیحات کی ہے شام بھائی۔کبھی کبھی کوئی غیربھی اپنوں سے زیادہ عزیزہوجاتاہے۔
شام:مان لیالیکن وہ اپنے کیاہوئے جنھوں نے تمہاری ہرسانس کے ساتھ آس وامیدکے پودے کوجوان کیا؟
سام:نہیں معلوم یارنہیں معلوم۔
شام:معلوم ہوناچاہئے۔
اسی دوران وہاں ایک لڑکی آتی ہے اورسام کوکھاجانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتی ہے۔ ۔۔بھیا!ابھی تک سڑکوں پرگھوم رہے ہو۔ ۔کبھی ٹک کر گھربھی بیٹھاکرو۔۔۔چلومیرے ساتھ آئو۔
لمبے قدوالی لڑکی کی گفتگو۔اس کاوالہانہ پن۔ یہ سب بتارہے تھے کہ وہ سام کی چھوٹی بہن ہی ہے۔اس نے ہاتھوں پرگلوز پہن رکھے تھے۔ سیاہ برقع میں ملبوس یہ لڑکی پہلی نظرمیں کسی کالج کی لیکچررمعلوم ہوتی تھی اس کے دائیں ہاتھ میں فائل تھی اورگلوزکے اوپرمختلف رنگوں کے نشان تھے۔ شایدہائی لائیٹرزکے استعمال سے۔ بائیں ہاتھ میں کوک کی آدھی بوتل تھی جس کے ساتھ گلے کی آسودگی کے لئے سڑیپ سلزاورCLARITHROMYCINکی گولیاں بھی تھیں۔
سام:ارے تم جائوناں۔ میں کوارٹرپرجاکرسوجائوں گا۔
لڑکی:شرافت سے اُٹھیں۔ ورنہ آپ جانتے ہیں مجھے اچھے سے۔ ۔ہاں۔۔
سام:اچھاہم بحث مکمل کرلیں پھر آتاہوں۔پکاوعدہ۔
لڑکی :اٹھتے ہویاکان سے پکڑکرلے جائوں۔ پھریہ چاول والے بھائی سمیت پوراشہرآپ کاتماشادیکھے گااورساتھ میں میرابھی تمسخراُڑائے گاتوکیاآپ کویہ اچھالگے گا؟
خالص مشرقی لباس میں ملبوس اس لڑکی کااپنے بھائی کے ساتھ چوراہے میں گفتگوکرنے کااندازگردوپیش سے بے نیازتھا۔عموماًایسی لڑکیاں گھرسے باہربہت کم گفتگوکرتی ہیں یاپھرسرے سے کرتی ہی نہیں۔ ان کے لہجے کی تلخی ہی بڑھنے والوں کے لئے ریڈالرٹ ہواکرتی ہے۔ابھی میں اس کے اندازکے بارے میں غورکرہی رہاتھاکہ وہ مجھ سے کرخت لہجے میں مخاطب ہوئی۔
یہ لیں چاولوں کے پیسے۔
میں نے بغیرآنکھیں ملائے انھیں جواب دیاکہ جی پیسے اداہوچکے ہیں۔آپ بس سام کوکچھ دیرکے لئے چھوڑتی جائیں۔
لڑکی:بھائی جی !مگرآپ کی بحث کاموضوع ہےکیا؟
میں نے سوچاکہ یہ نہ ہوکہ اسے موضوع بتایاجائے اوروہ خودہی چوک پرمباحثہ کرناشروع کردے۔ بتانابھی ضروری تھاورنہ اس کےتیوربتارہے تھے کہ ابھی سام کوکان سے پکڑکرایسے لے جائے گی جیسے کوئی ظالم استانی معصوم سے بچے کوزبردستی کلاس روم میں کھینچ کرلے جاتی ہے۔
میں نے کہا:ارے بہن۔ ۔ابھی اتناہی کہہ پایاتھاکہ اس کی آوازمیری قوت سماعت سے ٹکرائی۔ ۔شانزے نام ہے میرا۔۔۔کہنے کوتواس نے مجھے اپنے نام سے روشناس کرایاتھالیکن لہجہ اس قدردبنگ تھاجیسے میں نے کسی کام سے انکارکیاہواوروہ مجھے کسی سرپھرے جوان کی ماننداپناتعارف کروارہی ہو۔۔۔آدھی توبھائی پر گئی ٗآدھی پتہ نہیں کس پر۔۔میں بڑبڑایا
بولی :جی کیافرمایا!بھائی جی!
اُس کی اِس بے تکلفی پر میں ابھی حیرانی کے سمندرمیں غوطہ زن ہوا ہی تھا کہ سام نے کہاتوہاں بات ہورہی تھی کہ اُجلے چہرے بدلتے وقت اپنے عزیزواقارب کاخیال بھی رکھناچاہیے۔ ۔۔
سام کے بولنے سے قبل ہی شانزے نے لقمہ دیا
چہرے سب ہی اُجلے ہوتے ہیں ۔حالات بدل دیتے ہیں۔ہم کبھی کبھی شعوری طورپرایسانہیں کرتے لیکن اندرکی شکست وریخت بسااوقات آپ کواس قدربدل دیتی ہے کہ آپ کوآئینہ بھی جھوٹ بولتاہواملتاہے۔خودکلامی میں بھی آپ خودکونہیں پہچان پاتے۔ ۔۔اورایسااس وقت ہوتاہے جب آس وامیدکے میناریکلخت زمین بوس ہوجائیں۔ ۔۔اوریہی بے نیازکی نشانی ہے کہ وہ حالات کے اُتارچڑھائو سے انسان کو اپنی موجودگی کااحساس دلائے رکھتاہے۔
سام بولا:بہناجی!لیکن ہمیں خبررکھنی چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو کس قدربدل چکے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے فرد کافرض ہے کہ مسلسل اپنامحاسبہ کرتارہے۔شکست وریخت انسان کوبدل دیتی ہے لیکن ان تمام تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں انھیں بھی دیکھناہوتاہے جولوگ ہماری ذات سے جُڑے ہوتے ہیں۔ اُن کی ہم سے کیاتوقعات ہیں ؟جنھوں نے ہم خون جگردے کرپالاہے کیااُن کاہم پرکوئی حق نہیں؟کیاان کے جسموں کے زوال اوران کی جوان ہوتی آرزوئوں کوپوراکرناہم پرفرض نہیں ؟
سام کے اس جواب پرمجھے حیرت ہوئی کہ ابھی توکہہ رہاتھاکہ اُجلے چہرے بدلنے پڑتے ہیں اوربہن کو دیکھتے ہی اس نے یوٹرن لے لیا۔۔۔شاید سام کے فلسفے اپنے لئے اورتھے اورمقدس رشتوں کے لئے اور۔شایدوہ خود توٹوٹ چُکاتھالیکن جذبات کے ایسے کاری واروں کے آگے اپنی بہن کی شکست اسے ہرگزقبول نہ تھی۔
شام :میراموقف بھی یہی ہے کہ انسان اپنامحورجسے مرضی بنالے لیکن جس کاوہ خود محورہوان کابھی خیال رکھے۔
سام :بالکل۔ ۔اچھاشانزے تم گھرجائو میں آتاہوں
شانزے:ٹھیک ہے بھیا۔۔۔میں انتظارکروں گی۔۔۔اوربندے کے بچوں کی طرح وقت پرآناورنہ۔۔۔۔جانتے ہو ناں۔ ۔۔میرانام شانزے ہے۔۔۔۔اورہوں بھی آپ کی بہن۔۔۔
ایساکہتے ہوئے وہ سام کوگھوررہی تھی لیکن وہ سرجھکائے جی ہاں !جی ہاں !کی گردان دہرائے جارہاتھاتوشانزے بولی:بس جی ہاں کہہ دیجئے گا۔۔۔کبھی مانئے گانہیں۔
یہ کہہ کراس نے سٹول پر سے اپنی فائل۔۔۔کوک کی بوتل مع دوائیاں اُٹھائی اور ہسپتال روڈ کی طرف چل پڑی۔
اس کے جانے کے بعد جب میں نے سام کی جانب دیکھاتووہ نمناک و دزدیدہ نگاہوں سے میری جانب دیکھتے ہوئے بولا
توہاں بات ہورہی تھی کہ اُجلے چہرے کیوں بدلنے پڑتے ہیں؟
ارے شام بھائی۔ ۔۔بدلنے پڑتے ہیں۔ ۔۔اُجلے چہرے تکلیف دیتے ہیں۔ ۔۔یہ ایسی ہی سلوپوائنزننگ ہے جیسی یاسرعرفات کواس کی یہودی بیوی نے دی تھی۔ ۔۔یہ اُجلے چہرے رفتہ رفتہ مقابل کے دل ودماغ کوکمزورکرتے رہتے ہیں اورپھروہ جسم جہاں کہیں بھی رہے۔ ۔۔روح ایک ہی محورکے گرد پروازکرتی ہے۔۔۔
ایساکہتے ہوئے اس کے ہاتھ مسلسل چل رہے تھے۔ ۔۔اس کے چہرے پرپشیمانی وجذبات کے ملے جلے اثرات ایک نیاچہرہ مرتب کررہے تھے۔ ۔۔میرے سامنے بیٹھے سادہ سے شخص کاچہرہ میری آنکھوں کے آگے بدلنے لگاتھا۔۔۔یہ نہ خواب تھانہ ہی کوئی سائنسی تکنیک۔ ۔۔بے لباس نظریں ایک حیامیں لپٹے چہرے کوبے نقاب ہوتے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔وہ مسلسل بولے جارہاتھا۔
سام:یہ چہرے‘یہ زاویئے۔۔۔انجان لوگوں کے لئے دلکش ہوتے ہیں۔ ۔۔خود اپنی ذات میں یہ ٹوٹ سے جاتے ہیں۔ ۔۔کتنے دل رنجیدہ ہوتے ہیں۔ ۔۔۔کتنے دماغ انھیں سوچ سوچ کرسعی لاحاصل پراپنی ہی حیات کواندھیرنگری بنادیتے ہیں۔ ۔۔تم نہیں جانتے شام !تم نہیں جانتے!۔ ۔۔اِن اُجلے چہروں کواپنے آپ کو نوچ لینا چاہئے۔ ۔۔۔مسخ کردیناچاہئے۔ ۔۔۔معاشرے کے یہ بے لوث کرداراپنے گرد ایک ایساہالہ قائم کرتے ہیں کہ انھیں بھائی کہنے والے رشتے بدلنے لگتے ہیں۔ ۔۔۔معیارِ زندگی اتھل پتھل ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔اوراس سب کاذمہ داروہی دھڑ ہوتاہے جس پر یہ اُجلا چہرہ سجاہوتاہے۔ ۔۔۔مجھ سے پوچھوشام یہ کئی چہروں کے قاتل ہوتے ہیں۔۔۔۔یہ کئی دلوں کاخون کئے ہوتے ہیں۔ ۔۔۔یہ طرز زندگی بدل بھی لیں۔ ۔۔۔دلوں کوجوڑنے کاہنرجان بھی لیں توکتنے دل جوڑپائیں گے۔۔۔۔کتنے زخموں پر مرہم رکھ پائیں گے۔۔۔۔کتنی آنکھوں کے حلقے دورکرپائیں گے۔۔۔۔نہیں ناں۔ ۔۔بالکل نہیں۔۔۔۔قدرت نے انھیں محدودطاقت عطاکی ہوتی ہے۔ ۔۔وہ اس سے نہیں نکل سکتے۔ ۔۔۔۔
وہ دیوانہ وارباتیں کئے جارہاتھا۔۔۔چوک پرلوگ جمع ہوچکے تھے۔ ۔۔۔اسےنہیں معلوم تھاکہ کوئی اس کی جانب متوجہ ہے یانہیں۔ ۔۔۔اس کی آنکھیں اب سُرخ ہوچکی تھیں۔۔۔پانی مسلسل بہہ رہاتھا۔۔۔۔لہجہ کبھی سپاٹ توکبھی کربناک ہوجاتا۔۔۔۔چہرے پران گنت داغ نمایاں ہوچکے تھے۔۔۔ایسے لگتاتھاکہ جیسے کسی نے اپنے مزاج کی تیزابیت سے اسے بدل دیاہو۔۔۔۔۔اوریہ چپ چاپ سب سہہ گیاہو۔۔۔۔حیرت اس بات پر تھی کہ گرم رات میں بھی اس کے جسم سے پسینہ غائب ہو چکاتھا۔۔۔شایدآنکھوں سے برآمدہونے والےپانی نے اس کے جسم کونچوڑکر رکھ دیاتھا۔۔۔۔پل کے پل میں وہ ایک لاغرمعمرشخص کاروپ دھارگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں، میں نے ریڑھی کاسامان سمیٹااورمشرق کی جانب چل پڑا۔۔۔سام بھی یکلخت خاموش ہوکرمیرے ساتھ چل پڑالیکن نجانے کیوں اس نے اپنے چپل بغل میں دبالئے۔ ۔۔ہم شیرشاہ روڈکراس کرتے ہوئے جیسے ہی نہرکے پل سے نیچے اُترے اس نے چپل پہنتے ہوئے کہایارشام !کبھی کبھاربرہنہ پاچل کرسکون ملتاہے۔ ۔۔۔ایسے لگتاہے جیسے میں سسی کے پائوں پرپڑنے والے چھالوں کاکفارہ اداکررہاہوں۔ ۔۔۔مجھے تکلیف نہیں پہنچتی۔ ۔۔۔
میں نے اپنی کُٹیاکے سامنے ریڑھی کھڑی کرتے ہوئے کہاکہ یارسام!تم ہرالزام اپنے سرکیوں لیتے ہو۔۔۔۔
سام:شامی۔۔۔یہ جرم میرے ہی ہیں۔ ۔۔میراجنم ہردورمیں ہوتارہتاہے۔ ۔۔۔دھڑوہی ہوتاہے چہرے کے خدوخال بدلتے رہتے ہیں۔ ۔۔۔میرابس چلے توco-educationکی درسگاہوں کوآگ لگادوں۔ ۔۔اس ادب کی بے ادبیوں کولگام ڈال دوں۔۔۔میں بس اس وقت تک چپ ہوں جب تلک برصغیرمیں بین الاقوامی معیارکی درسگاہیں نہیں بن جاتیں تاکہ ہماری بچیوں کوباہرکے دھکے نہ کھاناپڑیں۔ ۔۔۔پھرمیں co-educationکے خلاف بھرپورتحریک چلائوں گا۔۔۔۔یہ اغیارکاادب۔ ۔۔۔۔یہ تعلیم۔ ۔۔۔برصغیرکی روایتوں کوکچل رہی ہے۔۔۔۔کہاں۔ ۔۔ ۔۔کی مصنفہ کی موجودہ بھارت سے ڈولی اُٹھی تھی اورکہاں آج اس کی بہوئیںسکرٹ پہنتی ہیں۔۔۔۔
شام:ہاں یار!میں نے مغرب کامطالعہ کیاہے وہاں بھی عریانی ایک ہی لمحہ میں نہیں آئی۔۔۔۔دماغی آوارگی کرنے والوں نے اسے ادب میں بتدریج اُتارا۔۔۔۔اورسلوپوائزننگ کے ذریعے رفتہ رفتہ بے حیابناڈالا۔۔۔۔فرانس میں توایساجنگوں کی وجہ سے افرادکی کمی کے باعث ہوالیکن باقی کے یورپ کوانہی لکھاریوں نے تباہ کیا۔۔۔۔اورجنگ بھی کتنی بُری شہ ہے۔ ۔۔۔۔کسبیوں کوجنم دیتی ہے۔۔۔۔یہ بھی چہرے بدلتی ہے سام!
میرے لفظ سلوپوائزننگ پرسام کے چہرہ پرایک رنگ آیااورجھماکے سے گزرگیا۔۔۔۔اب اس کاچہرہ کافی حدتک نارمل ہوچکاتھا۔۔۔
رات کے اس پہراُداس لوگ پریشان حال ہوجایاکرتے ہیں لیکن اس کاچہرہ مکمل طورپرنارمل ہوچکاتھا۔۔۔ایسالگ رہاتھاجیسے ابھی کسی برفانی علاقے کاکوئی فرد تسبیح رولتے ہوئے مسجدسے نکلاہو۔۔۔۔
سام بولا:ہاں شامی۔۔۔لکھاری بکواس کرتے ہیں کہ ہم وہی لکھتے ہیں جس کالوگ مطالبہ کریں۔ ۔۔انسانی ذہن اپنی فطرت میں برائی کی ہی جانب مائل ہوتے ہیں۔ ۔۔جب قلم انھیں ایک ٹریک پرلے آتاہے توبس وہ اسی پرہی چلناچاہتے ہیں۔ ۔۔اگرلکھاری چاہے توانھیں بدل سکتاہے۔ ۔۔۔لیکن وہ بھی تومشہورومعروف ناموں کی چکاچوندسے متاثرہوچکاہوتاہے لہٰذاغربت کی بیساکھیاں اسے ایسے کرنے پرمجبورکئے رکھتی ہیں۔۔۔۔کبھی مذہب کا تڑکا لگا کر تخلیق بیچتا ہے تو کبھی لفظوں کو بے لباس کرکے۔۔۔۔۔
شام:ہاں۔ ۔۔ایساہی ہے۔۔۔۔اورمیںاُس کے چہرے کی تبدیلی پراپنے تاثرات نہ چھپاسکا۔۔۔میرے مسلسل گھورنے پروہ مسکرایا۔۔۔۔
سام:ارے دیکھتے کیاہو۔۔۔رات کے اسی پہرمجھے گُرڑگنگانے کہاتھاکہ۔۔۔ میرے سام کومت بگاڑو۔۔۔۔بس ان لمحات میں میراچہرہ خودبخوداپنی اصل کی جانب لوٹ جاتاہے۔۔۔۔وگرنہ میںفیصلہ کرچکاہوں کہ اب اس چہرے کوبدل ڈالوں گا۔۔۔۔کسی کے خلوص کانہیں نفرت کامرکزبنائوں گااسے۔ ۔۔۔۔میں بدل ڈالوں گااسے۔ ۔۔۔میں بدل ڈالوں گا۔۔۔۔میں بدل ڈالوں گااسے۔ ۔۔تمہیں اُجلا لگ رہاہے مجھ اب خوف آنے لگاہے اس سے۔۔۔بس تم یہ رات بیت جانے دو۔۔۔۔یہ شب کٹ جانے دو۔۔۔۔اُس کی آوازمیرے چھوٹے سے کمرے میں گونج رہی تھی۔ ۔۔۔مجھے ایسے لگاجیسے کسی نے لائوڈ سپیکر میرے کان پر رکھ دیاہواورمیرے کان کے پردے پھٹ گئے ہوں۔ ۔۔۔۔پاگلوں کی طرح چیختاہوا وہ چل پڑا۔میں نے اس بازوسے پکڑامگروہ بے دھیانی میں تھا۔۔۔دامن چھڑایااورچلتابنا۔۔۔۔میں اُس کے پیچھے ہولیا۔۔۔پُل کے پاس جاکراس نے پھرجوتے بغل میں دبائے اورمیری

آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔

Facebook Comments

4 thoughts on “اُجلے چہرے ۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. Ujaly faces ka kaya qasoor hay kay un ko daaghdaar kea jaye kise aur ki khaatir aapne zaat ko saaza dayna bhe gunaah hay. Dewdaas mein bhe esa he kuch scene howya thaa udar bhe 2no characters ik dosray ko bayhan bhai kehtay they aur result Dewdaas ki death thaa us nay sharaab pee pee kar apni life tbah kar let the Magar context aur characters ke construction totally different hay

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *