ڈیتھ کوفن (death coffin)………از……سمیع اللہ خان

Spread the love

death coffin

از۔سمیع اللہ خان

میں نے سائیکالوجی اچھے سے پڑھ رکھی ہے۔تھیسس جاری ہے میرا ۔میں تم جیسوں کی نفسیات اچھی طرح جانتی ہوں ۔جی پڑھی ہو گی ۔ ۔ میں نے کب انکارکیالیکن کبھی خود کوبھی پہچان لوناں ۔وہ جو دھیرے دھیرے سے چھا رہاہے۔و ہ دیکھو وہ بادل۔۔ سفید،کالا،سیاہ بادل۔۔وہ موسم بدل دیتاہے ۔کونساموسم؟موسم ،موسم ہی ہوتاہے ، کون ساسے کیامرادہے تمہاری؟مطلب اندرکاموسم یا باہر کا ؟ دونوں موسم ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔میں نہیں مانتی۔چلومیں بھی نہیں مانتا۔تم نہ مانو۔پہلے کون سامیری کوئی بات مانتے ہو۔توبہ ہے۔اللہ قبول کرے۔یہ جب اندرکاموسم کسی کے ساتھ منسلک ہوجائے توپھریہ اتارچڑھائوجیسی صعوبتیں درپیش رہتی ہیں۔کبھی برابر کا جوڑپڑتاہے توکبھی انسان کواپنے سے زیادہ بے نیازبشرسے بھی واسطہ پڑجاتاہے۔بقول عرفان ستار
مل جائیں گے بہت سے تجھے مصلحت پسند!
مجھ سے نہ سرکھپاکہ بہت سرپھراہوں میں
۔نہیں مانتی ۔نہ مان۔آخرایک دن مانے گی۔میں کسی کو مجبوری نہیں بناتی۔نہ بنابھائی لیکن یہ کہنے سے کچھ نہیں ہواکرتا۔کچھ لوگ سانسوں کے اندراترجاتے ہیں ۔ان کویادکرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ دھڑکنوں کاحصہ ہوتے ہیں ۔یہ روح میں اترجانے والے ظالم لوگ بہت بے رحم ہوتے ہیں۔ان سے کنارہ ہی بہترہے۔کبھی جھانک میری آنکھوں میں تجھے کسی کی آنکھیں نظرآئیں گی۔نہیں جھانک سکتی ۔ کیوں ؟ خوف ہے ،دہشت

ہے ،تمناہے،یاسیت ہے اور رجائیت بھی۔سب ہے سب! مگرایک تونہیں ہے ۔ہاں !میں نہیں ہوں ۔


سپارٹکس کوجانتی ہو؟نہیں ۔وہ اکہترقبل مسیح میں روم کاسپاہی تھا۔پھر؟پھرکسی بات پر لڑپڑاحکمرانوں سے ۔ پھر؟پھرباغی غلاموں کی فوج بنا کرروم جیسی سپرطاقت سے ٹکراگیا۔اسی فوج میں غلاموں کو گلیڈیٹرز کہا جاتاتھاجنھیں آقائوں کی خوشنودی کیلئے بسااوقات خونخوارآپس میں یا جانوروں سے بھی لڑوا دیا جاتا اور یہ لڑائی کسی ایک کی موت تک جاری رہتی۔پتہ ہے وہ موت کی جنگ ہارجاتے اورذلت کی موت کیوں مرتے؟کیوں؟کیونکہ وہ آقائوں کے آگے سرنہیں اٹھا سکتے تھےحتی کہ مرجاتے۔وہ نفسیاتی غلام تھے ، موت اورزندگی سے بے نیاز ۔ایسے میں سپارٹکس نے ستر غلاموں سمیت خروج کیااوربالاآخراس کے لشکر کی تعداد ستر ہزار تک جاپہنچی ۔روم دوجنگیں ہارچکاتھا۔روم نے فیصلہ کن وارکیا۔ سپارٹکس تو بحری قزاقوں سے دھوکہ کھا کر بھی روم کی جھولی میں نہیں گرااورمارکس کے لشکر جرار کا مقابلہ جوانمردی سے کرتاہوا مارا گیا۔ان کے لشکر کے پاس بھی زندگی کا راستہ تھالیکن وہ قید پرموت کو ترجیح دیتے تھے۔پتہ ہے جو بچ گئے ان کا کیا ہوا ؟ کیاہوا؟ تھرڈ سروائل وار کے بعد ان کوروم نے لائن میں صلیبوں پرزندہ گاڑدیا۔یادرکھنامائی ڈئیرکہ زندگی آزادی کانام ہے اورقیدموت کادوسرانام ہے اوریہ میری نفسیات ہے ۔ہرشخص،ہرمعاشرے ،ہرخطہ کی اپنی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ ہرشخص چے گویراتھوڑی ہوتاہے کہ جب فوجی سر پر پہنچیں تونعرہ لگادے کہ مردہ چے گویراسے زندہ چے گویراتمہیں فائدہ دے گا۔ممکن ہے چے گویراکی کوئی حکمت عملی ہولیکن آزادی ۔ ۔ ۔
و یسے وہ بھی جب گو لیوں سے چھلنی ہورہاتھا توبولیویاکے اُس بے حس فوجی کو یہی کہہ رہاتھاکہ بزدلو!ایک انسان کے مرنے سے نظریات نہیں مراکرتے ۔چے گویرا مر بھی گیاتومارکسزم زندہ رہے گا۔
اچھا!ادھر آئو ۔میرے پاس ۔ادھر بیٹھو۔یہ لومیٹھاکھائو۔نہیں میں کسی سے کچھ نہیں لیتی بھائی۔واہ!بھائی بھی؟ کسی بھی ؟خوب منطق ہے۔دونوں لفظ یکسرمختلف ہیں۔مجھے لفظوں کے گورکھ دھندے میں مت الجھائواورویسے بھی اردونہیں آتی مجھے۔اچھا بے نظیرکی چھوٹی بہن !میں نہیں الجھاتاتمہیں لیکن میرے ساتھ مت رہو۔ایسی الجھوگی کہ پھر ڈورنہیں سلجھے گی ۔اچھا !وہ گُڑھے ہوئے لوک سناہے ۔ نہیں تو ۔ کیا مطلب ہوتاہے اس کا؟اس کامطلب وطلب تو کوئی نہیں ہوتالیکن سناہے یہ لوگ کوئی نصاب نہیں پڑ ھے ہوئے ہوتے لیکن مردم شناس ہوتے ہیں ۔ضروری نہیں ہوتاکہ نظراٹھاکرکسی کی روح کے پنجرے کاطواف کریں۔ بس قدموں کی چاپ سے اورآوازکے ردھم سے جان جاتے ہیں کہ اس بشرمیں کتناشرہے ،کون کتنا معصوم ہے۔اچھا!تو آپ کومیری بات پر بھروسہ نہیں ہے ۔میں جوقسمیں اٹھاتی ہوں، وہ جھوٹی ہیں ؟اوبھائی!یہ کب کہامیں نے ۔اپناتجربہ بتایا۔ایک دوباربات کی لگ گیاپتہ۔اچھا خداحافظ۔اللہ حافظ۔
مِنگ سلطنت کوجانتی ہو؟چودھویں صدی کے ساتویں عشرے میں جنم لینے والی چائنہ کی یہ ریاست بھی قیدی رکھاکرتی تھی۔بادشاہ قیدیوں کومقہورومجبورکرکے رکھناچاہتاتھا۔اس لئے درباری کنیزوں کو سنہرے پنجروں میں قیدرکھاجاتااوربچپن میں ان کے پائوں اس طرز پر باندھے جاتے کہ یہ کمسن لڑکیاں جوان ہوکربھی بھاگ نہ پائیں۔پھرجب ڈیوڈ سیسل کے تیسرے جذبے کے تحت ان کو بادشاہ کی جانب پیش قدمی کروائی جاتی توان کوسہاروں کی ضرورت پڑتی۔hongwu))ہنگوا کے جانشین (youngle)یونگل کی ایک کنیز کوایک خواجہ سراسے محبت نے آدبوچا۔یہ بات اس کوناگوارگزری اورمزاج شاہی کی تان پندرہ سوکنیزوں کے خون پرآکرٹوٹی ۔جن میں پندرہ برس سے بھی کم عمرکنیزیں شامل تھیں۔یہ روادادلیڈی کوئین نامی کنیزکے کاغذات سے ملی جسے بعدازاں تختہ دارتک پہنچا دیا گیا تھا۔اچھاتویہ خواجہ سراسے عشق کہاں پہنچا پھر؟کنیزنے خودکشی کرلی ؟کیوں؟کیونکہ محبوب کاملناناممکن تھا۔اچھا!ویسے یہ عجیب عشق ہے۔جی عشق عجیب ہی ہواکرتاہے۔جب تلک تمہیں عشق کی خبرہوگی ناں یہ جونک اس وقت تک تمہاراخون نچوڑچکی ہوگی۔اورکچھ۔ہاں ایک بات رہ گئی اس سپرطاقت منگ سلطنت کی ۔اس سلطنت کے آخری اوربارہویں حکمران(zhu youjian) جیاجین کوخبط تھاکہ آب حیات تیار کرے اورتاابدزندہ رہے۔اسے کسی نے بتایاکہ اس کوبنانے کیلئے مخصوص ایام کاخون بھی شامل کرنا پڑتا ہے جس کیلئے اس نے ہزاروں کنواری لڑکیوں کو قید میں ڈال کرشہتوت کے پتے اوربارش کا پانی میسر کیا ۔ سینکڑوں دوشیزائیں بھوک سے بلک بلک کرمرگئیں۔درجن بھرکنیزوں نے بادشاہ کومارنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں اورانھیں اوران کے گھروالوں کوتلواروں سے زخمی کیاجاتارہاحتی کہ ان کی موت ہوگئی۔

تم یہ کہانیاں مجھے کیوں سناتے ہو؟سیدھے سے بات کیوں نہیں کرلیتے؟ہاہا۔سیدھی بات میں نے کبھی کی نہیں ۔پوری بات بھی نہیں کی۔پوری کربھی نہیں سکتا۔پوری بس حلوہ پوری ہوتی ہے اورمہنگائی کہ اس دورمیں وہ بھی پوری نہیں ہوتی اورتم پوری کی جستجوکیوں کرتی ہو ؟ بس ویسے ہی۔قید کی کوئی اورکہانی سنا۔اچھاسناتاہوں لیکن یہ بتاتجھے قیدی بنانے کااتناشوق کیوں لاحق ہے ؟کہانی سنا۔۔اچھااچھا سناتاہوں۔قدیم سلطنت روما میں پاک دامن کنواریوں کوپاک دامنی توڑنے کی سزاایک بندصندوق میں بندکرکے دی جاتی تھی ۔یہ ایک ایسا صندوق ہوتاتھاجس میں نہ وہ کھڑسکتی تھیں نہ بیٹھ سکتی تھیں۔بھائی یہ توان کی ذات کامسئلہ تھاپھرمعاشرہ کیوں کود پڑتاتھابیچ میں؟ایک توتم سمجھتی نہیں ۔جناب !ہرمعاشرے کے اپنے اصول ہوتے، وہی سب پر لاگو ہوتے ۔یعنی انفرادی زندگی کچھ نہ ہوئی پھر؟ہے لیکن اجتماع اصولوں کے جبر کے نیچے ۔ اچھا ! چھوڑ یہ بتا یہ صندوق کہیں دیکھابھی گیایابس ایویں باتیں ہیں۔یار!ایساایک فوٹوفرانسیسی فوٹوگرافر نے کھینچا تھاجو پہلی بارانیس سوبائیس میںمیں نیشنل جیوگرافک میں چھپاتھا۔تویہ کھینچاکب گیا؟جولائی انیس سوتیرہ میں۔کہاں؟منگولیا میں ۔توفوٹوگرافرنے جان بچائی اس کی؟نہیں۔کیوں؟کیوں نہیں بچائی ؟کیالوگ تھے ادھر؟نہیں!کوئی نہیں تھا۔ویرانہ تھالیکن انتھروپالوجی کاقانون ہے کہ یہ لوگ مقامی لوگوں کے رسم ورواج میں دخل اندازی نہیں کرتے ۔میں تو کرتی ہوں دخل اندازی ۔دیکھ لو کاکے ویرانے میں چھڑوانے کوئی نہیں آئے گاپھر۔کون سے ویرانے میں؟سامنے دیکھو۔نہیں دیکھتی،نہ دیکھ ،نہ دیکھ ،یہی توکہہ رہا۔صندوق کی شکل بھی بتا ۔ یہ تین ضرب چارکاایک بکس ہوتاتھاجس میں ایک چھ انچ کاسوراخ خوردونوش کے لئے رکھاجاتااورقیدی کوآہستہ آہستہ بھوک اورپیاس کا شکار کر کے موت کے قریب کردیاجاتاتھا۔انھیں انگریزی میں ڈیتھ کوفن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے (death coffin) ۔اچھا!کاکے ایک بات بتا۔جی !پوچھیں۔کہانیاں کیسی تھیں؟زبردست۔کبھی تم نے کسی کوقیدکیاہے؟۔۔۔خاموشی۔۔۔میرابس چلے تواسے قید کر دوں ۔کسے؟وہ جولڑکیوں سے بات کرنے کے بہانے تلاش کرتاہے ۔اچھا!وہ شخص جس کاپہلے بتایاتھاتم نے۔ہاں یار!وہ بہت عجیب ہے۔۔نہیں تم توبتارہی تھی کہ تمہاراکوئی تعلق نہیں اس سے پھر یہ سب ؟بس سزادینی اسے ۔کس چیزکی سزا؟۔مم مم کچھ نہیں۔وہ غلطی بھی نہیں مانتا ۔میں نے اسے کہا ہے غلطی مان جایاکرو وگرنہ نقصان اٹھائو گے ۔تو کیا تم علاقے کی چودھرانی ہوجو اسے نقصان کی بابت دھمکا رہی ہو؟ نہیں تو۔پھر کیا نقصان کر سکتی ہو اس کا؟ یہ اسے پتہ ہے کہ میں کیاکیاکرسکتی ہوں۔بتائیں تو۔میں توکسی کی پرواہ نہیں کرتی ۔میں شاہدذکی کے ان اشعارجیسی ہوں:
اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو
زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو
اب کوئی آئے،چلاجائے،میں خوش رہتاہوں
اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو
ممکن ہے تم ایسی ہی ہو۔لیکن ایک بات دھیان میں رہے ۔کچھ الفاظ ڈیتھ کوفن ہوتے ہیں ۔بندہ انھیں بول کران کے حصارمیں موت تلک تڑپتارہتاہے مگررہائی نہیں پاسکتا۔الفاظ سوچ کربولاکروچاہے ہوش میں ہویاجوش میں۔لمبے وعدے بھی مت کیاکرو۔اچھا جس شخص کی میں بات کررہی ہووہ بھی ڈیتھ کوفن لگتا ہے لیکن وہ اپنے آپ کوخودکھول دیتاہے کہ قیدی چلاجائے اورستم یہ کہ قیدی نہیں جاسکتا۔یہ جومیں بے نیازی کا اظہار کر رہی ہو یہ بھی اس کی ہی عطاکردہ ہے ۔وہ چاہتاہے کہ میں اسے چھوڑ دوں لیکن میں چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پاتی۔تو بھائی چھوڑ دوہمت کرو۔اس کا  اشارہ سمجھ جائو ۔ہاہاہا!بھائی تم تو نرے بیوقوف لگتے ہو ۔تم مجھے نہیں جانتے ۔مینوں نئیں اوپرواکسےبھلے چنگے دی۔ میں تے مخول کر رہی سی۔۔چنگاکاکے! فیراسی چلے آں تیرے اپنے نصیب۔جد کسے ویرانے وچ کوئی البرٹ کاہن تیری فوٹوکچھے

گافیرای منیں گی۔چنگارب راکھا۔

Facebook Comments

One thought on “ڈیتھ کوفن (death coffin)………از……سمیع اللہ خان

  1. Sami it’s very good short story interwoven with your passionate expression and its relationship to everyone in this society through the historical sense

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *