افسانہ …absurd….کنول۔۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

کنول

از۔سمیع اللہ خان

تم کون ہو؟میں پھول ہوں۔کیانام ہے تمہارا؟میرالاطینی نام “نیلمبو نوسی فیرا”ہے جبکہ ہندی اورمراٹھی میں مجھے ’’کمال‘‘کے نام سے پکاراجاتاہے۔تو تم اتنے دلکش کیوں معلوم ہوتے ہو؟یہ تو آپ کا حسن نظرہے ۔

 

دنیا میں سات مقدس پودے ہیں ان میں سے ایک میں بھی ہوں ۔سات کون سے ؟کنول،امربیل،ناگ پھنی،تلسی،صنوبراوربھنگ۔میں توبہت مقدس ہوں۔اگر تم مقدس ہوتوباقی سب ناپاک ہیں کیا؟اللہ توبہ ۔کس چیز کی توبہ کررہے ہو؟بس ویسے ہی۔نہیں !نہیں! ویسے تونہیں یہ توبہ تو گلِ یاسمین بھی کررہاتھا۔تو  جی !یہ تو کوئی بھی کرسکتاجسے اللہ اوراس کے رسول سے محبت ہو۔اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔گناہ ہوں گے توتوبہ کررہے ہو؟گناہگارسب ہیں لیکن اللہ کے خوف والے لب ہمیشہ استغفارمیں گم رہتے ہیں ۔اچھا !یہ بتاؤ تم مقدس کیسے ہو؟مجھے برصغیرمیں صدیوں سے مقدس ماناجاتاہے ۔سینکڑوں لوگ مجھے  مندروں پرسجاتے ہیں ۔اب دیکھو!وہ دلی والی بہائیوں کی عبادت گاہ بالکل میری طرح کی سی صورت لئے ہے ۔ 

 ۔ہندوستان کی خانقاہوں اورمندروں کے گنبدمیری طرز پر بنتے ہیں۔اچھا!واہ۔مجھے ہند کاقومی پھول تسلیم کیاگیاہے۔گینش دیوتا،پروتی اوروشنوجیسے عظیم دیوتاؤں کے ہاتھ میں موجودرہتاہوں

۔علم کی دیوی سراس وتی 

 

وتی مجھے پرہی بیٹھی ہے۔میرامان کیوں نہ بلند ہو برہمادیوتابھی میرے درمیان ہی بیٹھتے ہیں۔

 

اہاں میری ایک بدقسمتی ہے کہ میں کچھ دہائیوں سے ذلت بھگت رہاہوں ۔میرے گلابی گال ہندمیں پوجے جاتے ہیں لیکن ہندمیں مجھے ایسی جماعت نے اپنانشان بنارکھاہے جسے امن سے نفرت ہے ،جومیرے گلابی رنگ کوخون سمجھ بیٹھی ہے ،دھرتی ماتاکووہ خون سے لال کرناچاہتی ہے ۔آہ!یہ واقعی تمہارے مرتبہ ومقام پرایک گہری چوٹ ہے،یہ لوگ تمہارے حسن کوگہنادیں گے۔

صرف ہندنہیں بلکہ یونان میں بھی میری موجودگی ملتی ہے۔یونانی اساطیرمیں ایک قبیلہ تھا “لوٹس ایٹر یعنی لوٹس کے پھول کھانے والے”جو کنول سے ڈھکے پھولوں سے آباد تھا اوروہ مجھے ہی کھاکرزندگی گزارتے تھے۔تم نے لگتا ہیروڈوٹس کونہیں پڑھاوہ کہتاہے کہ کنول کاپھول پانچ ہزارقبل مسیح یعنی اس کے دورمیں لیبیاکے ساحلوں پرموجودتھا۔میں افغانستان سے ویتنام تک پایاجاتاہوں۔یونان کے مشہورنابیناشاعرہومرنے اپنی اوڈیسی کی نویں کتاب میں میراذکرِخیر اس طرح کیاہے کہ ٹرائے کی جنگ سے واپسی پرہیرواوڈیسس کوجب شمال سے چلنے والی ہوانے” cape malea”سے اڑاکرنئی دنیامیں پہنچایاتو اس کاسامناجس قبیلے سے ہواوہ لوٹس کھانے والے تھے۔اس قبیلہ کے لوگوں نے جب اوڈیسس اوراس کے ساتھیوں کوپھول کھانے کی دعوت دی توجن لوگوں نے اس دعوت کوقبول کیاوہ کبھی اپنے فرائض کی طرف نہ لوٹ سکے اورسب کچھ بھول بھلا بیٹھے ۔مطلب جسے تمہاری ہمراہی نصیب ہو وہ پھرگیاکام سے؟تمہاری سوچ نہیں بدلے گی میرے یار۔اب “الفریڈ لارڈ ٹینی سن”نے بھی اسی ہی کہانی کو اپنی “1832”میں چھپنے والی نظم “لوٹس ایٹر”میں شامل کیاہے ۔میراظہورہردورمیں رہاہے۔مطلب

مطلب ظہور تمہاراہے؟اومارا! ظہورکامطلب ظاہرہونا،اترنا،دکھائی دینا۔اب آیاکچھ کھوپڑی شریف میں ؟اچھا!ٹھیک ٹھیک۔چلومان لیاکہ یونانی دیومالائی کہانیوں میں جولوٹس ہے وہ تم ہی ہووگرنہ یونانی لوٹس سے مرادبہت سے نباتات ہیں اورتم اسی کتاب کاذکرکررہے ہو ناں جسے سیموئیل بٹلرنے ترجمہ کیاتھا۔جی جی وہی۔ایک تو یہ ترجمہ کرنے والے ہرلفظ اورہرجملے کواپنے ہی اندازسے دیکھتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ لکھاری نے کیالکھاہے یہ پچاس فیصدتو بس لکھاری ہی کے دماغ میں رہ جاتاہے باقی کاپچاس فیصدبھی اندازے سے حاصل کیاجاتاہے۔نیز یہ کہ ترجمہ کرنا بھی ہر بشر کا کام نہیں یہ انیس سو اسی کے بعد سے ایک تھیوریٹیکل اپروچ ہے  جس کے چار حصے بہت اہم ہیں کلچرل اپروچ، فنکشنل اپروچ ، ڈیسکریپٹو اپروچ , اور لسانی اپروچ۔اچھاچھڈ۔چھڈ دتا۔
 ہک ہور گل دساں ۔دس۔چائنہ کے لوگ بھی مجھے قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔چائنیز اساطیرمیں میراذکرمیری فکربدھ مت سے لی گئی ہے۔بدھ مت کی آٹھ اہم ترین چیزوں میں سے میں ایک ہوں۔مجھے شریف انسان کاپھول قراردیاگیاہے کیونکہ میری جڑیں کیچڑمیں ہونے کے باوجودمیں صاف شفاف ہوتاہوں ،پانی مجھے چھونہیں سکتا۔اس لئے تو ہندوکادیوتاکرشنااپنے پجاریوں سے کہتاہے کہ میری طرح عبادت کی کروجس طرح میں کیچڑمیں ہوں مگروہ مجھے چھونہیں سکتی۔کہاجاتاہے کہ میراجنم سدھارتھ گوتم کی پیدائش آٹھ اپریل کوہواتھا۔ایک اوربات ہے وہ انگریزی میں بتانی۔اچھا بتا۔A cultural taboo related to the lotus is if a woman sews on lunar Jan. 8 (Lotus Day), she will have menstrual trouble.۔اچھا!چھوڑ،یہ بتاکہ وہ جین ازم میں تیری کیااوقات ہے۔میرے ہمسفر!دیکھ ،لفظ سوچ کربولاکر۔ہرلفظ کے پیچھے پوری کہانی ہوتی ہے ۔تم ہندکہتے ہوتوتمہارا انداز بتادیتاہے کہ تمہارامقصود سندھ ہے ۔وہ الگ بات کہ میں سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش رہتاہوں ۔وہ کسی نے کہا تھا ناں
چپ کر دڑوٹ جا
نہ کھول عشق دا خلاصہ
چمڑی لتھ جائے گی
ایویں بن جائے گاجگ دا ہاسہ
ہاں ہربات زبان پرنہیں لانی چاہیئے لیکن ہربات دل میں بھی نہیں رکھنی چاہیئے وہ جیسے فیثاغورث سے اپنے محبوب کودل کاحال نہ کہاگیا۔بقول شاعر
ہر لفظ کاغذپر اتارا نہیں جاتا
ہرنام سرعام پکارانہیں جاتا
یہ تمہارے رنگ کون کون سے ہیں ؟صرف دورنگ ہیں میرے ۔مطلب دورنگی ہو؟نہیں جی!غلط مطلب مت لیاکریں ہرچیز کا۔کسی چیز کو مثبت بھی لے لیاکریں۔کیوں ؟میں نے کس چیز کومثبت نہیں لیا۔ارے !تم لوگ تو ایسے ہو کہ منہ بولے رشتے توکجامحرم رشتوں پربھی طنزوتشنیع کے نشتربرساتے ہوپھرمجھ سے توتمہارامنہ بولا ناطہ ہے میری خاک قدرکروگے؟اویہ منہ بولاکچھ نہیں ہوتا۔اچھا!اگرکچھ نہیں ہوتاتو سرکاردوجہاں ﷺ کے منہ بولے بیٹے زیدبن حارث بھی تھے اوراسلام ان رشتوں کو کچھ اصولوں کے ماتحت کر کے احترام دیتاہے باقی محرم الگ چیز ہے۔اچھا محرم الگ کیسے ہے؟ سائیں  دیکھو!سیدنازیدکو زیدبن محمد بھی کہاجاتارہالیکن جب انھوں نے حضرت زینب کو طلاق دی تو سرورکائنات کو اللہ نے حکم دیاکہ عرب میں منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام ہے۔ اس لئے اے محمد!زینب سے نکاح کرکے اس رسم کو ختم کریں۔کدھر غلامی اورکدھر جنگ موتہ کی سپہ سالاری ،اسلام میں یہ مقام ہے غلام کا یا ایسے کہہ لیں منہ بولے کا۔باقی تم اپنا موڈ ٹھیک کرو۔اچھا !چھوڑومیرے موڈ کو۔چھوڑدیا۔تم دوست ہو کہوتوساراجہان چھوڑ دوں۔اووڈے والی مہربانی مجھے معلوم ہے دنیا میں کتنی وفاہے۔سب بے وفا،سب مطلب تک۔اچھا !رنگ بتاؤ۔جی میرارنگ بالکل سفید اورگلابی ہوتاہے ۔تمہاری نسل ؟جی!proteales””۔ویسے نسل میں کچھ نہیں رکھابھائی۔بعض لوگ امیرکبیر، بظاہرسلجھے ہوئے حتی کے ادیب بھی ہوتے ہیں لیکن اندرسے بالکل مطلب پرست و عجیب الخلفقت  ہوتے ہیں اوربعض غربت میں پلے اورعام سی صورت کے مالک ہوتے ہیں لیکن ان کا اخلاق اوج ثریاپر پہنچاہواہوتاہے اور یہی لوگ دل میں اترنے والے ہوتے ہیں۔اچھا توپھر جو قعرمذلت میں ڈوبے ہوتے ہیں ان کے متعلق کوئی رائے۔ہممم۔۔۔جیسے سپہ سالار۔۔کسی نے خوب کہا ہے
اس نے قد کاٹھ نکالا ہے زمانے میں بہت
وہ مگرسوچ کا بونا ہے یہی روناہے
یار! تمہاراقدکتناہے ۔کیوں تم نے مجھے پولیس میں بھرتی کرواناہے؟نہیں حضور! تم نے شعر ہی ایسا سنایاہے تو میں نے سوچا موقع ہے پوچھ لوں ۔توپھر جودکھ رہاہوں وہی ہوں۔نہیں میٹرز میں بتاؤ۔جی!ایک کنول کاپھول تین میٹرمیں پھیل سکتاہے۔مطلب تمہاراقد تین میٹرہے۔اونہیں میراپھیلاؤ تین میٹر ہے ۔پھیلاؤ مطلب سوچ کاپھیلاؤ؟لگتاتم جیسے کوڑھ مغز کوپھول کی سمجھ نہیں آتی۔بقول میاں محمدبخش
قدرپھلاں دابلبل جانے صاف دماغاں والی

قدرپھلاں داگرج کی جانے مردے کھاونڑوالی

میرے پتوں کا قطرساٹھ سینٹی میٹر اور میرے پھول کا قطر بیس سینٹی میٹرہوتاہےاورکچھ پوچھنا ہے تو بتائیں اس کے بعد  تم سے بات بھی نہیں کروں گی۔اومارا!یہ فیس بک کے لڑکوں کی طرح جنس کیوں بدل لی۔تم پھول ہواورپھول مذکرہوتے ہیں۔بات مذکرمونث کی نہیں ہوتی ۔پھر کس کی ہوتی ہے؟فہم وتدبرکی۔جو تم جیسوں کی شایانِ شان ہی نہیں ۔تاریخ میں بیشترخواتین نے قبائل وممالک کی سرپرستی کی ہے تو پھر کہاں گیا یہ مرد صاحب،بس اوصاف ہونے چاہیءں۔اوکے کنول صاحبہ ۔جو مرضی کہہ لومذکریامونث مجھے ان سے کوئی غرض نہیں ۔میں بس دیکھتی ہوں کہ انسان مجھے کتنا اچھالگتاہے،کتنی خوبیاں ہیں اس میں۔ایک دفعہ کوئی اچھا لگ جائے تو بس وہ جان ہے میری، جہان ہے میرا۔واہ !بڑی ادبی باتیں کرتی ہو،تمہاراذوق کمال ہے بات بات پر شعراوروہ بھی عمدہ۔نوازش۔اچھا یار!یہ بتااورکس جگہ جناب کی قدرومنزلت ہے ۔سناہے جین ازم میں بھی کچھ تذکرے ہیں تمہارے ۔ہاہا! ہم حسین ہی اس قدرہیں کہ لوگ حسن ظن رکھے بغیررہ نہیں سکتے۔ہندوؤں کا توعقیدہ ہے کہ میری جائے پیدائش ہند ہی ہے ویسے آج کل میراوجودچائنہ ،جاپان،آسٹریلیا،ویتنام ،مصراوربراعظم امریکہ کے کچھ حصوں کومعطرکررہاہے۔جس طرح کیچڑمیں میراوجودپاک صاف ہے اسی طرح میں اس چیزکی دلیل ہوں کہ برائیوں کے بیچ بھی لوگ میری طرح صاف دل ودماغ رکھ سکتے ہیں۔ہاں بھائی !تم توہرفن مولاہو۔اب دیکھوناں ہندوؤں کی مذہبی کتب یہ بھی کہتی ہیں کہ مجھے اس لئے بنایاگیاتاکہ دولت کی دیوی لکشمی مجھ پر تشریف فرماہوں اورتم دیکھو لکشمی کی کوئی

تصویرہویابت وہ مجھ پر ہی جلوہ افروزنظرآتی ہیں۔کدھر گئی تم؟میں سامنے ہوں۔کیوں تمہیں نظرنہیں آرہی کیا؟نہیں بس آواز آرہی ہے۔چلوادھرسامنے آ جاؤ ۔مجھ سے کشیدکردہ کنول کے پھولوں کاشہدرکھاہے ،یہ صدیوں سے آزمودہ نسخہ ہے کہ ہندکے لوگ اپنی آنکھوں میں مجھے ڈالتے ہیں اورشفاپاتے ہیں۔بس ہندمیں ہی؟نہیں میں ویتنام کابھی قومی پھول ہوں،مصرمیں بھی مقدس ہوں ۔وہاں کے لوگ تو مجھے سورج کے خداکی علامت قراردیتے ہیں۔بس !یاربس!بندہ اتنابھی خود ستائش نہ ہو۔بھائی! بات اپنی تعریف کی نہیں ۔بات یہ ہے کہ تم کمپیوٹرماسٹرہو۔تم خودہی میری تاریخ کنگھال لو۔جی میں بڑے اچھے سے جانتاہوں اورتحقیق وجستجوتواپنی سرشت میں ہے کیونکہ ابنِ آدم ہوں۔توتم! آدم ذات ہو۔ہاں!اس میں کیابرائی ہے؟نہیں میں کسی آدم ذات سے دوستی نہیں رکھتا، مجھے اب یاد آیا میرے مرشد فرماتے کہ تنہائی ،تنہائی ،تنہائی، آدم ذات سے بھلی تنہائی۔تم سب ایک جیسے ہوتے ہو،سب ظالم،سب ۔اللہ حافظ۔اللہ حافظ نہ کہوشب بخیرکہہ دو۔نہیں اللہ حافظ۔اچھااللہ ہی حافظ۔

Facebook Comments

One thought on “افسانہ …absurd….کنول۔۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔سمیع اللہ خان

  1. It is an exquisite piece of art adored with allusions and extraordinary diction . What a metaphor used by the writer. Sami your contribution is matchless.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *