افسانہ …کلر بلائنڈ….از…….سمیع اللہ خان….

Spread the love

colour blindness

از۔سمیع اللہ خان

تمہیں معلوم ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ کلربلائنڈ بیماری کا شکارہیں؟نہیں تم بتاؤ ۔ہر بارہ میں سے ایک مرد

 

اورہر دوسومیں سے ایک عورت رنگوں میں پہچان نہیں کرسکتی۔اس کی کیاوجہ ؟جناب!رنگ دیکھنے کی صلاحیت ’’ایکس‘‘کروموسومز میں ہوتی ہے جب کہ مرد میں ایک ایکس اورایک وائے کروموسوم ہوتے ہیں اورعورت میں دونوں کروموسومز ہی ’’ایکس‘‘ہوتے ہیں ۔ ایک کام نہ کرے تو دوسرا کروموسومز کام کرتاہے اورعورت درست دیکھ سکتی ہے ۔لیکن ایک بات اوربھی ہے ۔وہ کیا؟مجھے آج سمجھ آئی کہ سیدوارث شاہ نے کیا فرمایاتھا۔جی !کیافرمایاتھا۔’’زن،زر،تلوار،گھوڑاچارے تھوک کسے دایارناہیں‘‘۔اوبھائی

!اس بات سے اس محاورے کا کیا تعلق۔ ہے ناں!کیاہے ؟عورت میں دو’’ایکس‘‘کروموسومزہوتے ہیں ناں؟جی !ہوتے ہیں ۔یہ بات ثابت ہے اورجوثابت ہے سب سے بڑاسچ وہی ہے۔

بس!اسی لئے تو یہ مردکی نسبت اپنے سے جڑے رشتوں کوزیادہ تعدادمیں’’ایکس‘‘کردیتی ہے ۔ ہاہاہاہا ۔۔۔ یار توبھی ناں بے وفائی کے تذکرے ہی لئے پھرے گا۔ابے چول بے نیاز ہوجا۔اس میں کچھ نہیں رکھا۔۔اچھاکوئی ایسا مشہورشخص بتاؤ جو رب کی رنگ دیکھنے جیسی نعمت سے محروم ہو۔امریکہ کے بیالیسویں صدرولیم جیفرسن کلنٹن یعنی بل کلنٹن ۔اچھا اور؟فیس بک کے مالک مارک زکربرگ۔،ہووی مینڈل ،میٹ لوئر ،دنیا کے پہلے ملٹی میڈیاسٹاربنگ کراس بے اورمشہورامریکن ٹی وی براڈ کاسٹر ہوگ ڈاؤنز بھی اسی محرومی کاشکارتھے۔سنا ہے یہ لوگ لال اورسبز رنگ کی پہچان نہیں کرپاتے ۔ہاں !بالکل ایساہے ۔اچھا یہ لوگ اندھے ہوتے ہیں کیا؟نہیں تو۔یہ جیسے بھی ہوتے ہیں لیکن دل کے اندھوں سے بہترہوتے ہیں۔یہ دل کے اندھے کیسے ہوتے ہیں ؟بھائی چھوڑوتمہارے کام کی بات نہیں ۔کیوں میں کوئی شودرہوں ؟لو مجھے کیاپتہ۔

کیوں ؟تمہیں کیوں نہیں پتہ؟کیا نہیں جانتے مجھے؟جی !جانتاہوں مگر ضروری تونہیں کہ بندہ بات لب پر بھ لے آئے ۔بس جس کو جو چاہیئے ہوتاہے دے دیتاہوں ۔مجھے سے ہر کوئی اپنی طلب کے مطابق لے جاتاہے ۔جو کچھ میرے بس میں ہو یامیرے پاس ہووہ دان کردیتاہوں،کنجوسی نہیں کرتا۔میں شودرنہیں ہوں۔یاریہ آج ہم شودرشودرتو نہیں کھیل رہے ؟نہیں نہیں۔شودرکوئی نہیں ہوتا۔یہ کوئی ذات تھوڑی ہے ۔میں نے برہمنوں میں بھی شودردیکھے ہیں اورشودروں میں بھی برہمن دیکھے ہیں ۔جیسے وہ اہل سرائیکی کہتے ہیں ناں’’گدْرواں وچ ای لعل سیاپوں ہوندے ہن‘‘(پرانے کپڑوں کوملا کراوپر نیچے رکھ کربچوں کیلئے ایک نرم سابستربنایاجاتاہے)۔ساتویں جماعت میں جب میں نے اٹھارہویں صدی کے مغل حکمرانوں کے حالات زندگی پڑھے تو ’’سید برادران ‘‘ کے حالات پڑھ کر حیران ہوا،جنھوں نے یکے بعد دیگرے بہادرشاہ،جہاندارشاہ،فرخ سیررفیع الدرجات اوررفیع الدولہ کواقتدارکی مسندپر بٹھایااورظلم وستم کے پہاڑ توڑے۔بقول شاعر
کسی سے شام ڈھلے چھن گیا تھا پایہ تخت
کسی نے صبح ہوئی اورتخت پایاتھا
فرخ سیر نے ہر بات مانی مگر اس کی آنکھیں تک نکلوادیں۔ایک مرتبہ تو یہ جب ایک مغل شہزادے کو بادشاہ بنانے اس کے محل پہنچے تو اس کی ماں ان کے پاؤں پڑگئی کہ میرے چہیتے پر ظلم نہ کرو،بادشاہی کسی اورکودے دویہ تاج نہیں موت کاپروانہ ہے۔دادا جی سے ناچیز نے پوچھاکہ ہم تو سیدوں کے اوصاف کے گرویدہ ہیں مگریہ کیاماجراہے تو کچھ یوں گویاہوئے:
اے ہورسید ، او ہور سید
او لولاک دے مالک سید
اے ڈھگیاں دے چورسید
بعدازاں اسی قسم کے ’’سیدوں‘‘کاذکرکشمیری تاریخ میں بھی ملا وہ بھی ’’بادشاہ گر‘‘تھے اورسلطنت کی تباہی کا بیڑاانھی کے سرجاتاہے۔بات دورنکل گئی۔ماجرایہ ہے کہ ہر جاہرنسل ہرعلاقہ میں ہرطرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ان میں کلر بلائنڈ بھی ہوتے ہیں اوردل کے اندھے بھی ۔ یہ سید برادران دل کے اندھے تھے۔سازشیں کرتے تھے،بادشاہوں کے امراء کے کان بھرتے تھے ۔سب کو الگ الگ رکھتے تھے تب ہی محلاتی سازشوں میں کامیاب رہتے تھے وگرنہ سب مل بیٹھتے تھے تودوسرے ہی دن ان کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوجاتا۔یہ لوگ رشتوں اور خلوص سے عاری ہوتے ہیں ۔مشین کی طرح مکینیکل نظام کے تحت چلتے ہیں ۔تلوارکاسامزاج رکھتے ہیں جوسامنے آیاکاٹ کررکھ دیا ۔نہ ان کے ساتھ چلنے والے محفوظ نہ دوررہنے والے ۔درحقیقت انھیں ملکیت کانشہ ہوتاہے جسے جدیددورمیں ایک مرض سمجھا جاتا ہے۔

اچھا یہ کلر بلائنڈکاکوئی حل ؟جی آج کل لینز ملتے ہیں جس سے یہ سورج ڈھلنے کے بعد قدرے بہتردیکھ سکتے ہیں۔او!اچھا!لیکن یار وہ ایک بندہ میرے ساتھ سے گزرا۔پھر؟جب وہ ساتھ سے گزراتولائٹ آف ہوئی؟پھر؟اس نے پہچانااورپھر مُڑکردیکھا۔اوبھائی تجسس میں کیوں ڈالتے ہو۔پتہ ہے یہ اذیت ناک ہوتاہے۔ایک بندہ مجھے بھی اسی طرح تجسس میں ڈال کر غائب ہوتاتھایہ تو بھلاہومیری چھٹی حس کا کہ مجھے پہلے ہی دن اس کے اندازتخیل کاپتہ چل گیاوگرنہ کوئی معصوم ہوتاتولتاڑاجاتا۔وجہ؟وہ اپنے مقاصدکی خاطراستعمال کرتاسب کو ۔پھر تم ہوئے استعمال ؟ہاہاہاہاہا۔وہ خود ہی استعمال ہوگیا۔اچھا!اس کی کوئی بات بتلا۔یاروہ جب اس سے سلام دعاہوئی ناں تو ایک دن میں نے کہا’’جو دے اس کا بھی بھلاجو نہ دے اس کابھی بھلا‘‘توپھر ؟تووہ کہتاکہ نہیں جو دے اس کوبھی نقصان پہنچاؤ اورجونہ دے اس کو بھی نقصان پہنچاؤ۔یہ اسی کے الفاظ ہیں کیا؟نہیں۔اس کے الفاظ بتا۔نہیں یاراس کے الفاظ نہیں۔کیوں ؟کیاوہ ۔۔؟ہاں!یار۔وہ میرے معیارکے بلکہ ہر ذی شعورکے لیول کے نہیں۔میں نے پھربات کارخ موڑدیاتاکہ جس لائن پراس کی ذہنیت چل رہی اس پر مزید گفتگونہ ہو۔ویسے لیول سے یادآیاکہ لوگ اپنالیول بڑھانے کیلئے کیسے کیسے پاپڑبیلتے ہیں۔۔اللہ کی پناہ۔جب کہ حقیقت میں اخلاقی لحاظ سے لیول کے ساتھ خود بھی کھجورمیں اٹک چکے ہوتے ہیں۔اچھا !بھاشن نہ دے ۔

ہاں !توبات ہورہی تھی کلربلائنڈکی۔جنگ عظیم دوم میں جب کلربلائنڈسپاہیوں کوشدیدخطرات سے دوچارہوناپڑاتو اس کے بعد ان کی فوج میں شمولیت پر پابندی عائد کردی گئی۔اب بھی فوج کے مخصوص شعبہ جات میں یہ بھرتی کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ میدان جنگ میں کارآمد نہیں ۔ ہورڈسا۔جی ایک عام انسان کی آنکھ ایک ملین رنگ دیکھ سکتی ہے لیکن کلر بلائنڈکی ایک قسم ہے ’’سپروژن‘‘یہ لوگ سوملین سے زائد رنگ دیکھ سکتے ہیں۔ریڈرزڈائجسٹ اپنے ایک مضمون میں ایک

*super vision*

کونسیٹااینٹیکونامی عورت کاتذکرہ کرتاہے جسے سوملین سے زائد رنگ نظرآتے ہیں۔رات کے وقت ہمیں آسمان پرایک ہی رنگ نظرآتاہے لیکن ’’سپروژن ‘‘کاشکارمختلف رنگ دیکھتے ہیں۔جورنگ ہمیں گرے یعنی خاکستری نظرآتاہے یہ ان لوگوں کوفیروزی نظرآتاہے۔ہمارے اوران کے دیکھنے کااندازمختلف ہوا؟جی !توپھریہ عظیم ہوئے ؟ہاں!اکبر بھی اوراصغربھی ۔بھائی وہ کیسے؟اب دیکھوناں جب ایک رنگ کی جگہ ہزاررنگ دکھائی دیں گے توبندہ کسی پر کیاا عتبار کرے گا۔جب خاکستری رنگ فیروزہ دکھائی دے گاتو یہ خاک یقین کریں گے ،انھیں ہرشخص جھوٹ بولتانظرآئے گاجب کہ درحقیقت ان کی اپنی آنکھ ’’حقیقی‘‘رنگ دیکھنے سے قاصرہوگی اوربے یقینی سے بڑھ کرکوئی عذاب نہیں۔


اورکچھ؟ابھی۔۔۔توبہت کچھ باقی ہے۔یہ توٹرائل ہے۔۔اچھا!جی۔ہاں!جی۔جن لوگوں میں پیدائشی یہ بیماری نہیں ہوتی وہ بھی بعدازاں اس کا شکارہوسکتے ہیں ،یہ ضروری نہیں کہ یہ وراثت میں ملے بلکہ عمررفتہ کے ساتھ ساتھ کسی موڑ پر بھی آلیتی ہے ۔ممکن ہے جسمانی نقصان یاکسی آنکھوں کی بیماری کے بعداس کا بھی سامناکرناپڑے۔بچوں کی نسبت بڑوں میں یہ بیماری جلد تشخیص ہوسکتی ہے۔توتم نے کی تشخیص کبھی ؟ارے رے رے۔۔میں کوئی ڈاکٹرہوں ۔جو بیچارے ڈاکٹرہیں وہ خود روتے ہیں ۔کس بات پر؟ہربات بے بات پر۔اچھا یہ بتا کہ یہ پکی بات کہ یہ وراثتی نہیں ۔ہاں!لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔توتم بھی شرائط مانتے ہو؟ہاں!اگرجائزہوں تومان بھی لیتاہوں۔کسی کی؟کس کی بھی ۔چاہے اپناہویاغیرہو۔دل رکھنے کیلئے مان لیتاہوں۔اچھا !وہ بتاؤ۔کیا؟شرائط۔اچھا!۔یہ بیماری باپ کے ذریعے بیٹوں میں منتقل نہیں ہوسکتی لیکن ماں کے ذریعے منتقل ہوسکتی ہے۔اف!!!ماں۔۔۔ہاں!ماں ۔


بیس سے زائد ایپ ایسی ہیں جو کلربلائنڈ بندے کو رنگ پہچاننے میں مدددیتی ہیں۔بعض ایسی ایپ ہیں جو تصویرکے رنگ پہچاننے میں بھی مدددیتی ہیں کہ یہ حصہ اس رنگ کاہے یہ اُس رنگ کاہے۔پھل خریدتے وقت اورکھانا کھانے کے وقت انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے کیونکہ بعض پکوان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ذائقے کے ساتھ ساتھ ان کودیکھنے کامزہ اپناہوتاہے۔پھر اس بیماری کا شکارتین اہم رنگوں سے نابلد ہوتے ہیں جوکہ پھلوں میں سب سے زیادہ ہیں۔کون سے؟سبز،لال اورپیلا۔یہی وجہ ہے کہ ٹریفک سگنلز میں بھی یہ پہچان نہیں کرپاتے اورڈرائیونگ ان کیلئے بہت مشکل ہوتی ہے۔اچھا یادآیا۔کیایادآیا۔وہ۔کیاوہ؟یاروہی بات۔ابے کون سی بات؟وہ لائٹ والی۔کیا؟جب وہ بجھی تھی۔کون؟لائٹ یاکوئی مونث؟نہیں!روشنائی۔توپھر؟اچھا!اچھاوہ جو تم واقعہ بتارہے تھے ۔چلوبتاؤ۔یار وہ جب لائٹ بجھی وہ بندہ ساتھ سے گزرا۔کتنے تھے وہ لوگ ؟دو۔پھر؟بہت تیزی سے گزراجیسے بجلی گزرتی۔مطلب تیزہے وہ؟ہاں دودھاری تلوار۔اپنے آپ کو بھی کاٹ بیٹھتاہے۔اچھا پھر؟مُڑمُڑکردیکھتاگیا۔کیوں؟پتہ نہیں کیوں؟شایدماضی میں اندھیرے سے کوئی یادمنسلک ہویاپھر پیدائشی خوف۔اچھا پھر؟پھر بولاکہ آپ پر کالارنگ جچتاہے۔توتم نے کیاجواب دیا۔میں نے تو سبز رنگ کاجوڑاپہن رکھاتھا۔شاید اس کا میسج غلط جگہ آگیاتھا۔کسی کالے جوڑے والے کوکرناہوگاپھر بھول کرمجھے کردیاہوگا۔جب ساتھ سے تمہارے گزراتوتمہیں ہی کیا ہو گا۔اوبھائی !سفرمیں توبندہ ہزاروں کے ساتھ سے گزرتا ہے۔ہاں!گزرتاہے لیکن خامشی سے توکوئی کوئی گزرتاہے ناں ۔ہاہا ہا۔ اچھا!پھر ؟بس مجھے سمجھ آگئی کہ بیچاراکلربلائنڈہے ۔پھرکیابتایااس کو؟نہیں!میں آئینہ ہوں اورآئینہ ہرایک کو اتناہی بتاتاہے جتناوہ حقیقت کو دیکھنا چاہتاہے ۔ابھی چھتیس گڑھ کے تیسرے وزیراعلی بھوپیش بگھیل نے نریندرمودی کو آئینہ بھیجاہے توتھاراکیاخیال ہے کہ مودی صاحب کو وہ نظرآئے گاجو یہ کانگریس کاممبر دکھاناچاہتاہے۔ہرگزنہیں۔اچھا توتم نے جواب دیا؟کوئی جواب نہیں دیا لالے ۔کیوں؟کیونکہ حدیث مبارک ہے :کسی کے منہ پر تعریف کرناکھنڈی چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے‘‘۔دوسرے وہ سپروژن کابھی شکارتھامیں کیوں جواب دیتا۔اچھا فیرمیں چلا۔اچھاجائیں۔۔۔۔

Facebook Comments

5 thoughts on “افسانہ …کلر بلائنڈ….از…….سمیع اللہ خان….

  1. بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
    مرزا غالب نے لگتا صاحب تحریر کے لئے فرمایا تھا

  2. خداوند کی نعمتوں کا شکر ہم کب بجا لاسکتے ہیں۔یسوع مسیح کی قسم جسم کا ایک ایک حصہ پوری دنیا کی دولت کے مقابل زیادہ اہمیت رکھتاہے۔ افسانہ تراشنے کی کاوش لائق تحسین ہے لیکن روایتی کہانی سے ہٹ کر یہ کوئی مصنوعی آرٹ لگتاہے ۔اورآرٹ وہی ہے جو ترتیب و آہنگ لئے حرف حرف دل میں اترتا جائے ۔میرا مقصد حوصلہ شکنی ہرگز نہیں لیکن اتنا عامیانہ انداز اوپر سے بے ترتیبی، نہ کوئی اعراب، نہ آغاز کی خبر نہ اختتام کا پتہ ۔یہ کوئی عجیب سی بات نہیں ہو گئی؟لیکن جیسا بھی لکھا ہے لکھا تو ہے ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  3. baat say baat nikalany kaa hunaar khoob janaty hein .achii story hay.insann ki matlaab parast tabiyaat ka ek acha analysis kea gea hay.

  4. مجھے ایسی کہانیوں کی سمجھ نہیں آتی جن میں کوئی ترتیب نہ ہو اگرچہ یہ معلوماتی تحریر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *