افسانہ ۔۔۔۔سائن( signature)۔۔۔۔از۔۔۔۔سمیع اللہ خان

Spread the love

signature

از۔سمیع اللہ خان
اعظم خاموش طبع لیکن ملنسارطبیعت کا مالک تھا۔اس کی دادی نے اسے ایسے پالاتھاکہ غربت میں بھی شہنشاہی مزاج لئے پھرتاتھا۔لمبے ہاتھ ،چوڑاسینہ اوردرازقدکایہ جوان ابھی مشکل سے بیس ہی برس کا ہواتھاکہ باپ کا سایہ بھی سرسے اٹھ گیا۔بی اے کرکے اعظم دبئی چلا گیااورادھر سے دادی کو خرچ بھجواتا رہا۔حال احوال کیلئے خط وکتاب جاری رہتی لیکن اعظم کی دادی خط میں ایک ہی بات لکھواتی اعظم پتر میرے کول ہن نئیں ٹریاجانداتے ملکانی نوں ہن باہرنکلن دی اجازت نئیں اوملدی ایس واسطہ گھر مڑ آ۔اریبہ وی کہہ رہی سی کہ میں ہن کاکی دے ہتھ پیلے کرنے نیں ۔ان محبت بھرے خطوط پراعظم کو ایک ہی شکوہ رہتاکہ جگہ جگہ پانی کے قطرے گرنے سے سیاہی پھیل جاتی ہے اورمیں خط نہیں پڑھ پاتا۔دادی یہ لائن لکھواتی رہتی تھی لیکن اعظم ہربات کاجواب دیتاجب کہ ایک شادی کی بات پر اس نے خاموشی کی گہری چادراوڑھ رکھی تھی۔

عینی گرین کو پھانسی دی جارہی ہے جس کی زندگی خدا نے لاش بننے کے بعد بھی محفوظ رکھی ۔پھانسی گھاٹ پر موت کی تصدیق ہوئی لیکن آکسفورڈ کے ڈاکٹرنے نبض دیکھ کر جان بچالی اورپھر اپنے علاقے میں واپس گئی تو لوگوں نے بھی اسے خدا کی مرضی تسلیم کرتے ہوئے اس بے گناہ کو معاف کر دیا۔

وقت گزرتاگیااوردادی بیمارپڑگئی۔ادھراعظم کی تنخواہ میں اضافہ ہوااوروہ زیادہ پیسے بھجوانے لگا۔دادی کو اریبہ نے مشورہ دیاکہ میراتوگھرمشکل سے نبھاہ ہوتاہے تو اس طرح کرپوتے کوبلالے یاپھر کسی کے گھر جاکررہ جا۔دادی نے انکارکردیا۔اریبہ نے شہرجاکراعظم کوخط لکھوایا اورڈاک کیلئے لفافہ خریدنے لگی تو اسے معلوم ہواکہ اس کی جیب کٹ چکی تھی۔اس نے پنڈآکر خط امارہ کو بھجوا دیا۔جس کاجواب کبھی نہیں آیا ۔ ایک دن میدے نائی کا بیٹاخط لے کردروازہ کھٹکارہاتھا۔اریبہ آواز سن کر باہر نکلی ۔
اریبہ نے کہا: مجھے دے دومیں خالہ کودے دوں گی۔
لیکن میدے کی ضد تھی کہ خالہ کواپنے ہاتھ سے خط دے گا۔یہی بات جاری تھی کہ ریڑھی پر دو مزدورآکررکے اوراریبہ سے کہا:
مزدورانیس:خالہ امبراں نے کہاہے کہ اس کا سامان اٹھالائیں۔
اریبہ بولی :ماسی امبراں نے مجھے تو کچھ نہیں بتایا۔کیاوہ ملک اسدکے گھرہے یاملک امین کے گھر؟سفید رنگ میں ملبوس اکمل نے بتایا:’’ وہ ملک امین کے گھر ہے ۔ملکانی کے پاس خط لکھوانے گئی تھی اوربے ہوش ہو گئی ۔ اعظم کو لکھا خط ادھورارہ گیالیکن انیلہ نے مجھے دیاہے کہ پوسٹ کردوں۔‘‘
اریبہ بولی :میدے کودے دے یہ شہر جاتاہے لیتاجائے گا۔
میدے کااصل نام امیرتھالیکن سب اسے میدہ میدہ ہی پکارتے تھے۔خط لیتے ہوئے اریبہ کے ہاتھ سے گراتوامیر نے اٹھاتے ہوئے لاشعوری طورپراسے کھولا اورواہ واہ کرنے لگ گیا۔اریبہ ،اکمل اورساتھ کھڑابوڑھامزدوانیس کہنے لگے بھائی کسی کا خط پڑھنا بددیانتی ہے۔
اریبہ نے کہا:ابھی توبڑاحاجی بن رہا تھاکہ خالہ امبراں کو ہی خط دوں گااوراب خود ہی خیانت کردی۔
امیر نے کہا :بس خیال نہیں رہا اوراس میں لکھا شعر مجھے پسند آیا تو واہ واہ کراٹھا۔دیوارکی اوٹ سے یہ بات سنتے ہوئے اسوہ چونک اٹھی۔
دیوارسے جھانکا تو امیربے ساختہ پکاراُٹھا:
تجھ سے ملنے کے یہ امکان ستاتے ہیں مجھے
آج کل خواب بہت دیر سے آتے ہیں مجھے
محمد شیرازغفور
اریبہ کو یہ ناگوارگزرااوراس نے کانی آنکھ سے جب مزدوروں کی جانب دیکھا جو کہ شعرکی سوجھ بوجھ تو کم ہی رکھتے تھے لیکن حالات کی نزاکت سے ہلکی سی مسکراہٹ لئے دیوارکی جانب ہمہ تن گوش تھے جوکہ اریبہ کیلئے برداشت سے باہر تھالیکن خاموش تھی کہ اب ماسی امبراں ملکوں کی مہمان بن چکی تھی اوریہ مزدورکم اوران کے چہیتے زیادہ تھے۔ماحول کی تلخی نے اس وقت معنی خیزصورت اختیارکی جب اسوہ نے شعر گنگنایا
یاد گار زمانہ ہیں ہم لوگ
سن رکھو فسانہ ہیں ہم لوگ
اریبہ نے نقاب درست کرتے ہوئے گھورکربیٹی کی جانب دیکھناہی چاہالیکن چاند دیوار سے اوجھل ہوچکاتھا۔وہ ماسی امبراں کے سامان کی پرواہ کئے بغیر گھر کی جانب بڑھی توامیر کی آواز نے اس کے قدم روک لئے۔
امیر:خالہ یہ لوخط اورکوئی حکم میرے لائق ہو توبتائیے گا۔
اریبہ:نہیں!لے جاؤ اب خط
امیر:نہیں خالہ بات یہ نہیں بات یہ ہے کہ دراصل میں ماسی امبرین سے ملنا چاہ رہاتھا۔عرصہ گزرااعظم نہیں آیا۔
اریبہ:توملکوں کے گھرچلاجا۔مل لے ۔
امیر:خالہ اکھٹے جاتے ہیں ہم سب تو جانتی ہے ملک مجھے کبھی بھی خالہ سے نہیں ملنے دیں گے۔
اریبہ:ہم سب؟
امیر:میرامطلب ہے آپ ،میں اوراوربس ہم بہت ہیں ۔
اریبہ:ایک دفعہ پھرمزدوروں پراچٹتی ہوئی نظرڈالے امیرکے ہاتھ سے خط لیتی ہے اورکہتی ہے پترتوخط پڑھ بھی دے ۔آجا۔
امیر:جھوم کر۔جوحکم خالہ۔
گھرکے اندرداخل ہوتے ہوئے امیر نے سجے کھبے نظردوڑائی توکوئی نظرنہیں آیا۔اریبہ اس کی حالت دیکھ کربولی تیری بہن اپنے کمرے میں ہوگی وگرنہ خط اسی سے پڑھوالیتی۔اچھابیٹھ!میں تیرے لئے چاہ بناتی ہوں۔
امیر:خالہ چاہ ہووے تے چاہ نے ہووے وت کیافائدہ۔
اریبہ:کیامطلب؟
امیر:خالہ مطلب ہے تیزپتی ڈالنا۔آپ لوگ شہرکااثرلئے ہو۔چائے کم ڈالتے ہوپھر چاہ مزہ نہیں کرتی جو چاہ ہی نہ ہواس میں۔
اریبہ:ٹھیک ہے پترپراتنا اونچاکیوں بولتاہے۔پڑھالکھاہے ذراہولے گل کیاکر۔
امیرنے خالہ کے آتے تک غزل کاغذپرلکھی اورچولہے کی جانب جاتے ہوئے اسوہ کے کمرے کی جانب اچھال دی۔اسوہ بے دھڑک ٹہلتی ہوئی باہر آئی اورچولہے سے ذرادورکھڑی بھینس کے پاس کھڑکرعمیر نجمی کی غزل گنگنانے لگی:
کبھی بھی تو ہمیں حسب تمنا نہ ملا
منزل توبڑی بات ہے،رستہ نہ ملا
اب ٹوٹ کے چاہیں توکسے چاہیں ہم
توجیساملا پھرکوئی ایسانہ ملا
دیوارکے گرنے سے زیادہ ہے یہ رنج
ملباجوہٹایاہے توسایہ نہ ملا
آوازمدھم تھی کہ اسوہ جانتی تھی اس کی ماں نہیں سن سکتی لیکن سرجھکاہواتھاکہ اریبہ کی ماں کی نظربہت تیز تھی۔خالہ اریبہ کی طرف سے جب کوئی تاثرسامنے نہ آیاتوامیرخالہ کو تکتے ہوئے پکاراُٹھا
یک لحظہ خوشی کاجب انجام نظرآیا
شبنم کو ہنسی آئی ،دِل غنچوں کا بھر آیا
اُدھر سے اریبہ بولی:اماں کو اونچاسنائی دیتاہے ۔اس لئے وہ بولتی بھی اونچاہیں۔یہ بتاکہ وہ شعرجوتونے باہر پڑھا کیا وہی خط میں لکھاتھا؟
امیر:ہاں
اسوہ:لکھائی کس کی تھی؟
امیر:میں ملکانی کے پاس پڑھنے جاتاتھا ۔وہ ایسے ہی لکھتی ہے بڑے بڑے لفظ۔نون غنہ بھی بالکل ایسے ڈالتی ہے اورزیرزبرکا دھیان بھی بہت رکھتی ہے حالانکہ آج کل کے دورمیں جو لفظ آسانی سے پڑھاجائے اس پر اعراب لگاکر قاری کو مشکل میں نہیں ڈالناچاہیئے اوریہ بات بھی مجھے ملکانی نے ہی بتائی تھی لیکن خود عمل نہیں کرتا۔
اسوہ:تو مجھے دیکھ کر پھر شعرکیوں پڑھے تھے؟
امیر:اب یہ بھی بتاناپڑے گا؟
اسوہ:ہاں!محبت اظہارکانام ہے۔
امیر:جب تجھے پتہ ہے کہ کون تجھ سے محبت کرتاہے پھر بتانابھی کیاضروری ہے ؟اورویسے بھی تیری تو منگنی ہوچکی ہے۔
اسوہ:منگنی ہوئی ہے شادی نہیں ہوئی۔
امیر:پنڈمیں رہ کرشہروالوں جیسی باتیں نہ کر
اسوہ:ماں کس سوچ میں پڑی ہے ۔ہماری طرف دیکھ ہی نہیں رہی۔
امیراونچی آواز میں:خالہ !کی گواچ گیاای؟
اریبہ :او نئیں پترمیں اعظم دے بارے سوچ رہی سی۔آج خالہ امبراں حویلی ٹرگئی اے تے خورے اعظم نوں وی آندیاملک ای ناں روک لین۔مینوں نئیں چنگالگدامیری بہن داپترکسے غیردا اناج کھاوے تے اونج وی ملک امین سانوں چنگانئیں جاندا۔اسوہ داپیوجد زندہ سی تے کدے ملکاں دے ڈیرے نئیں سی جاندا۔اپناکمانداسی تے اپنا کھانداسی۔
اسوہ بولی:پرماسی امبراں کااوہنوں نے بڑاساتھ دیاہے اوراعظم کودبئی بھی ملک امین نے ہی بھجوایا ہے ۔ اماں یہ احسان توہے ناں ان کا۔
اریبہ:نی بھولی دھیئے!تینوں کی پتہ ۔خورے اوہ کی چاہندے نیں۔
اسوہ:کیامطلب اماں؟
اریبہ:چھڈپتر!جیہناں دا رب اے اوہناں داسب اے۔اوہناں نوں تے ایس تے وی اعتراض ہوندااے کہ ساڈی نائیاں نال ایناسمبھندھ کیوں اے؟
اسوہ:تے اماں چھڈدے فیر نائیاں نوں۔امین تے تیراخالہ زاداے۔؂
اریبہ:نی ملکی دھئی اے!خون پتلااے۔امیردے پیونے سگیاں نالوں تیری ماں دازیادہ دھیان رکھااے۔تیرے ابو دے مرجان توں بعدامیرکی امی پورے چھ مہینے میرے گھر کوسنبھالاتھا۔میں حیران تھی کہ کھان پین کا سامان کیوں نہیں ختم ہورہا۔ہرباراقصیٰ یہی کہہ دیتی کہ قل میں گھی،چینی ،پتی اورصابن لوگوں نے بہت دیاہے۔ایک مرتبہ میں نے اس سے کہا جاکاپی اٹھالاتوکہتی بہن وہ تو امیرکے ابا کے پاس رہ گئی ۔گھر جاؤں گی تولاؤں گی مگرسال پوراچولہاچلتارہااوروہ کاپی نہ لائی ۔وہ توایک رات میں نے دیکھا کہ اس کی بہن البیلا نے اسے دوتھیلے لاکردیئے جوجاکراس نے باورچی خانے میں رکھ دیئے۔وہ جاکرسوئی تومیں چپکے سے اٹھی اورچاندنی میں لاکردیکھاتووہ گھرکامکمل سوداتھا۔صبح اقصیٰ سے پوچھاکہ رات البیلاکیالائی تھی توگھبراگئی ۔کہتی ملکانی وہ وہ ہمارے سردیوں کے کپڑے تھے ۔میں خاموش رہی اوربرقعہ اٹھایاتوکہتی ملکانی توں باہرنہ جالوگ باتیں بنائیں گے ۔میں نے کہا نہیں کب تک گھربیٹھوں گی۔میں غریب ملکانی ہوں ۔آخرایک دن نکلناہوگا۔تواقصیٰ بولی تیرابھائی احسان اللہ مرنہیں گیاجوتوباہرجائے گی۔ابراہیم کے احسان ہم نہیں اتارسکتے کہ اس نے ہمیں نہ صرف رہنے کو چھت دی بلکہ مکان پکے کرواکردیئے ۔بغیرپیسے کے زمین دی۔گھاس کیلئے زمین مانگی تواپنے دس کلوں میں سے ایک ایکڑاحسان اللہ کے نام کردیاکہ پیسے دیتے رہنااورجب ہم نے پیسے جوڑے توٹالتارہا اور پھرٹر گیا میراویر۔ملک امین توادھ پربھی ہمیں مال ڈنگرکے لئے گھاس نہیں دیتاتھا۔اسوہ پترجیسے تیسے میں باہرنکلی سوداسلف لائی توامیر کی ماں اقصیٰ بہت روئی کہ بہن زیادتی کی ہے ۔شام کو بھائی احسان اللہ آیاتوامیر کی ماں سے لڑپڑاکہ تونے ملکانی کو باہر کیوں جانے دیا؟بس اریبہ پتریہ امیر مجھے اس لئے بہت بھاتاہے ۔میں نے تم دونوں کی باتیں سن لیں ہیں لیکن میں کچھ نہیں کرسکتی اورتمہیں بھی صبرکرناہوگا۔تواعظم کی منگ ہے ۔
امیر:روتاہوااٹھااوراچھاخالہ کہہ کرچل پڑا۔
اریبہ:پترماں کونہ بتاناکچھ بھی ورنہ وہ بہت روئے گی۔اللہ سے مانگ وہ بہت رحیم ہے ۔
امیر:خالہ!ابازندہ ہوتاتب بھی توانکارکردیتی؟
اریبہ:پتر!اسوہ پیداہوئی تھی توبھائی ابتسام نے اسوہ کے اباسے رشتہ پکاکرلیاتھا۔میں کہتی رہی کہ بچی ابھی جھولے میں ہے لیکن پنڈکی ریتوں روایتوں سے توواقف ہے اوریہ ملک جتنے بھی پڑھ لکھ جائیں رہتے ملک ہی ہیں۔
امیر:خالہ!اسوہ کااباکتنی جماعتیں پاس تھا؟
اریبہ:پتربارہ جماعتیں شہرسے کیں اورپھر لاہورشہرسے گرایجویٹ کی مگرنوکری کوعارسمجھتاتھا۔اس وقت پنڈمیں ایک میں ہی ایف اے پاس تھی ۔میری غریب ماں نے رشتہ داروں سے لڑکرمجھے پڑھایاتھا۔ملک امین کی بہن منگ تھی میرے ابراہیم کی۔اللہ جنت میں جگہ دے وہ کہتی تھی پڑھالکھالڑکاہے کل کومجھے چھوڑدے گااورابراہیم بھی مجھ سے شادی کرناچاہتاتھا۔آخرکاررشتہ ٹوٹ گیااوراساوری نے زہرپی لیا۔اساوری بہت نازک تھی نام کی طرح اس کااخلاق بھی ’’ریشم‘‘تھالیکن پتہ نہیں ابراہیم سے کیوں شادی نہ کرتی تھی اورپھر زہرکیوں لیا؟یہ راز آج تک راز ہے ۔بس اس دن سے ابراہیم اورملک امین کے گھروں کامرناپرناختم ہوگیا۔
امیر:ہم بھی زہرلیں گے۔
اسوہ اچھل کرامیرکے منہ پر ہاتھ رکھتی ہے اورپھر یکدم ماں کن اکھیوں سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے شرم سے سرجھکاتی ہوئی کمرے کی طرف بھاگ جاتی ہے۔
وقت گزرتاگیااورایک دن انیس دھوپ میں گراپڑاتھاکہ امیر نے اسے سنبھالااوربڑبڑایاکہ لگدااے ملکاں نے بوہتاکم کرایااے غریب کولوں۔امیرنے سہارادے کربٹھایاتوانیس کے ہاتھ سے کاغذسرک کرزمین پرگرا۔جسے امیرنے بائیں ہاتھ سے اٹھایا ۔انیس کو سائے میں لٹایااورپانی کے چھینٹے مارے تووہ اٹھ بیٹھا۔امیرکاشکریہ اداکیااورکہاکہ پتراے خط ڈاک اچ پادینا۔میرے کولوں نئیں ٹریاجانداپردسیں کسے نوں نئیں ۔ملکانی نے مینوں خاص ہدایت کیتی سی کہ خط اپنے ہتھیں پائیں۔
امیر تجسس میں مبتلاتھا۔یونیورسٹی سے لیٹ ہورہاتھااوردوسراسے آج اسوہ کے ڈیپارٹمنٹ میں بھی جاناتھا۔خط کی جانب دیکھا تو وہ پن سے بندکیاگیاتھا۔امیر سے رہانہ گیااوروہ تجسس میں خط کھول بیٹھاجس میں مختصرسلام دعاکے بعد لکھاتھا:’’اعظم وہ پانی کے قطرے نہیں میرے آنسوہوتے ہیں۔                             

پڑھنے والوں کا قحط ہے ورنہ

گرتے آنسو کتاب ہوتے ہیں

 ۔پتہ نہیں کیوں جب تیری دادی تیری شادی کی بات کرتی ہے میری آنکھیں برستی ہیں وہ بار بارپوچھتی ہے پترکی گل اے پرمیرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا ۔دادی سے میری بہت بنتی ہے ۔دادی اتنی اچھی ہے کہ اس نے ابھی تک کسی کو میرے بارے کچھ نئیں بتایا۔پچھلے خط میں جو فوٹوتونے بھیجی تھی وہ بھی دادی نے مجھے دے دی ہے ۔کبھی کبھی آکرمجھے کہتی ہے کہ سانوں وی اعظم وکھادیو۔‘‘امیرنے خط پڑھ کر اونچی سے کہا :یاہو۔پیچھے سے کسی نے کندھے پرہاتھ رکھا۔مڑکردیکھاتواسوہ کے چہرے پرآنسورواں تھے۔
امیر:اسوہ !توکیوں رورہی؟
اسوہ:بس ایسے ہی۔
امیر :چل یونی کے اندرجاکربات کرتیں گے ۔ادھر کوئی دیکھ نہ لے۔
اسوہ:نہیں !خط دے مجھے۔
امیر:نہیں!امانت ہے۔
اسوہ:یہ کیسی امانت ہے کہ خود خیانت کرتے ہواورکوئی اورمانگ لے توایمان جاگ جاتاہے ۔ہرکسی کے اپنے معیارہیں ۔اپنااسلام اپناقانون ۔
امیر:اچھا!تقریرنہ جھاڑ۔یہ لے اورلوٹادینا۔
اسوہ:خط توپڑھ چکی ہوں مگرافسوس یہ ہے کہ ہم پھر بھی نہیں مل سکتے۔
امیر:یار نیچے ایک شعربھی لکھاہے۔
اسوہ:کون سا؟
امیر خط کی طرف دیکھتے ہوئے:
کوئی آواز ہی نہیں دیتا
کس کی آواز پرکہوں ،آیا
اتنی شدت سے کسی نے یاد کیا
ہچکی آنے سے منہ میں خوں آیا
امیراسوہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا: توکیوں روتی ہے ؟
اسوہ:نے نام ہی سہی تعلق توہے۔
امیر:محبت کس سے ہے؟
اسوہ:نہیں معلوم
امیر:مجھے دیکھ کر پھر شعرکیوں پڑھے تھے؟
اسوہ:پہلے تونے پڑھے تھے۔
امیر:توکیاتونے مجھے دھوکا دینے کیلئے ایساکیا؟
اسوہ:نہیں امیر!ایسانہیں۔
امیر:پھر؟
اسوہ:میں تیرے سے اعظم کو خط پہنچاناچاہتی تھی۔
امیر:بس؟اسی کام کیلئے مجھے ایسے شوکرتی رہی جیسے مجھ سے محبت کرتی ہے؟
اسوہ:پتہ نہیں۔
امیر:پتہ توچل گیاناں اب۔
اسوہ:اچھا!چھوڑ۔اعظم مجھے نہیں ملے گا۔مل بھی نہیں سکتا۔پتہ نہیں مجھے اس سے محبت بھی ہے یا نہیں ۔یا تجھ سے جھوٹ بول رہی ہوں یا پھر خود سے۔
امیر:سوچ لے۔
اسوہ:سوچ لیا۔
امیر:کیا؟
اسوہ:ہم ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیں ۔نہ میں شادی کروں نہ توں۔
امیر:لیکن ہماری مائیں ہماری کب سنیں گی؟اور یہ پوری عمرکاگناہ کے بغیررشتہ ازدواج کے ہم ملتے رہیں ۔
اسوہ:تو یونی پہنچ گیالیکن گھٹیاسوچ نہیں گئی۔
امیر:سوچ گھٹیانہیں ہے ۔میں تیراساتھ دے سکتاہوں لیکن نکاح کے بعد۔
اسوہ:جون آف آرک بنناہے تو نہ بن ۔مجھے نہیں چاہیئے ایسارشتہ کہ کوئی ترس کھاکرمیرے آنسوجذب کرتاپھرے۔مجھ سے عشق ہے توپھر ۔محبت بھی قبول نہیں۔
امیر:یہ عشق اورمحبت میں کافرق ہے۔کوئی فرق نہیں پگلی۔
اسوہ:ہے فرق ۔عشق نہیں بھولتا۔محبت بھول جاتی ہے۔
امیر:ہاہا!سائیں یہ زمانہ بھی عجب کھیل تماشہ ہے۔انڈے کودومختلف زاویوں سے دیکھ کر دومختلف چیزیں سمجھتاہے ،جانتاہے بوجھتاہے لیکن خود کودھوکادیتاہے کہ روحانیت سے محروم اس بشرکے پاس فرار کا اور کوئی راستہ نہیں ۔
اسوہ:ملانہ بن۔
امیر:اس طرح کرتے ہیں ۔نکاح کرلیتے ہیں اورپھر پوری عمر گھر والوں کے سامنے بندباندھے رکھیں گے کہ ہم شادی نہیں کرتے۔
اسوہ:محبت ہوجائے تونکاح ضروری نہیں ہوتا۔نکاح بھی تو بس معاہدہ ہی ہے۔
امیر:معاہدہ ہی ہے لیکن سلجھے ہوئے معاشرے کی یہ نشانی قائم رہے توبہترہے۔
اسوہ:تو گھروالوں کوپتہ لگ گیاتوپھر؟اورملک امین ذات پات کا قائل ہے وہ بھڑک جائے گا،اندھاہوجائے گا،ویسے بھی وہ چاچااحسان اللہ کوہمارے گھرآتادیکھ کرتعصب کے زہرسے بھرجاتاتھا۔پھر جب اماں نے پردہ ختم کیاتواس نے قتل کی دھمکیاں بھی دیں اوریہ بھی کہلابھیجاکہ جو مرضی کرلیکن ہماری بھتیجی ہمیں دے دے ہم نہیں چاہتے کہ وہ بھی تیری طرح بنے حالانکہ چاچااحسان نے کبھی آنکھ اٹھاکربات تک نہ کی تھی نہ کبھی اکیلے آئے۔
امیر:ہم انشااللہ شادی نہیں کریں گے چاہے گھر والے کہیں بھی تواوررہی موت تو وہ تو رب کے ہاتھ میں ہے ۔اینی گرین پربھی تو بچے کے قتل کاالزام لگاکرذات پات کی وجہ سے سولہ سو پچاس میں پھانسی پرچڑھایاگیالیکن آدھ گھنٹاپھندے پرجھولنے کے بعد لاش جب آکسفورڈکے فزیشن کو پہنچی تواس نے اٹکی ہوئی سانسوں کوبحال کیااوراینی کی موت سولہ سے پینسٹھ میں تیسرے بچے کی پیدائش پر ہوئی جبکہ موت کی تصدیق کرکے لاش بھیجی گئی تھی۔جج گھبرایانہیں ،اورایک موہوم سے امکان کوحقیقت میں بدل دیا۔
اسوہ:ہاں یہ تو ہے ،جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ،سائنس نے جان بچالی لیکن ہماری ماؤں کی خوشیاں بھی ہیں ۔انھوں نے ہمیں یتیمی میں پالاہے ۔خاندان کی باتیں سنی ہیں ۔الزام سہے ہیں پر ہارنہیں مانی۔ہماری شادی اچانک تیارکردی گئی تو؟
امیر:پھرطلاق ہوسکتی ہے ۔
اسوہ:عدت؟
امیر:غیرمدخولہ پرعدت نہیں ۔ہم چھوئیں گے بھی نہیں ۔بس یہی چاہتاہوں کہ نظربھی حلال ہو۔گفت وشنید بھی ۔مجھے اللہ سے بہت شرم آتی ہے۔
اسوہ:طلاق؟؟؟بلاوجہ طلاق گناہ ہے۔
امیر:لیکن حدیث مبارک ہے:نامحرم عورت کاہاتھ چھوئے اس سے بہتر ہے کہ سرمیں لوہے کی میخ گھس جائے اورنگاہ بھی پہلی معاف ہے ۔یہ بھی توگناہ ہے ؟
اسوہ:چل ابھی چل۔
ایجاب وقبول کے بعدایک گولی سنسناتی ہوئی جج کے سینے میں لگتی ہے لیکن آخری کراہ کے ساتھ وہ دستخط مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اورلوگ ملک امین کوپکڑلیتے ہیں۔وہ چیخ رہاہوتاہے مینوں چھڈومینوں موت دا ڈر نئیں ، مینوں ایہہ دسوجج دے سائن ہوئے نیں یانئیں ۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *