افسانہ ۔۔۔۔الجھن ۔۔۔۔از۔۔۔۔مہک خان

Spread the love

الجھن۔۔۔

از۔ مہک خان

کیسی ہے زندگی ؟کیوں ہے زندگی؟کیا ہے زندگی؟کس کے لیئے ہے زندگی ؟کیا نفرت ہی ملے گی ؟کیا پیار کرنے والے کو بار بار آزمایا جائے گا ؟کیا پیار پہلے وقتوں میں تھا؟کیا اب صرف ٹائم پاسنگ ہی ہوتی ہےَ ؟

کیا احساس ختم ہوگیا ہے ؟کیا لوگو ں کو تکلیف دینے سے خوشی ہوتی ہے ؟کیا انسانیت ختم ہو گئی ہے ؟کیا جیسے آئے تھے ویسے چلے جائیں؟کیا دُکھ نہ سنائیں؟کیا اپنے بوجھ کے ساتھ مریں؟کیا تم سے کہیں؟کیا اُس سے کہیں؟َ کس سے کہیں ؟کس پر اعتبا ر کریں؟اس پر جو کہتا ہے مجھ پر بھروسہ رکھو ؟اگر گرنٹی مانگیں تو کہتے ہیں اللہ کی قسم؟کیوں؟کیا اللہ کی قسم سے وہ رک جائے گا؟اگر وہ اچھا ہے تو قسم کیوں؟اگر بُرا ہے تو قسم کیوں؟کیا ہر انسان ایک جیسا ہے؟کیا جو تم سوچو میں وہی سوچوں؟کیاوہ غلط ہے تو اُسکا پورا خاندان غلط ہے؟کیا وہ شرابی تو اُسکا بیٹا بھی شرابی؟ کیاوہ چور تو اُسکا بیٹا بھی چور؟کیا فقیر کا بیٹا فقیر ہوگا؟اگر ایسا ہوتا تو حضرت یعقوب کے سارے بیٹے نبی ہوتے ۔حضرت نوح کا بیٹا مسلمان تو ہوتا۔حضرت ابرہیم کا باپ مسلمان ہوتا۔فرعون کی بیوی اللہ رب العزت کو ماننے والی نہ ہوتی۔کیا پانچوں اُنگلیاں برابر ہیں؟نہیں تو پھر یہ کیاہے؟کیا تم یہ جانتے ہو؟کیا جان کر انجان ہو؟کیا جو دیکھا؟وہی سچ کیا جوسنا ؟وہی سچ کیا یقین ختم ؟تو پھر محبت کیسی ؟محبت تو بھروسے کانام ہے تو جب بھروسہ ختم تو محبت کیسی؟کیا دنیا ایسے چلے گی؟کیا انسان کی قدر ختم ؟کیا اُسکے کہے الفاظ پر یقین ختم؟کیا یہ ختم تو محبت بھی ختم؟کیاحسرت کی جگہ حقارت ؟کیامحبت کی جگہ نفرت؟کیا جو تم کہو ؟کیا جو تم محسوس کرو؟کیا صرف وہی ہے محبت؟کیا جو تمہیں اچھا لگے وہی مجھے لگے؟کیامیری آنکھیں سب بتا دیتی ہیں ؟کیا تم مجھے پڑھ سکتے ہو؟تو پھر جو تمہیں محسوس ہوتا ہے وہ مجھے کیوں نہیں ہوتا؟کیا جو آنکھوں میں ہے وہی سچ ؟کیا میری، میرے جذبات اورمیرے احسات کی کوئی قدر نہیں؟کیا پاور ہی سب کچھ ہے ؟کیا کمزور کا وجود نہیں ؟کیا اُسکے منہ میں زبان نہیں؟کیااُسکی عزت نہیں؟کیا سورج کی پہلی کرن دیکھنا اُسکے نصیب میں نہیں؟کیا پرندوں کے نغمے سننا اسکے نصیب میں نہیں؟کیا صرف وہ خواب دیکھ سکتا ہے؟کیا اُن کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرسکتا؟ عاطف اسلم کی آواز۔۔۔۔۔ خوابوں کی دنیا مکمل کہاں ہے جینے کی خواہش میں مرنا یہاں ہے منزل یہی ہے یہی کارواں ہے جینے کی خواہش میں مرنا یہاں ہے پرانی کتابوں کے پنے سبھی گواہی یہاں دینے آہ جائے گے خیالوں میںیادوں کے آہ کر اُجالے سبھی داغ دل کے مٹا جائے گے کس کو فکرہے تمھاری یہاں پر اگر بڑھ ہے جاتی تیری دھڑکنیں سہمی ہے دھڑکن سیری ہے دھڑکن ٹہری ہے دھڑکن کیا خواب ختم کرنے کے لیئے نیندیں اُڑا دیں گے؟کیا وہ رُلا دیں گے؟کیا وہ مٹا دیں گے ؟کیا ہم کالی کوٹھڑی کی زینت رہیں گے؟کیا اُجالے سے محروم رہیں گے؟کیا رنگارنگ نظاروں سے محروم رہیں گے؟کیا بارش کے قطروں کو محسوس نہیں کریں گے؟کیاہم چپ رہیں گے؟کیاہم خواہشیں دفن کر دیں؟کیا ہم سوال کرتے رہیں؟کیا پوری عمر جواب کے منتظر رہیں؟کیا ہم یونہی رہیں؟سہمے ہوئے ،ڈرے ہوئے اور مرے ہوئے یا ر سوال پے سوال سوال پے سوال کیا تمْ ْْْْْصرف سوال کرتے ہو؟نہیں یار کرنا تواور بہت کچھ چاہتا ہوں۔مگر پھر وہی سوال۔کس کی سنوں؟ماں کی ؟باپ کی؟بہن کی؟بھائی کی؟تمھاری؟یا اپنی؟یار اگر سوال کرتے رہو گے تو جواب کب ڈھونڈو گے؟پتا نہیں؟کیاتم بھی میری طرح سوچتے ہو؟کیا تمہیں بھی جواب کی تلاش ہے؟نہیںیار ایسا سوچتا ہوں مگر کم ۔اتنے میں ویٹر نے احمد کو بل پکڑایا لیکن آصف نے اپنا اور احمد کا بل دے دیا۔احمد نے اصرار کیا لیکن آصف نہ مانا ۔دونو ں ہوٹل سے باہر نکلے توبارش شروع تھی ۔جیسے ہی بارش رکی احمد اپنے گھرکو اور آصف اپنے گھر چل دیا۔لیکن آصف ابھی بھی وہی کچھ سوچ رہا تھا۔

Facebook Comments

2 thoughts on “افسانہ ۔۔۔۔الجھن ۔۔۔۔از۔۔۔۔مہک خان

  1. Good attempt but writer is an artist so please try to write through indirect means that people can interpret more than one meaning, good luck for the future!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *